Tuesday, November 25, 2014

" رشتوں سے وابستہ خوشیاں"

منجانب فکرستان

صدر صاحب کہتے ہیں "جو کام مرد کرسکتے ہیں وہ عورتوں سے نہیں ہوسکتا"جبکہ میری رائے ہے کہ اللہ تعلیٰ نے عورت کو ایسی "ہمتی طاقت" عطا کی ہے کہ وہ مردوں والے کام بھی کر سکتی ہے مثلاً باکسنگ ،ویٹ لفٹنگ ، ڈکیتیت(پھولن دیوی)جنگی معرکہ (چاندبی بی)ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنا، فٹبال کھیلنا وغیرہ۔۔ 

 کم عُمر لڑکی نے،جسمانیہمتی طاقت سے ہیوی ویٹ کو اُٹھالیا ہے۔  
           ٭٭٭
ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ عورتوں سے مردوں والے کام نہیں ہوسکتے ۔۔البتہ یہ ایک الگ بحث ہے کہ عورت کو مردوں  والے کام کرنا چاہئیے کہ نہیں۔اِس ضمن میں میری رائے یہ ہے کہ نہیں کرنا چاہئیے  گو کہ جب میں عورت کو فٹبال کھیلتے ہوئے دیکھتا ہوں تو بے ساختہ داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔لیکن اسکے معنی یہ نہیں ہیں کہ میں عورت کے فٹبال کھلنے کا حامی ہوں۔۔۔
میں مردوں سے زیادہ عورت کی تعلیم کا حامی ہوں۔۔لیکن دفتروؐں میں کام کرنے کیلئے نہیں بلکہ نسل کی تربیت کیلئے۔معاشروں میں بگاڑ اِسلئیے ہے کہ عورت تعلیم یافتہ نہیں ہے۔۔اور جن معاشروں میں عورت تعلیم یافتہ ہے وہاں ذہنی سکون اسلئیے غارت ہے کہ عورت مرد بن گئی ہے نسل کی تربیت نہیں ہو پا رہی ہے۔۔
جہاں خاندان کا تصّورابھی زندہ ہے اور عورت تعلیم یافتہ بھی ہے ۔۔ایسا خاندان خاندانی خوشیوں یعنی رشتوں سے وابستہ خوشیوں کو(جوکہ انسان کی حقیقی خوشیاں ہیں) انجوائے کررہا ہے۔۔۔اب اجازت دیں۔۔
{ پڑھنے کا بُہت شُکریہ }
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  
         

Monday, November 24, 2014

" رب کی باتیں رب ہی جانے "

منجانب فکرستان 
واہ میرے مولا خوب دُنیابنائی ہے مردوعورت بنایا مرد کو زیادہ طاقت عورت کو ہمت زیادہ دی ۔اس کے علاوہ اچّھی کہلانے والی صفات  بھی تناسبی اعتبار سے مرد کے مقابلے عورت میں زیادہ رکھی ہے،(یہ نتیجہ اخذ ہے آئے دن ہونے والی سائنسی تحقیقات سے )۔۔
 مرد طاقت کے بل پر جو کرسکتا ہے، عورت بھی ہمت کے بل پر وہ کرسکتی ہے۔۔تاہم عورت بچّے پیدا کرتی ہے مرد ایسا نہیں کرسکتا ہے۔۔۔
ایثار کا جذبہ مرد کی نسبت عورت میں زیادہ ہے،محبت کا جذبہ بھی مرد کے مقابلے میں عورت میں زیادہ ہے یہی حال صبر کے جذبے کا ہے۔۔۔غرض کہ اچّھے صفاتی جذبات کا نسبتی تناسب مرد کے مقابلے میں عورت میں زیادہ ہے ۔۔ مرد کے باپتا کے جذبے کے مقابلے میں عورت میں مامتا کا جذبہ کہیں زیادہ ہے۔۔۔ 
اوپر جس عورت کی تصویر دی گئی ہے وہ اٹلی کی پہلی ایسی با ہمت عورت ہے کہ جو آج بین الاقومی خلائی اسٹیشن پر پہنچ  گئی ہونگیں اور مئی 2015 تک خلائی اسٹیشن پر قیام کریں گیں۔۔۔محترمہ سمانتھا کرسٹوفوریٹی کی ہمت کو ایم ڈی کا سلام ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔ 

{ پڑھنے ٭ کا ٭ بُہت شُکریہ }
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں } 






Thursday, November 20, 2014

" سوچ کا فرق "

منجانب فکرستان 
ــــــــــــــــــــ

"رقص"جھاڑو پکڑ کر بھی کیا جاتا ہے(ایم ڈی
*********************
پاکستانی ماحول کا اثر : صدر صاحب کا کہنا ہے
*********
 برطانوی  ماحول کا اثر: گورنر  صاحب کا کہنا ہے
   
 مشرق مغرب ماحولاتی سوچ کا فرق:صاف ظاہر ہورہا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بشکریہ دنیا نیوز ،جنگ نیوز
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں } 



Wednesday, November 19, 2014

"دُعا ہے کہ اُونٹ کسی اچّھی سمت کروٹ بیٹھے "

منجانب فکرستان
 جب نیا نیا بلاگر بنا تھا،محترم یاسر عمران مرزا نے حوصلہ افزائی کی تھی، جس کیلئے میں اُنکا احسان مند ہوں۔۔اُنکی آگاہی ای میل ملی ہے۔لنک آخر میں۔ 
میں بھی عمران خان کی حمایت میں لکھتا تھا۔عمران نے جس (عملی) یوٹو پیا کی جھلک اپنے منشور اور دعوؤں میں دکھائی تھی اُسکی تکمیل کیلئے خیبرپختونخواہ نے اُنہیں موقع فراہم کیا ،اب ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ یکسو ہوکر ذہن میں موجود اپنی یوٹوپیا کا جامہ خیبر پختونخواہ پر چڑھانے کیلئے جان لڑا دیتے اور نہ صرف باقی کے تین صوبوں کو بلکہ دُنیا کو بھی مخلصی کی جیت کا سبق پڑھا دیتے ۔۔۔
مگر آپ نے تو بلدیاتی الیکشن تک کراکے نہ دیا۔۔۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کے پاس آپکو آزمانے کے   علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔۔۔اِس لئیے عوام نے آپکو پکڑلیا ہے۔۔عوام آپکے جلسوں میں شریک ہورہی ہے اور آپ کے جلسے کامیاب جارہے ہیں ۔۔۔دُعا ہے کہ اونٹ کسی اچّھی سمت کروٹ بیٹھے۔۔۔اب اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔
خیبر پختونخواہ حکومت کی کار کردگی کے بارے میں آگاہی ای میل یاسر عمران مرزا کی پوسٹ بعنوان" عمران خان جواب دو" کا لنک
  http://yasirimran.wordpress.com/2014/11/18/imran-khan-jawab-do/#comments  
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
   پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }

Monday, November 17, 2014

" دانشور بھی کہنے لگے ہیں "

منجانب فکرستان

جلسے میں کتنے لوگ تھے؟دئیے گئے ہندسوں میں سے کوئی بھی ہندسہ لے لیں فائرنگ واقعے کے بعد جہلم کیلئے بڑا ہندسہ کہلائے گا۔۔
عمران خان کو آئے دن عوام کے سامنے تقریر کرنا ہوتا ہے، تقریر میں ہمیشہ ایک ہی بات نہیں کہہ سکتے،اِس لئیے بعض مرتبہ اُن کی تقریر میں کہی گئی باتیں یا مطالبےسمجھ سے بالا ہوتے ہیں۔۔
لیکن عوام اب عمران خان کی باتوں کو نہیں صرف عمران خان کو دیکھ رہی ہے اور شاید عمران کے زریعے دو خاندانی ملی بھگت حُکمرانی حصار کو توڑنا چاہتی ہے،یہی وجہ ہے کہ عمران کے جلسوں میں عوام پہنچ رہی ہے ۔۔اب تو کچھ دانشور بھی کہنے لگے ہیں کہ عمران کو لگے رہنا چاہئیے،اِس لئیے کہ اُنہوں نے عوام کو اپنے پیچھے لگالیا ہے،اب پیچھے ہٹنا عوام سے دھوکا کہلائے گا ۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔۔۔مجھے اجازت دیں۔۔۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔          

٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }   

Sunday, November 16, 2014

پاکستانی نوجوان خاطر جمع رکھیں۔۔۔

 منجانب فکرستان 
بھارت ریپ کے حوالے سے دُنیا بھر میں بدنام ہے۔۔ٹائمز آف انڈیا میں شائع رپورٹ  کے مطابق ہر 30 ویں منٹ پر ریپ کا ایک کیس رجسٹر ہوتا ہے۔جبکہ ریپ کی ایک  بُہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے کہ جو رپورٹ نہیں ہوتی ہے۔۔
بھارت میں ایک طرف تو ریپ کے خلاف آئے دن بڑے سے بڑے احتجاج ہوتے رہتے ہیں،نتیجے میں سخت سے سخت قوانین بنائے جاتے ہیں، تو دوسری جانب بھارتینوجوانوں کے طرف سے جس میں لڑکیاں پیش پیش تھیں نے 2 نومبر کو   پبلک پلیس پرمُورل ویلیوز کو روندتے ہُوئے کسنگڈے   منایا گیا  لڑکیوں کی طرف سے اسطرح کے پیغامات دئیے جانے کے بعد ریپ کیسیس میں مزید اضافہ ہوگا۔جبکہ قوانین اور مورل ویلیوز سب دیکھتے رہ جائیں۔۔
 بلکہ خدشہ یہ بھی ہے کہ کِسنگ ڈے وائرس کہیں پڑوسی ممالک میں بھی سرایت نہ کرجائے، تاہم پاکستانی نوجوان خاطر جمع رکھیں کہ پاکستان میں یہ وائرس نہیں آپائے گا ۔۔۔ اب اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 

٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }

Thursday, November 13, 2014

" خُدا کی پھونکی ہوئی روح، انسانی غور و فکر " ایک اور انسانی کار نامہ "


منصوبے پر کام کرنے والی ٹيم کے ارکان
خوشی سے ہنستے۔۔مسکراتے۔۔ چمکتے ۔۔دمکتے۔۔چہرے
 سورۃ السجدۃ آیت9 کے مطابق خالقِ کائنات نے اپنی روح انسان میں پھونکی، تدبر اور غور و فکر کے نتیجے میں یہ روح۔۔ کائنات میں موجود حقیقتوں و قوانین سے پردہ اُٹھاتی ہے، مثلاً سائنسداں تو رہے ایک طرف عام انسانی تجربہ ہے کہ جب انسان کسی مسئلے پر یکسو ہوکر جتنا غور و فکر کرتا ہے مسئلے کے اُتنے ہی مگر مختلف قسم کے حل پاتا ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ قُرآن میں ایک بڑی تعداد میں ایسی آیات ہیں کہ جس میں خُدانے انسان کو کائنات پر غور و فکر اور تدبر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ انسان اپنے مسائل قوانینِ قدرت کے زریعے حل کرسکے مثلاً آج بانجھ جوڑے بچے پیدا کر رہے ہیں فارمی مرغیاں انڈے انسان کی پروٹین کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں  فصلوں سے زیادہ  اناج حاصل ہورہا ہے۔۔معزور چل پھر رہے ویکسین بچوں کو بیماریوں محفوظ رکھتیں ہیں غرض کہ دُنیا میں جتنے انسانی مسائل حل ہورہے ہیں وہ سب انسان میں خالقِ کی پھونکی ہوئی روح اور انسانی غور و فکر کا نتیجہ ہے ۔۔۔
تصویر میں خوشیوں سے بھر پور جو چہرےنظر آرہے ہیں یہ سائنسدانوں کی وہ ٹیم ہے کہ جنہوں نے کائنات کی تخلیق سے متعلق خُدا کی حکمت کو خُدا کی پھونکی ہوئی روح اور غور و فکر کے زریعے جاننے کے ایک ایسے منصوبے پر کام کیا کہ جسکی کامیابی /ناکامی کا نتیجہ دس سال بعد آنا تھا ۔۔۔یہ سائنسدانوں کی ٹیم ہے جو یہ کہنا نہیں جانتی  ہے کہ"کون جیتا ہے تیرے زلف کے سر ہونے تک" 
 ٹیم کا سال ،مہینے،گھنٹے، سیکنڈ گننے کے دن ختم ہوئے اور اُس تذبزب سے بھی آزاد ہوئے کہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں چونکہ خلائی تحقیقاتی گاڑی سیارچے پر کامیابی سے اُتر گئی ۔۔اگر ہم سیارچے کی سطح کو دیکھیں تو محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے کامیابی کی امید کم ہو بہرحال انسان کامیاب رہا ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
  مزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں اور مجھے اجازت دیں ۔پڑھنے کا شُکریہ
http://www.dw.de/%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE%DB%8C-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%AF%D8%A7%DA%91%DB%8C-%D8%A8%D9%84%D8%A2%D8%AE%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DA%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D8%AA%D8%B1-%DA%AF%D8%A6%DB%8C/a-18059663?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }
  

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...