Friday, August 17, 2012

٭ متعصب فیصلے ٭

منجانب فکرستان : جرمنی میں اظہارِ آزادی کا دوہرا معیار۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مسلمانوں کے خلاف امریکی ومغربی ممالک کے نفرتی پروپیگنڈے سےان ممالک میں عیسائی انتہا پسند گروپ وجود میں آرہے ہیں، جیسے جرمنی میں پرو ڈوایچ لینڈ نامی گروپ جس نے عدالت سے آزادی اظہار کے نام پر متنازع خاکے بنانے کی اجازت حاصل کرلی ہے، جبکہ ہولو کوسٹ کا مذاق اُڑانے پرجرمنی ہی کی عدالت نے ممبر پارلیمنٹ کو  6ہزار یورو جرمانہ اور 8 ماہ کی معطل سزائے قید سُنائی ہے ۔۔اب اس کیس میں آزادی اظہار کا معیار کیوں بدل گیا ؟؟۔۔اس طرح کے یہودیوں کے حق میں کئے گئے جانب دارانہ فیصلوں نے اس دنیا کو جہنم بنایا ہُوا ہے ۔
اب جازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم۔ڈی)  


  






Sunday, August 12, 2012

٭ اینٹی مسلم پروپیگنڈہ ٭

منجانب فکرستان:نفرتیں بونے سے  نفرتیں پیدا ہوتی  ہیں۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 پروپیگنڈہ یہ کیا جارہا ہے کہ گُردوارے کو خون میں نہلانے والا 40 سالہنان میچیورڈ بچّہ تھا کہ اُسکو معلوم نہیں تھا کہ مسلمان کون اور کیسے ہوتے ہیں، بلا تصدیق کئے  اتنا بڑا اقدام کر ڈالا اب پھر وہی اینٹی مسلم غیر منطقی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ سکھوں کو مسلمان سمجھ کے ہلاک کیا گیا ہے۔۔
اِسی اینٹی مسلم نفرتی پروپیگنڈے کی وجہ سے مغرب اور امریکہ میں اکثریتی کمیونٹی میں اقلیتی کمیونٹی (مسلم نان مسلم) کیلئے نفرت بڑھی ہے، ناروے والا واقعہ ہو کہ سینما والا یا پھرحملہ گردوارے والا یہ سارے واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ نفرت پر مبنی انتہا پسندی مغربی اور امریکی اکثریتی کمیونٹی میں نفوذ کرتی جا رہی ہے اور ایسے انتہا پسند گروپ بنتے جارے ہیں جنکی بنیاد اقلیتی کمیونٹی سے نفرت پر مبنی ہے۔جس کی جھلکیاں آئے دن خبروں کی زینت بنتی ہیں گردوارے والا واقعہ بھی اسی اقلیتی کمیونٹی نفرت کا شاخسانہ ہے درج بالا تمام واقعات اینٹی مسلم  مسلسل نفرتی پروپیگنڈے کا  ذہنوں پر پڑنے والا نفسیاتی اثر  کا نتیجہ ہے۔۔۔
چونکہ نفرتیں بونے سے  نفرتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔
پوسٹ میں درج خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔۔ (ایم۔ڈی)  

Wednesday, August 8, 2012

٭ انا ہزارے اب نہیں رہے پیسے کے٭

منجانب فکرستان:   چمتکار ، عوامی بل ،برصغیر، کنوارہ بڈھا، 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اگرکوئی ایسا سمجھتا ہے کہ انا ہزارے کی تحریک صرف بھارتی عوام کے لیے تھی تو وہ غلطی پر ہے انا ہزارے پورے برصغیر کے اینٹی کرپشن کے سمبل تھے اگر بھارت میں "لوک پال بل" منظور ہوجاتا تو اسکے اثرات پورے برصغیر پر  پڑتے ،  انا کی کوششوں کی وجہ سے  " بل" لوک سبھا میں تو منظور ہو گیا تھا اب صرف راجیہ سبھا کی منظوری درکار تھی،پھر  خُدا جانے کیسا چمتکار ہُوا کہ انا کو  تحریک کو اُدھورا چھوڑ سیاست میں آنے کی چُل اُٹھی اس طرح اس بڈھے نے سارے کئے کرائے پر پانی پھر دیا۔۔۔ شومئی قسمت کہ دوچار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا والی بات ہوگئی۔۔
 اگر بھارت میں یہ بل منظور ہوجاتا تو برصغیر کے دیگر ممالک میں بھی  اسی طرز کے  "عوامی بل" کیلئے راہ کُھل جاتی۔۔۔ جس طرح سے  ایک عرب علاقہ کی تحریک دوسرے عرب علاقوں میں پھیلی۔۔۔۔
  تو کیا انا کا یہ سارا  ڈرامہ سیاست   میں "اِن" ہونے کیلئے تھا ؟؟۔۔۔۔ یہ کنوارہ بڈھا بھی فل ڈرامہ باز نکلا :grin: :grin:
 اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ۔۔(ایم۔ڈی)

Monday, August 6, 2012

* تجزیاتی جائزہ *

منجانب فکرستان: زیادہ بار پڑھی جانے والی پوسٹ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 جمہوریت کی گاڑی پٹری سے کیوں نہیں اُتری ؟ کریڈٹ کس کو جاتا ہے۔؟ عدلیہ ،فوج ، زرداری، نواز شریف ۔۔یا۔؟ گُذشتہ ساڑے 4 سالوں میں عوام کے ذہنوں میں عدالتی فیصلوں  کا سسپنس قائم رہا  کہ دیکھیں اِس کیس پر کیا فیصلہ آتا ہے یا اُس کیس پر کیا فیصلہ آئے گا ۔؟ یہ صورتِ حال آج بھی برقرار ہے ۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے  بے روز گاری ،مہنگائی  اور لوڈشیڈنگ پر کوئی ملک گیرعوامی احتجاجی تحریک نہ چل سکی ،حکومت نے ساڑے 4 سال مکمل کر لیے۔۔ تو کیا اسکا کریڈٹ عدلیہ کو جا تا ہے؟؟ یا اسکی حقدار فوج ہے۔۔۔
ملک میں جب بھی موجودہ جیسے حالات ہوئے، فوج  نے اقتدار سنبھالا ہے ، کئی حلقوں کی جانب سے مارشل لا کی حمایت  ہونے  کے باوجود فوج نے جمہوریت کو پٹری سے نہیں اُتارا  تو کیا یہ کریڈٹفوج کو ملناچاہئیے ؟؟ یا اس کے حقدار زرداری صاحب ہیں ۔۔
 چونکہ ذرداری صاحب نے اپنی ذہنی پٹاری سے ایسی"مفاہمتی افادی بین " نکالی، جسے سُنے کے بعد نواز شریف اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فرض جو کہ اُنکے ووٹروں کا قرض تھا  بُھلا بیٹھے ،اِس فرینڈلی اپوزیشن پر کئی کالم نگار  ملک کو اس حال میں پہنچانے میں میاں صاحب کو برابر کا شریک لکھنے لگے، پھر بھی اُن کے کان پر جوں نہیں رینگی ، اس طرح اپوزیشن کا  فطری خلا پیدا ہوگیا  تو فطرت نے "سونامی"  کو متعارف کرایا جسکی لہر ایسی اُٹھی کہ میاں صاحب کے ہوش ٹھکانے  آگئے :sad:پھر تو جی لیپ ٹاپ،بس سفر، خیمہ ،پنکھا  سب کُچھ ہونے لگا ۔۔ (اوباما چالاک نکلے نیٹو اجلاس میں زرداری سے ملاقات نہیں رکھی ورنہ مفاہمتی افادی بین اُنہیں بھی نواز شریف  جیسا بنا دیتی :grin:  زرداری کی اسی مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے جمہوریت کی گاڑی کو کوئی بھی پٹری سے اُتار نہ سکا  ۔۔۔تو کیا یہ  کریڈٹ زرداری صاحب کو ملنا چاہئیے ؟؟ یا اسکے حقدار نواز شریف صاحب ہیں ۔
 جمہوریت کی گاڑی پٹری سے نہ اُترنے کی وجہ نواز شریف ہیں ،اس ملک میں ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا ہے کہ شروع دن سے ہی اپوزیشن حکومت  کی ٹانگ کھینچنے لگتی ہے ، جبکہ اِس حکومت کو گرانے کیلئے اپوزیشن کے پاس طاقتور عوامی اشوز تھے جیسے مہنگائی، کرپشن ، بے روز گاری، لوڈشیڈنگ  وغیرہ یہ ایسے اشوز تھے کہ عوام کو  با آسانی سڑکوں پر لاکر اِس حکومت کو گرایا جا سکتا تھا ، مگر نواز شریف نےایسا نہیں کیا ، جمہوریت کو پٹری سے اُترنے  نہیں دیا تو کیا  یہ کریڈٹ  میاں نواز شریف دیا جانا چاہئیے ؟؟ یا اسکےصحیح حقدار عوام ہیں۔
عوام جنہوں نے صحیح معنیٰ میں جمہوریت کے دکھ برداشت کئے ہیں ،کرپشن ، مہنگائی ، بے روز گاری ،لوڈشیڈنگ اِن سب کی مار کو کس نے اپنی جانوں پر جھیلا ہے ؟ عوام نے اپنی جان پر جھیلا  ہےاور جھیل رہی ہے،طویل ترین عرصہ جمہوری حکومت کو قائم رکھنے میں پاکستانی عوام نے بُہت قربانی دی ہے۔ اس لیے سب سے زیادہ کریڈٹ کے حقدار عوام ہی ہیں گو کہ اس جمہوری حکومت کو قائم رکھنے میں ، عدلیہ،فوج،زرداری اور نواز شریف کو بھی یہ کریڈٹ جاتا ہے۔ ۔۔
آپ کا کیا خیال ہے؟؟؟ اب اجازت دیں۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم ۔ڈی)



Sunday, August 5, 2012

تین اَلِف تنازعات کیا گُل کِھلائیں گے ؟

منجانب فکرستان: تین اَلِف تنازعات/ عیسائیوں اور مسلمانوں کے بیچ نفرت/حقیقت یہ ہی ہے   
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
ایک طرف امریکہ ایران پر مسلسل معاشی پابندیاں لگا تا جا رہا ہے تو دوسری طرف جواباً،وال اسٹریٹ جنرل کےمطابق ایران نے  اپنے ملک کے مشرقی حصے میں طالبان کو اپنا دفتر کھولنے کی نہ صرف اجازت دے دی ہے ، بلکہ ایسے میزائلوں کی فراہمی پر بھی بات چیت چل رہی ہے جو زمین سے فضا میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔۔اگر یہ خبر سچ ہے تو بات خطرناک ہے۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تین اَلِف یعنی امریکہ، ایران اور  اسرائیل تنازعات تصادم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ تصادم کے نتائج بڑے ہی بھیانک ہونگے۔  چونکہ دہشت گردی مسلمانوں سے نتھی پروپگنڈے نے عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کو بڑھا یا ہے ۔۔بش نے دانستہ یا غیر دانستہ crusad صلیبی جنگ کا حوالہ دیا تھا ۔۔۔ کوئی آنکھیں بند کرلے وہ اور بات ہے۔۔۔ ورنہ حقیقت یہ ہی ہے کہ  عیسائی اور مسلمانوں کے بیچ (شعیہ سنی کی تخصیص نہیں) نفرتوں میں اضافہ ہُوا ہے ۔۔جو یقیناً نسل آدم  کیلئے اچّھی بات نہیں ہے ۔۔۔
اب اجازت دیں۔۔۔ آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم۔ڈی)  


Tuesday, July 31, 2012

٭ خواہش ٭

منجانب فکرستان: جیمز اسٹیفنز کے افسانے" خواہش" کی تلخیص۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جیمز اسٹیفنز کے ذہن میں آئے اچھوتے خیال نےانوکھا انجام پایا ۔ مجھے یہ کہانی  پسند آئی اسی لئیے قارئین دوستوں سے شئیرنگ ہورہی ہے اس یقین کے ساتھ کہ کہانی  ضرور پسند آئیگی۔۔
 اس نے بیوی سے کہا کہ آج بڑی عجیب بات ہوئی ہے،سنو گی تو حیرت میں آجاؤ گی، میں آفس سے لنچ کیلئے ریستوران کی جانب جا رہا تھا  میرے آگے ایک صاحب جا رہے تھے جو بڑی عمر کے تھے بغیر دیکھے اپنی دھن میں روڈ کراس کرنے لگے تھے کہ اچانک تیز رفتار کار آگئی میں نے فوراً ان صاحب کو پکڑ کر ہٹا دیا ورنہ ایکسیڈنٹ یقینی تھا ، وہ صاحب میرے بڑے مشکور ہوئے اور پھر ہم دونوں کے درمیان باتوں کا سلسلہ چل نکلا اتنے میں ریستوران آگیا تو اس نے مجھے لنچ کی دعوت دی اور ہم دونوں ریستوران میں  داخل  ہوگئے، ریستوران میں باتوں کے دوران اس نے کہا آپ نے میری جان بچائی ہے اس لیے میں تمہاری کوئی ایک خواہش پوری کرنا چاہتا ہو۔۔ چاہے وہ خواہش کیسی ہی کیوں نہ ہو۔۔  پوری ضرور ہوگی۔
میں نے اس شخص کو غور سے دیکھا وہ پوری طرح سنجیدہ تھا ،اب میرے دماغ میں کھچڑی پکنے لگی کہ کس خواہش کی تکمیل چاہوں ۔۔۔پہلے دولت کے بارے میں سوچا۔۔ پھر خیال آیا  کہ اسکی ہمیں کوئی خاص ضرورت  نہیں ہے چونکہ گُزارا تو ٹھیک ٹھاک ہورہا ہے۔۔بیوی نے ٹوکا ۔۔۔ہو نہ بیوقوف۔۔۔ میں اسی لیے تمہیں بے وقوف کہتی ہوں، دولت کی ضرورت کسے نہیں ہوتی ۔۔۔عقل مند مجھے بھی معلوم ہے۔۔ بحث چھوڑو اور آگے سُنو۔۔۔دولت کے بعد صحت کے بارے میں سوچا لیکن صحت بھی میری ٹھیک ٹھاک ہے کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں ہے۔۔ اور آخر میں علم کے بارے میں سوچا اسکی بھی مناسب مقدار میرے پاس ہے۔۔ اور ویسے بھی زیادہ علم نقصان دہ ہوتا ہے ۔۔
جب مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو میں نے ان صاحب سے پوچھ لیا کہ اگر وہ میری جگہ ہوتے تو کیا مانگتے ۔۔۔جس کا جواب اُنہوں نے یہ دیا کہ میں کچھ نہیں مانگتا بس ایسے ہی ٹھیک ہے ۔۔۔جس سے فوراً میرے دماغ میں  یہ خیال آیا کہ میں یہ خواہش کروں کہ میں مرتے دم تک اسی حالت میں رہنا چاہتا ہوں جیسا کہ اب ہوں۔۔۔ مجھ میں کوئی تبدیلی نہ آئے ۔۔بیوی نے غصہ سے  کہا۔۔ ہائیں۔۔ یہ تم نے کیسی واہیات خواہش چاہی ہے ۔۔۔ واہ ۔۔تم تو ایسے ہی رہو گے اور میں بوڑھی ہوجاؤں ۔۔ ۔ یہ تو تم نے میرے  ساتھ سراسر زیادتی کی ہے ۔۔ شوہر نے کہا۔ پریشان کیوں ہوتی ہو۔۔ میں کوئی نئے عشق نہیں کروں گا ۔۔۔اچھا چلو چھوڑو اس موضوع کو دوسری باتیں کرتے ہیں ۔۔۔ویسے بیگم ایک بات بتا دوں آج مُجھے کچھ عجیب سا سرور محسوس ہورہا ہے ۔۔۔بیوی نے کچھ ہنستے کچھ اِٹھلاتے ہوئے کہا۔۔۔نرے احمق ہو۔۔۔اچھا چلو بُہت رات ہوگئی ہے اب سوجاؤ۔۔۔
شب خوابی کا لباس پہن کر دونوں سوگئے ۔۔۔بیوی کو ایسا ڈراؤنا خواب آیا کہ ڈر کر جاگ گئیں شوہر کے اور قریب ہوگئیں ۔۔۔یکلخت ایسا محسوس ہُوا کہ ہاتھ شوہر کے بجائے کسی برف کی سل پر رکھ دیا ہو ۔۔ اور چیخ نکل گئی۔۔ لائٹ جلا کر شوہر کودیکھا جو لاش میں تبدیل ہوچکا تھا ۔
مرتے دم تک ایسا ہی رہنے کی خواہش پوری ہوچکی تھی :grin:۔۔۔         
کیوں جناب کچھ مزاح آیا :grin:۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم۔ڈی)


Thursday, July 26, 2012

یہ کیا معمہ ہے ؟؟؟

منجانب فکرستان:  کیا کسی کے پاس اِن سوالات کے جوابات ہیں ؟ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
برمی مسلمانوں کا ہزاروں کی تعدادمیں قتلِ عام کا  کالم (لنک پر) پڑھ کرحیرت زدہ سوالات ذہن میں گردش کرنے لگے کہ اس قتلِ عام کو انٹر نیشنل میڈیا اور انٹرنیشنل انسانی حقوق کی تنظیمیں دُنیا کے سامنے ہائی لاٹ کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ پاکستان سمیت مسلم دنیا کیوں خاموش ہے؟ اقوام متحدہ میں قتلِ عام کو رکوانے کیلئے  کسی  ملک/مسلم ملک نے قرار داد پیش کیوں نہیں کی ؟
 حیرت اس بات پر بھی ہے کہ ایسے موقعوں پر عوامی لیڈروں  کی  لیڈری کام آتی ہے  جو ایک پُر امن راستہ نکالتی ہے۔ لیکن انسانیت کے علمبردار دلائی لاما اور آنگ سان سوچی اس وحشیانہ قتل عام کو کیوں نہیں رکوا رہے ہیں؟۔۔۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ آسام فسادات 41 ہلاکتوں کو انٹر نیشنل میڈیا کوریج دے رہا ہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں  وحشیانہ انداز کی ہلاکتوں پر پاکستان سمیت دنیا بھر کا میڈیا  خا موش کیوں ہے ؟؟؟ 
یہ کیا معمہ ہے ؟؟؟ 
نوٹ: اگر کسی قاری کے پاس درج بالا سوالات کے جوابات ہیں تو برائے مہر بانی میری معلومات میں اضافہ فرمائیں (صرف جوابات پبلش ہونگے)۔ لنک پر موجود کالم سے متاثر ہوکر یہ پوسٹ لکھی ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔
آپ کا بُہت شُکریہ۔( ایم۔ ڈی)

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...