Tuesday, June 21, 2011

اِدھر اُدھر سے / چیدہ چیدہ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: انڈیا / کھانا پینا ناچنا/بشیر بلور/ آم  /وفاقی وزیر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی فطرت کا رنگ برنگی  تماشہ انڈیا میں دیکھنے میں آیا ۔ جس میں اپنی  عوامی طاقت دِکھانے کیلئے انسانوں نے دو الگ الگ متضاد طریقوں کو اپنا یا ۔انا ہزارے /بابا رام دیو نے کھانا نہ کھا کر یعنی بھوک ہڑتال کے زریعے اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا / جبکہ حیدرآباد دکن میں تلنگانہ  کی مانگ کرنے والوں نے  شہر بھر میں۔۔۔ جگہ جگہ چولہے لگاکر۔۔۔ کھانا پکاکر۔۔کھانا کھاتے ۔۔کھانا کِھلاتے۔۔ پیتے پلاتے ۔۔ ناچتے گاتے زبردست  جوش خروش کے ساتھ اپنی عوامی طاقت کا زبردست مظاہرہ کیا ۔۔۔ دیکھا آپنے۔۔۔/کہیں کھانا نہ کھاکر /  کہیں خوب کھا کر /عوامی طاقت کا مُظاہرہ دکھایا گیا۔ ۔۔ ہے نا انسان متضاد اور رنگ برنگی فطرت کا مالک / یہ ایک ہی بات کو   مختلف زاویوں سے نہ صرف دیکھنے بلکہ دِکھانے کا ہُنر بھی جانتا ہے ۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آجکل آم کاموسم ہے ۔ کراچی میں دیگر اشیا کے مقابلے میں آم سستے ہیں 60 سے 70 روپےء کلو یعنی ایک ڈالر سے بھی کم میں دسیری ، لنگڑا ، سرولی، چونسہ،سندھڑی مل جاتا ہے  آم کے ساتھ غالب بھی یاد آجاتے ہیں کہتے ہیں کے برصغیر کے  مسلمان شاعروں میں عقل پرستی کا اکھوا سب سے پہلے غالب کے سر پر اُگا تھا یہ اسی اکھوے کا اثر تھا کہ خطوط نویسی کو تنگ دائرہ سے نکال کر اس کو آزادی عطاکی پھر یہ عقل پرستی سرسید اور انکے رفقائے کار کے زریعے سے برگ و بار لے آئی علامہ نیاز فتح پوری کا نام بھی اسی کارواں کا ایک اہم نام ہے ۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے بشیر بلور صاحب نے کہا ہے کہ اللہ اکبر کا دور ختم ہوچکا ہے۔ اب سائنس اور ٹیکنا لوجی کا دور ہے ۔اصل میں یہ روشن خیالی کا بھوت ہے/ جو سر چڑ کر بول رہاہے اور یک طرفہ فیصلہ سُنا رہا ہے کہ اللہ اکبر کا دور ختم ہوچُکا  ہے۔ میرے خیال میں یہ بھی روشن خیالی کی انتہا پرستی ہے۔ مذہبی انتہا پرستی ہوکہ روشن خیالی کی دونوں ہی تنگ نظری کی حامل ہیں ۔ اصل روشن خیالی یہ ہے کہ دوسرے کے نقطہ نظر کو رد نہ کیا جائے ۔
بشیر بلور کی بات سے دماغ میں نطشے صاحب بھی حاضر ہوگئے ہیں لیجئے نطشے کے نام کے ساتھ علامہ اقبال کا مرد مومن بھی آگیا اسطرح تو کھچڑی پک جائے گی ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بجلی کے وفاقی وزیرنے کہا ہے کہ میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ یکدم لوڈشیدنگ ختم ہوجائے مزید فرمایا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں  لوڈ شیدنگ کم ہوئی ہے۔۔۔ بالکل بجا فرمایا ہے کہ آپ کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے/ لیکن کم بخت عوام کے پاس بھی ایسی کوئی جادوئی آنکھیں نہیں ہیں کہ جو یہ دیکھ سکیں کہ لوڈ شیڈنگکم ہوئی ہے۔ہماری آنکھوں کو نہ جا نے کیا ہوگیا ہے کہ  یہ لوڈ شیدنگ میں اضافہ ہی اضافہ دیکھ رہی ہیں۔ ۔۔اللہ تعلیٰ آپ جیسی جادو بھری آنکھیں  ہمیں  بھی عطا  فرمائے تاکہ ہم بھی اس بڑی ہوئی  لوڈ شیڈنگ کو فخریہ کہہ سکیں کہ لوڈ شیڈنگ کم ہوئی ہے ۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔




Saturday, June 4, 2011

اُسامہ کیلئے / جدید ترین آلات کا استعمال کیا گیا

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز:سٹلائٹ / اسٹیلتھ/سیاہ کارندے / ایڈجسٹ ایبل / قندھار کے شیطان/کتّا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میں بالکل ٹھیک ہوں تم سُناؤ کیسے ہو؟۔۔پچھلے دنوں میری طبیعت خراب تھی ،اب ٹھیک ہے ۔۔میں دوبارہ اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ کام کر نے لگا ہوں " اچھا چلو  پھر دیکھ بھال کر زندگی گُزارنا " یہ گفتگو وسط 2010 کی ہے ۔ بظاہر یہ عام سی گفتگو ہے لیکن  یہ ہی وہ گفتگو ہے کہ جس نے اُسامہ کی زندگی کا کاؤنٹ ڈاؤن شُروع  کرا دیا تھا ۔۔۔۔  
چونکہ اسی گفتگو کے زریعے سی آئی اے اسامہ کی کوٹھی تک پہنچ پائی ۔ یہ گفتگو اسامہ کے ساتھی ارشد خان اور کویت میں مقیم اسکے رشتہ دار کے درمیان ہوئی تھی جسے سی آئی اے کے ایجنٹوں نے رکارڈ کیا اسطرح وہ پشاور سے ارشدخان کو ڈھونڈ نے میں کامیاب ہوئے۔  جسکا پیچھا کرتے کرتے وہ وزیرستان کوٹھی تک پہنچ گئے ۔ سی آئی اے ایجنٹوں نے کوٹھی کی نہ صرف نگرانی شروع کردی  بلکہ کوٹھی کے اندر کُچھ جاسوسی کے آلات تک پہنچانے میں بھی کامیاب ہوگئے ۔ پھر اس کوٹھی کا تعلق سٹلائٹ سے جوڑ دیا گیا جس میں اسامہ کی پہچان کرنے والا سافٹ ویئر لوڈ کردیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ سارا کام 2010 کے وسط میں کیا گیا اسکے علاوہ کوٹھی کے قریب ہی سی آئی اے نے اپنا ایک مرکز بھی قائم کرلیا ۔ ابھی یہ بات طے شُدہ نہیں تھی کہ آیا اس کوٹھی میں اسامہ بھی ہے کہ نہیں غرض کہ ٹیلی فوٹو لینز کے زریعےمکینوں پر 24 گھنٹے مسلسل نظر رکھنے کا صبرآزما انتظار لمحہ لمحہ گُذر رہا تھا کہ اچانک جنوری 2011 میں اسامہ کی آواز سُنائی دی تو ایجنٹوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا  اور انہوں نے  اُسامہ کی تصویر کھینچ کر  فوراً ہی امریکی صدر کو بھجوادی  اب صبر آزما شک نے یقین کا جامہ پہن لیا تو اب ایکشن کے مرحلے کے لیے اوباما کے زیر صدارت پانچ انتہائی خفیہ اجلاس ہوئے جس میں ایک تجویز یہ آئی کہ کوٹھی کو بموں سے اُڑا دیا جائے جسے اوباما نے منظور نہیں کیا آخر میں یہ طے پایا کہ کمانڈو حملہ کیا جائے جسکی حتمی منظوری 29 اپریل 2011 کو دی گئی منظوری کے بعد ایکشن کی منصوبہ بندی شروع ہوگئی  تقریباً 25 کے قریب کماڈوز تھے جنہوں نے اس آپریشن  میں حصّہ لینا تھا جنکا تعلق امریکی فوج کے انتہائی خفیہ نیوی یونٹ سیل 6  سےتھا جن کے کمانڈوز کو  "سیاہ کارندے "بھی کہا جاتا ہے ان میں سے بعض پشتو بھی سیکھے ہوئے تھے طے پایا کہ 30 اپریل کو کوٹھی پر دھاوا بولاجائے۔لیکن اُسامہ کی موت کا لمحہ ابھی نہیں آیا تھا اس لیے کہ مطلع  بہت صاف تھا لیکن 2 مئی کے گہرے بادل اُسامہ کی موت کا پیغام بھی لے آئے آسمان پر گہرے بادلوں کے اُڑنے کے ساتھ ساتھ کالے رنگ کے انتہائی جدید ترین اسٹیلتھ ہیلی کاپٹرز بھی محو پرواز ہوگئے اس ہیلی کاپٹر  میں نصب آلات ریڈار کو جام کرنے اور آواز کواتنی کم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ دشمن کو پتہ نہ چلے لیکن دشمن تو رہے ایک طرف یہاں تو اتحادی کو بھی پتہ نہ چل سکا تھا /  مغربی میڈیا کے مطابق صدر اوباما نے منتظمین کو ہدایت دی تھی کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ پاکستان سے ٹکراؤ نہیں ہونا چاہیئے ۔ تاہم اگر پاکستانی طیارے ہیلی کاپٹر پر حملہ کردیں تو پھر امریکی فوجیوں کو ہر صورت بچایا جائے  گویا ہوا میں ٹکراؤ کا  امکان موجود تھا اور ایسا ہوتا تو یقیناً صورتحال بہت گھمبیر ہوجاتی ۔
   وزیرستان کوٹھی پر جن کمانڈوز نے دھاوا بولا وہ جدید ترین جنگی ساز و سامان سے لیس تھے ۔ انکے پاس جدید ترین انفرا ریڈ شعاعوں کے زریعے اندھیرے میں مناظر دکھانے وا لا وڈیو کیمرہ تھا/ انکے لباس بم پروف تھے/ بے خطا نشانہ رائفل تھی/ ،  آنکھوں پر ایسے  ایڈجسٹ ایبل چشمے لگائے ہوئے تھے کہ گہرا اندھرا ہو کہ روشنی پہنے والے کو ہر چیز صاف دکھائی دے/ رپورٹوں کے مُطابق ان کے ساتھ ایک ایسا تربیت یافتہ  کتّا بھی تھا/ جو چھپے انسانوں اور اسلحہ کی نشان دہی کرادیتا ہے ۔اس کتّے کے منہ میں ایسا جبڑا لگا ہُوا تھا کہ بلٹ پروف جیکٹ والے کو بھی کاٹے تو بوٹی نکال لے/ اس کتّے پر انفراریڈ کیمرا بھی لگا ہوا تھا تاکہ اُسامہ کسی سرنگ میں چُھپے ہوں تو اُن تک پُہنچ جائے ۔ آپریشن میں شریک پہلی صف میں موجود ایک کمانڈو کی ٹوپی پر جدید ترین کورڈلیس کیمرا لگا ہُوا تھا/ اس کیمرے کی وڈیو بزریعہ ٹرانسمیٹر پہلے المعروف  "قندھار کے شیطان" نامی ڈرون آر کیو 170  کو بھیجی گئی جو فضا میں موجود تھا/ اس نے وہ وڈیوسٹلائٹ کو بھیجی اور سٹلائٹ نے لینگلے میں موجود اوباما اور اُنکے ساتھوں تک پہنچائی یوں یہ کاروائی   صدر اوباما براہِ راست دیکھ رہے تھے ۔ ۔ ۔
اس مضمون کی تیاری  کا تمام تر مواد سنڈے ایکسپریس میگزین سے لیا گیا ہے ۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے 
 (ایم ۔ڈی )

Friday, May 13, 2011

آنکھ کا تنکا / آنکھ کا شہتیر٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز۔ بوداپن / روح القدس /تجسیم / چپِکو گُنّاہ /کُفارہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دُنیا میں جتنے بھی مذاہب آئے اور انِ مذاہب سے جتنے بھی فرقے بنے اِن سب  مذاہب اور فرقوں میں ایک بات مشترک ہے وہ یہ کہ ہر مذہب والا اور اُس میں سے بھی ہر فرقہ والے کا دعویٰ ہے کہ بخشش صرف اُسی کی ہوگی اور جنّت میں بھی  صرف وہی فرقہ جانے والا ہے ۔ باقی سب جہنمی ہیں ۔اس دعویٰ کی لائن میں جاہل   ,تعلیم یافتہ سب ہی لگے ہوئے ہیں ۔۔۔ جب عقل پر عقیدت اور تقدس کی پٹی بندھ جاتی اور آنکھوں پر عقیدت اور تقدس کا جو چشمہ چڑھ جاتا ہے  پھر آدمی اُسی سے ہر ایک چیز دیکھنے لگتا ہے ۔ تعلیم بھی اُس چشمہ کا کچھ نہیں بگِاڑ سکتی ہے ۔ ۔۔
 مثلاً اس وقت دُنیا میں عیسائی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں ۔ لیکن تقدس بھرا چشمہ چڑھ جانے کی وجہ سے اُنہیں اپنے مذہب کا بودا پن نظر نہیں آتا ہے جیسے تثلیث یعنی باپ ، بیٹا اور روح القدس ۔۔۔ ایک میں تین ۔۔۔ تین میں ایک۔۔۔ خُدا کیتجسیمی شکل اور   اذلی گُنّاہ   یعنی  چپِکوگُناہ  /کُفارہ  جیسے بودے پن کے فلسفوں پر اُنہیں پکا یقین ہے ۔۔۔تقدس کی وجہ سے اِن فلسفوں  کا بودا پن اُنہیں نظر نہیں آتا ہے ۔۔۔جبکہ دوسروں کو انِ فلسفوں  کا بودا پن صاف نظر آ جاتا ہے ۔ یہ میں نے دوسرے کی آنکھ  کے تنکے کی بات کی ہے انشاء اللہ آئندہ پوسٹ میں اپنی آنکھ کے شہتیر کا تذکرہ  کرونگا ۔اب اجازت دیں ۔
آپکا شُکریہ۔ 
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔
۔(ایم ۔ ڈی )۔ 

Tuesday, May 10, 2011

انفارمیشن ایج اور شک کی بیماری ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: جاوید چوہدری /رحمان ملک/ چوہدری نثار/  ثبوت / جھلکیاں 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج ہم انفارمیشن ایج میں زندگی گُزار رہے ہیں ۔ لیکن اس انفار میشن نے" سچ" کو بہت پریشان کردیا ہے ۔۔۔جاوید چوھدری نے اپنے فیس بک پیج پر آنے والے تبصروں سے حاصل ہونے والی ابزرویشن کو اپنے کالم میں ان الفاظ میں سمویاہے کہ( ہماری نوجوان نسل شک جیسی خوفناک نفسیاتی بیماری کا شکار ہوچُکی ہے ) ۔ 26 اپریل  روزنامہ ایکسپریس ۔
سوال نئی نسل کا نہیں اس مرض میں تقریباً سب ہی مبتلا ہوچُکے ہیں اور کیوں نہ ہوں، جسکا ثبوت ذیل کی  کُچھ جھلکیاں ہیں جوآج بروز منگل بتاریخ  10 مئی روزنامہ ایکسپرس  اخبار سے حاصل کی گئیں ہیں۔
 عجیب اتفاق ہے کہ میں نے اپنی سابقہ پوسٹ میں جس شک کا اظہار کیا تھا ایساہی شک چوہدری نثار علی صاحب کابھی ہے ۔ 
درج بالااطلاعات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کس قسم کی انفارمیشن ایج میں زندگی گُزار رہے ہیں ۔۔۔ ایسے میں  سچ کو کہاں ڈھونڈیں ٭ شک سے کیسے نجات پائیں ۔۔۔
 جاوید چوہدری نےآج پاکستان کے بارے میں بڑی ہی خطر ناکقسم کی جوپیش گوئی کی ہےاُسکا لنک۔ 
۔( تبصروں کی پبلشنگ بند ہے )
آپکا بُہت شُکریہ
۔ (ایم ۔ ڈی )۔

Tuesday, May 3, 2011

ہیلری کلنٹن کے بیان پر ایک نظر ٭٭٭٭٭٭٭٭

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: 9/11 ۔/انسان / بدلے کی آگ/ سوچ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اُسامہ بن لادین کی ہلاکت پر ہیلری کلنٹن نے جو بیان دیا وہ قابل غور ہے کہ اُسامہ کی ہلاکت سے 9/11 کے ورثاء کو سکون ملے گا لیکن اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ عراق میں اتنے سارے بے گُناہ انسانوں کو ماردیا گیا اُنکے ورثاء کو کیسے سُکون ملے گا ؟ افغانستان میں جو اتنے سارے بے گُناہ انسان مارے گئے ہیں اُنکے ورثاء  کیسے سُکون پائیں گے ؟پاکستان میں جو اتنے سارے بے گُناہ انسان مارے جارہے ہیں اُنکے ورثاء کے سُکون کی کیا سبیل ہوگی ؟
 بدلہ لیکر سُکون حاصل کرنے والی سوچ وہی القاعدہ یا طالبانی سوچ ہے ۔9/11 میں اتنے انسان نہیں مرے تھے جتنے کے بدلے کی آگ میں آپنے ماردیئے ۔پھر اپنے منہ میاں مٹھو اپنے آپکو مہذب بھی کہتے ہیں ۔ جب تک مفادات اور بدلے کی آگ میں  بے گُناہ انسانوں کو مارنے کی سوچ  (چاہے وہ کسی کی بھی ہو )قائم رہے گی دُنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا ہے ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 
تراشہ روزنامہ جنگ 2 مئی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
درج ذیل عبارت اردو ٹائمز 3 مئی کی ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر باراک اوبامہ نےکہا ہےکہ القاعدہ کےسربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سےدنیا پہلےسےزیادہ محفوظ ہوگئی ہے۔ اسامہ کی ہلاکت سےانصاف ہوگیا۔ وائٹ ہائوس میں ایک خطاب کےدوران امریکی صدر نےکہا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کےبعد دنیا اب پہلےسےزیادہ محفوظ ہوگئی ہے اورامریکہ نےاپنا وعدہ پورا کردیا ہےاسامہ کی ہلاکت سےانصاف مل گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ آج امریکہ کےلئےاچھا دن ہےاورامریکی عوام خوش ہیں امریکی عوام اپنی افواج سےتحفظ چاہتےہیں جو وہ فراہم کررہی ہےاورمجھے امریکی افواج پرفخر ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپکا کہنا ہے اُسامہ کی ہلاکت سے 9/11  کے ورثاء کو انصاف مل گیاآپنےعراق،افغانستان اور پاکستان میں اتنے سارے انسان ماردیئے ہیں، اُنکے ورثاء کو اِنصاف کیسے ملے گا؟کیا امریکیوں کا خون ، خون ہے اور دوسروں کا خون پانی  ؟ دُنیا کو محفوظ بنانا ہے تو امریکیوں کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی ۔ اگر یہ ہی سوچ رہی تو اسی سوچ کے مادہ سے کئی نئے اُسامہ جنم لیتے رہیں گے ۔ 
شُکریہ ۔
نوٹ: تبصروں کی پبلشنگ بند ہے .
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خلوص کا طالب ۔( ایم - ڈی )۔

Monday, April 25, 2011

مستقبل کا اسلام / سوچ کے حوالے سے۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭

        
فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: طرز عبادت/ حجاب/ جہاد/نئے پیغمبر/فوکس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اب اس رائے میں اختلاف کی گُنجائش نہیں رہی کہ پروپگنڈہ کے زریعے اسلام کے چہرہ کو مسخ کرنے کی کوششوں کے باوجود اسلام پھیل رہا ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ابلاغیات نے فکر کو جو وسعت عطا کی ہے اُس وسعت کو عیسائی مذہب فِل کرنے سے قاصر نظر آتا ہے چونکہ بائبل کو مختلف لوگوں نے لکھا ہے اور سب نے زمانے کی مناسبت سے اپنے عقیدے عیسایت کو موثر بنانے کے لیے اپنا اپنا تعصب ڈالا ۔جو گُذشتہ زمانے کے لیے تو موثر تھا لیکن اِس نئی ترقی یافتہ فکر کو تثلیثی مذہب میں کوئی روحانیت محسوص نہیں ہورہی ہے مسلمانوں کا سادہ طرز عبادت اُنہیں مُتاثر کر رہا ہے ۔ عیسائی خواتین کو حِجاب میں بھی کشش محسوس ہورہی ہے وہ حجاب کو اپنانا چاہتی ہیں اِن وجوہات نے کئی عیسائی خواتین کو دائرہ اِسلام میں لے آئیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جو کام عُلمائے کرام جہاد جہاد چِلا کر حاصل نہیں کرسکے وہ کام حجاب کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی اور امریکی معاشرےحجاب سے خوف کھانے لگے ہیں ۔یہ ان معاشروں کی جڑوں کو ہلا رہا ہے ۔
   گوہم بھی میک اپ شُدہ روحانیت لیئے پھر رہے ہیں ۔ مُجھے یقین ہے اسلام پر چڑھایا گیا یہ غازہ ،  نئے  مسلمان اُتار پھینکیں گے چونکہ جب جب خُدا کے دین پر غازہ چڑھا یا گیا تو ایک نئے پیغمبر کو آنا پڑا اور نئے سرے سے جدوجہد کرنا پڑی  اب آخری پیغمبرحضرت محمد ﷺ آچُکے اب کوئی پیغمبر نہیں آئیگا۔ اب یہ کام نئے مُسلمان کریں گے  یہ جدید فکر سے آراستہ ہیں ۔ یہ اسلام سے جھاڑ جھنکاڑ کا صفایا کرکے اسلام  کا  حقیقی چہرہ دِکھائیں گے یہ قُرآن میں سے وہ کچھ نکالیں گے جو آج تک علُمائے کرام نہیں نکال پائے  ۔ آپ کہیں گے کیا نکالیں گے ؟
اس بات کو میں ایک بلاگر ساتھی پر گُزرے تجربہ سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں میرا یہ ساتھی نماز پڑھنے مسجد گیا وہاں دیکھاکہ ایک شخص میلے کُچیلے کام کے کپڑوں میں ملبوس نماز پڑھنے چلا آیا ہے (یہ تھی ظاہری شکل )میرے بلاگر ساتھی کو  بُہت ناگوار گُزرا مسجد میں میرے ساتھی کا فوکس وہی شخص بن گیا اس فوکس کا  یہنتیجہ نکلا کہ اُس شخص میں سے ایک نئی جہت برآمد ہوئی جو پہلی جہت سے بالُکل مختلف تھی (یہ تھی باطنی شکل )۔ اب ناگواریت کی جگہ خوشگواریت نے لے لی تھی اب اُس شخص کا چہرہ پُر نور لگ رہا تھا اب وہی شخص اچھا لگنے لگا تھا اور میرا ساتھی اپنی سابقہ سوچ پر اپنے آپ پر ملامت کر رہاتھا یہ سارا کرشمہ فوکس کا تھا اگر میرا یہ دوست اپنا ذہن اُس شخص پر فوکس نہ کرتا تو بصیرت حاصل کرنے سے محروم رہتا  ۔ باقی تفصیل باٹم لنک ٭پر ۔ 
جب جدید ذہن کلامِ خُدا یعنی قُرآنی آیات کی مفہوم پر فوکس رکھیں گے تو یہ وُہ کچھ نکالیں گے جو جدید فکر اور سائینس سے ہم آہنگ ہوگا ۔ چونکہ قُرآن خُدا کا کلام رہتی دُنیا تک کے لیے ہے اس لئے یہ زمانے کی گردش اور جدید فکر  کے ساتھ ہے ۔   
  جس  وقت ہم قُرآن سے بصیرت حاصل کر رہے تھے ہم دُنیا کے حکمراں تھے ۔اب ہماری میراث سے اغیار فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔جبکہ ہمیں ان باریکیوں میں اُلجھا دیا گیا کہ آپکی نماز قبول نہیں ہوگی اگرآپنے ہاتھ اس طرح نہ باندھا ،انگو ٹھا ایساہوناچاہئے ، انگلیاں اسطرح ہونی چاہئیے ٹانگوں کے درمیان اِتنا فاصلہ ہونا چاہئیے  ۔  ان بارکیوں کی وجہ سے ہم تنگ ذہن اور عدم برداشت کے شکار ہوگئے ہیں ۔انشااللہ یہ نئے مُسلمان ان سب جھاڑ جھنکاڑ  کا صفایا کریں گے ۔ بے شک یہ نئے مسلمان عیسایت کی باتیں بھی اپنے ساتھ لائیں گے ، عیسایت اسلام ہی کی تحریف شُدہ شکل ہے جب یہ اسلام کی اصل شکل یعنی اسلام کے بُنیادی فلسفہ کو اپنا لیں گے تو یہ ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں گے اسلام میں مُلا اور عیسایت میںپادریوں  نے جو خرافات ، جھاڑ جھنکاڑ ڈالیں ہیں یہ لوگ اُسکا  صفایا کردیں گے پھر یہ مغربی اور امریکی معاشرے کا اکثیریتی مذہب بن جائے گا  بے شک اس عمل کیلئے عرصہ درکار ہوگا 
                                کولون کی ایک مسجد میں سالانہ ’اوپن ڈے‘ کے موقع پر مقامی کمیونٹی کے ارکان مہمانوں کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں                                                       
 سادہ طرز عبادت (سجدہ) ذات کی نفی اور خواتین کا حجاب اسلام کی سربُلندی کا باعث بن رہے ہیں ۔ 
اِسکو میرا خواب نہ سمجھیں اِ سکی مثال میں جرمنی سے دونگا جرمنی کے لیڈران دیگر مغربی لیڈران کی طرح بُہت غُصہ میں آتے تھے کہ یہ مُسلمان ہم میں ضم کیوں نہیں ہوتے ؟ اب صدر اور وزیر داخلہ  کہہ رہے ہیں اسلام جرمن معاشرہ کا حصّہ ہے ۔ میرے خیال میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہے ۔جسکی تفصیل  کیلئے درج ذیل لنک٭ پر جائیں۔
 نوٹ :  تبصرے بند ہیں ۔ مُجھے دیں اجازت۔ آپ کا شُکریہ ۔
٭جب کلامِ خُدا (قُرآن) کو سمجھ کر پڑھیں گے٭ تب ہی خُدا اور اُسکی منشا کو پائیں گے٭   
خلوص کا طالب ۔( ایم - ڈی )۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ٭ مکمل تفصیل کیلئے ساتھی بلاگر کا لنک جو نماز میں تجربہ سے گُزرے۔ 

 

 ٭ اسلام جرمنی کا حصہ ہے، وزیر داخلہ کے مؤقف میں نرمی | معاشرہ | Deutsche Welle | 28.03.2011

Saturday, April 16, 2011

۔ ۔ ۔ رُوحانی خلا 0 مادی خلا 0 ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 فکرستان سےپیش ہے پوسٹ ٹیگز: قُرآن / تثلیث / بدھ مت/فلسفہ/  قدرتی عمل/ موسیقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
در اصل  مغرب اور امریکہ والے ایسے منصوبے چاہتے ہیں کہ جس سے مسلم معاشرہ جلد از جلد ویسٹرنمعاشرے میں ضم ہوجائے ۔ چونکہ بنیاد پرست عیسائی اس خوف میں مبتلاہوگئے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ میں ضم ہونے لگ جائے ۔ (چونکہ تثلیث والا مذہبی فلسفہ نئی نسل کو مُتا ثر نہیں کرپا رہا ہے) اسی خوف کے تحت  پالیسیاں اور قانون بنائے جا رہے ہیں ظاہر ہے خوف کے تحت قانون بنائے جائیں گے تو اُس میں سُقم رہے گا ۔ مثلاً فرانس کا  برقعہ پابندی قانون ملاحظہ فرمائیں آپ برقعہ پہن کر کار میں پورا فرانس گھوم سکتے ہیں۔اب فرض کریں آپکو شاپنگ سینٹر جانا ہے ۔اب آپ کار میں ہی برقعہ اُتار کر شاپنگ سینٹر میں داخل ہو نگے۔ آپ سوچیں گے یہ کیسی پابندی تو اسکا جواب ہے اسلام فوبیا ۔
یہ معاشرے اپنے آپکو سیکولر معاشرے کہتے ہیں انسانی حقوق و آزادی کے علم بردار کہلاتے ہیں ۔قُرآن جلائے جانے کو آزادی اظہار کا نام دیتے ہیں  حالانکہ اس اظہار سے نہ صرف دُنیاکے ڈھائی ارب مُسلمانوں کے دل دُکھی ہُوے بلکہ کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور القاعدہ کے فلسفہ کو تقویت بھی پہنچائی ۔
 لیکن مسلم عورت کوبرقعہ پہننے کی آزادی نہیں ہے۔۔اِسی برقعہ کو زبردستی پہنانے پر آپ طالبان کو مسلم انتہا پسند کہتے ہیں آپکا زبردستی برقعہ اُتارنا وہ ہی طالبانی سوچ کا مظہر ہے۔ یہ بھی نان مسلم انتہا پسندی ہے ، یہ ایک ہی سکّے کے دو رخُ ہیں ۔   
اصل میں مغربی اور امریکی معاشروں نے تعلیم اورسائنس میں کافی ترقی کی ہے اب تثلیث کا فلسفہ اُنہیں مطمعین نہیں کر پارہا نتیجہ وہاں روحانی خلا پیدا ہوگیا ہے   ۔ جیسے ہمارے یہاں معجزوں یعنی یہ پڑھ لو ٹیم جیت جائے وہ پڑھ لو اِتنے گُناہ معاف ہوجائیں  گے وغیرہ کے کلچر نے ہم سے دُنیاوی ترقی چھین لی ہے  ۔ ہم میں مادی ترقی کا خلا پیدا ہوگیا ہے ۔  ان میں روحانی کا  ۔اب وہ  روحانیت  حاصل کرنے کے لیے کوئی بدھ مذہب سے روحانی سکون حاصل کرنا چاہتا ہے ، کوئی خوب نشہ کرکے روحانی سکون حاصل کرنا چاہتاہے تو کوئی موسیقی میں چیخ  پُکار میں پناہ ڈھوندتاہے۔لیکن ان سب میں کوئی مذہبی فلسفہ نہیں ہے۔ مُسلمانوں کا طریقہ عبادت اور فلسفہ  اُنہیں مُتاثر کر رہا ہے یہی وجہ ہےکہ اتنے سارے اسلام منفی پروپگنڈے ، اپنے خاندان ،برادری سے کٹ جانے کے خوف کے باوجود لوگ مسلمان ہورہے ہیں ٭جس سے بُنیاد پرست عیسائی خوف زدہ ہیں یہ  اسلام کے نظریہ ، طرز عبادت ،  ، برقعوں اور حجابوں سے خوف کھانے لگے ہیں ۔ چونکہ یہ ان معاشروں کی اقدار کی جڑوں  کوہلا رہے ہیں۔ 
 حالانکہ یہ تعلیم یافتہ لوگ ہیں  انہیں چاہئے تھا کہ تمام کلچروں کو بلا مداخلت آزادیسے قدرتی عمل سے گُذرنے دیتے تو اپنے آپ شکل  بنتی رہتی جیسے انڈیا میں ہورہا ۔  جتنا یہ مسلمانوں پر قدغن لگا کر انہیں آئی سولیٹ کریں گے اُتنا ہی القا عدہ جیسی تنظیموں کو فائدہ پہنچائیں گے جو کسی کےحق بھی میں اچھا نہ ہوگا ۔یہ بندشیں قُدرتی عمل میں مداخلت ہیں ۔ قُدرتی عمل میں مداخلت سزا کا موجب ہوتا ہے ۔ جیسے ہم نے غیر قُدرتی طریقہ سےجہاد کو پرموٹ کیا جسکی آج ہمیں  کڑی سزا مل رہی ہے ۔


( باقی آئندہ پوسٹ میں نئے عنوان کے تحت/ نئی معلومات لنک پر )۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...