Sunday, June 2, 2013

دیوی (آئی پی ایل)۔

منجانب فکرستان:راج کندرا؛ سیاستدان؛ بُرا ہُوا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 آئی پی ایل ، ہرطبقہ، ہرعمر کا جنون تھا، چھکا پڑ نے پر "پیٹ میں موجود بچّہبھی تالیاں بجاتا تھا ، مرتا بُوڑھا بھی نعرہِ تحسین  بلند کرتا تھا" ۔ آئی پی ایل دیوی کے دیوانے اِسلئیے بنے کہ دیوی اِنکے ایک ایک CELL میں خوشیاں بھرتی تھی،  یہ ہر طرح کی لسانی، مذہبی تفریق مِٹاکر تبصرہ پر اکُسا کرانہیں جوڑتی تھی، گھروں کے ماحول کو خوشگوار بناتی تھی، روٹھے ہوئے بھی تبصرہ کیلئے آپس میں جُڑ جاتے تھے ، نوجوان آئٹم سونگ سے زیادہ دیوی آئی پی ایل کے دیوانے تھے، لیکن اعترافات نے سب کو صدمے میں مبتلا کردیا۔
سیاستدان ایمانداری کا حلف اُٹھا کراربوں روپوں کی کرپشن کرتے ہیں، ثبوت دِکھانے پر بھی اعتراف نہیں کرتے ہیں ، صاف مُکر جاتے ہیں، یوں معملے کو متنازعہ بنادیتے ہیں، ایسے میں کھلاڑیوں کو روسو بننے کی کیا ضرورت  پڑی تھی۔۔۔
اب بات کھلاڑیوں تک نہیں رہی راجستھان رائل کے مالک راج کندرا کے اعتراف کے بعد ، دیوی کے پاس کیا بچا ہے ، اُسکا سب کُچھ لُٹ چُکا ہے ۔۔۔بُہت بُرا ہُواکہ برِصغیر کے لوگوں اور خاص کر نوجوانوں سے ایک صاف ستھری تفریح  چِھن گئی۔۔۔
رائے سے اختلاف/اتفاق کرنا سب کا حق ہے ۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
  { ہمیشہ پروردِگار کی مہربانیاں رہیں } 


Friday, May 31, 2013

عمران خان کا ڈرون حملہ

 منجانب فکرستان ٹیگز : ڈرون *اپوزیشن * طالبان * امریکی پالیسی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عمران خان کا یہ بیان اپنے آپ میں نواز شریف پر ڈرون حملے جیسا ہے کہ نواز شریف امریکی ڈرون گرا کر اپنی حکومت کا آغاز کریں۔۔۔
قدم بڑھاؤ کا نعرہ اب ہُوا پُرانا نیا نعرہ ہے ڈرون مار گراؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔۔یہ بیان ایک جانب بھرپور اپوزیشن کا عکاس ہے تو دوسری جانب طالبان موقف کے حق میں بھی جاتا ہے۔۔اور تیسری جانب ممکن ہے کہ امریکی پالیسی سازوں کو بھی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی کُچھ سوچنے پر مجبور کرے کہ یہ آواز طالبان کی نہیں بلکہ ایک منتخب شخص اور ایک کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی کے سر براہ کی آواز ہے ۔۔
عمران خان نے دھاندلی جیت پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنکی جیت کا بھانڈا پھوڑ کر رہیں گے، چاہے کسی حد تک جانا پڑے  ۔۔۔مزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں ۔۔
رائے سے اختلاف/اتفاق سب کا حق ہے ۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Saturday, May 25, 2013

اُڑنے سے پیشتر

منجانب فکرستان: دوچار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا تھا۔ (غالب سے معذرت)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا خیبر پختونخوا میں حکومت بننے سے پہلے ٹوٹ جائے گی ؟؟ چونکہ اب دونوں جانب سے  وضاحتی بیانات آرہے ہیں ، لہجہ بھی بدل رہا ہے ، جماعت اسلامی کے رہنما امیرالعظیم کا کہنا ہے کہ، 3 وزارتیں،تعلیم ،فنانس اور زکواۃ جماعت اسلامی کو دینے کی بات طے ہوچُکی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے قائدین وزارتیں دینے سےمتعلق اپنی لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ۔ ۔

اِس سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر العظیم اپنے نقطہ نظرکی وضاحت میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ،دو دن پہلے پارٹی وفد کی عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی جس میں وزارتوں کے بارے میں بھی بات ہوئی تھی اگر اس بارے میں پی ٹی آئی کو کچھ تحفظات ہوتے تو سامنے آجاتے۔۔۔

 پی ٹی آئی کی پارٹی ترجمان شیریں مزاری نے کہا ہے کہ عمران خان کی خواہش ہے کہ تعلیم کی وزارت پی ٹی آئی کے پاس رہے ، چونکہ اس حوالے سے پارٹی نے اپنا ایک جامع روڈ میپ بنایا ہُوا ہے جو نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے ملک کیلئے ایک رول ماڈل ثابت ہوگا۔۔۔
یاد ہوگا کہ الیکشن میں دونوں پارٹیوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معملہ دوچار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا تھا ۔۔۔

 رائے سے اتفاق/ اختلاف کرنا سب کا حق ہے۔۔۔خبر کی تفصیل کیلئے لنک پر جائیں ۔۔۔ مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
{ ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں}

Monday, May 20, 2013

" دلائل اپنے اپنے "

منجانب فکرستان : دونوں حلقوں کے دلائل وزن دار ہیں۔  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  اب اکثریت  کی گفتگو کا محور پی ٹی آئی کو حکومت بنانی چاہئیے/ نہیں بنانی چاہئیے پر ہے اس حوالے سے اپنے اپنے دلائل ہیں مثلاً ایک حلقے  کا کہنا ہے کہ عمران کو کمزور مخلوط  حکومت نہیں بنا نا چاہئیے اُنکے خیال میں طالبان اور ڈرون مسئلوں سے بڑھ کر اتحادی کھینچاتانی مسائل پیدا کریں گے، چاروں میں زرداری جیسا مفاہمتی  کوئی نہیں ہے، یوں چار کی حکومت چوک میں پُھوٹے گی، سارے خواب ....کرِچی کرِچی ہوجائیں گے۔۔
 7 سیٹوں پر 3 وزارتیں جماعت اسلامی اور 7 سیٹوں پر قومی وطن پارٹی نے بھی 3 وزارتیں مانگ لی ہیں، جبکہ عوامی جمہوری پارٹی 3 سیٹوں پر 2 وزارتیں مانگ رہی ہیں۔۔
جس طرح کہا جاتا ہے کہ بھارت نے ابھی تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ہے بالکل اُسی طرح مولانا فضل الرحمان نے بھی پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا ہے۔۔ اوپر سے جماعت اسلامی کی تین وزارتیں ،سینے پر مونگ دلنے جیسی بات ہے ۔۔ مولانا سیاسی داؤپیچ کے ماہر ہیں ،جو کمزور حکومت کو مسلسل دھکے مارتے ہیں گے۔۔۔ 
جبکہ دوسرے حلقے کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت ضرور بنانا چاہئیے کہ یہ اکثریت دِلانے والے ووٹرز کا پی ٹی آئی پر قرض ہے کہ وہ حکومت بنائے اور اپنے آپ کو منوانے  کے اِس بہترین موقع کو ضائع نہ کرے ۔۔۔ اپنے خواب  کو جس حد تک صوبائی اختیارات اجازت دیتے ہیں عملی صورت عطا کرے۔۔۔
دونوں حلقوں کے دلائل وزن دار ہیں ۔۔ اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
{ خُدا حافظ }

    
      

Sunday, May 19, 2013

" خالص کھیل "

منجانب فکرستان : آئی پی ایل : حرکات وسکنات 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئی پی ایل کھیل  کئی انسانوں کی حقیقی خوشی کا باعث ہے/تھا لیکن اب یہ خالص نہیں رہا،اب ہمیشہ شک کے دائرہ میں رہے گا ، یوں مزا کرِ کرا کرے گا۔۔شروع شروع میں لڑکیوں کے ناچ پر اُنگلیاں اُٹھیں تھیں کہ لوگ کرکٹ کا خالص کھیل دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن ہُوا کیا لڑکیوں کا ناچ تو خالص رہا اور کرکٹ کا کھیل ہی  ملاوٹ زدہ ہو گیا۔۔  
سیاست کے کھیل میںجیت کیلئے اور کرکٹ کے کھیل میں ہار کیلئے دھاندلیاں ہورہی ہیں، سیاستدانوں کی طرح اب کرکٹ کے کھلاڑی بھی بدنام ہوتے جارہے ہیں  البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ سیاستداں کو جسم پر جس جگہ کُجھلی محسوس ہو کُجھا لے گا   لیکن کرکٹ کا کھلاڑی سپاٹ فکسنگ خوف سے مّچھر کے کاٹنے پر بھی نہیں کُھجائے گا اور نہ ہی جوتے کے کاٹنے پر کوئی ردِ عمل دِکھا سکے گا۔۔  یعنی حقیقی حرکات وسکنات بھی اب شک دائرے میں رہیں گے۔۔۔اب اجازت دیں ،بُہت شُکریہ۔
{ خُدا حافظ }




Tuesday, May 14, 2013

" شفاف الیکشن "

 منجانب فکرستان: ڈیفنس کی کہانی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شفاف الیکشن پر خواہ مخواہ  انگلیاں اُٹھائی جا رہیں، اب اس سے زیادہ شفافیت کیا ہو گی کہ بعض حلقوں میں فرشتوں نے ووٹ ڈالے ہیں ( فافن کے مُطابق 136 اسٹیشنوں پر٪ 100 سے زیادہ ٹرن آؤٹ رہا)  جبکہ 45 لاکھ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں دیا گیا ، اگر انہیں حق مل جاتا تو رزلٹ کچھ اور ہوتا۔ 
 مثال: کراچی ڈیفنس ہوکہ لاہور ڈیفنس اِس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اتِنا باشعور طبقہ رہتا ہے کہ  جو دھرنا تو دُور کی بات ہے ووٹ ڈالنے تک نہیں جاتا کہ چہرے ، نام اور پارٹیاں الگ سہی، لیکن سب ایک ہیں، اِن میں کوئی فرق نہیں  پھر انتخاب کیسے ہو اور کس کا ہو ؟؟؟ اِس سوچ کے تحت اکثریت ووٹ دینے نہیں جاتی ہے ۔۔۔
 اس الیکشن میں اُنہیں ایک ایسی آواز سُنائی  دی جو بالکل نئی تھی ، اس نئی آواز میں موجود خلوص بھی اُنہیں نظر آرہا تھا ، اِس لیے ڈیفنس کے رہائشی اس آواز پر جذباتی ہوگئے ، کیا مرد کیا خواتین کیا جوان کیا بوڑھے سب ہی ووٹ دینے نکل پڑے لیکن نتیجہ؟؟؟
پورے پاکستان میں صرف لاہور ڈیفنس اور کراچی ڈیفنس کے مکینوں نے نہ صرف دھاندلی کا شکوہ کیا بلکہ جذباتی نعرے بھی لگائے اور دھرنا بھی دیا ۔۔۔
 45 لاکھ سمندر پار ووٹرز بھی ڈیفنس ووٹرز کی طرح اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باشعور ووٹرز ہیں،جو لسانیت، برادری ازم، علاقائی عصبیت، گدی ازم غرض کہ ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ووٹرز  ہیں،  میری معلومات کے مُطابق سمندر پار والوں کو بھی اِس نئی آواز نے متاثر کیا تھا اور جذباتی بھی ہوئے تھے، اگر اِنہیں ووٹ کاسٹ کا حق مل جاتا تو پھر نتائج یہ نہیں رہتے، بُہت بدل جاتے ۔مگر  
85 سالہ عمر نے اپنے تقاضے دکھائے۔۔۔45 لاکھ دباؤ سے آزاد ووٹرز ووٹ سے محروم ہوئے۔ 
ممکن ہےآپکا نقطہ نظر مجھ سے مختلف ہو، اور یہ کوئی بُری بات نہیں ہے،اب مجھے اجازت دیں،آپکا بُہت شُکریہ۔
{ اللہ بیلی }
لنک پر فافن رپورٹ کی تفصیل ہے 
        

Sunday, May 12, 2013

"مختصر سا جائزہ "

 منجانب فکرستان: پی ٹی آئی کو کم سیٹیں ملنے کی چند ممکنہ وجوہات۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 (دوستو : میری اُنگلیاں پھسل گئیں کالم نگار ہارون رشید کے بجائے ہارون الرشید لکھ دیا تھا ، اِس کیلئے میں معزرت خواں  ہوں) یہ  اُسی طرح ہُوا ہے جسطرح عمران خان نے شیرپر مہر لگانے کو کہا اور لوگوں نے شیر پر مہر لگا دیا۔۔ اسی طرح شہباز شریف نے دو سال میں بجلی ختم کرنے کی بات کی ہے دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟؟؟ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مثلاً عمران خان نے نواز شریف کے خلاف جو جوش و جذبے والا اندازِ تکلم اپنایا تھا وہ پنجاب کی عوام کو پسند ہو۔۔۔جبکہ عمران خان ممکن ہے اِیسا سمجھتے رہے ہوں کہ اس طرح  کے جوش ،جذبے اورجیت کے دعوے کرکے وہ ووٹروں کا پی ٹی آئی پر اعتماد بڑھا رہے ہیں۔۔
  کالم نگار ہارون رشید کی بات نہ ماننے پر اُنکا کپتان سے خفا ہونا ۔۔۔ کالم نگار حسن نثار کا ایک دم سے یوٹرن لینا اور پی ٹی آئی کے خلاف لکھنا ،جو لوگ حسن نثار اور ہارون رشید کے کالم پڑھتے ہیں اُن پر پی ٹی آئی کے بارے میں منفی اثرات پڑے ہونگے ۔۔ 
  تجربہ، سرمایا اور طاقت انتخابات میں جیت کے  بڑے اسباب میں شمار ہوتے ہیں۔۔ ن لیگ اِن تینوں طاقتوں میں مالا مال تھی۔۔ ن لیگ کے امیدوار تجربہ کار تھے ، سرمائے کی طاقت بھی اُنکے پاس تھی جبکہ پنجاب کی انتظامیہ شہباز شریف والی ہی تھی ۔۔ 
 ممکن ہے آپ کے خیالات مجھ سے مختلف ہوں اور یہ کوئی بُری بات نہیں ہے۔اب مجھے اجازت دیں۔آپکا شُکریہ
 {اللہ بیلی }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...