Wednesday, February 22, 2012

٭ ضمنی اثرات کے بارے میں ٭

منجانب فکرستان پیش ہے:ایکسپریس سنڈے میگزین میں شائع شُدہ اسپیشل رپورٹ سے چیدہ چیدہ باتیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکہ میں ہر سال 20 تا 25 لاکھ افراد ضمنی اثرات کے زد میں آتے ہیں ،اِن میں سے کم وبیش ایک لاکھ مر جاتے ہیں ۔ مشہور گلوکار مائیکل جیکسن کو نیند کی شکایت تھی  ڈاکٹر " کونارڈ مرے" کی خدمات حاصل کیں لیکن" مرے "نے تو اُسے مار ہی دیا  ڈاکٹر مرے نیند کیلئے  "پروپوفل"  نامی دوا دینے لگا جبکہ مائیکل جیکسن ڈیپریشن کو بھگانے والی  دوا " لورازپام اور میڈازولم" بھی کھا رہا تھا۔۔۔ تینوں دواؤں کے ملاپ سے ایسا مضر صحت مواد پیدا ہُوا  کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنا اِس طرح لاکھوں افراد  کا محبوب فنکار اُن سے ہمیشہ کیلئے جُدا ہو گیا ۔۔۔
58 سالہ" لیری" لندن کا باسی پیٹ کی بیماری" باؤل سائنوڈریم" میں مبتلا ہُوا لندن کے  ڈاکٹر نے  سٹیلا زائن نامی دوا تجویز کی جبکہ پیٹ کی اس بیماری میں یہ دوا نہیں دی جاتی ہے ۔۔۔ اس دوا کے6 ماہ کے استعمال کے ضمنی اثرات سے لیری ایک نئے مرض   پارکنسونزم میں بھی مبتلا ہوگیا اس بیماری میں پٹھے اکڑ جاتے ہیں ،چلنے پھرنے، اُٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہے ، اناڑی  ڈاکٹر کو اس  نئی بیماری کی دوا معلوم تھی لہٰذا اس مرض کی دوا" لیووڈوپا "بھی دی جانے لگی  مزید6 ماہ گُذر گئے لیری کو آرام نہ آیا تو اُس نے ڈاکٹر بدلنے کافیصلہ کیا اور وہ مرض پارکنسونزم کے اسپشلسٹ کے پاس گیا یہ تجربہ کار ڈاکٹر تھا مریض کی ہسٹری لینے پر وہ سمجھ گیا کہ بیماری دوا سٹیلا زائن کے ضمنی اثرات کی پیداوار ہے۔چُناچہ اسنے فوراً  دوا سٹیلا زائن کو بند کرا دیا اور اگلے 6 ماہ میں آہستہ آہستہ لیووڈوپا بھی روک دی چونکہ لیری اب صحت یاب ہوچُکا تھا ۔۔۔
جب ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹروں کا یہ حال ہے تو ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کے ڈاکٹروں کیا حال ہوگا ؟؟؟۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔( ایم ۔ ڈی)
  





Sunday, February 19, 2012

٭ مسلمان لفظوں کی جنگ لڑ رہے ہیں ٭

منجانب فکرستان پیش ہے: مسلمان اِسی میں مست ہیں، مسلمانوں کے احداف یہی ہیں !!!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اقوامِ عالم کے درمیان (مسلمانوں کو چھوڑکر) سائنسی  میدان میں ترقی کے نئے سے نئے احداف حاصل کرنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی  ہے خاص کر مائکرو چپ یا جادوئی چپ میں قومیں نتِ نئے جادوئی احداف حاصل کرکے  اپنی قومی برتری ثابت کر رہی ہیں مثلاً کوئی  قوم انسانی ذہن جیسی کاکردگی دکھانے والی چپ کی تیاری میں لگی  ہوئی ہے۔   تو کوئی قوم ایسی چپ تیار کررہی ہے  جو انسانی جسم میں موجود بیماری کی نشان دہی کردے اور کو ئی تو ایسی چپ تیار کر رہی ہے جو رموٹ کنٹرول کےزریعہ مریض کے جسم میں بر وقت  دوا  اُنڈیل دے، غرض کہ دُنیا کی قومیں اسی طرح کی سائنسی کارنامے انجام دینے پر اپنی ذہنی انر جی صرف کر رہی  ہیں۔۔۔ جبکہ مسلمان قوم آپس میں اس طرح لفظوں کی جنگ لڑ رہی ہے کہ ایک گروہ کہتا ہے" عید میلادالنبی " منانا صحیح ہے۔۔۔ جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے"عید میلادالنبی" نہ صرف منانا غلط ہے بلکہ عیدمیلادالنبی کہنا بھی غلط ہے۔۔۔غرض کہدو نوں گروہوں کی جانب سے صحیح / غلط ثابت کرنے کیلئے دلائل پر دلائل دیے جا رہے ہیں جس پر دو نوں گروہوں کے چاہنے والے دلائل فراہم  کنندہ کی مداح سرائی جزاک اللہ ،سبحان اللہ کہہ کر کر تے  ہیں ۔۔۔اور ساتھ میں دوسرے گروہ کے حق میں یہ دُعا بھی کرتے ہیں کہ خُدا انہیں عقل دے ۔۔۔اِس دُعا میں نفس کی یہ بڑائی پوشیدہ ہے کہ ہم تم سے بہتر ہیں ۔۔۔مسلمان اسی طرح کی بحثوں میں اُلجھے ہوئے ہیں اور اسی طرح کی بحثوں میں اپنی ذہنی انرجی  کوصرف کر رہے ہیں۔۔۔چونکہ ہمارے احداف یہی ہیں۔۔
خبر کےمُطابق آندھرا پردیش مسلم وقف بورڈ سے قادیانیوں کی جائدادیں خارج کرنے کی قرار داد منظور ہونے پر مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی  اور مسلمانوں نے بورڈ کےحق میں جبکہ قادیانیوں کے خلاف خوب نعرے بازی کی ۔۔۔ مسلمان      نعرے بازی سے دُنیا فتح  کریں گے ۔۔۔۔
ہم مسلمان اِسی میں مست ہیں ۔۔۔چونکہ ہمارے احداف یہی ہیں ۔۔۔اب اجازت دیں آپ کا بُہت شُکریہ۔
میں یہ تو نہیں کہتا میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے۔(ایم ۔ ڈی) 

Thursday, February 16, 2012

٭ فرقے اور رشتے ٭

منجانب فکرستان پیش ہے : گھر اور خاندان انسان کے لیے اِس دُنیا کی جنّت ہے۔"ایک سچّا واقعہ"۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفرقہ بازی امتِ مسلمہ کو کئی پہلؤں سے نقصان پُہنچا رہا ہے۔ اِس کے نقصان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کے لیے مُناسب "رشتہ تلاش" کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں مثلاً بڑی تگ ودو کرنے کے بعد کسی لڑکے یا لڑکی کا تعلیمی معیار اور طبقاتی معیار ، کے مُطابق میچنگ رشتہ مل جاتا ہے۔ لیکن اِس مُناسب رشتہ میں دیو بندی/ بریلوی دراڑ پڑ جاتی ہے۔ تو پھر دونوں خاندانوں کو نئے سرے سے مارے مارے پھرنا پڑتا ہے چونکہ میچنگ رشتوں کا ملنا آسان بات نہیں ہے ۔ آج کتنے ہی رشتے اس تفرقہ بازی کے بھینٹ چڑ رہے ہیں ۔۔۔۔
 ایک واقف کار کا سچّا  واقعہ لکھ رہاں ہوں  جو  کہ اُنہوں نے مُجھے سُنایا۔۔۔  یہ  میرا رب جانتا ہے کہ میں جھوٹ لکھ رہا ہوں یا کہ سچ ۔۔۔۔۔ میرے واقف کار کی والدہ کا انتقال ہو گیا واقف کار کا جوان بیٹا اپنے باپ سے لڑتا  ہے کہ گھر میں دادی کا سوئم/ چہلم  نہیں ہونا چاہئیے ۔۔۔جس کے جواب میں باپ کے الفاظ یہ ہیں " ماں میری مری ہے کہ تمہاری  میں تو سوئم بھی کروں گا اور چہلم بھی،تمہیں اس گھر میں رہنا رہو یا الگ ہوجاؤ۔۔۔تو اس طرح سے یہ فرقے  باپ بیٹے، بھائی بھائی ، ماں بیٹی، جیسے مُقدس رشتوں میں دراڑیں ڈال رہے ہیں ۔تو کہیں میچنگ رشتوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں,اورکہیں۔۔۔ ؟؟؟ یہ سب ہمارے عُلمائے کرام  کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے۔۔۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ: آیت۔ 102،103،105،آلِ عمران  / آیت۔ 159الانعام /آیت۔91تا93 ،الحجر میں اللہ تعلیٰ نے صاف صاف لفظوں  میں فرقے بنانے سے منع کیا ہے۔۔۔ یہی پیغام آپ ﷺ نے بھی  حجۃ الوداع پر اُمّت کو دیا ۔۔۔لیکن پھر بھی ہمارےعُلماء نے فرقوں  کو بنا کر ہی دم لیا ۔۔۔اب ان فرقوں کا ختم ہونا بُہت مشکل ہے۔۔۔ چونکہ اب اس میں عُلماء کی "اناؤں" کے ساتھ ساتھ فنڈنگ بھی شامل ہو گئی ہے۔۔۔ جسکا اثر ہر فرقے میں نظر آرہا ہے ۔۔۔ لیکن پھربھی میں نے { آگ بجھانے والی چڑیا کی طرح } اپنی ایک سابقہ پوسٹ بعنوان ٭" ورائٹی  اورفرقے " میں عُلمائے کرام سے درخواست کی تھی کہ تمام فرقوں کو قبول کرتے ہوئے فرقوں کا گُلدستہ بنالیں جس میں ہر فرقہ ایک پھول کے ماند ہو۔۔۔اور یہ فیصلہ کہ کونسا فرقہ یا  فرد جنتی ہے۔۔۔ یہ فیصلہ تو اللہ نے ہی کرنا ہے۔۔۔  تو پھر ہمیں چاہئیے کہ ہم اللہ کے فیصلے کے دن تک  کا انتظار کریں اور آپس میں رنجشیں نہ بڑائیں ،اس دُنیا کو جہنم نہ بنائیں، خاندان کے مقدس رشتوں میں دراڑیں نہ پڑنے دیں اور نہ ہی  گھرکے ماحول کو تکلیف دہ بنائیں ۔۔۔
چونکہ: گھر اور خاندان انسان کے لیے اِس دُنیا کی جنّت ہے۔۔۔(ایم۔ڈی)

Monday, February 6, 2012

" دلیل کی دلیل "

منجانب فکرستان پیش ہے: عالمی اُصولی ضابطے  ، طاقتور طبقے نہیں مانتے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمارے وفاقی وزیر خزانہ جناب ڈاکٹر  عبدالحفیظ شیخ نے پاکستان کی غریب قوم کو دیا عالمی اصول کا بے وزن دلیل والا مشورہ  وہ یہ کہ پٹرولیم  مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کو قوم بالکل اُسی طرح سے قبول کرے جیسے سونے کی قیمتوں میں عالمی اضافہ کو قبول کرتی ہے۔ اگر وزیر خزانہ کا یوں عالمی حوالہ کی دلیل دینا جائز ہے۔۔۔ تو پھر عالمی حوالہ کی دلیل  یہ  بھی تو ہے کہ دُنیا بھرکی حکومتیں ٹیکس  امیروں سے وصول کرتی ہیں ۔۔۔جبکہ پاکستان میں ٹیکس بالواستہ یا بلا واستہ غریب اور متوسط طبقہ سے وصول کیا جاتا ہے ۔۔۔ آپ کا خود فرمانا ہے کہ امیر بااثر  طبقہ ٹیکس  نہیں دیتا ہے۔۔۔ ۔     یعنی  عالم میں رائج ٹیکس کے اُصولی  ضابطے پاکستان کے طاقتور ور طبقے نہیں مانتے ۔۔۔ ہے کوئی اخلاقی جواز ؟  ۔۔۔ایسی صورتِ حال میں جبکہ دولت مند طبقہ ٹیکس نہ دیتا ہو غریب  پاکستانیوں  سے کہنا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں  میں اضافوں کو قبول کریں کتنا جائز ہے  ؟؟؟ اور پھر آپ روز مرہ استعمال کی پیٹرولیم مصنوعات  کا موازنہ سونے جیسی مصنوعات سے کر رہے ہیں جسکی خریداری صرف شادی بیاہ کے موقعوں پر کی جاتی ہے۔آپکا اس طرح پر موازنہ کرنا میرے خیال میں کسی طرح بھی جائز نہیں ہے ۔۔۔ یہ ایک بے وزن دلیل ہے ۔۔۔  بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ڈی)
Daily Express 3 فروری 2012

Wednesday, January 25, 2012

" برطانوی جج صاحبہ کا فیصلہ "

 منجانب فکرستان پیش ہے: برطانوی جج صاحبہ کےکئے گئے ایک انوکھے اور بولڈ فیصلہ کی روداد۔۔۔ 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وکیل اکرم شیخ نے منصور اعجاز کی سیکوٹی کے حوالے سے وڈیو کانفرس کی تجویز دی ہے،جبکہ حُسین حقانی کے وکیل زاہد بُخاری نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔۔۔اسطرح کی خبریں پڑھ کر مُجھے برطانوی جج صاحبہ کا وہ فیصلہ یاد آگیا کہ جس میں آفتاب احمد نامی شخص نے  اپنے آپکو دیوالیہ ظاہر کیا تھا لیکن عدالت میں اپنے آپکو دیوالیہ ثابت کرا نے میں اُسکو مُشکل پیش آرہی تھی ۔۔۔آج اُسکے مقدمہ کا فیصلہ سُنایا جانا تھا۔۔۔ لیکن آفتاب جام ٹریفک میں بُری طرح سے پھنسا ہُواتھا۔۔اُسے عدالت پہنچنے میں دیر ہورہی تھی، اس لیے وہ  کافی جُھنجھلایا ہُوا  تھا کہ   اُسے کال موصول ہوئی دوسری طرف جج صاحبہ تھیں ، آفتاب سہم گیا ۔۔۔جج صاحبہ نے پوچھا۔۔ کہاں ہو ۔۔۔آفتاب نے جواب دیا ٹریفک میں پھنسا ہُوا ہوں ۔۔جج صاحبہ نے پوچھا۔ ڈرائیونگ تو نہیں کر رہے ہو۔۔ آفتاب نے جواب دیا۔ نہیں ۔۔۔جج صاحبہ نے کہا۔اگرتُمہیں اعتراض نہ ہو تو ابھی فون پر ہی فیصلہ سُنادیتی ہوں ۔۔۔آفتاب حیران ہو گیا ،اور کہا ۔۔سُنائیں ۔۔۔ جج صاحبہ نے جرمانے اور کمیونٹی سروس کی سزا سُنادی ۔۔اتنے میں پولیس والے بھی راستہ بناتے ہوئے آفتاب تک پُہنچ گئے تاکہ گرفتار کرکے کمیونٹی سزا پر عمل درآمد کرایا جائے ۔۔۔۔
یہ روداد 15جنوری، ایکسپریس کے سنڈے میگزین سے اخذ کی گئی ہے ، ۔۔۔۔
مُجھے جج صاحبہ کا یہ فیصلہ انوکھا ، دلچسپ اور فکر انگیز لگا۔۔۔اسلیے آپ سے شئیر کر رہا ہوں۔(ایم ۔ڈی)

Monday, January 23, 2012

" پانی سے کار چلانے والے، ڈاکٹر غلام سرور کا وڈیو انٹرویو "

 منجانب فکرستان پیش ہے : بشکریہ تبصرہ نگار محمد عامر کا فراہم کردہ ڈاکٹر غلام سرور کا وڈیو لنک ۔۔
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
جب سونے ،تانبے اور کوئلے کے ذخیرہ کی خوشخبریوں سے پاکستان کے مستقبل کے  سُنہری خواب بنُنے لگا تھا کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے دو تین  کالم ایسے پڑھنے کو ملے کہ سُنہری خواببن گئے،گو عمران خان سے بھی مستقبل کیلئے اچّھی آس لگائے بیٹھے ہیں ۔۔۔لیکن آج کے اخبار میں پھر ایک ایسی خبر چھپی کہ "دل" اُس خبر کو "انقلاب" کانام دینے کیلئے پرُ جوش ہورہا ہے  ۔۔۔لیکن ذہن کہہ رہا سوچ لو !  :hmm
وجہ اسکی یہ ہے کہ کثرت استعمال  سے لفظ "انقلاب" کے معنی  کو نقصان پہنچا ہے ، اب یہ معمولی معمول تبدلیوں میں بھی استعمال ہونے لگا ہے ۔ لیکن میں جس انقلاب کا ذکر کر رہا ہوں وہ واقعی ایک انقلاب  ہےاس لیے کہ دُنیا بھر میں اسکے اثرات مرتب ہونگے۔۔۔اب آپ ذرا تصور میں لائیں کہ  ۔۔۔اگر گاڑیاں تیل کے بجائے  پانی پانے سے چلنے لگیں ۔۔ کاربن کے بجائے آکسیجن خارج کرنے لگیں تو ۔۔دُنیا۔۔ کیا سے کیا ہوجائے گی؟؟؟ کیا یہ انقلاب نہ ہوگا ؟؟؟ 
 جب میں پاکستان کے اِس جینئس شہری جناب ڈاکٹر غلام سرور  سے مُتاثر ہوکر یہ پوسٹ لکھ رہا تھا  تو  ذہن میں  جینئس "ارفع کریم" کا چہرہ  بھی گُھوم گیا ، دُعا گو ہوں کہ" ربِ کریم " ارفع( جینئس) کریم" کو جنّت میں ارفع واعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین)
اب آپ ذیل کا کاپی پیسٹ تراشہ پڑھیں ، وڈیو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ میں نے لفظ "انقلاب " صحیح استعمال کیا ہے نا / یا میں نےاس لفظ کو نقصان پہنچایا ہے :hmm۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ ڈی)
Daily Express
   23 جنوری 2012
  



Tuesday, January 17, 2012

" چند امریکی / برطانوی عدالتی ججوں کے فیصلے "

منجانب فکرستان پیش ہیں:امریکی/برطانوی ججوں کے" توہین عدالت" کے منفرد فیصلے۔ 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کل پاکستانی میڈیا میں ہونے والی عدالتی بحثوں نے شاید عوام کی سرمیں درد کردیا ہوگا۔۔۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ امریکی اور برطانوی ججوں نے کس کس عمل کو توہین عدالت گردانا اور اُس پر کیسے فیصلے دیے۔۔۔۔
۔امریکی ریاست الی نواے میں مسٹر ولیمز اپنے کزن کے مقدمہ کی  کاروائی دیکھنے گئے اور کمرہ عدالت کی اگلی نشستوں میں سے ایک پر جا بیٹھے۔۔۔ جب مقدمہ کا فیصلہ سُنایا جا رہا تھا۔۔ولیمز کو ایک زوردار جماہی آگئی ۔۔جج  نے اُسی وقت اپنی کاروائی روک دی۔۔ ولیمز کی طرف گھور کردیکھا اور "جماہی" کو توہین عدالت قرار دیکر اُسی وقت 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیا ۔۔۔
 جب جماہی کیلئے منہ کُھلا تھا۔۔۔ تو اب جج کے فیصلے پر حیرت سے منہ کُھلے کا کُھلا رہ گیا ۔۔۔۔
  گئے تو تھے بڑی شان سے دوست کے مقدمہ کی کاروائی دیکھنے۔۔۔ اور پُہنچ گئے چھ ماہ کیلئے جیل ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکی ریاست اوہا ئیو میں ملزم جج سے بحث کرنے لگا کہ مقدمہ کی پیروی وہ خود ہیکرے گا جبکہ جج  ملزم کو سمجھاتا رہا کہ بغیر وکیل مقدمہ کی کاروائی نہیں ہوسکتی ،لیکن ملزم برابر تکرار کئے جا رہا تھا ، جج نے عدالت میں موجود پولیس اہل کاروں کو حُکم دیا کہ کاروائی مکمل ہونے تک کیلئے ملزم کے منہ پر ٹیپ لگا کر اسکا منہ بند کردیا جائے ۔ پولیس نے فوراً ہی  ملزم کو پکڑ کر منہ پر ٹیپ لپیٹ دیا ۔۔۔
 اسی لئے تو بڑے بُزرگوں نے کہا ہے کہ بحث کرنا اچّھی بات نہیں ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران حاضرین میں سے کسی کا فون بج اُٹھا سب ایکدوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔جج صاحب نے اپنی آنکھوں کے زریعے سے حاضرین میں سے اُس شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے جس پر اُنہوں نے حکم دیا کہ جس شخص کا فون بجا ہے وہ فوراً فون کو عدالت کے حوالے کرے ۔۔46 حاضرین میں سے کسی نے بھی نہیں کہا کہ اُسکا فون بجا ہے ۔۔جس پر جج کو غُصہ آگیا  اور اُسنے پولیس اہل کاروں کو حُکم دیا کہ تمام حاضرین کو جیل میں بند کردو اور پولیس   نے فوراً 46 افراد کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ۔۔۔لیکن اس بے تُکے غُصیلے فیصلے پر جج کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا ۔۔۔۔اسی لیے تو غُصہ کو حرام کہا جاتا ہے ۔۔۔
درج بالا تمام مقدمات: اخبار ایکسپریس کے سنڈے میگزین سے اخذ کئے گئے ہیں ۔۔۔دلچسپ  لگے اس لیے آپ سے شئیر کر رہا ہوں ۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ  ۔ (ایم ۔ ڈی ) 





یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...