Wednesday, September 10, 2014

سائنس روحانیت کی جانب بڑھ رہی ہے ؟؟

فِکرستان  کی قارئین دوستوں سے شئیرنگ " برائے غور و فکر"

" خُدا اور انسان "

فکرستان میں آج بابا فروٹ فروش کا تذکرہ ہوگا۔۔ 
فلاسفراور ماہر نفسیات جناب ولیم جیمز نے کہا تھا کہ انسانی فطرت کا تقاضا  ہے کہ وہ ایک اُیسے خُدا کو
 ماننے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہےکہ جو اُسکی زندگی سے لا تعلق نہ ہو بلکہ گہرا تعلق رکھتا ہو،جیمز کہتا
 ہے کہانسان کوایک ایسے خُدا کی ضرورت ہے،جو انسانی جذبات و احساسات جیسے جذباتاوراحساسات 
رکھتا ہو اور زبردست قُدرت کا مالک ہو۔۔
با با فروٹ فروش صدر (کراچی) میں ڈرائی فروٹ مارکیٹ کے ساتھ واقع فٹ پاتھ پر بڑا سا چھابا لگاتے 
ہیں،خریدار ہونے کے ناطے میری اُنسے اچھی خاصی دُعا سلام ہے،کچھ دنوں تک فروٹ کا چھابا نہ لگانے
 پر برابر میں چھابا لگانے والے سے دریافت کرنے پر معلوم ہُوا کہ اُنکا بیٹا موٹر سائیکل پر جا رہا تھا  کہ 
ایکسیڈنٹ ہوگیا جس سے پاؤں کی ہڈیوں میں فریکچرز آئے ہیں اور بابا  پریشان ہیں، کافی دنوں بعد بابانے
 چھابا لگایا اور بتایا کہ"بیٹا اب بہتر ہے"چھابا لگائےابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ پھر چھابا بند ہوگیا اُن
کے ایک  ساتھی  فروٹ فروش  سے  بند چھابے کے بابت  دریافت کیا تو  کہا کی اُنکی بیٹی کوگُردےکا مسئلہ
لاحق ہوگیا ہے، میں نے کہا کہ: یہ کیا کہ ابھی بیٹے کی پریشانیوں سے بابا نے مکمل فراغت نہ پائی تھی کہ 
 یہ  کیا مسئلہ پیدا ہوگیا ؟؟ اس پر بابا کے ساتھی فروٹ فروش نے جواب دیا کہ: کچھ نہیں بس،
" اللہ تعلیٰ"  بابا کو ذرا آزما رہا ہے
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
 پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Sunday, September 7, 2014

"صرف اشارہ کرنا ہے"

منجانب فکرستان 
پوسٹ "سچّا واقعہ: تصوراتی روپ" پر دوست کی ای میل ملی کہ بھئی اس میں غور فکر کی کونسی بات ہے؟
عرض ہےکہ آج کے دور میں بھی پوری بستی کے لوگ نہ صرف" نحوست " جیسے عقیدے پر مکمل یقین
 رکھتے ہیں، بلکہ" گُرو" کے کہے پر بیٹی کی شادی کُتّے سے کردیتے ہیں،یعنی آج کے دور میں بھی نحوست 
 جیسے عقیدے میں کس قدر طاقت ہے کہ عقل گھاس چرتی نظر آتی ہے۔
فکرستان کا مقصد غور و فکر کیلئے آگہی کی جانب "صرف اشارہ کرنا ہے"

٭٭٭
درج بالا کالم پڑھ کر کوئی صاحب یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ بھئی اس میں لذت کی کیا بات ہے؟ لیکن 
جو آگہی کی لذت سے واقف ہیں: وہ آگہی میں لذت محسوس کرتے ہیں ۔
 پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 
  

Friday, September 5, 2014

" سچّا واقعہ : تصوراتی روپ"

منجانب فکرستان : تمہید
آجکل ہرکوئی اپنی بات میں وزن ڈالنے کیلئے بھاری بھرکم وزنی دلائل تراشتا ہے، بچے ماحول سے ہی سیکھتے
  ہیں، ایک بچّے نےبھی اپنی بات میں وزن  ڈالنے  کیلئے بڑوں کی طرح کی ایک ایسی شاندار منطقی دلیل 
تراشی کہ آپ بھی قائل ہوجائیں گے
اِس  کے علاوہ پوسٹ  میں ایک انگریزی اخبار  کا لنک ملےگا، اِس لنک پرایک زبردست قسم  کی شادی کی
تفصیل و تصاویر دیکھنے کو ملیں گیں 
یادرہےکہ:بچّے کی دی گئی دلیل ہوکہ  شادی کی دی گئی تفصیل 
فکرستان کا ایک ہی مقصد ہے (یعنی)   غور وفکر کی دعوت ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محترم رضاعلی عابدی اپنے کالم لکھتے ہیں کہ:
"ابھی دو برس ہوئے ہمارے لندن کے ایک سودس دوستوں نے سوئٹزرلینڈ کی سیر کو جانے کا فیصلہ کیا۔ 
ہم لوگ دو کوچوں میں بھر کر گئے اور ایک پُر فضا علاقے کا ایک خاصا بڑا ہوٹل ہمارے آنے سے بھر 
گیا۔ ہوٹل والے تو ہمارے لئے حلال گوشت کی تلا ش میں نکل گئے اورہم علاقے کی سیر کو نکل کھڑے
 ہوئے۔ ہمارے ڈرائیور ہمیں جس شہر میں لے گئے اس کا نام انٹر لاکن تھا۔ شہر دنیا بھر کے سیاحوں اور 
ملک کے بڑے بینکوں سے بھرا ہوا تھا۔اپنی طرف کے صاحبِ حیثیت کنبے بازاروں میں ٹہل رہے تھے۔ 
ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ان سب نے سیرسپاٹے کے لئے اسی شہر کو کیوں چنا ہے کہ ہمارے ایک 
ساتھی کا دس بارہ سال کا بیٹا اپنے باپ سے بولا۔’ بابا۔ میرا خیال ہے ہم ان بینکوں کو لوٹ سکتے ہیں‘ ۔ 
اس کی بات سن کر ہم سب چونکے۔ بابا نے کہا ’ کیوں بیٹے، کیوں لوٹ سکتے ہیں؟ ‘ جواب ملا۔’ اس لئے 
بابا کہ ان میں رکھی ہوئی ساری دولت اصل میں ہماری ہے‘۔
ہم سب چُپ ہوگئے۔یوں کہ کہیں کوئی سن نہ لے۔" 
رضا علی عابدی " جمہوریت ہوتو ایسی" لنک http://jang.com.pk/jang/sep2014-daily/05-09-2014/col1.html
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بھارت کی ریاست جھار کھنڈ کی رہائشی 18 سالہ دوشیزہ نام منگلی منڈا کے بارے میں ایک مذہبی" گُرو
نے فرمایا کہ اس پر بڑاہی نکِشٹ( نحوست) کا سایا ہے، اور جو شخص بھی اس دوشیزہ سے شادی کرے گا 
اُس پر بھی اس نحوست کا سایا پڑ جائے گا  گُرو نے یہ بھی فرمایا  کہ مجھے تو ایسا بھی اوش لگتا ہے کہ اس
 دوشیزہ کی نحوست کا سایا پوری بستی پربھی پڑ نے والا ہے۔۔۔
لڑکی کا باپ اور ساری بستی والے گُرو کی باتوں سے اس قدر پریشان ہوگئے کہ بستی والوں کو اُٹھتے بیٹھتے، 
سوتے جاگتے  نا گہانی بلائیں نظر آنے لگیں،لڑکی  بیچاری تو یہ باتیں سُن کرسہم ہی گئی کہ یہ کیسا سایا اُس 
پرآیا ہے کہ جِسکا اثر پوری بستی پر بھی پڑے گا اور جس کسی نے اُس سے شادی کی وہ تو گیا کام سے۔۔
لڑکی کا باپ اور تمام بستی والے اُس گُرو کے پاس گئے اورگُرو سے کہا"مہاراج آپنے منگلی منڈا پرنحوست
 کا سایا بتایا ہے۔۔۔اب بستی والوں پر رحم فرما کر اس نحوست کا کوئی اُپائے بھی بتائیں تاکہ منڈلی منڈا اور 
بستی والوں کو اس نحوست سے نجات ملے : گرو  نے بستی  والوں  سے اُپائے  بتانے کی رقم اینٹی آسمان کی 
طرف دیکھا اور پھر بستی والوں کی طرف دیکھا اورآخر میں لڑکی طرف دیکھ کر بتایا کہ دوشیزہ کا باپ ایک
 آوارہ کُتےکی تلاش میں نکلے اور جو کُتا پہلے نظر آجائے اُس کو گھر لے آئے اورکتے کے ساتھ اپنی بیٹی کی 
شادی جملہ رسومات کے ساتھ دھوم دھام سے کرے۔۔تمام بستی والے اس شادی میں شریک ہوں منڈلی
 کے والدین اور تمام بستی والے کتے کو وہی عزت دیں گے جیسے ایک داماد کو دی جاتی ہے ۔۔
بستی والوں نے جیسا گُرو نے کہا اُسی طرح کیا:گواہی کیلئے تصاویر اور تفصیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں اور مجھے 
اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     



Thursday, September 4, 2014

" خبر کا پس منظر "

فکرستان کی شئیرنگ :غور وفکر اور آگئی کیلئے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
22 اگست روزنامہ جنگ کراچی
31اگست + 4ستمبر Daily Express  2014 
۔۔۔۔۔۔۔محترمہ رئیس فاطمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔





Monday, September 1, 2014

" سچّی جگ بیتی "

فکرستان کی شئیرنگ: غور وفکر اور آگئی کیلئے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
21 اگست Daily Express  2014

Displaying IMG-20140803-WA0004.jpg

Sunday, August 31, 2014

" من موہن تا ممنون حسین تک "

منجانب فکرستان ٹیگز: طبعیت؛ بی جے پی ؛ نواز شریف؛ زائچہ
آجکل ایک سوال گردش میں ہےکہ پاکستان کی اِس بحرانی کیفیت میں پاکستان کے صدرمملکت کہاں ہیں؟ 
 کالم نگارمحترم ڈاکٹر مجاہد منصوری صاحب نے تو آج اپنے کالم کا عنوان تک یہی  رکھا ہےکہ"صدر مملکت
 کہاں ہیں؟"
بھارت کے وزیر اعظم جناب من موہن سنگھ کو گونگا، بہرا اور مُسکراہٹ سے  نا آشنا  وزیر اعظم  کہا جاتا
 تھا، یہ تو بھلا ہو اُنکی بیٹی کا کہ اس بارے میں ایک کتاب لکھ کراپنے باپ پر لگے اِس الزام کو دُھونے کی
 اپنی سی کوشش کی کہ وہ گونگے بہرے بالکل بھی نہیں ہیں، مُسکرانا تو کیا وہ تو ہنسنا بھی جانتے ہیں ، مزاق 
کرنا بھی آتا ہے،قہقہہ بھی لگا  سکتے ہیں، مجبوری  یہ تھی کہ اُنہیں وزیراعظم سونیا گاندھی  نے بنا یا تھا اس 
لئیے وہ  سونیا  کے ممنون تھے (جس طرح ممنون حسین نواز شریف کے ممنون ہیں)۔۔
  من موہن سنگھایک وضع دار انسان ہیں:اس لیے شاید وہ سمجھتے تھے کہ بولنے پر کہیں منہ سےکوئی ایسی 
بات نہ نکل جائے جو سونیا کی طبعیت پرگراں گُزرے،بات سونیا کو پسند نہ آئی تو  کہیں احسان فراموشی نہ
 ہوجائے۔۔۔شاید اسی خیال کے زیرِ اثر وہ خاموش رہنے کو ہی بہتر حکمت عملی سمجھتے تھے، لیکن بُرا ہو بی 
جے پی والوں کا کہ اُنہوں نےمن موہن سنگھ کی اس خاموشی کوالیکشن نعرے میں استعمال کیا کہ"بھارت
   کو گونگا بہرا وزیر اعظم نہیں چاہئیے"  
من موہن کی طرح ہمارے صدر بھی وضع دار شخصیت کے مالک ہیں،  نام کے  زائچہ  ماہرین  بتاتے  ہیں
 کےشخصیت پر نام کے اثرات مرتب ہوتے ہیں، ہمارے صدر کا نام ممنون سے شروع ہوتا ہے،اس لیے
 ممکن ہے کہ آپ نے بھی من موہن کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہو کہ خاموشی اُس سے بہتر ہے کہ کوئی 
بات منہ سے  ایسی نہ نکل  جائے جو نواز شریف کی طبعیت پر گراں گُزرے اورممنون کہلائے جانے کے
 بجائے احسان فراموش کہلائے جائیں۔۔۔
٭۔۔۔٭ ۔۔۔٭
 پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }           

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...