Monday, September 3, 2012

کراچی بھی" باحجاب " ہوگئی۔

منجانب فکرستان: ایسے میں ذہن میں یہ سوال بھی اُبھرتا ہے۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جماعت اسلامی والے" کراچی" کو بھی مونث سمجھ کر اپنے بڑے بڑے حجابی بینروں کا  حجاب کراچی کو پہنا دیا اب کراچی کی صورتِ حال یہ  بنی ہوئی ہے کہ یہ ان  حجابی بینروں تلے شرمائی ہوئی ہے۔۔جو خواتین  حجاب یا برقعہ پہنتی ہیں وہ اپنی مرضی سے پہنتی ہیں۔۔اور جو خواتین نہیں پہنتی  ہیں کیا وہ ان 20 روزہ حجابی میلوں سے متاثر ہوکر پہنے لگیں گی؟؟؟ جماعت اسلامی نے یکم تا 20 ستمبر تک ملک بھر میں بھر پور طریقے سے فروغِ حجاب مہم چلانے کا 20 روزہ پروگرام تشکیل دیا ہے ۔۔۔
ایسے میں ذہن میں یہ سوال بھی اُبھرتا ہےکہ جس طرح کے ملک میں بھیانک قسم  کے فرقہ واریت  کے واقعات ہوئے ہیں۔ ایسے میں فرقہ واریت کے خلاف بھر پور آواز اُٹھانے کی ضرورت تھی یا کہ  20 روزہ فروغ حجاب کی ؟؟؟ 
درج بالا خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔ (ایم۔ڈی)


Saturday, September 1, 2012

شوشہ یا حقیقت/ سچ کیا ہے؟؟؟

منجانب فکرستان:٭ نیویارک ٹائمز سے اخذ کردہ اعدادوشمار٭
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہپناٹزم کے اصول میں تکرارِ الفاظ کو اہمیت حاصل ہے انسان ان الفاظ کے زیر اثر آجاتا ہے۔اسرائیل ،امریکہ اور اقوم متحدہ ایرانی جوہری ہتھیاروں کا خدشاتی راگ مسلسل الاپتے رہنے سے اِس خطہ پر ہپناٹزمی اثر پڑا ہے، اِس راگ نےخلیج فارس میں واقع سُنی مسلم اکثریت والی ریاستوں کو ایران فوبیا میں مبتلا کر دیا ہے، اب یہ ریاستیں دفاع  کی خاطرامریکہ سے دھڑا دھڑ جنگی سازوسامان خرید رہی ہیں یوں جوہری ہتھیاروں کے چھوڑے ہوئے شوشے سے (عراق حملہ میں بھی ایسا ہی شوشا چھوڑا گیا تھا) امریکی جنگی سازوسامان خوب فروخت ہو رہا ہے۔ سال 2011 میں معمول سے تین گُنا زیادہ یعنی 3۔66 ارب ڈالر کا امریکی تاریخ کا ریکارڈ جنگی سازوسامان فروخت ہُوا۔صرف اکیلے سعودی عرب نے  4۔33 ارب ڈالر کا جنگی سازوسامان خریدا۔
 ایرانی جوہری ہتھیاروں کا معاملہ شوشہ ہو یا کہ حقیت۔۔ بہرحال اس سے امریکہ کو خوب فائدہ  ہو رہا ہے۔۔۔۔
مکمل تفصیلات کیلئے نیو یارک ٹائمزکےلنک پر جائیں۔۔۔ اور مجھے اجازت دیں۔۔
آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم۔ڈی)



Wednesday, August 29, 2012

٭ جراءت مندانہ فیصلہ ٭

منجانب فکرستان:عدالت نے بی جے پی کی رہنمااور سابق وزیرمایا کوڈ نانی کو28 برس کی قید کی سزا دی جبکہ وشو ہندو پریشد کے رہنما بابو بجرنگی کوتا حیات عمر قید کی 31قصورواروں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔سات قصور واروں کو 31 برس کی سزا سنائی گئی ہے..
یہ جراءت مندانہ فیصلہ ایک عورت نے دیا ہے ۔۔ طاقت میں عورت مرد سے کمزور ہے لیکن ہمّت میں عورت کی سائکی مرد سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔۔عورت کی ہّمت پر پہلے بھی دو پوسٹیں لکھ چکا ہوں  " عورت کی ہّمت کے کرشمے" اور "عورت کی ہمّت کو سلام" ۔۔۔۔
شاید آپ نے مشاہدہ کیا ہو کہ  خالق نے عورت کو ہمّت اسلئیے  عطا کی ہے کہ جب وہ نئے انسان کو اس دنیا میں لاتی ہے اُس وقت وہ موت کے  بہت قریب سے ہو کر گُذرتی ہے لیکن عطا کردہ ہّمت کی وجہ سے وہ خوف میں مبتلا نہیں ہوتی ہے۔بالکل ایزی لیتی ہے۔۔تاکہ نیچر کا کاروبار چلتا رہے۔۔۔۔
لالچ ، خوف اور تعصب  کے گہرے ہوتے ہوئے بادلوں میں با ضمیر افراد کے ایسے فیصلے بجلی کی چمک پیدا کر تے  ہیں، جس سے انسان کی اُس امید کو تقویت ملتی ہے کہ دُنیا ابھی اتنی خراب نہیں ہوئی ہے کہ امید ہی چھوڑدی جائے۔۔۔گجرات میں نروڈا پاٹیا مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی پس ماندہ بستی تھی جسے گجرات فسادات کی آڑ لیکر ہندو مذہبی انتہا پرست جنونیوں نے اُجاڑدیا  اہنسا کے عَلم برداروں نے پوری بستی کو آگ اور خون میں نہلادیا تھا۔۔
ایسے فیصلے آئندہ کے واقعات کو روکنے میں مدد گار ثا بت ہوتے ہیں۔۔۔مزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں۔۔۔
٭ جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا ٭
اب اجازدیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم۔ڈی)
http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2012/08/120831_gujarat_riot_punishment_ka.shtml

٭ عدالتی بے انصافی ٭

منجانب فکرستان: عدالتی فیصلے کے بعد والدین کا ردِعمل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 16 مارچ 2003 کو ریچل کو ری نے اپنے خون سے حق کی تاریخ رقم کی ہے، صرف 23 سالہ امریکی خاتون اسرائیلیوں کو غیرت دلانے کیلئے اُس بلڈوزر کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی جو فلسطینیوں کے  گھر مسمار کر رہا تھا اور کہا کہ میں ان گھروں  کو مسمار نہیں ہونے دونگی ۔۔اس نے سوچا ہوگا کہ شاید اس طرح وہ اِن مظلوموں کے گھروں کو بچانے میں کامیاب ہوجائے گی، اُس نے شاید یہ بھی سوچا ہوگا کہ امریکی شہری ہونے کی وجہ سے اسرائیلی اُسکا خون نہیں بہائیں گےلیکن اسرائیلیوں  نے حق کی آواز دبانے کیلئے بلڈوزر کے زریعے ریچل کو کچل کر ظلم کی تاریخ رقم کی ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک کی شہری ہونے پر اُسے بڑا ناز تھا اس ملک نے اُس کے قتل پر مکمل خاموشی اختیار کی۔۔ اسرائیلی عدالت نے کل اس کیس کا فیصلہ سُنادیا کہ ریچل کی ہلاکت کی ذمہ دار اسرائیلی حکومت نہیں ہے اس  فیصلے میں مزید  لکھا ہے۔
جج اوڈیڈ گریشن نے حیفہ میں کہا کہ محترمہ کوری جنگ زدہ قرار دیےگئے علاقے میں شدت پسندوں کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔جج کے مطابق فوجیوں نے وہاں سے لوگوں کو ہٹانے کی پوری کوشش کی تھی اور بلڈوزر ڈرائیور نے انہیں نہیں دیکھا۔ ’وہ اس علاقے سے نہیں نکلیں جب کہ کوئي بھی سمجھ دار شخص ایسا ہی کرتا۔‘
جج نے فیصلے میں لکھا کہ خاتون شدت پسندوں کو بچانے کی کوشش کر رہیں تھیں ، جبکہ وہ مظلوموں کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اسرائیلی شدت پسندی نے تو اُسے مار ہی دیا ۔۔۔فیصلے میں لکھا ہے کہ فوجیوں نے وہاں سے لوگوں کو ہٹانے کی کو شش کی تھی تو کیا فوجیوں کو 23 سالہ  ریچلنظر نہیں آئیں اورکیا بلڈوزر کے ڈرائیور کو بھی نظر نہیں آئیں۔۔۔ اس تعجب انگیز فیصلے پر ریچل کے والدین نے پریس کانفرنس میں کہا۔۔۔
جو بھی ہم نے سنا اس سے بہت گہری تکلیف پہنچی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ بہت برا دن ہے، صرف میرے لیے نہیں بلکہ انسانی حقوق کے لیے، قانون کی حکمرانی کے لیے اور اسرائیل ملک کے لیے بھی۔"
مکمل تفصیل کیلئے لنک پر جائیں۔ اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔(ایم۔ڈی)
 http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/08/120828_rachel_corrie_israel_sz.shtml

Friday, August 24, 2012

٭ صوفی ازم ٭

منجانب فکرستان: بابا بلھےشاہ/صوفی ازم/ چند اشعار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صوفی ازم "وحدت الوجود" مذہب نہیں ہے،لیکن یہ بھی خُدا کو سمجھنے کی ایک سوچ  کا حوالہ ہے جو یونانی یا اس سے بھی قدیم دور سے چلا آرہا ہے البتہ مختلف مذاہب کےمفکروں نے اس سوچ کو اپنے مذہب میں جگہ دینے کی کوشش میں اپنے مذہب،اور صوفی ازم دونوں کو نقصان پہنچایا۔یعنی مذاہب میں مزید فرقے بنے تو صوفی ازم میں بھی مذاہب کی طرح کی فرقہ پرستانہ تقسیم کرنے والی موشگافیاں در آئیں ور نہ صوفی ازم کا تقسیم سے کیا تعلق صوفی ازم تو جوڑنے کے عمل کانام ہے فرقے اور تقسیم تو "انا" پرستانہ عمل کا نام ہے "صوفی" صفر انا والے کو کہتے ہیں۔۔کسی صوفی نے یہ نہیں کہا کہ میں منتیں پوری کراسکتا ہوں ۔انکا تو سیدھا سادہ ایک ہی پیغام ہے "جوڑنا" انسانوں کو انسانوں اور انسانوں کو خُدا سے جوڑنا ۔۔لیکن جیسے ہی کوئی صفر انا والا صوفی دُنیا سے اُٹھ جاتا ہے تو پھر برصغیر کے کلچر کے مطابق سب کچھ ہونے لگتا ہے، اور صوفی کا پیغام صرف کتابوں میں رہ جاتا ہے۔ البتہ پیغام کا الٹ شروع ہوجاتا ہے یعنی لوگ خُدا سے جُڑنے کے بجائے با با سے جُڑجاتے ہیں ۔۔ منتیں  مانگنے لگتے ہیں ،چادریں چڑھانے لگتے ہیں خُدا سے جُڑنے کا انکا پیغام کسی یاد نہیں رہتا ۔۔۔
مگر یہ تو سب کے ساتھ ہوتا ہے سب کے پیغام کا الٹ ہوتا ہے بدھا کا پیغام ہے کہ کسی جاندار کو مارنا تو دور کی بات کسی جاندارکو تکلیف تک نہیں پہنچا نا ۔۔اس پیغام  کا الٹ برما اور آسام میں دیکھ لیا ۔اور بدھا نے کہا تھا کبھی کوئی بت نہ بنانا میرا بھی بت نہ بنانا جیسے ہی بدھا کی آنکھیں بند ہوئی پیغام کا الٹ شروع ہوگیا  انکے مذہبی علما نے  ایسے ایسے بڑے بت بنائے گئے کہ دُنیا دیکھ کر دنگ رہ گئی ۔۔۔ دوسرا گال پیش کرنا کے پیغام کا حشر بھی دنیا دیکھا اور دیکھ رہی ہے ۔ قُرآن کا صاف لفظوں میں پیغام ہے فرقے نہ بنا نا ہم پیغام کا الٹ نہ صرف فرقے   بنا رہے ہیں بلکہ آپس میں ایک دوسرے کا خون بھی بہا رہے ہیں۔۔۔کہاں تک سنوگے کہاں تک سناؤں ۔۔۔۔    
با با بلھے شاہ بھی صوفی ازم" وحدت الوجود "سوچ کے حامل تھے۔۔شاید وہ بھی صفر درجہ انا کے حامل صوفی تھے کیونکہ درج ذیل ان کے اشعار سے کچھ ایسا ہی تاثر ملتا ہے کہ جیسے انکی انا فنا ہوگئی ہو، جہاں انا فنا ہوجاتی یعنی صفر ہوجاتی ہے تو پھر بندے کی شناخت  بھی ختم ہوجا تی ہے، اور وہ کہہ اٹھتا ہے، میری کوئی شناخت نہیں 

بلّھا کیہ جانا میں کون۔۔۔۔نہ میں مومن وچ مسیت آں 
نہ میں وچ کفر دیریت آں۔۔۔نہ میں پاکاں وچ پلیت آں 
نہ میں موسیٰ،نہ فرعون۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلّھا کیہ جانا میں کون
نہ میں عربی،نہ لاہوری ۔۔۔۔۔۔۔۔نہ میں ہندی شہرنگوری
نہ ھندو نہ تُرک پشوری۔۔۔۔۔۔۔نہ میں رھنداوچ نَدون
بلّھا کیہ جانا میں کون
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
درج ذیل عشقیہ کلام میں "انا" مکمل ضم ہوگئی ہے۔

با با بلھے شاہ کا 355 واں عرس آج 24 اگست  سے شروع ہوگیا ہے ۔ہزاروں من گلاب کے عرق سے دربار کو غسل دیا گیا جو سراسر ان کے سادگی کے پیغام کی نفی کرتا ہے۔
درج بالا خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بہت شکریہ (ایم۔ڈی)  





Tuesday, August 21, 2012

٭ بدلتی معاشرتی قدریں ٭

منجانب فکرستان:{ایڈیٹنگ ہوئی} رحیمانہ صفت،  مذاہب ، ڈونرز، روحانیت،معنویت، عبادت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اشرف المخلوقات کہلانے والا انسان پست تر درجہ جانوروں سے بھی بدتر درجے پر آ گیا ہے عورت عورت سے مرد مرد سے شادی کرنے کے رحجان میں تیزی سے اضافہ ہُورہا ہے ،دوسری جانب ٹیسٹ ٹیوب بچّوں کی ٹیکنالوجی  بھی خوب ترقی کر رہی ہے اب تک پچاس لاکھ بچّے پیدا ہوچُکے ہیں!!! تو کیا انسان کا مستقبل یہی ہونےجارہا ہے کہ ہم جنس جوڑوں کو اولاد کی خواہش ہوئی تو متبادل ماؤں ،ایگ/اسپرم ڈونرز کی خدمات حاصل کرکے ٹیسٹ ٹیوب بچّہ حاصل کر لیا۔اس ساری صورت حال کی وجہ انسانوں پر مذہب کی گرفت کا ڈھیلا پڑنا ہے اور ڈھیلا پڑنے کی وجہ۔۔
تمام مذاہب کی روح میں شامل ہے انسانی کردار کو بلند کرنا، انسانوں کو انسانوں سے جوڑنا اور انسانوں کے درمیان بھائی چارا قائم کرنا۔۔۔لیکن جب کسی مذہب کا بانی اُٹھ جاتا ہے تو مذہب کی روح بھی نکل جاتی ہے اور اب انسانوں کو انسانوں سے جوڑنے کے بجائے اُلٹا تقسیم کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔۔مختلف تشریح کار علماء کے درمیان تقسیم در تقسیم ہوکر مذہب اب مختلف فرقوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یوں وہی مذہب اب اپنے پیرو کاروں میں بھائی چارا کی جگہ نفاق ڈالتا ہے اس نفاق کا اثر نہ صرف مذہب کی تشریحات میں پڑتا ہے بلکہ طریقہِ عبادت میں بھی آجاتاہے اس فرق کی بنا پر مختلف فرقوں کے علماء اور پیرو کار یہ نعرہ بُلند کرتے  ہیں کہ ہمارا فرقہ صحیح ہم جنتی۔۔ دوسر ے سارے فرقے  اور مذاہب کے پیروکار غلط اور جہنمی (تاریخ گواہ ہے اِن ہی نعروں نے انسانوں کے خون کی ندیاں بہائیں/آج بھی خون بہہ رہا ہے ) (مذاہب کا  کردارکہ ایک انسان کا قتل تمام انسانیت  کا قتل/دوسرا گال پیش کرنا /کسی جاندار کو مارنا پاپ/خُدا کی رحیمانہ صفت کو اپنے میں سمونا)اِن نعروں سے  مجروح ہُوا اور جب ہر فرقہ ہر مذہب ایسے نعرے لگائے گا تو مذاہب کی صورتِ حال گنجلک تو ہونی ہے کہصحیح کون ہے ؟؟ ان سب باتوں سے مذاہب کو نقصان پہنچا ۔۔۔اسکا نتیجہ۔
جن ممالک میں تعلیم کی شرح بلند ہوئی ،جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی وہاں کی عوام نے یا تو مذہب  کو بوجھ سمجھ کر اُتار پھینکا یا پھر وہاں مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑگئی ، جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب جوکہ زندگی کو معنویت اور روحانیت فراہم کرتا ہے اسکا خلا پیدا ہوگیا  اس خلا کو پُر کرنے کیلئے مصنوعی طریقوں مثلاً مراقبہ، یوگا،ڈانس، میوزک اور جنسیت وغیرہ میں آزماتے ہیں پھر بھی سکون نہ ملا تو بعض زندگی ہی کو ختم کرڈالتے ہیں۔۔۔۔ہم جنس پرستی کی وبا بھی بے معنی زندگی،روحانی خلا  کا شاخسانہ ہے۔۔۔
کل تک معاشرے میں جس عمل کو حقارت، کراہیت اور گُناہ سے جوڑا جاتا تھا آج  ترقی یافتہ ممالک کی عوام کی اکثریت نے ہم جنسوں کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے  ۔۔۔پادری تک ہم جنس پرست بن رہے ہیں،اس عوامی فیصلے کی وجہ سے ان ممالک میں ہم جنسوں کی شادی میں حائل قانونی رکا وٹوں کو اس طور پر دور کیا جا رہا ہے کہ چرچز کو ہم جنسوں کی شادی  کی تقریب منعقد کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔۔۔۔ 
اور پھر ۔۔۔ہم جنس شادیاں، ٹیسٹ ٹیوب بچّے۔۔  
محو حیرت ہوں کہ دُنیا  کیا سے کیا  ہوجائے گی۔۔
پوسٹ میں درج خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔۔ ا ب اجازت دیں ۔آپ کا بُہت شُکریہ (ایم۔ڈی) 


Sunday, August 19, 2012

مسلم امّہ کو٭ عید مبارک ٭

قارئین دوست ، بلاگرز ساتھی اورسیارہ کی انتظامیہ فکرستان کیجانب سے دلی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 قبول فرمائیں
( ایم ۔ ڈی )

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...