Wednesday, December 11, 2013

" ذہن کی اثر پزیری صفت اور فرقے "

منجانب فکرستان: نیچری:قادیانی
 فسادی سیب کی کہانی سے بلاگر ساتھی کاشف بھائی کے دماغ میں چند سوالات آئے۔اسی طرح سے سعد بھائی کے
 بلاگ پر دو تبصرے پڑھکر میرے دماغ میں بھی سوالات پیدا ہوئے، اِن میں  سے ایک تبصرہ تو بلاگر ساتھی سلیم
 احمد بھائی کا ہے جبکہ دوسرا تبصرہ اکرام اللہ بھائی کا ہے ۔۔۔اس پوسٹ کا بنیادی مقصد انسانی ذہن کی اثر پزیری
 صفت ہے چونکہ ذہن کی اس صفت نے دُنیا میں بُہت فساد  پرپا کیا ہُوا ہے۔۔ پوسٹ کی تیاری میں عبدالماجد 
دریابادی کی آپ بیتی سے بھی مدد لی گئی ہے ۔۔۔
اکرام اللہ بھائی نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ ناول "جب زندگی شروع ہوگی" سے ذہن اتنا مُتاثر ہُوا کہ آنکھوں میں آنسوں آگئے ،جبکہ سلیم بھائی ناول سے اِسقدر متاثر ہوئے کہ نہ صرف ناول کو گھوٹ کر پی گئے، بلکہ اُنکے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ اس اچّھے ناول کی دس بیس کاپیاں خرید کر عزیز و اقارب کو پڑھنے کیلئے دیں گے( بھلا ہو سعد بھائی کا کہ اُنکے پیسے بچ گئے) ۔۔
اکرام بھائی میرے لیے اجنبی ہیں۔ لیکن سلیم بھائی کو تو ہم پڑھتے رہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ذہین انسان ہیں ۔۔لیکن جب سعد بھائی  نے ناول کی *تحلیل نفسی کی اور اُس میں سے "ایک ادبی واردات " نامی پوسٹ نکالی تو وہی ناول کہ جس کا اثر آنکھوں سے آنسو نکالتا تھا ،  اور جسے گھوٹ کے پی لیا گیا  تھا، اب "ایک ادبی واردات "نامی پوسٹ  نے سب کچھ اُلٹ دیا  ۔۔جو ذہن "جب زندگی شروع ہوگی" پڑھ کر  جس درجہ متاثر دکھائی دے رہا تھا اب وہی ذہن سعد کی پوسٹ  "ایک ادبی واردات " سے  بھی  اُتناہی متاثر دکھائی دے رہا ہے۔۔۔ لیکن اب سمت اُلٹ گئی ہے۔۔۔ پہلے جو ناول جتنا اچّھا تھا اب اُتنا ہی  بُرا ہے یہ ہے انسانی ذہن اور انسانی ذہن کی اثر پزیری کی صفت۔۔  
بالکل اسی طرح سے عبدالماجد دریا بادی کی آپ بیتی میں بھی ذہن کی اِس حیرت انگیز اثر پزیری صفت کو دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔اُنہوں نے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی اور تربیت پائی نتیجہ میں نیچریوں اورمسیحوں کے خلاف مضامین لکھے ،پھر ایک کتاب "الییمنٹس آف سوشل سائنس " پڑھی اِس عقلیاتی کتاب کا ذہن پر  ایسا اثر پڑا کہ گُھٹی میں پڑی تعلیم اور برسوں کا مذہبی ماحول " ہَوا" ثابت  ہُوا اور ملحد بن گئے۔ ۔۔
10 سال تک ذہن پر ملحدی خُمار چڑھا رہا ۔۔پھر دوست کے رغبت دلانے پر صوفی ازم کو پڑھا تو ملحدی خمار کی  جگہ ذہن کی اثر پزیری صفت نے ماجد صاحب کو صوفی بنادیا، پھر ایک قادیانی دوست کے گھر قُرآن کی تفسیر انگریزی میں پڑھی تو متاثر ہوکر پھر اسلام میں داخل ہوگئے ۔۔۔اکرام صاحب، سلیم صاحب اور ماجد صاحب سب تعلیم یافتہ صحت مند ذہن کے مالک ہیں ۔۔۔لیکن ذہن کی اثر پزیری صفت کے شکار ہوئے ۔۔۔
غرض کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی ذہن میں اثر  پزیری کی صفت حد درجہ پائی جاتی ہے، یہی سبب ہے کہ آج ہر مذہب میں بیشمار فرقے  نظر آتے ہیں اور روز بہ روز انسانی ذہن کی اِسی اثر پزیری صفت کے تحت نئے نئے فرقے بھی وجود میں  آتے جارہے ہیں ۔۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں۔۔ آپکا  بُہت شُکریہ ۔۔۔
* ناول کے متن کا تجزیہ ۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


Sunday, December 8, 2013

" میرے ذاتی خیالات "

منجانب فکرستان: میرے ذاتی خیالات
 بلاگر ساتھی سعد کی پوسٹ "ایک ادبی وارادات" پڑھی( رب دیکھ رہا ہے:جھوٹ نہیں لکھ رہا ہوں )
پوسٹ پڑھ کرمجھے ہنسی آگئی: 
ہنسی اِس خیال کے تحت آئی  کہسعد بھائی نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ وطن کا کوئی درخت 
ایسا نہیں جسکی شاخوں پر غامدی صاحب کا طوطی نہ بولتا ہو۔اور پھر جس ناول کو اچھا سمجھ کر دوستوں 
  کو لنک فراہم کیا:اس میں سے بھی  غامدی صاحب نِکل آئے :اسطرح کل کا  اچّھا ناول آج  اچّھا نہ رہا ۔۔
لنک کی فراہمی کی  بنا پر ہی میں نے بھی  ناول کے چند صفحے پڑھے ہی تھے کہ: متن میں مجھے بے ادبی کا احساس ہُونے لگا، تو پڑھنا چھوڑ دیا ۔
 ویسے بھی مجھے ناول پڑھنے سے الرجی ہے آج تک کوئی ناول نہیں پڑھا، اسی طرح جب حامد میر اور افتخاراحمد کے ٹاک شو شروع ہوئے تھے چند پروگرام دیکھے انداز ِتکلم اور  طریقہ کار سمجھ میں نہیں آیا:ریٹنگ کے چکر میں تقریباً اینکروں نے یہی طریقہ کار اپنایا  وہ دن ہے اور آج کا دن ہے کہ کِسی چینل پر کِسی قسم  کا کوئی ٹاک شو نہیں دیکھتا ۔۔۔اور اس سے بھی بہت  پہلے سے نہ کوئی فلم دیکھتا ہوں اور نہ ہی کوئی ڈرامہ دیکھتا ہوں ،ڈرامہ، ٹاک شو  اور فلم  سب ایک جیسے بیکار ملاوٹی/ بناوٹی لگتے ہیں۔۔ غرض کہ ایک عرصہ بیت گیا: فلم، ٹاک شو یا ڈرامہ نہیں دیکھا۔۔۔ البتہ فلم کے گانے ضرور سُنتا ہوں میوزک خالص ہوتا ہے/ دُھن خالص ہوتی ہے، ۔اور خالص چیز میں اپنا ایک اثر ہوتا ہے ۔ ڈاکومینٹری چینل دیکھتا ہوں کہ یہ بھی خالص ہوتے ہیں ، کرکٹ نہیں دیکھتا  کہ اِسکی زبان نہیں آتی ہے البتہ فٹ بال کو انجوائے کرتا ہوں ۔۔۔
 میں ذاتی طور پر اس راہ کا مسافر ہوں کہ: یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے ؟  یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے ؟ اِس سوچ کا بڑا فائدہ  یہ ہے کہ:کوئی کسی کو بھلا کہے یا کہ بُرا اپنی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا: ویسے ہر شخص اپنے اعمال کی نیت کی بنیاد پر اپنے لیے جنّت دوزخ بنا رہا ہے ۔۔فیصلہ رب نے کرنا ہے۔۔جو نیتوں کو جانتا ہے۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔ پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      
    

Saturday, December 7, 2013

" ہمّت "

منجانب فکرستان: خیال: تنقید: تبصرہ: لڑکی : واقعہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی واقعہ کو دیکھ کر ، سن کر یا  پڑھ کر ۔۔۔اگر ذہن میں کوئی خیال یانظریہ جنم  لیتا ہے۔۔۔ تو وہ خیال یا نظریہ
 آپ کی معنوی اولاد یعنی  بچے کی ماند ہوتا ہے۔۔۔ اس لیے آپ کو پیارا ہوتا ہے ۔۔۔آپ اپنے اِس پیارے بچے۔
 (نظریے)  کو دُنیا والوں کو دِکھانا چاہتے ہیں۔۔۔اب یہ بچّہ (خیال/نظریہ)  کسی کو کالا لگے کہ گورا  (یعنی  بے معنی لگے کہ با معنی) آپ کو تو پیارا ہے۔:grin:۔۔
یہ وضاحت : پوسٹ " پسِ پردہ کی حقیقت " پر تنقیدی تبصروں کی وجہ سے کرنی پڑ رہی ہے ۔عرض ہے کہ: تنقیدی تبصرے کیلئے دو تین بار پڑھنا ضروری  ہے: چونکہ ایسا بھی دیکھنے آیا ہے کہ دوسری بار پڑھنے سے معنی کیا سے: کیا ہوجاتے ہیں۔ تنقیدی تبصرہ  کرنے والوں سے میری  گُذارش ہے کہ وہ دوبارہ پڑھ کر دیکھیں، اُس میں خُدا کی حکمت کی نشان دہی ملے گی ،نوازش ہوگی شُکریہ ۔۔۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
تصویر دیکھی کہ: 16 سالہ لڑکی، بھاری بھرکم ویٹ لفٹر والد کو اُٹھائی ہوئی ہے۔۔۔عقل نے کہا نا ممکن  :  لیکن تصویر گواہی دے رہی تھی  کہ لڑکی نے ایسا کر دکھایا ہے: سوال ہے کہ یہ واقعہ کیونکر ممکن ہُوا ؟؟
دماغ میں اِس خیال  نے جنم لیا کہ یہ واقعہ اسی طور ممکن ہُوا ہے کہ لڑکی نے کہا: میں اُٹھا سکتی ہوں  ۔۔۔لڑکی نے ہمّت کو آواز دی، ہمّت نے لڑکی کو طاقت دی اور بظاہر ناممکن واقعہ ظہور پزیر ہوگیا ۔۔۔  دیکھیں کہ لڑکی جُھکی نہیں ہے ، طاقت سے اُٹھائی ہوئی ہے اور یہ طاقت لڑکی  کی فزیکل باڈی  میں نہیں ہے۔۔۔ لیکن لڑکی کے ذہن میں ہمت کی طاقت ہے۔جس کو اُسنے کلک کیا، جو فزیکل باڈی میں منتقل ہوئی جس کے وجہ سے وہ بھاری بھرکم ویٹ لفٹر والد کو اُٹھانے کامیاب ہوئی ہے ۔:grin:۔ 
ہمّت کے بارے میں دماغ میں جنم لینے والا درج بالا خیال /نظریہ  یا معنوی بچہ کالا ہوکہ گورا ( یعنی بے معنی ہوکہ بامعنی) مجھے تو پیارا ہے۔:grin:۔۔۔ اسی لیے آپ لوگوں سے شئیر کررہا ہوں ۔۔
نوٹ:نظریہ/ خیال اتنا ہی صحیح  ہوتا ہے جتنا کہ غلط :  اب مجھے اجازت دیں ۔۔ پڑھنے کا شُکریہ ۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, December 5, 2013

" حمد "

منجانب فکرستان
 دوستو:جب بلاگنگ شروع کی تھی، پہلی پوسٹ میں" خُدا کی عظمت" کی معمولی سی جھلک اپنی پوسٹ میں سمونے کی
 کوشش کی تھی "وہی" اب نستعلیق فونٹ میں" پیش ہے۔دوستو: مجھے شاعری نہیں آتی اسلئیے نثر سمجھ کر پڑھئیے۔
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
نیم کی نِبولی ہے کتنی چھوٹی سی، درخت اُس میں سے نکالتا ہے خالقِ کائنات
کوئی ماں بچّہ پال نہیں سکتی،  ماں میں مامتا ڈالتا ہے خالقِ کائنات
بنجر زمینی سیارے پر زندگی ناممکن، زندگی کے لوازمات بکھیرتا ہے خالقِ کائنات 
زبان کیا ہے، گوشت لوتھڑا ، اُس میں حسِ ذائقہ ڈالتا ہے خالقِ کائنات
آنکھوں میں دیکھنے کی سکت کہاں؟ اِن میں دیکھنے کاعمل ڈالتا ہے  خالقِ کائنات
خوردبینی جرثومہ ہے کتنا چھوٹا، اُس میں سے انسان نکالتا ہے خالقِ کائنات 
کائنات میں ہیں کھربا کھرب اجرامِ فلکی،اِن سب میں توازن ڈالتا ہے خالقِ کائنات
ہر چیز سے عیاں ہے ہر چیز میں نہاں، ہر شے میں اپنی جھلک ڈالتا ہے خالقِ کائنات
عقلِ کُل، توانائی کُل، قوانینِ کُل: اِن سب کا منبع ہے خالقِ کائنات 
درخت قلم بن جائیں ،سمندر سیاہی، پھر بھی بیاں نہ ہوسکے کی صفتِ خالقِ کائنات  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اب مجھے اجازت دیں۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


  

Tuesday, December 3, 2013

" پسِ پردہ کی حقیقت "

منجانب فکرستان: انجانے میں :دانستہ: انڈوپاک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا واقعی عورت ایک معمہ ہے؟؟ عورت کو بھی نہیں معلوم کہ:اُسے معمہ کیوں کہا جاتا ہے؟؟ لیکن جب ہم غور کرتے ہیں تو
 ہمیں  عورت میں ایک جذبہ ایسا ضرورنظر آتا  ہے کہ:جو اُسے معمہ ثابت   کرسکتا ہے: اخلاقیاتی ضمیر کے بارے میں
  کچھ ماہرینِ نفسیات و دانشور یہ دعویٰ  کرتے نظر آتے  ہیں کہ  یہ ودیعت شُدہ ہے جبکہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے، جو اخلاقیاتی ضمیر کو
 ماحولیاتی اکتساب کہتی  ہے، لیکن عورت کے جس معمے والے جذبے کی بات ہورہی ہے وہ ودیعت  شُدہ ہے جِسکا ثبوت یہ ہے کہ:  ۔
عورت چاہے قبائیلی معاشرے کی ہو کہ زمانہ قدیم کی ہر عورت میں بننا سنورنا خوبصورت نظر آنے کا جذبہ پایا جاتا ہے اسلئیے اِس جذبے کو ودیعت شُدہ ہی کہیں گے اور ودیعت شُدہ کے معنی  خُدا کی حکمت کے ہیں۔
پوری دُنیا میں عورت کے جنسی استحصال کے بارے میں عورت کے بناؤ سنگھار اور لباس کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے ۔۔۔بالکل اسی طرح  سے دُنیا بھر کی عورتیں بھی اس الزام کو غیر حقیقت پسندانہ کہتی ہیں، اور اس پر احتجاج کرتی نظر آتی ہیں کہ : ہمارا بننا سنورنا اور ہمارا لباس مردوں کے جنسی جذبات کو ابھارنے کیلئے  نہیں ہے۔۔ بلکہ مرد کی فطرت ہی خراب ہے ۔۔۔ورنہ ہم تو صرف اپنے آپکو خوبصورت بنا نے کیلئے اتنا سارا وقت اور اتنا سارا پیسا خرچ کرتے ہیں۔۔۔
صحیح بات یوں ہے کہ عورت کے ذہن میں دانستہ طور پر مردوں کا جنسی جذبہ ابھارنے کا کوئی تصور نہیں ہوتا، لیکن خوبصورت نظر آنے کیلئے وہ جو اہتمام کرتی ہے انجانے میں فطرت کی آلہ کار بن کر کرتی ہے:
 مثلاً وہ ہونٹوں پر سرخی جمائے سولہ سنگھار کئے ایسی تراش خراش کے  کپڑے زیب تن کرتی ہے  کہ جس میں جسم کی نمائش یا جسمانی خدوخال زیادہ نمایاں ہوں، بلکہ انڈوپاک سمیت دُنیا بھر کی وہ عورتیں کہ جن کے پستان چھوٹے ہیں یاڈھلک گئے ہوتے ہیں اور یہ کہ جو 2ہزار تا 6 ہزار ڈالر تک کا خرچہ برداشت کر سکتی ہیں  اور خوبصورتی کیلئے سرجری کی تکلیف اُٹھانے کیلئے تیار ہوتی ہیں ،وہ (breast  Implant  surgery ) کرواتی ہیں اور اپنے پستانوں کا سائز بڑھواکر انہیں سڈول بنواتی ہیں دُنیا بھر میں یہ سرجری مقبول ہورہی ہے، جبکہ اِس سرجری کے سائڈ افیکٹ بھی کافی ہیں اسکے باوجود سرجری کروانا کیا معنی رکھتا ہے؟؟  عورت کہے گی کہ خوبصورت نظر آنے کیلئے !!
جبکہ سڈول پستان کی خوبصورتی تو صرف اور صرف مرد کو ایٹریکٹ کرتی ہے اور مرد کے جنسی جذبہ کو اُبھارتی ہے۔۔۔پھر انکار کیسا؟؟ وہی نا دانستہ والی بات ہے۔۔۔
 اِس سارے معمے کی پسِ پردہ حقیقت وہی ہے کہ جس ذکر پہلے آچُکا ہے وہ یہ  کہ فطرت عورتوں کے خوبصورت نظر آنے کے جذبے کے زریعے مردوں کے جنسی جذبہ کو اُبھار کر اپنا مقصد حاصل کرتی ہے: یعنی "انسانی نسل کی بقا " ۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
  دوستو: ذیل کی تصویر میں" معمے کی پسِ پردہ  کی حقیقت کو دیکھیں" آپ صرف اور صرف بچّے کے چہرے کو نظر جمع کر دیکھیں عورت کو نہ دیکھیں، اور  پڑھنے کی تھکن دور کرلیں ۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت بہت شُکریہ ۔۔۔       
   

نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 


Thursday, November 28, 2013

سارے سلسلے لگتے ہیں ایک جیسے !!۔

منجانب فکرستان
 کرک نامہ اور اخبارات میں پڑھا کہ:  ہم کرکٹ میچ  جیت گئے ہیں۔۔دماغ میں خیال آیا کہ نوکری چلتی رہے گی، 
بالکل اسی طرح جسطرح ہمارے بہت سارے سرکاری محکمے کہ جن کا کام انسداد جرائم ہے۔۔۔لیکن پھر بھی جرائم
 کا گراف اِس تیزی سے بلند ہو رہا ہے گویا یوں لگتا جیسے انکے انسداد کیلئے ملک میں سرے سے محکمے نہیں ہیں:
 تاہم پھر بھی جیسے ہم اخبارات میں کبھی کبھار پڑھتے ہیں کہ ہم میچ جیت گئے ۔۔بالکل اسی طرح کبھی کبھار ایسی خبریں  بھی  پڑھنے کو مل جاتی ہیں کہ  فلاں محکمے نے فلاں کیس پکڑا ہے: یوں عوام کو معلوم ہوجاتا ہے اور عوام خوش ہوتی ہے کہ گویا ملک میں فلاں جرم کے انسداد کیلئے ہمارے ملک میں محکمہ موجود ہے۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ محکمہ اپنی حفاظت کی خاطر کبھی کبھا کاکردگی دکھا کر فائل کا پیٹ بھرتا ہے۔۔جیسے کبھی کبھی کرکٹ کی جیت ہوجاتی ہے۔۔۔یاپھر جیسےکبھی کبھار ٹریفک والا بابو پیسے لینے کے بجائے ہمارا چالان کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ مہینہ میں اتنے کیس دکھانے ہیں تاکے محکمہ بھی چلتا رہے ،اور نوکری بھی چلتی رہے۔۔۔   پاکستان میں سارے سلسلے ایک جیسے لگتے ہیں ۔۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 



   

لمحاتی لذتی جذبہ" عقل " کو" دُھول " چَٹا دیتا ہے۔

منجانب فکرستان
کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے؟؟ "امریکی صدر، اسرائیلی صدر،اٹلی کے وزیر اعظم، آئی ایم ایف کے سربراہ:اعلیٰ عقلی
 قابلیت کی بِنا پر اعلیٰ عُہدوں پر پہنچے (لیکن)لمحاتی لذتی جذبہ نے انکی عقلوں کو لمحہ بھر میں دُھول چَٹادی:سزا کی تفصیل
آگے آئے گی۔"ترون تیج پال"جس نے اپنے  اعلیٰ آدرش  اوربے باک صحافت کی بنیاد پر جریدے "تہلکہ" کو عُروج پر پہنچایا:
معاشرےمیں اپنی ایک صاف سُتھری شبیہہ بنائی:عزت، شُہر ت پائی: پھر ایسا ہُواکہ تیج پال کے ساتھ کام کرنے والی 
ایک صحافی لڑکی کے جسم نے لمحاتی لذتی جذبہ کو ایسا اُبھارا کہ عقل دُھول چاٹنے لگی:
 یوں لمحاتی جذبے نے تیج پال کی عزت، شُہر ت اور صاف سُتھری شبیہہ کو خاک میں ملا دیا، اب وہ بیٹی، بیوی، خاندان، دوست احباب اور معاشرے  کا سامنا کیسے کرے پائے گا؟؟
تیج پال کی بیوی اور بیٹی بھی اپنے دوست احباب سے کیسے آنکھیں ملائیں گی ؟؟۔۔۔ پھر متا ثرہ لڑکی اور اُسکا خاندان بھی  بِنا کئے جرم کی سزا کاٹیں گے  ۔۔۔۔۔۔ اے بھگوان : چند لمحوں میں یہ سب کیا ہوگیا ؟؟؟ میری مذہبی تعلیم، انسانی اخلاقیات ، خاندان کا خیال ، معاشرے کا خوف  یہ سب کے سب اُس لمحے کہاں چلے گئے تھے ؟؟؟ 
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
لمحاتی لذتی جذبہ نے سزا دی :
 بل کلنٹن کو پوری دُنیا کے سامنے رُسوا ئی اور شرمندگی  کا  سامنا کرنا پڑا۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
 سابق اسرائیلی صدر موشے کاٹساو  کو بدنامی کے ساتھ صدارتی عہدے سے استعفیٰ اور 7 سال قید جس میں سے 2سال بامشقت سزا ہوئی ۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
اٹلی کے سابق وزیر اعظم بر لو سکونی کو 7 سال کی  سزا ہوئی تھی  یوں  سکونی بے سکونی ہُوا  ۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینک سٹراس کو استعفیٰ دینا پڑا ، جیل کی ہؤا کھانی پڑی اور فرانس کے صدر بننے کا خواب ٹوٹ کر چکناچور ہُوا ۔۔گو بعد میں عورت سے مُک مُکا ہُوگیا۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...