Monday, June 9, 2014

" کچھ تاریخی حقائق "

  منجانب فکرستان 
غوروفکر کیلئے
گولڈن ٹیمپل کو امن کی علامت کہنے والے ہی فساد کررہے ہیں: تمام مذاہب اخوت، بھائی چارہ اور امن
 کا درس دیتے ہیں،لیکن اِن مذاہب کے پیرو کار تعلیمات کے برعکس عمل کرتے ہیں،مثلاً: اگر ہم سکھو ں
 کی  گرنتھ صاحب،صوفیائے کرام،گولڈن ٹیمپل  کی تعمیر دیکھیں:اور پھرتقسیمِ  ہند پر لکھی سکھ مسلم خونی 
 تاریخ کو دیکھیں تو مذہبی تعلیماتِ کے برعکس شیطانی عمل ہُوا۔
گولڈن ٹیمپل کی بنیاد مسلمان صوفی  بزرگ حضرت میاں میر جی  نے سولہویں صدی میں گرو  ارجن
صاحب کی خواہش پر اپنے ہاتھوں سے رکھی۔ یہاں روزانہ ہزاروں سکھ عبادت کیلئے آتے ہیں،وہیں
دنیا بھر سے سیاح اس گوردوارے کا خوبصورت طرز تعمیر دیکھنے آتے ہیں۔۔گولڈن ٹیمپل کو مذہبی 
رواداری،محبت، بھائی چارے اور امن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 
پانچویں سکھ گرو ارجن دیوجی (1616- 1581) نے گرُو گرنتھ صاحب کی ترتیب و تدوین سن سولہ
سو تین میں شروع کی تھی۔ اس وقت پنجاب کے دانشور حلقوں میں  کتاب گرنتھ صاحب کی تیاری کا
 کافی چرچا ہوا۔سکھوں کی اِس مقدس  کتاب گرنتھ صاحب  کی تیاری میںگرو ارجن دیو جی کے علاوہ 
پہلے چار سکھ گروؤں اور مسلمان اور ہندو صوفیاء اور بھگتوں کے کلام پر مشتمل  سن سولہ سو چار میں
 مکمل ہوئی۔ (مزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں)۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%86%D8%AA%DA%BE_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8  
 پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }          

Saturday, June 7, 2014

"گذشتہ سے پیوستہ "

منجانب فکرستان
 لیون لیڈرمین نے  ہیگز بوزون ذرہ کو" گاڈ پارٹیکل" غالباً تمثیلاً لکھا، لیکن میڈیا  کے طفیل میں بھی دھوکا 
کھا گیا اور اِس نظریہ کے خلاف 28/9/2011 کو کیا کچھ لکھا " کاپی پیسٹ" آخر میں ملاحظہفرمائیں۔۔   

" کاپی پیسٹ"
لگتا ہےسرن( cern)  کےسائنسدان بھی سائنس کے عشق میں مبتلا ہوکر  کُچھ جذباتی ہو گئے ہیں  کہ  ہیگز بوزون "ذرہ"
 کو" خُدا" کا درجہ دینے لگے ہیں۔۔۔ جبکہ سائنسدان تو خود  اچھی  طرح جانتے ہیں کہ سائنسی نظریات تو آئے دن بدلتے
 رہتے ہیں۔۔۔ ایسے میں  ہیگز بوزون کو" گاڈ" پارٹیکل کہنا کہاں کی عقل مندی ہے ۔۔۔  یہ سائنس کو بند گلی میں لے
 جانے والی جیسی بات  ہے ۔۔۔ کل کلاں کو  ہیگز بوزون سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ذرہ کی نشان دہی ہوتی ہے تو پھر آپ کیا کریں گے ؟؟؟چلیں مان لیتے ہیں کہ ہیگز بوزون ذرہ دریافت ہو بھی جاتا ہے مگر اسکو " گاڈ "پارٹیکلکون مانے گا مذاہب نے  انسانی ذہن میں "گاڈ" کا جو امیج بنایا ہے وہ ماورائی ہے ۔۔۔ اس سے دُنیاوی کوئی چیز میل نہیں کھا سکتی ہے۔۔۔ 
جس کمپیوٹر نے ذہانت میں انسان کو شکست دی ۔۔۔یقیناً وہ بہت ذہین  ہے مستقبل قریب میں  اس سے بھی زیادہ ذہین ترین کمپیوٹرز بنیں گے لیکن کیا  یہ ذہانت سے معمور کمپیوٹرز اپنے بنانے والے کو جان سکتے ہیں ؟؟؟ یہ ذہانت میں انسان سے چاہے کتنے ہی زیادہ ذہین کیوں نہ ہوجائیں پھر بھی یہ اپنے بنانے والےکو نہیں جان سکتے ہیں ۔ یہی حال انسان کا ہے کہ وہ چاہے کتنی ہی بڑی لیب کیوں نہ بنالیں وہ اپنے خالق کو کبھی نہیں جان سکتا ۔ ۔۔ شُکریہ۔۔۔

لگتا ہےسرن( cern)  کےسائنسدان بھی سائنس کے عشق میں مبتلا ہوکر  کُچھ جذباتی ہو گئے ہیں  کہ  ہیگز بوزون "ذرہ" کو" خُدا" کا درجہ دینے لگے ہیں۔۔۔ جبکہ سائنسدان تو خود  اچھی  طرح جانتے ہیں کہ سائنسی نظریات تو آئے دن بدلتے ہتے ہیں۔۔۔ ایسے میں  ہیگز بوزون کو" گاڈ" پارٹیکل کہنا کہاں کی عقل مندی ہے ۔۔۔  یہ سائنس کو بند گلی میں لے جانے والی جیسی بات  ہے ۔۔۔ کل کلاں کو  ہیگز بوزون سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ذرہ کی نشان دہی ہوتی ہے تو پھر آپ کیا کریں گے ؟؟؟چلیں مان لیتے ہیں کہ ہیگز بوزون ذرہ دریافت ہو بھی جاتا ہے مگر اسکو " گاڈ "پارٹیکلکون مانے گا مذاہب نے  انسانی ذہن میں "گاڈ" کا جو امیج بنایا ہے وہ ماورائی ہے ۔۔۔ اس سے دُنیاوی کوئی چیز میل نہیں کھا سکتی ہے۔۔۔ 
جس کمپیوٹر نے ذہانت میں انسان کو شکست دی ۔۔۔یقیناً وہ بہت ذہین  ہے مستقبل قریب میں  اس سے بھی زیادہ ذہین ترین کمپیوٹرز بنیں گے لیکن کیا  یہ ذہانت سے معمور کمپیوٹرز اپنے بنانے والے کو جان سکتے ہیں ؟؟؟ یہ ذہانت میں انسان سے چاہے کتنے ہی زیادہ ذہین کیوں نہ ہوجائیں پھر بھی یہ اپنے بنانے والےکو نہیں جان سکتے ہیں ۔ یہی حال انسان کا ہے کہ وہ چاہے کتنی ہی بڑی لیب کیوں نہ بنالیں وہ اپنے خالق کو کبھی نہیں جان سکتا ۔ ۔۔
28/9/2011 کو لکھی پوسٹ کا لنک
 پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرنا آپکا حق ہے۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Thursday, June 5, 2014

کیا کوئی مناسبت نظر آتی ہے؟؟؟

منجانب فکرستان
سابقہ پوسٹ میں موت کے وقت کہے گئےالفاظ اور روز نامہ دُنیا میں آج شائع شُدہ درج ذیل مضمون میں 
کہی  گئی باتوں میں: کیا کوئی مناسبت نظر آتی ہے؟؟ 
 پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرنا آپکا حق ہے۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Wednesday, June 4, 2014

" موت اور آخری الفاظ "

  منجانب فکرستان
غور وفکر کیلئے
غوروفکر سےآپکی  کیا مراد ہے؟وضاحت: مثلاً طالبان نے مذاکرات کے زریعے 1 قیدی کے بدلے امریکہ
 سے اپنے 5 قیدی رہا کرالئیے اس واقعے کےمختلف پہلؤں پر غوروفکر کے زریعے ہمامریکہاور طالبان کے 
بارے میں اپنی ایک ذاتی رائے قائم کرسکتےہیں۔ویسےتو غوروفکر کرنے والے۔اپنے بے وزن چلنے پھرنے 
پر بھی غوروفکر کرکے ۔ ۔" خُدا"سے  ملاقات کرلیتے ہیں۔۔ (یعنی خُدا کی عظمت کو محسوس کرلیتے ہیں)۔
آج "موت"پرغور وفکر کیلئےمحترم جناب کلدیپ نائر کے چھوٹے بھائی کی موت کےمنظر اورآخری الفاظ کو
 منتخب کیا ہے وہ اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ:
"جب اُسکا وقت قریب آچکا تو وہ  کہنے لگا مجھے زور سے چمٹا لو۔۔جیسے کوئیاس کولے جانا چاہ رہا تھا۔۔۔اور 
وہ چاہتا تھا کہ۔۔میں اُسے روک دوں۔میں نے نہایت زور سےاپنے بازؤں میں دبا لیا ۔۔لیکن مجھے محسوس 
ہُورہا تھا کہ اُس  کا بدن ڈھیلا پڑگیا ہے۔۔۔اُس کےآخری الفاظ یہ تھے ۔۔۔بھائی  مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔ مجھے 
روشنی نظرآرہی ہے۔۔۔میں وہاں جا رہا ہوں۔۔۔تب وہ جا چُکا تھا "۔( Beyond the lines ترجمہ ایک
 زندگی  کافی نہیں  پبلشرزفکشن ہاؤس
٭٭٭٭٭ 
فکرستان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اِس میں زیادہ تر ایسی باتیں، واقعات یا تذکرے ہوں کہ جن پر کچھ غور وفکر ہو ۔۔۔اب یہ پڑھنے والے کی دلچسپی پر منحصر ہے کہ جس واقعے کا تذکرہ کیا گیا ہو اُس میں پڑھنے والے کی دلچسپی  کتنی ہے؟ 
دُنیا میں جتنے بھی مذاہب آئے اُنکی مذہبی کتابوں میں غوروفکر کی ایسی دعوت نہیں دی گئی ہے، جیسی کہ  قُرآن مجید میں دی گئی ہے ۔۔قُرآن مجید میں تقریباً گیارہ فیصد آیات ایسی ہیں کہ جو انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتی  ہیں۔۔۔
  پوسٹ میں درج باتوں سےاختلاف/اتفاق کرنا آپکا حق ہے۔ اب اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Friday, May 30, 2014

کیا " قتل " خودکشی بن جائے گا ؟؟

 منجانب فکرستان :کیا قتل خودکشی بن جائے گا ؟؟
پوری دُنیا میں بڑھتے بھیانک ریپ واقعات پر افلاطون کا" شُکرانہ"  یاد آنے لگتا ہے " صد شُکر کہ میں لڑکی نہیں لڑکا
 ہوں اور یہ کہ میں سقراط کے عہد میں پیدا ہُوا ہوں"۔۔
بھارت کی 14اور 15 سالہ دو معصوم بچیوں کا بھیانک ریپ واقعہ یوں پیش آیا کہ گاؤں کے نچلی ذات والے غریب
 بیت الخلاء نہیں بنا پاتے ہیں، رفع حاجت  کیلئے جھاڑیوں میں بچیوں کے ساتھ مائیں  بھی جاتیں ہیں، واقعہ والے دن
  گھریلو کام پڑنے پر بچیوں کے ساتھ نہیں گئیں، شیطانی کردار والوں نے موقع پاکر بچیوں کے ساتھ بھیانک قسم کا
شیطانی کردار ادا کرکے موت کی نیند سُلادیا ۔۔جبکہ ایک سینئر پولیس افسر نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ اب تک واضع نہیں ہوپایا ہے کہ لڑکیوں کا قتل ہُوا ہے یا کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے ۔۔۔ مزید تفصیل جاننے کیلئے لنک پر جائیں۔۔۔مجھے اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  
     



Monday, May 26, 2014

پارٹی فیصلے یا مودی فیصلے ؟؟

  منجانب فکرستان
مجھے اُن لوگوں پر رشک آتا ہے: جنہیں خُدا پر بڑا گہرا یقین و ایمان ہے( کلدیپ نائر)
 سعودی قانون کے تحت لڑکیاں اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکتیں۔ لیکن شادی  نہ کرانے پر
 والدین کے خلاف مقدمہ درج کراسکتی ہیں،لہٰذا 2 سال میں 382 لڑکیوں نے شادی نہ کرانے پر اپنے والدین کے
 خلاف مقدمات درج کرائے ۔( ایک خبر)
کیا مودی اپنا امیج سُدھار نا چاہتے ہیں۔۔مثلاً  بی جے پی والے مہاتما گاندھی سے پَرخاش رکھتے ہیں،ایسے میں مودی  کا
 حلف برداری سے پہلے مہاتماگاندھی کی سمادھی پر حاضری دینا  پارٹی فیصلے کے بجائے مودی فیصلہ لگتا ہے، اسی طرح سے
پاکستانی وزیر اعظم کو تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے مدعو کرنا بھی پارٹی فیصلے کے بجائے  مودی فیصلہ لگتا ہے، الیکشن کمپین بھی بی جے پی منشور کو ہائی لائٹ کرنے کے بجائے،گجرات شائن، مودی اور صرف مودی کو ہی ہائی لائٹ کرتے رہے ہیں،گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی نے پارٹی پر اپنی گرفت  بہت  زیادہ مظبوط  بنالی ہے، اعلیٰ جیت نے بھی اعتماد بخشا ہے ، اسی لیے بولڈ فیصلے کر رہے ہیں۔۔
٭٭٭٭٭
آپ نے  جو کچھ پڑھا ہے وہ ذاتی رائے ہے،جس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق بنتا ہے۔اب اجازت دیں
"پڑھنے کا بُہت شُکریہ "   
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  



Sunday, May 25, 2014

غیب سے آتے ہیں !!۔

  منجانب فکرستان
مرزا اسداللہ خاں غالب نے انسانی ذہن کی کیا خوب عکاسی کی ہے کہ:"آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں" کیا اس
بات سے کوئی انکار کرسکتا ہے ؟ہر شخص اِس  تجربے سے گُزرتا ہے ۔بعض شُعرا  اور نثر نگار قلم کاغذ اپنی جیب میں رکھتے
 ہیں کہ خُدا جانے کب غیب سے کوئی  خیال وارد ہوجائے تاکہ بھولنے سے پہلے اُس خیال کو لکھ لیں، یوں مختلف ذہنوں
 سے نکلے مختلف خیالات ہمیں  پڑھنے کو ملتے ہیں،جن سے ہم محظوظ ہوتے  ہیں،سائنسدانوں کا بھی یہی کہنا ہے،
پال ڈیویز نے اپنی کتاب"ذہنِ خُدا وندی" میںایک سائنسداں کا ذکر کیا ہے کہ جسکو کئی دنوں سے کسی سائنسی مسئلے کا حل نہیں مل رہا تھا  کہ: ایک دن  کار چلاتے میں اچانک اُس کے ذہن میں مسئلے کا حل غیب سے خیال میں آیا ۔۔۔ 
  عزیز دوستو شایدآپ سوچ رہے ہوں کہ یہ ساری تمہید ہے کس بات کی ؟ تو عرض ہے کہ : ارادہ یہ ہے کہ اپنے خیالاتی پوسٹ کے ساتھ ساتھ دیگر مختلف شخصیات مثلاً کسی فلسفی، شاعر، نثرنگار، دانشور، سیاستداں، مذہبی رہنما  یا پھر کسی عام آدمی  کے  ذہن سے نکلے جملے، پیرائیے جنہیں  کسی اخبار، کسی کتاب یا پھر کسی ویب سائٹ پر پڑھا ہو سے انتخاب دوستوں سے شئیر کروں۔۔ مقصد وہی ہے یعنی "غوروفکر"میرے خیال میں غور و فکر سے زیادہ لذت کسی اور چیز میں نہیں  ہے۔۔
٭٭٭٭٭
آپ نے جو کچھ پڑھا ہے، وہ ذاتی رائے ہے، جس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ  کا حق بنتا ہے۔اب اجازت دیں۔
"  پڑھنے کا بُہت شُکریہ"  
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...