Tuesday, April 9, 2013

" Lady Iron "

 منجانب فکرستان: زمین کی تھیچر پر لکھی کتاب سے منتخب چندقابلِ دید اوراق 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئرن لیڈی ہوکہ اِسٹیل وومن اُسنے ٹوٹ جانا ہے، جو آیا ہے اُسنے جانا ہے ۔۔خُدا کی حکمت اور اُسکی سببیت سے گھومتی زمین جو کُچھ دیتی ہے ،پھر وہی سب کُچھ چھین بھی لیتی ہے۔۔۔

Sunday, April 7, 2013

"گونج 62، 63 کی "

منجانب فکرستان: کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رضا ربانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہمذہبی نمائندوں کے دباؤ کے نتیجے میں آرٹیکل 62،63 میں اصلاحات نہ ہوسکیں، تاہم اُنہوں نے کہا کہ  نئی بننے والی پارلیمنٹ 62،63 میں تبدیلی لانے پر متفق ہوجائے گی۔۔ میرے خیال میں آرٹیکل 62،63 کو اب ایک مقدس مذہبی حیثیت جیسی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، اب اس میں معمولی سی بھی تبدیلی لانا ممکن نہیں رہا۔۔۔
اختلاف اپنی جگہ لیکن یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ طاہرالقادری اچانک اسٹیج پر نمودار ہوکر سب کو 62،63 کی تسبیح پڑھا دی اور انِ آرٹیکل میں ایسی روح پھونکی ہے کہ جسکی گونج پاکستان میں ہر سو، ہر جا، سُنائی دے رہی ہے۔۔  اِن آرٹیکل کو زندہ جاوید بنادیا ہے ۔۔۔ممکن ہے یہی دو شقیں پاکستان کی تقدیر بدلنے میں کار گر ثابت ہوں۔۔۔
کچھ حضرات طاہرالقادری کا یوں اچانک آنے ،آرٹیکل 62،63 کو زندہ کرنے،  اور انتخابات میں حصہ نہ لینے پر پاکستان کیلئے غیبی مدد کے اسباب مانتے ہیں۔۔کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟(لنک پر دیکھیں) اجازت دیں۔۔۔رب راکھا


Friday, April 5, 2013

" جانچ پڑتال "

منجانب فکرستان : ایاز امیر: عمران خان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الیکشن کمیشن نے بے رحم جانچ پڑتال کا اندیہ دیا تھا لیکن لوگوں کے ذہنوں میں اِسکی صورت واضع نہیں  ہو پا رہی تھی کہ یہ کس قسم کی جانچ پڑتال ہوگی ؟ لیکن اب جانچ پڑتال کی صورت واضع ہوتی جارہی ہے کہ یہ کس قسم کی ہوگی۔۔ مثلاً ایاز امیر کے انگریزی  کالموں میں نظریہ پاکستان سے مطلق لکھی گئی باتوں کی بُنیاد پر اُن کے کاغذِ نامزدگی مسترد ہوگئے ہیں، (جبکہ اُن کا کہنا ہے کہ انکے انگریزی مضامین کو غلط معنی پہنائے گئے ہیں) اسی طرح زبانی سوالوں سے بھی اس جانچ پڑتال کی صورت واضع ہو تی جا رہی ہے۔۔۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں پر ہر ایک نے احتجاج کیا ، لیکن عمران خان کی احتجاجی حکمتِ عملی موثر ثابت ہوئی، اِس کو دُنیا بھر میں پزیرائی ملی اِس حکمتِ عملی کے باعث معروف امریکی ویب سائٹ" گلوبل پوسٹ "کے مطابق سن 2012 کے دُنیا کے 9 با اثر ترین شخصیات میں سے عمران خان دُنیا کے تیسرے با اثر ترین شخص قرار دیے گئے ۔۔

میرے خیال میں اگر پاکستانی عوام نے عمران خان پر اعتماد کرکے تحریک انصاف کو الیکشن میں کامیاب کرایا تو  کامیاب ڈرون احتجاجی حکمتِ عملی کی طرح  وہ بہتر حکمتِ عملی  اپناکر  پاکستان  کوصحیح سِمت میں موڑ سکتے ہیں ۔۔اجازت دیں ۔۔رب راکھا  


Thursday, April 4, 2013

" شیکسپیئر "

منجانب فکرستان:نئے شواہد: ڈرامے کس نے لکھے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  بی بی سی نےابریسٹوئتھ یونیورسٹی کے حوالے سےشیکسپیئر کےبارے میں نئے شواہد ملنے کی خبر دی ہے کہ وہ قحط کے زمانے میں اناج ذخیرہ  کرکے خوب پیسے بناتا تھا  عدالتی ثبوت کے مطابق ذخیرہ اندوزی کے جرم میں ایکبار نہیں کئی بار شیکسپیئر پر مقدمے چلے۔۔ 
 بڑا رائٹر وہی بنتا ہے جسکا مطالعہ وسیع ہوتا ہے، میرے نزدیک جِسکا مطالعہ وسیع ہوتا ہے اُسکی ذہنیت اِس درجہ پست نہیں ہوسکتی کہ قحط کے زمانے میں پیسہ کمانے کی غرض سے اناج کی ذخیرہ اندازی کرے ۔خبر کے مطابق یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ شیکسپیئر ایک زمیندار اور سخت گیر قسم کا تاجر تھا۔۔ اب بات سمجھ میں آتی ہے کہ  قحط کے زمانے میں ایک تاجر کی ذہنیت ہی غلے کی ذخیرہ اندوزی کر سکتی ہے،   لکھاری شیکسپیئر کی ذہنیت ایسا نہیں کر سکتی ہے ۔۔    یقیناً یہ زمیندار،سخت گیرتاجروہی ناخواندہ تاجر ہے جس کے بیوی بچّے بھی ناخواندہ تھے ۔جسکا تذکرہ مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب

The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History میں کیا تھا ۔۔

 مائیکل ہارٹ کے مطابق شیکسپیئر کی سوانح عمری کا بڑا حصّہ زیب داستاں کیلئے مصنفین کی ذہنی اختراح کا نتیجہ ہے مثلاً فورڈ گرامر اسکول میں شیکسپیئر کی تعلیم کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔۔۔اُسکے 3 ورقی وصیت نامے میں بھی کسی ڈرامے یاتصنیف کی حقوق کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔۔۔غرض مائیکل ہارٹ کو ڈرامہ نگار شیکسپیئر کے بارے میں کہیں سے بھی کوئی بااعتبار شواہد نہ ملے یوں مائیکل ہارٹ  کو ولیم شیکسپیئر کو اپنی کتاب میں رینک الاٹ کرنے میں کافی دقت پیش آئی۔۔
 تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے سارے ڈرامے،گیت اور لمبی نظمیں آخر کس نے لکھیں ؟؟ اس بارے میں مائیکل ہارٹ کی تحقیق کہتی ہے کہ اس دور کے ایڈورڈ ڈی ویری  نے لکھے ہیں نہ جانے کس مصلحت کے تحت اُسنے اپنا اصلی نام  ظاہر نہیں ہونے دیا وہ کہتے ہیں،   "ہم ڈی ویری کے نام کے اخفاء کی مکمل وجوہات جان پاتے ہیں یا کہ نہیں اس سے قطع نظر بہر طور وہ شیکسپیئر ہونے کے تمام دیگر معیا رات پر پورا اترتا ہے،اور یہ بھی یاد رہے کہ کوئی دوسرا اس سے اتنا مماثل نہیں ہے ، میرے نزدیک یہ بات حتمی طور پر درست ہے کہ وہی اصل مصنف ہے " باقی ساری کہا نیاں اسکے مرنے کے بعد کی سوانح عُمریاں ہیں ۔۔۔۔بہر حال اُنہیں اپنی تحقیق پر اعتماد تھا اسی لیے اُنہوں نے اپنی کتاب میں بڑے اعتماد سے  المعروف سوانح عمری والے شیکسپیئر کی بجائے ایڈورڈ ڈی ویری  کو بحیثیت ولیم شیکسپیئر متعارف کرایا ہے۔۔ وہ اس بارے میں مزید معلومات کیلئے چارلٹن اور اوگبرن کی کتاب "ولیم شیکسپیئر کا بھید" پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔۔یہ بات بھی یاد رہے کہ  مائیکل ہارٹ ایک سائنسدان ہیں اور ناسا سے وابستہ رہ چُکے ہیں ۔۔تفصیلات کیلئے لنکز پر جائیں۔۔
 اس پوسٹ کے لکھنے کا بنیادی مقصد  یہ ہے کہ کتنی حیرت کی بات، دُنیا کا مشہور ترین شخص کی جعلی سوانح عُمریاں لکھی گئیں ،اب نئے شواہد شیکسپیئر کو بالکل ایک نیا شخص ظا ہر کررہے ہیں۔۔۔
شیکسپیئر کے کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خُدا جانے تاریخ میں کتنا کّچھ جعلی مواد ذاتی مفاد، مذہبی مفاد، اور قومی مفاد کے نام پر ڈالا گیا ہے، اور خُدا ہی جانے کہ یہ جعلی مواد نے کس درجہ  لوگوں میں کنفیوژن پھیلایا ہُوا ہے۔۔ میری رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔۔۔ مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Sunday, March 31, 2013

"خبروں کی کھچڑی "

منجانب فکرستان: کس نے کیا کہا ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭:11مئی پولنگ اسٹیشنوں پر ہماری کامیابی کے ڈھول بجیں گے۔منظور وساں
٭پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں میں ہماری پوزیشن مضبوط ہے۔مولانا فضل الرحمان 
٭مگر مچھوں کو شکست دونگا ۔عمران خان
٭ عمران خان کی ضمانت ضبط کرادونگا۔حنیف عباسی
٭: میں مولانا کو ہرا کر چھوڑونگی۔ مسرت شاہین 
٭: برسراقتدار آکر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے۔نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب
٭ لوگ پیپلز پارٹی کی قربانیوں کو دیکھ کر ووٹ دیں گے۔منظور وساں
٭لوگ شہیدوں کو نظر میں رکھ کر ووٹ دیں گے۔منظور وساں
٭: لوگ ہماری 5 سالہ کارکردگی کو دیکھ کر ووٹ دیں گے۔منظور وساں
٭: جو بھی مقابلے کیلئے آئے گا، بُری طرح شکست کھائے گا۔منظور وساں
٭:11مئی پولنگ اسٹیشنوں پر ہماری کامیابی کے ڈھول بجیں گے۔منظور وساں
٭ امیدواروں کی بے رحم جانچ پڑتال ہوگی، جوبندوق دکھائے گا،وہ جیل جائے گا۔افضل خان (ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن)
٭: ڈکٹیٹر کے مدِ مقابل آکر مادرِملت کی روایت کو زندہ کررہی ہوں۔فوذیہ صدیقی
٭: سب کو آزمالیا، اب ہمیں بھی آزماؤنا ۔۔۔ نینا لال (خواجہ سرا)
٭:اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ایم۔ڈی:نور


Thursday, March 28, 2013

" سولہ / اٹھارہ "

منجانب فکرستان: ماہرینِ نفسیات کیا کہتے ہیں ؟  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بالی ووڈ کے بولڈ سین اورآئٹم سونگ سے بھارت کے پُرشوں کے ہارمون  کچھ زیادہ ہی متحرک  ہوگئے ہیں ، چلتی بس ہوکہ کار، جنگل ہوکہ ہوٹل، یہاں تک کہ اپنے تو رہے  ایک طرف غیر مُلکی سیاح بھی محفوظ نہ رہے۔تاج محل دیکھنا،ٹانگیں تڑوانا ایک جیسی بات ہوگئی۔۔۔جبکہ پچھلے دنوں بھارت کی پارلیمنٹ اس مخمصے میں  رہی ہے کہ لڑکیوں کی جنسی خودمختاری کی عُمر 16 سال ہونی چاہئیے کہ 18سال ٹھیک رہے گی ۔۔۔
 3 دھائیوں سے 16 سال ہی چلی آرہی تھی لیکن فروری میں ایک آرڈینینس کے زریعے 18 سال کردی گئی تھی۔۔ میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں ریپ کے حوالے سے بھارت کے ایوانِ زیریں میں جو بل منظور ہُوا ہے اُس میں بھی 18 سال عمر  ہی رکھی گئی ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق  کی کُچھ تنظیمیں یہ اعتراض اُٹھا رہی ہیں کہ لڑکیوں کی 18 سال کی عُمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہے جنسی خودمختاری کی عُمر پہلے کی طرح 16 سال ہی ہونا چاہئیے۔۔۔   
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ حواس خمسہ کے زریعے انسان کے دماغ  میں جو کُچھ فیڈ ہورہا ہے، اُسی کے اثر کا فیڈ بیک انسان کے رویوں میں ملتا ہے،اس لئے  بھارت کے سنسر  بورڈ کو فلم میں بولڈ سین اور آئٹم سونگ جیسے مسئلہ کا حل نکالنا چاہئیے کہ بھارت دُنیا میں ریپ کے حوالے سے بُہت بدنام ہورہا ہے۔۔دوستو اب اجازت دیں۔ 
آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ 

Tuesday, March 26, 2013

" خُدا شناسی "

منجانب فکرستان: کتاب:"تلاش۔اللہ۔ماورا کا تعین" کے بارے میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جیساکہ پوسٹ "تفسیر/ ترجمہ" میں کہا تھا  کہ جس دماغ میں قُرآن کو سمجھنے کا خیال نہیں آتا وہ تلاوت کے زریعے  خُدا سے جڑُجاتا ہے،ثواب وسکون حاصل کرتا ہے۔لیکن بعض اشخاص علماء کے ذہن کے زریعے جبکہ بعض خودسمجھنا چاہتے ہیں کہ قُرآن سمجھنے کیلئے اُتارا گیا ہے۔ مشہور ادیب ممتاز مفتی کے بیٹے عکسی مفتی بھی ایک ایسے ہی شخص ہیں جو خود سمجھنا چاہتے ہیں۔۔۔
 عکسی مفتی نے خُدا کی ہستی کو سمجھنے کی خاطر تاریخ ، فلسفہ، مذاہب ، سائنس تصوف و دیگر علوم اور اِن کی شاخوں  کا مطالعہ کیا  ہے۔ جسکے حوالے اُنہوں نے اپنی کتاب میں جا بجا دیے ہیں، وہ کہتے ہیں مطالعے کا یہ سفرعرصہ چالیس سال پر مُحیط ہے ۔۔۔اِن علوم کے زریعے خُدا کے حوالے سے اُنہوں نے جو کُچھ کشید کیا، وہ اُنکی  سوچ کا محور بنا جس سے اُنکا  فلسفہ"اللہ۔ماورا کا تعین"تشکیل پایا جسکی جھلک وہ پوری کائنات کی ہر چیز میں دیکھتے ہیں، اِس دیکھنے کو وہ مختلف علوم سے دلائل بھی فراہم کرتے ہیں اور اپنی سوچ سے جواز بھی تراشتے  ہیں۔۔
  یہ کتاب میں نے پڑھی ہے  میرے خیال میں  جس طرح سائنسدانوں کی زماں اورمکاں  کی یکجائی کی کوشش کے بعد اب زماں مکاں  بن گئے ہیں، اسی طرح  یہ کتاب بھی سائنس، مذاہب اور تصوف کی یکجائی کی کوشش ہے جس کے زریعے خُدا شناسی کا پیغام دیتی نظر آتی ہے۔۔۔عکسی صاحب کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔۔۔ 
نوٹ: عکسی مفتی صاحب کے خیالات جاننا چاہیں تو لنک پر جائیں اُنکا انٹرویو بغور پڑھیں کافی معلومات حاصل ہونگی اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=18709

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...