Wednesday, June 5, 2019

" مُلک ایک" عیدیں دو"!! ۔

منجانب فکرستان
Image result for eid mubarak images free
فلپائنی صدر کی  صحتمندی اور
  مُلک ایک عیدیں دو کی ٹویٹ کیلئے
https://twitter.com/sunday77  
اب اجازت
رب مہربان رہے


Sunday, February 17, 2019

۔ " پروپیگنڈے کی شکست " ۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے
------------------------
کہا جاتا ہے کہ موجودہ سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے خود سائنسی  معجزے دکھا رہا ہے۔ یوں سائنس نے غیرسائنسی  معجزات کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی ہے ،شاعر عرفان صدیقی نے اس کیفیت کو اس شعر میں ڈھالا ہے ۔
روح کےمعجزوں کا زمانہ نہیں،جسم ہی کچھ کرامات کرتے ہیں۔
اپنے ہونے کا اعلان کرتے رہیں اپنے ہونے کا اثبات کرتے رہیں 
 تاہم آج بھی ایسی غیرسائنسی حقیقتیں نظر آتی ہیں کہ جو انسانی ذہن کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں،جس کو بلاشبہ "معجزہ" کے روایتی  زمرے میں داخل  کیے  بغیر کسی طرح کی توضیح ممکن نہیں۔۔۔مثلاً اسلام مخالف فلم  پروڈیوسر "آئرن ڈون ڈوم" کا اسلام قبول کرنا ہے۔ 
اسی طرح جورم وان کلیویرین کا اسلام قبول کرنے کا واقعہ  بھی معمولی واقعہ نہیں ، کیوں کہ وان کلیویرین نے ہر سطح پر اسلام مخالف  اپنا وتیرہ بنایا ہوا تھا ، بیسیوں بار یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ ہالینڈ میں برقعے اور مساجد کے میناروں پر پابندی ہونا چاہیے۔حتیٰ کہ یہ تک کہہ دیا کہ ’’ہم (اپنے ملک میں) اسلام نہیں چاہتے"۔ ایسے شخص کا اسلام لانا "معجزہ" نہیں تو کیا ہے ؟ ۔۔
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا۔۔
آج کی دنیا میں پروپیگنڈا کو سب سے بڑا ہتھیار مانا جاتا ہے، سانحہ نائن الیون کے بعد پوری دُنیا میں اسلام مخالف لوگوں نے اس سانحہ کو بنیاد بنا کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دنیا بھر میں خوب خوب پروپیگنڈائی عصبیت کا زہر بھرنے کی اپنی سی کوششیں کی گئیں لیکن اِن پروپیگنڈائی  کوششوں کا کُچھ اُلٹا اثر  ہو رہا ہے ۔ ظاہر ہےکہ جورم وان کلیویرین جیسا اسلام مُخالف شخص بھی اسلام قبول کر رہا ہے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق آئرش گلوکارہ سینیڈ اکونور نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے، جبکہ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سن دو ہزار پچاس تک دنیا میں مسلمانوں اکثریت ہوجائے گی ۔۔۔

نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }  

Sunday, December 9, 2018

عقیدے اور یقین کی یہ کیسی داستان ؟

منجانب فکرستان:غوروفکرکیلئے"مکمل داستان" لنک پر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن*دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے ۔
غالب نے اپنا یہ خیال اٹھارہویں صدی میں ظاہر کیا تھا، تاہم گُزرتی اِس بیس ویں صدی  میں یہ خیال کس طور استعمال ہو رہا ہے اِس بارے میں حقیقت پر مبنی اسٹوری گزشتہ ماہ نومبر کے متعدد اخبارات میں شائع ہوئی۔
جنوبی کورین جیراک لی نامی باشندہ نے شہر "سیول" کے مضافات میں  واقع علاقے گورو میں صرف 12 پیروکاروں کے ساتھ چرچ قائم کیا تاہم اپنی چرب زبانی کے  طفیل قرب و جوار کے باشندوں  کے خیالات پر اثر انداز ہُوا، یوں 12 پیروکاروں کی جگہ 130،000 اراکین کا اضافہ ہوا ۔۔
عقیدے اور یقین کی یہ داستان متعدد اخبارات میں شائع ہوئی اُن میں سے ایک درج ذیل ہے تاکہ آپ براہ راست پڑھ سکیں۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }             


Thursday, November 29, 2018

اک دھند سے آنا ہے/ اک دھند میں جانا ہے ۔۔۔۔۔

منجانب فکرستان:
Mohammad Aziz,Mohammad Aziz dead,Mohammad Aziz dies
 خبر کے مطابق گلوکار محمدعزیز گزشتہ رات ایک شو کے سلسلے میں کولکتہ میں تھے بعدازاں دوپہر کی فلائٹ سے ممبئی پہنچے اور کیب کے ذریعے اپنی رہائش گاہ جارہے تھے کہ اچانک  اُنہیں سینے میں تکلیف محسوس ہوئی، ناناوتی ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی موت کی تصدیق کردی۔
غور و فکرکیلئے)۔۔
سنسار کی ہر شہ کا اتنا ہی فسانہ ہے
اک دھند سے آنا ہے اک  میں جانا ہے 
یہ راہ کہاں سے ہے ، یہ راہ کہاں تک ہے 
یہ راز کوئی راہی سمجھا ہے نا جانا ہے
اک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہے
-----------------------------------------
 محمد عزیز 2جولائی 1954ء کو اسِ دُنیا میں آئے 27 نومبر 2018ء میں 64 سال عمر اِس دُنیا سے چلے گئے ۔۔
 محمد عزیز  سے سرزد لغزشیوں پر رب رحم فرمائے ۔۔۔

 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
{  رب   مہربان  رہے  }


Tuesday, November 27, 2018

ہنسی بھی آ تی ہے/ دُکھ بھی ہوتا ہے۔

منجانب فکرستان:
کیسا اعتماد، بھروسہ،یقین غور و فکرکیلئے)۔۔
آئے دن، اخبارات کے ذریعے ایسی"داستانِ محبت"کی روداد پڑھنے کو ملتی ہیں کہ جسے پڑھ کر انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔
ایسی ہی ایک داستانِ محبت جو کہ متعدد برطانوی اخبارات زینت بنی۔
 ماہرینِ نفسیات کہتے ہےکہ چالیس سال کے بعد دِلی جذبات کی آنچ دھیمی اور شعور کی لو بلند ہونے لگتی ہے تاہم اسِ داستانِ محبت کی ہیروئن 60سالہ برطانوی خاتون ہیں جبکہ ہیرو سری لنکن  26سالہ لڑکا ہے۔۔
 رشتہ داروں نےسمجھایا، دوستوں نے مشورے دیے، احباب نے  فراڈ  کی  داستانیں سُنائیں۔ سب کی سب بے سود ثابت ہوئیں ۔۔۔ خاتون نے  مکان بیچ، جمع پونجی بھی ساتھ لئے سری لنکا اپنے ہیرو کے پاس چلے گئیں۔۔۔
خاتون کی تصاویر دیکھ کر ہنسی بھی آ تی ہے / دُکھ بھی ہوتا ہے ۔۔۔
مکمل داستانِ محبت وتصاویر  براہ راست لنک پر ۔۔۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Wednesday, October 31, 2018

۔"فقط" اتنا سا فسانہ ہے !!۔۔

منجانب فکرستان : غوروفکرکے لئے لنک پہ جانا ہوگا
   
 زندگی کا فقط، اِتنا سا تو فسانہ ہے :: جوآیا ہے ،اُسکو جانا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 انجم نیاز سے سرزد لغزشیوں پر "رب کا رحم ہوکرم ہو"
٭٭٭٭٭ 
مرحوم صحافی الیاس شاکر کراچی کے نوحہ گر تھے تو انجم نیاز صاحبہ پاکستانی لیڈروں کی  لیڈری کی نوحہ گر تھیں، تاہم شگفتہ کالم بھی لکھے (لنک آخر میں) جس میں معمر خاتون کا تذکرہ کیا ہے کہ جب ان کا حُسن  سا تھ چھوڑ نے لگے تو کیا کرنا چاہیے ؟۔
1948 انجم نیاز صاحبہ کی اسِ دُنیا میں آنے کا سال ہے 20 اکتوبر 2018 سال اسِ دُنیا سے جانے کا ہے۔۔۔
صحافت کاآغاز ڈان نیوز سے شروع ہوکیا دنیا نیوز سے ہوتے ہوئے 92 نیوز پر اختتام کیا ۔ (میری معلومات کے مطابق)
اب اجازت 
 https://universe-zeeno.blogspot.com/2014/01/blog-post_23.html

 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Sunday, September 9, 2018

کراچی کا نوحہ گر۔۔۔

 منجانب فکرستان : غور و فکرکیلئے۔۔
فواد چوہدری کا سینئر صحافی الیاس شاکر کی وفات پر اظہار افسوس
زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہور ترتیب::موت کیا ہے؟ انہیں اجزا کا پریشاں ہونا۔
سینئر صحافی الیاس شاکر کی زندگی کا آغاز 26 اکتوبر 19951 حیدرآباد سندھ سے ہُوا۔
 جمعہ اور ہفتےکی درمیانی شب اُنہیں دل کا دورہ پڑا،اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے  یوں 7-8ستمبر 2018 کی شب کراچی میں اُنکی زندگی کا اختتام ہُوا۔۔
الیاس شاکر بھی تو اوِلاد آدم تھے اسلئے اُن سے سرزد (دانستہ غیر دانستہ) لغزشیوں پر" رب کا کرم ہو ،رب کا رحم ہو"۔۔۔ 
الیاس شاکر مرتے دم تک اپنے کالموں میں "کراچی" شہر کے ایسے رستے زخم دِکھا تے رہے کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کو بھی  کرہ زمین کے باسیوں کہنا پڑا کہ" کراچی کا مقام دنیا کے ناقابلِ رہائش شہروں میں چوتھے نمبر پر ہے"۔۔۔
کوئی حد ہے، کراچی سے ناانصافیوں کی کہ "کراچی'' وفاقی بجٹ کا 67 فیصد اورسندھ بجٹ کا 97 فیصد فراہم کرتا ہے ۔۔
 پربھی " کراچی کا مقام دنیا کے ناقابلِ رہائش شہروں میں چوتھے نمبر پر ہے"۔۔۔

 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...