Tuesday, November 20, 2012

اسرائیلی حملوں پر کس نے کیا کہا ؟

منجانب فکرستان: اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے نے کیا کہا ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
غزہ میں اب تک 110 مسلمان شہید ہوچُکے ہیں جبکہ گھروں کے تباہ شُدہ ملبے بتا رہے ہیں کہ زخمیوں کی تعداد سیکڑوں میں ہوگی۔۔برطانیہ نے اسرائیل سے غزہ پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔۔امریکہ کا کہنا ہے کہ حماس کے خلاف اسرائیل  کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے ۔۔۔
 "سلامتی کونسل کو حاشیے پر نہیں رہنا چاہیے۔ "یہ بہت اہم کہ سلامتی کونسل ہمارے عوام کے خلاف اس جارحیت کو بند کروانے کی ذمے داری قبول کرے" یہ الفاظ تھے اقوام متحدہ میں میں فلسطینی نمائندے جناب ریاض منصور  کے ۔۔
۔ اقوام متحدہ سے ہی  بی بی سی کی نامہ نگار بار برا پلیٹ کا کہنا ہے کہ مغربی سفارت کار اس  بارے میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے بجائے حماس کی طرف سے راکٹوں کے فائر اور اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کا حوالہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔بان کی مون نے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے ۔۔۔
تیاری میں درج ذیل سے مدد لی گئی ہے۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔
http://www.nawaiwaqt.com.pk/international/18-Nov-2012/145807
ا

Sunday, November 18, 2012

ظلم ظلم ظلم - بد ترین ظلم ۔

منجانب فکرستان: اسرائیل فلسطین صورتِ حال مزید سنگین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
اسرائیلی وزیر اعظم  جنگ کا دائرہ  بڑھانے کی بات کر رہے ہیں ، جبکہ اسرائیل کے وزیرِ داخلہ نہایت ڈھیٹائی کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ   ( آپریشن پلر آف ڈیفس) کا مقصد "غزہ" کے مسلمانوں کو واپس پتھر کے زمانے میں پہنچانا ہے۔۔۔یہ صورتِ حال اس  وجہ سے پیدا ہورہی ہے کہ کوئی بھی اسرائیل کو روکنے والا نہیں ہے اقوام متحدہ، موتمر عالمیِ اسلامی اورعرب لیگ، سب کے سب مٹی کے مادھو ثابت ہورہے  ہیں؟کوئی بھی اسرائیل کا ظلم نہیں روک رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج  5 ویں دن بھی اسرائیل مسلسل "غزہ" والوں کو اپنے  ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے۔۔۔
 انسانی حقوق کے علم بردار امریکہ اور یورپی یونین کو اسرائیل کی اتنی بھیانک خلاف ورزیاں نظر نہیں آرہی ہیں۔۔یہ ہی تو وہ دوہرا معیار ہے جس نے دُنیا کو جہنم بنایا ہُوا ہے ،یہ ہی وہ دوہرا معیار ہے کہ ٹوئن ٹاور پر حملہ کرنے والوں کو جواز فراہم کرتا ہے اور یہ ہی وہ دوہرا معیار جو کسی کو امریکی فیڈرل ریزرو بنک کی عمارت کو تباہ کرنے پر اُکساتا ہے ۔۔۔ اپنے دوہرے معیار پر غور کریں ۔۔۔مسلمانوں سے تعصب پر مبنی پالیسیاں ترک کریں تاکہ دنیا میں امن اور  بھائی چارہ  قائم ہو ،تاکہ ٹوئن ٹاور پر حملہ نہ ہو ، تاکہ کسی کے دل میں یہ خیال  نہ آئے کہ امریکی فیڈرل ریزرو بنک کی عمارت کو تباہ  کرنا  ہے۔۔ 
" فطرت کے یہ اصول نہیں،"ظلم بھی ہو اور امن بھی رہے" یہ ممکن نہیں" ۔۔ 
  لنکس پر جائیں دیکھیں اور  اندازہ کریں، اب اجازت دیں ۔آپ کا بُہت شُکریہ۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/11/121118_gaza_pics_day5_rh.shtml
________________________________________
http://www.blogger.com/blogger.g?blogID=7786825204659904082#editor/target=post;postID=7504876027357596955

Friday, November 16, 2012

" گل ای مُک گئی "

منجانب فکرستان: وزِیر اعلیٰ سندھ نے دو اعلیٰ باتیں کہیں۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پہلی اعلیٰ بات:"دُعا کریں محرم خیریت سے گُذر جائیں"۔۔ ڈاکٹر عموماً دُعا کیلئے اُس وقت کہتے ہیں جب دَوائیں کار گر نہ ہوں، وزیراعلیٰ بھی صوبے کا ڈاکٹر ہوتا ہے،صوبے کو لاحق بیماریوں کی تشخیص و علاج اُسکی ذمہ داری ہے۔اسلئیے سوال پیدا ہوتا ہے کیا خلوص نیت سے کراچی کو لاحق بیماری کی تشخیص کی گئی۔۔اور  اگر کی گئی تو کیا اس بیماری کے علاج کیلئے جو دوا ہونی چاہئے وہی دوا دی گئی یا کہ خالی placebo (بے اثر بہلاوا) دیا جاتا رہا ۔۔اب مرض کی نوعیت  یہ ہوگئی ہے کہ دُعا کیلئے کہا جارہا ہے !!! اور ساتھ میں وزیر اعلیٰ  صاحب نے دوسری اعلیٰ بات یہ کہی ہے کہ" کراچی میں امن قائم رکھنا صرف پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی ذمہ داری نہیں، تمام جماعتوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی "۔۔۔۔ لو جی گل ای مُک گئی ۔۔ 
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Thursday, November 15, 2012

موٹرسائیکل چلانے پر پابندی۔

منجانب فکرستان : کیا پابندیاں لگانا ہی مسئلہ کا حل ہے ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پیپلز پارٹی والوں کا یہ کہنا ہے آئندہ  کی حکومت انہوں نے ہی بنانا ہے ۔۔لیکن انکی حکمتِ عملی سمجھ بالا ہے، مثلاً دہشت گردی کا خطرہ ہے اتنے گھنٹوں کیلئے مو بائل سروس بند ۔۔ٹارگیٹ کلنگ ہورہی ہے ڈبل سواری پابندی، دہشت گردی کا خطرہ ہے موٹر سائیکل چلانے پر پابندی ،سونے پر سُہاگہ ہفتے میں دو دن کیلئے سی این جی  کی بندش ہے ۔۔اس طرح لوگ کام پر  نہیں جا پا رہے ہیں نتیجہ کارخانوں ،فیکٹریوں اور دفتروں میں کام نہ ہونے کے برابر ہے۔۔ ریوینیو دینے والے شہر کراچی  کا یہ حال بنا دینگے تو پھر یہ ملک کیسے چلے گا ؟؟ کیا دہشت گردی کے مسئلے سے نپٹنے کا واحد حل صرف پابندیاں لگانا ہے یا یہ انتظامیہ کا خلا ہے؟ اور خلا فطرت کو پسند نہیں ۔۔
اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Saturday, November 10, 2012

میں کوئی جھوٹ بولیا ؟؟

منجانب فکرستان: جادو ایسا جو سر چڑھ کر بولے !
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عورت مرد کے مقابلے میں کمزور صنف ہے لیکن دنیا کی طاقتور ترین ایجنسی کے چیف ڈیوڈ پیٹریاس  ایک صحافی عورت کے سامنے کمزور ترین ثابت ہوئے وہ اپنی کمزوری کو غلطی سے تعبیر کر رہے ہیں۔۔ اسی طرح دنیا کے طاقتور ترین صدر بل کلنٹن بھی ایک ملازمہ عورت کے سامنے بے بس نظر آئے ،اور انہوں نے بھی اپنی کمزوری کو غلطی سے منسوب کیا ۔۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے طرّم خاں عورت  (بیوی/محبوبہ)  کے سامنے بھیگی بلّی ثابت ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اپنے ماں باپ تک کو گھر سے نکال باہر کیا ۔۔۔میں کوئی جھوٹ بولیا ؟؟
اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم۔ڈی)

Friday, November 9, 2012

خطباتِ اقبال

 منجانب فکرستان : سرن اور علامہ اقبال 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
علامہ اقبال نے اپنے خطبات   The Reconstration Of  Religious Thought in Islam یا "تشکیلِ جدید الہٰیاتِ اسلامیہ" 1928تا 1929 میں مذہب اسلام اور سائنس علوم کے حوالے سے جو بات کہی تھی  وہی بات سرن والے بھی گذشتہ مہینےمنعقدہ سائنس اور دین مباحث کانفرنس  میں کی  ہے۔ یعنی سائنس اور مذہب میں ہم آہنگی ہو ۔۔علامہ اقبال نے ان خطبات میں قُرآنی آیات کے حوالوں سے  یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مذہبِ اسلام اور سائنس علوم میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔۔۔ مکمل تفصیل کیلئے  لنکس پر جائیں
 ۔۔مجھے دیں اجازت ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم۔ڈی)


Wednesday, November 7, 2012

ماہرین غلط تجزیے کرتے ہیں ؟؟

منجانب فکرستان: ہندسے کیا کہتے ہیں؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تجزیہ کار کہتے تھے امریکی ووٹر میچیورڈ تعلیم یافتہ ہے،ووٹ دیتے وقت اقتصادی پالیسی کو پیشِ نظر رکھے گا، لیکن درجہ ذیل تناسبی ہندسے کچھ اور ہی حقیقت عیاں کرتے ہیں، جس کو ماہرین میں سے شاید ہی کسی نے پیش کیا ہو۔دیہی علاقے جوکہ قدیم روایات سے جُڑے ہوتے ہیں 60 فیصد لوگوں نے رومنی کو ووٹ دئیے اور صرف 38 فیصد نے اوباما کو دئیے،شہری علاقوں میں 60 فیصد لوگوں نے اوباما کو ووٹ دیئے  اور صرف 38 فیصد نے مسٹر رومنی کو دئیے۔۔۔
چرچ جانے والے 61 فیصد افراد نے رومنی کو ووٹ دئیےاور صرف 37 فیصد نے اوباما کو ووٹ دئیے جبکہ چرچ نہ جانے والے 62 فیصد افراد نے اوباما کو ووٹ دئیے اورصرف 34 فیصد نے رومنی کو دئیے ۔۔۔ انِ تناسبی ہندسوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ مقابلہ بنیادی طور پر پارٹی آئڈیالوجی یعنی کنزروٹیو سوچ اور لبرل سوچ کے درمیان تھا ۔۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ووٹر کے سامنے اقتصادی یا خارجہ پالیسی بنیاد کی حامل نہیں تھی جبکہ ماہرین اس کو بنیاد قرار دے رہے تھے، لیکن نتائجی ہندسے اُن کی سوچ کی حمایت نہیں کرتے اِس  کے بجائے کنزر ویٹو اور لبرل سوچ کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔ ۔ (ایم۔ڈی) 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...