Tuesday, April 16, 2013

ایسا بھی ہوتا ہے !!!۔

منجانب فکرستان: مہابھارت: ہندو روایت: Taboo
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اِس غیر معمولی خصوصیت کی حامل سچی کہانی کو ڈیلی" Mail online" نے اپنے پورے صفحے پر بمع تصاویر  جگہ دی ، کہانی کا تعلق بھارت کے ایک گاؤں سے ہے۔۔ جبکہ اسی طرح کی دوسری سچی کہانی،جِس کو نیشنل جغرافک چینل نے فلما کر، Taboo عنوان کے تحت
اپنے چینل پر دکھایا تھا جس کا تعلق جدید ترین معاشرے کے جدید  ترین شہر سے تھا۔۔۔
 پہلی سچی کہانی ایک لڑکی "راجوورما" کی ہے جس کاتعلق شمالی بھارت کے علاقے دھرادون کے قریب واقع ایک گاؤں سے ہے ۔۔ راجوورما کی جس شخص سے شادی ہوئی اُسکے چار بھائی تھے ۔۔۔یوں وہ ہر سال دُلہن بنتی گئی اورہر سال  ایک شوہر کا اضافہ ہوتا گیا 5 سالوں میں ایک ساتھ پانچ شوہروں والی بن گئی، پانچوں سگے  بھائیوں کی  اکلوتی بیوی۔۔۔ راجو ورما نے بتایا ، ہمارے گاؤں میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ،اسلیئے میرے لیے بھی کوئی عجیب بات نہیں ہے۔۔میرے باپ بھی تین سگے بھائی ہیں۔۔۔ (لو کرلو گل)۔۔۔ راجو ورما نے نمائندے کو بتایا کہ ہم ایک خوشگوار زندگی گُذار رہے ہیں۔
 میرے خیال میں راجو ورما جو کُچھ کہہ رہی ہے اُسکا سچ اُسکی تصاویر سے عیاں ہے۔ ۔۔۔مکمل تفصیل،راجوورما کی تصاویر، مہابھارت اور ہندو روایت وغیرہ کے بارے میں جاننے کیلئے: فوٹر لنک پر جائیں۔۔
دوسری کہانی کا تعلق جدید شہری زندگی سے ہے۔ جسے نیشنل جغرافک چینل نے اپنے پروگرام Taboo میں دیکھایا تھا ۔۔ایک 30،35 سالہ خاتون اپنے شوہروں کا تعرف یوں کرواتی ہیں کہ یہ مسٹر فلاں (نام یاد نہیں رہا) میرے پہلے شوہر ہیں اور یہ میرے دوسرے شوہر ہیں ، یہ دونوں آپس میں (حدِادب) دوست بھی ہیں، ہم سب ساتھ رہتے ہیں اور ہیپی لائف گُذار رہے ہیں اور ہاں یہ لڑکیاں میرے شوہروں کی گرلز فرینڈز ہیں ،ہم سب لائف کو انجوائے کر رہے ہیں۔۔۔
 دوستو: یقین کریں مجھے راجو ورما والا حقیقی سچ اِن کے چہروں پر نظر نہیں آیا ۔۔۔ہوسکتا ہے یہ میرے ذہن کا تعصب ہو ۔۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فلمانے کی وجہ سے مصنوی پن لگا ہو۔۔۔ بہر حال آپ لنک پر جائیں راجوورما اور اسکے پانچ شوہروں کو دیکھیں اور ہوسکے تو سماجی ماحولیاتی اثرات پرغور کریں۔۔  مجھے اجازت دیں۔۔
{پڑھنے کا شُکریہ ۔۔رب راکھا}

Friday, April 12, 2013

" انتخاب "

 منجانب فکرستان: مشہور دانشوروادیب طارق علی کی گفتگو سے انتخاب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 طارق علی کی دنیا ئے سیاست پر گہری نظر ہے وہ سیاست اور تاریخ پر 14 کتابیں لکھ چُکے ہیں۔۔ اِس سیر حاصل گفتگو میں ، بھٹوکی پھانسی ،متناسب نمائندگی ،پاکستانی سیاست،جنوبی امریکہ، ،عرب اسپرنگ،ترکی، سرمایا دارنہ نظام ،بھارت امریکہ تعلقات،اسٹیبلشمنٹ ، فوج، میڈیا غرض کہ کئی باتوں پر اپنی رائے دی ہے،

Tuesday, April 9, 2013

" حیرت انگیز باتیں "

 منجانب فکرستان: نٹور سنگھ: 5 سوال: مارگریٹ تھیچر 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لیڈی آئرن تھیچر کو ایک سادھو کے سامنے موم بننے کا ذکر کیا ہے ، یہ واقعہ وہ اپنی کتاب میں بھی لکھ چُکے ہیں ۔۔ دوستو واقعہ پڑھ کر میں بھی حیرت زدہ رہ گیا اسی لیے اب یہ حیرت اپنے قارئین دوستوں سے شیئر کر رہا ہوں ۔۔  یہ واقعہ 1975 کا ہے کہ جب نٹور سنگھ برطانیہ میں بھارت کے نائب ہائی کمشنر تھے اور تھیچر کو پارٹی لیڈر بنے صرف 6 ماہ ہوئے تھے ۔۔۔نٹور صاحب کے پاس دوست کا حوالہ لیکر ایک سادھو آیا اور تھیچر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ۔۔نٹور سنگھ نے پوچھا کیا کام ہے ۔۔سادھونے کہا اُن ہی کو بتاؤں گا۔۔۔
بہر حال نٹور نے تھیچر سے سادھو کا تذکرہ کیا ، تھیچر کس موڈ میں تھیں کہ دس منٹ کا ٹائم دے دیا ۔۔سادھو انگلش نہیں جانتا تھا اسلئیے نٹور سنگھ ترجمان بنے  ۔۔ملاقات پرتھیچر نے سادھو سے پوچھا کہ تم کیوں مجھ سے ملنا چاہتے ہو ۔۔۔جواب میں سادھو نے ایک کاغذ منگوایا اس پر لکیریں لگا کر کاغذ کے 5 ٹکڑے کئے تھیچر سے کہا ان کاغذ کے ٹکڑوں پر سوالات لکھ کر موڑ کر رکھ دیں ۔۔تھیچر ایسا کر چُکیں۔۔ تو کہا اب ایک کاغذ اُٹھا کر کھولیں اور دل ہی دل میں لکھا سوال دوہرائیں ۔۔سادھوں نے سوال بتا دیا ۔۔۔ اسی طرح سادھوں نے پانچوں سوال بتادئیے تو نٹورسنگھ اور تھیچر دونوں حیرت زدہ ہوگئے، اسکے علاوہ تھیچر کے وزیر اعظم بننے  اور گیارہ سال وزیر اعظم رہنے کی پیش گوئی بھی سادھو نے کی تھی ۔۔۔
دوستو: اسکی عقلی توجیح کیا  ہوسکتی ہے؟ ۔۔ سادھو تھیچر سے ملنے کی خاطر نٹور سنگھ  کے پاس آیا تھا ۔۔لیکن سادھو نے تھیچر کا  ہی انتخاب کیوں کیا ؟؟؟ رب ہی جانے ۔۔اجازت دیں۔۔رب راکھا


" Lady Iron "

 منجانب فکرستان: زمین کی تھیچر پر لکھی کتاب سے منتخب چندقابلِ دید اوراق 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئرن لیڈی ہوکہ اِسٹیل وومن اُسنے ٹوٹ جانا ہے، جو آیا ہے اُسنے جانا ہے ۔۔خُدا کی حکمت اور اُسکی سببیت سے گھومتی زمین جو کُچھ دیتی ہے ،پھر وہی سب کُچھ چھین بھی لیتی ہے۔۔۔

Sunday, April 7, 2013

"گونج 62، 63 کی "

منجانب فکرستان: کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رضا ربانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہمذہبی نمائندوں کے دباؤ کے نتیجے میں آرٹیکل 62،63 میں اصلاحات نہ ہوسکیں، تاہم اُنہوں نے کہا کہ  نئی بننے والی پارلیمنٹ 62،63 میں تبدیلی لانے پر متفق ہوجائے گی۔۔ میرے خیال میں آرٹیکل 62،63 کو اب ایک مقدس مذہبی حیثیت جیسی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، اب اس میں معمولی سی بھی تبدیلی لانا ممکن نہیں رہا۔۔۔
اختلاف اپنی جگہ لیکن یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ طاہرالقادری اچانک اسٹیج پر نمودار ہوکر سب کو 62،63 کی تسبیح پڑھا دی اور انِ آرٹیکل میں ایسی روح پھونکی ہے کہ جسکی گونج پاکستان میں ہر سو، ہر جا، سُنائی دے رہی ہے۔۔  اِن آرٹیکل کو زندہ جاوید بنادیا ہے ۔۔۔ممکن ہے یہی دو شقیں پاکستان کی تقدیر بدلنے میں کار گر ثابت ہوں۔۔۔
کچھ حضرات طاہرالقادری کا یوں اچانک آنے ،آرٹیکل 62،63 کو زندہ کرنے،  اور انتخابات میں حصہ نہ لینے پر پاکستان کیلئے غیبی مدد کے اسباب مانتے ہیں۔۔کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟(لنک پر دیکھیں) اجازت دیں۔۔۔رب راکھا


Friday, April 5, 2013

" جانچ پڑتال "

منجانب فکرستان : ایاز امیر: عمران خان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الیکشن کمیشن نے بے رحم جانچ پڑتال کا اندیہ دیا تھا لیکن لوگوں کے ذہنوں میں اِسکی صورت واضع نہیں  ہو پا رہی تھی کہ یہ کس قسم کی جانچ پڑتال ہوگی ؟ لیکن اب جانچ پڑتال کی صورت واضع ہوتی جارہی ہے کہ یہ کس قسم کی ہوگی۔۔ مثلاً ایاز امیر کے انگریزی  کالموں میں نظریہ پاکستان سے مطلق لکھی گئی باتوں کی بُنیاد پر اُن کے کاغذِ نامزدگی مسترد ہوگئے ہیں، (جبکہ اُن کا کہنا ہے کہ انکے انگریزی مضامین کو غلط معنی پہنائے گئے ہیں) اسی طرح زبانی سوالوں سے بھی اس جانچ پڑتال کی صورت واضع ہو تی جا رہی ہے۔۔۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں پر ہر ایک نے احتجاج کیا ، لیکن عمران خان کی احتجاجی حکمتِ عملی موثر ثابت ہوئی، اِس کو دُنیا بھر میں پزیرائی ملی اِس حکمتِ عملی کے باعث معروف امریکی ویب سائٹ" گلوبل پوسٹ "کے مطابق سن 2012 کے دُنیا کے 9 با اثر ترین شخصیات میں سے عمران خان دُنیا کے تیسرے با اثر ترین شخص قرار دیے گئے ۔۔

میرے خیال میں اگر پاکستانی عوام نے عمران خان پر اعتماد کرکے تحریک انصاف کو الیکشن میں کامیاب کرایا تو  کامیاب ڈرون احتجاجی حکمتِ عملی کی طرح  وہ بہتر حکمتِ عملی  اپناکر  پاکستان  کوصحیح سِمت میں موڑ سکتے ہیں ۔۔اجازت دیں ۔۔رب راکھا  


Thursday, April 4, 2013

" شیکسپیئر "

منجانب فکرستان:نئے شواہد: ڈرامے کس نے لکھے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  بی بی سی نےابریسٹوئتھ یونیورسٹی کے حوالے سےشیکسپیئر کےبارے میں نئے شواہد ملنے کی خبر دی ہے کہ وہ قحط کے زمانے میں اناج ذخیرہ  کرکے خوب پیسے بناتا تھا  عدالتی ثبوت کے مطابق ذخیرہ اندوزی کے جرم میں ایکبار نہیں کئی بار شیکسپیئر پر مقدمے چلے۔۔ 
 بڑا رائٹر وہی بنتا ہے جسکا مطالعہ وسیع ہوتا ہے، میرے نزدیک جِسکا مطالعہ وسیع ہوتا ہے اُسکی ذہنیت اِس درجہ پست نہیں ہوسکتی کہ قحط کے زمانے میں پیسہ کمانے کی غرض سے اناج کی ذخیرہ اندازی کرے ۔خبر کے مطابق یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ شیکسپیئر ایک زمیندار اور سخت گیر قسم کا تاجر تھا۔۔ اب بات سمجھ میں آتی ہے کہ  قحط کے زمانے میں ایک تاجر کی ذہنیت ہی غلے کی ذخیرہ اندوزی کر سکتی ہے،   لکھاری شیکسپیئر کی ذہنیت ایسا نہیں کر سکتی ہے ۔۔    یقیناً یہ زمیندار،سخت گیرتاجروہی ناخواندہ تاجر ہے جس کے بیوی بچّے بھی ناخواندہ تھے ۔جسکا تذکرہ مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب

The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History میں کیا تھا ۔۔

 مائیکل ہارٹ کے مطابق شیکسپیئر کی سوانح عمری کا بڑا حصّہ زیب داستاں کیلئے مصنفین کی ذہنی اختراح کا نتیجہ ہے مثلاً فورڈ گرامر اسکول میں شیکسپیئر کی تعلیم کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔۔۔اُسکے 3 ورقی وصیت نامے میں بھی کسی ڈرامے یاتصنیف کی حقوق کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔۔۔غرض مائیکل ہارٹ کو ڈرامہ نگار شیکسپیئر کے بارے میں کہیں سے بھی کوئی بااعتبار شواہد نہ ملے یوں مائیکل ہارٹ  کو ولیم شیکسپیئر کو اپنی کتاب میں رینک الاٹ کرنے میں کافی دقت پیش آئی۔۔
 تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے سارے ڈرامے،گیت اور لمبی نظمیں آخر کس نے لکھیں ؟؟ اس بارے میں مائیکل ہارٹ کی تحقیق کہتی ہے کہ اس دور کے ایڈورڈ ڈی ویری  نے لکھے ہیں نہ جانے کس مصلحت کے تحت اُسنے اپنا اصلی نام  ظاہر نہیں ہونے دیا وہ کہتے ہیں،   "ہم ڈی ویری کے نام کے اخفاء کی مکمل وجوہات جان پاتے ہیں یا کہ نہیں اس سے قطع نظر بہر طور وہ شیکسپیئر ہونے کے تمام دیگر معیا رات پر پورا اترتا ہے،اور یہ بھی یاد رہے کہ کوئی دوسرا اس سے اتنا مماثل نہیں ہے ، میرے نزدیک یہ بات حتمی طور پر درست ہے کہ وہی اصل مصنف ہے " باقی ساری کہا نیاں اسکے مرنے کے بعد کی سوانح عُمریاں ہیں ۔۔۔۔بہر حال اُنہیں اپنی تحقیق پر اعتماد تھا اسی لیے اُنہوں نے اپنی کتاب میں بڑے اعتماد سے  المعروف سوانح عمری والے شیکسپیئر کی بجائے ایڈورڈ ڈی ویری  کو بحیثیت ولیم شیکسپیئر متعارف کرایا ہے۔۔ وہ اس بارے میں مزید معلومات کیلئے چارلٹن اور اوگبرن کی کتاب "ولیم شیکسپیئر کا بھید" پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔۔یہ بات بھی یاد رہے کہ  مائیکل ہارٹ ایک سائنسدان ہیں اور ناسا سے وابستہ رہ چُکے ہیں ۔۔تفصیلات کیلئے لنکز پر جائیں۔۔
 اس پوسٹ کے لکھنے کا بنیادی مقصد  یہ ہے کہ کتنی حیرت کی بات، دُنیا کا مشہور ترین شخص کی جعلی سوانح عُمریاں لکھی گئیں ،اب نئے شواہد شیکسپیئر کو بالکل ایک نیا شخص ظا ہر کررہے ہیں۔۔۔
شیکسپیئر کے کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خُدا جانے تاریخ میں کتنا کّچھ جعلی مواد ذاتی مفاد، مذہبی مفاد، اور قومی مفاد کے نام پر ڈالا گیا ہے، اور خُدا ہی جانے کہ یہ جعلی مواد نے کس درجہ  لوگوں میں کنفیوژن پھیلایا ہُوا ہے۔۔ میری رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔۔۔ مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...