Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Friday, February 4, 2011

نماز میں تصّورِخُدا۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فکرستان سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسان کے دماغ میں خیالات تو آتے ہی رہتے ۔ ایسے ہی ایک دن خِیال آیا کہ 
لوگوں سے معلوم کیا جائے کہ آیا وُہ نماز میں خُدا کا تصّور کسطرح باندھتے ہیں؟
سب سے پہلے جن صاحب سے پوچھا وہ صاحب گریجویٹ ہیں عُمر تقریبا" 40
سال ہوگی اُنہوں نے کہا بھئی میں تو اسطرح پر تصّور باندھتا ہوں کہ خُدا عرش
سے مُجھے دیکھ رہا ہے ۔ایک دوسرے صاحب نے بتا یا کہ میں اپنا دھیان خُدا کی
طرف کرلیتا  ہوں۔ ۔ایک اور صاحب نے  بتایا  کہ میں آنکھیں  بند کرکے نماز 
پڑھتا ہوں کسی قسم کا تصّور نہیں باندھتا ہوں ۔ایک اور صاحب نے بتایا کہ میں 
جہاں سجدہ کرتا ہوں وہاں ایک پوائنٹ بنا لیتا ہوں نظر وہیں جما کر نماز پڑھ لیتا 
ہوں ۔ایک  اور صاحب نے بتایا کہ وُہ انگوٹھے پر نظریں ،جما کر نما ز ادا کرتے 
ہیں ۔ایک اور صاحب نے بتایاکہ بس خِیالات بھی آتے رہتے ہیں۔اور نماز بھی 
ادا ہوتی رہتی ہے۔ 
اس بارے میں کوئی  واضع ہدایت  میری نظر سے نہیں گُزری ۔عموما" یہ کہا جاتا  
ہے ۔نماز اسطرح پڑھیں کہ خُدا آپکو دیکھ رہا ہے  یا آپ خُدا کو دیکھ رہے ہیں ۔
خُدا آپکو دیکھ رہا  ہے  والی بات تو سمجھ میں آتی ہے ۔لیکن ہم  خُدا  کو دیکھ رہے 
ہیں والی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔ہم خُدا کا تصّور کیسے باندھ سکتے ہیں ؟ ہے  
کوئی ایسا جو اس سلسلے  میں کوئی رہنمائی کرنا چاہےکہ خُدا کاتصّور کیسے کیا جائے ۔؟

9 comments:

  1. بھیا۔۔۔ میں ایک جاہل آدمی ہوں۔۔۔ لیکن نماز میں خشوع کا میرا تصور یہ ہے کہ ہم جو پڑھ رہے ہیں اس کا مطلب اچھی طرح جانتے ہیں۔۔۔اور میں خود پر یہ کیفیت طاری کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور میں اس سے بات کر رہا ہوں، قرآنی آیات اور دعاووں کے ذریعے۔۔۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اور میری عرض کو سن رہا ہے۔۔۔
    باقی رہی بات کہ اللہ کا تصور کیا جائے۔۔۔ تو یقینا اس بات کا جواب کوئی نہیں دے سکتا۔۔۔ فلسفہ الگ بات ہے لیکن حتمی طور پر اس کا جواب نا کسی کے پاس ہے اور نا کوئی اپنے طور پر یہ جسارت کر سکتا ہے۔۔۔ اللہ نور ہے۔۔۔ اور نور آج تک میں نے کہیں دیکھا ہی نہیں۔۔۔ کہ کیسا ہوتا ہے۔۔۔ اور پھر دنیا کے نور کا اللہ کے نور سے کیا مقابلہ۔۔۔
    تو بہتر یہی ہے کہ نماز میں یہ محسوس کیا جائے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔۔۔

    ReplyDelete
  2. شاید جب عجز و انکساری بڑھ جائے تو خدا کو دیھنے کا تصور بھی قائم ہوجاتا ہو۔ واللہ علم بالغیب۔

    ReplyDelete
  3. خواجہ شمس الدین عظیمی نماز میں ارتکاز بڑھانے کے لیے مراقبہ کرنے کا مشورہ دیا کرتے ہیں۔ مراقبہ سے ارتکاز توجہ کی مشق ہوجاتی ہے جس سے نماز میں خشوع و خضوع بڑھ جاتا ہے۔

    ReplyDelete
  4. بات توسب کی ٹھیک ہےجی۔ اصل میں جب تک ہم اپنی پوری توجہ نمازپرنہیں کریں گےاورہروہ لفظ جوکہ ہمارےمنہ سےاداہورہاہےاس کےمعانی کوسمجھنےکی کوشش نہیں کریں گےتومیرےخیال میں خشوع وخضوع پیداہونابھی مشکل ہے۔اللہ تعالی ہم سب کی نمازوں کوخشوع وخضوع کی نمازیں پڑھنےکی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین ثم آمین

    ReplyDelete
  5. بات تو کامیابی اور ناکامی کی ہوا کرتی ۔ کامیابی ملے تو اپنی اہلیت پر یا ڈیئٹی کی رحمت پر یقین بڑھ جایا کرتا ہے ۔ ناکامی کی صورت میں جہاں اپنی کم اہلیت یا ڈیئٹی کی ناراضگی پر یقین بڑھ جایا کرتا ہے ۔ کامیابی کی صورت میں لوگوں کو غرور کر کے دکھانا کوئی اچھی بات نہیں ۔ انسانوں نے تو آپکی ناکامی کی صورت میں بجائے مدد کرنے کے آپ میں گٹس کی کمی یا ڈیئٹی کی ناراضگی ازیوم کرتے ہوئے آپ سے افسوس کا اظہار ہی کرنا ہوتا ہے ۔ کسی بھی ڈیئٹی کی ورشپ کا فاعدہ ہوا ہی تب کرتا ہے جب اسے ایور پریزنٹ سجھا جائے ۔
    کسی کو بس اتنا ہی کہہ دینا کہ، ڈیئٹی کی ہی تو مرضی تھی جو اتنا کم نقصان ہوا، بڑا ہی اثرناک ہوا کرتا ہے ۔

    ReplyDelete
  6. جناب عمران اقبال صاحب ،جناب جاوید گوندل صاحب

    ،جناب دوست صاحب، جناب جاوید اقبال صاحب اور جناب

    جاہل اور سنکی صاحب۔آپ تمام حضرات کا شُکر گُذار ہوں کہ

    آپ حضرات نے آپنے خیالات سے نوازہ ۔

    ReplyDelete
  7. میرا تجربہ تو یہی ہے کہ نماز میں توجہ قائم رکھنے کے لیے یہ انتہائی لازم ہے کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں اس کا معنی ہم کو معلوم ہو۔ اور نماز میں پڑھا جانے والا مواد چونکہ بہت زیادہ نہیں ہے اس لیے اس کا ترجمہ یاد کرنا اور یاد رکھنا چنداں مشکل نہیں۔ بس دلچسپی لینے کی بات ہے۔

    ReplyDelete
  8. جناب احمد عرفان شفقت صاحب ۔ آپکا بُہت شُکریہ کہ آپنے اپنے خیالات سے نوازہ ۔

    ReplyDelete
  9. Ghor frmaiyye ga

    Mein ALLAH se pnaah maangta hun Shetan mardood ki

    Phir yeh dekhiyye

    ALLAH k naam se shuru jo bada Mehrbaan nehaiyyet Rehm wala hy

    Phir hum kehty hain k

    PAK hy woh ZAAT , jis k liay sari HAMMD hy................!


    Dehaaan jis traf nahi jana chahiay ussy to shuru mein hee nikaaal diya

    Abb aaagy ki saari baat hee USS ki hy

    JISS ki hum ibaadat krty hyn r JISS se hum maded mangty hyn

    Agr Mann USS ki traf ho JISS se baat ho rhi ho to SUN'ny WALA siraat e mustaeem zarur dikhaey ga

    Q k WOH aik hy r USS ka koi hammser nahi

    WOH sab se bada hy

    WOH AZZMAT wala hy

    Hum to tahiyya USSI ka krty hyn

    Phir dehaan kahin r kese ja skta hy

    Haaan agr koi haqqdaar hy to WOH hy k JISS per KHUD BAARI TAALAH b SALAAM beijhta hy

    Aur iss per hum gawaahi dete hyn k AIK WOH hy k JISS k siwa koi IBAADAT k laaieq nahi
    Aur AIK WOH JO K USS k BANDA AUR RASOOL HY

    USSI trha DAROOD r BARKAAAT maangty hyn jese IBRAHEEN A. S per ataaa huin

    Khud btaaiyye k kiss jagaaa per dehaaan kisi r traf Gaya ?

    ReplyDelete