Sunday, September 7, 2014

"صرف اشارہ کرنا ہے"

منجانب فکرستان 
پوسٹ "سچّا واقعہ: تصوراتی روپ" پر دوست کی ای میل ملی کہ بھئی اس میں غور فکر کی کونسی بات ہے؟
عرض ہےکہ آج کے دور میں بھی پوری بستی کے لوگ نہ صرف" نحوست " جیسے عقیدے پر مکمل یقین
 رکھتے ہیں، بلکہ" گُرو" کے کہے پر بیٹی کی شادی کُتّے سے کردیتے ہیں،یعنی آج کے دور میں بھی نحوست 
 جیسے عقیدے میں کس قدر طاقت ہے کہ عقل گھاس چرتی نظر آتی ہے۔
فکرستان کا مقصد غور و فکر کیلئے آگہی کی جانب "صرف اشارہ کرنا ہے"

٭٭٭
درج بالا کالم پڑھ کر کوئی صاحب یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ بھئی اس میں لذت کی کیا بات ہے؟ لیکن 
جو آگہی کی لذت سے واقف ہیں: وہ آگہی میں لذت محسوس کرتے ہیں ۔
 پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 
  

Friday, September 5, 2014

" سچّا واقعہ : تصوراتی روپ"

منجانب فکرستان : تمہید
آجکل ہرکوئی اپنی بات میں وزن ڈالنے کیلئے بھاری بھرکم وزنی دلائل تراشتا ہے، بچے ماحول سے ہی سیکھتے
  ہیں، ایک بچّے نےبھی اپنی بات میں وزن  ڈالنے  کیلئے بڑوں کی طرح کی ایک ایسی شاندار منطقی دلیل 
تراشی کہ آپ بھی قائل ہوجائیں گے
اِس  کے علاوہ پوسٹ  میں ایک انگریزی اخبار  کا لنک ملےگا، اِس لنک پرایک زبردست قسم  کی شادی کی
تفصیل و تصاویر دیکھنے کو ملیں گیں 
یادرہےکہ:بچّے کی دی گئی دلیل ہوکہ  شادی کی دی گئی تفصیل 
فکرستان کا ایک ہی مقصد ہے (یعنی)   غور وفکر کی دعوت ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محترم رضاعلی عابدی اپنے کالم لکھتے ہیں کہ:
"ابھی دو برس ہوئے ہمارے لندن کے ایک سودس دوستوں نے سوئٹزرلینڈ کی سیر کو جانے کا فیصلہ کیا۔ 
ہم لوگ دو کوچوں میں بھر کر گئے اور ایک پُر فضا علاقے کا ایک خاصا بڑا ہوٹل ہمارے آنے سے بھر 
گیا۔ ہوٹل والے تو ہمارے لئے حلال گوشت کی تلا ش میں نکل گئے اورہم علاقے کی سیر کو نکل کھڑے
 ہوئے۔ ہمارے ڈرائیور ہمیں جس شہر میں لے گئے اس کا نام انٹر لاکن تھا۔ شہر دنیا بھر کے سیاحوں اور 
ملک کے بڑے بینکوں سے بھرا ہوا تھا۔اپنی طرف کے صاحبِ حیثیت کنبے بازاروں میں ٹہل رہے تھے۔ 
ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ان سب نے سیرسپاٹے کے لئے اسی شہر کو کیوں چنا ہے کہ ہمارے ایک 
ساتھی کا دس بارہ سال کا بیٹا اپنے باپ سے بولا۔’ بابا۔ میرا خیال ہے ہم ان بینکوں کو لوٹ سکتے ہیں‘ ۔ 
اس کی بات سن کر ہم سب چونکے۔ بابا نے کہا ’ کیوں بیٹے، کیوں لوٹ سکتے ہیں؟ ‘ جواب ملا۔’ اس لئے 
بابا کہ ان میں رکھی ہوئی ساری دولت اصل میں ہماری ہے‘۔
ہم سب چُپ ہوگئے۔یوں کہ کہیں کوئی سن نہ لے۔" 
رضا علی عابدی " جمہوریت ہوتو ایسی" لنک http://jang.com.pk/jang/sep2014-daily/05-09-2014/col1.html
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بھارت کی ریاست جھار کھنڈ کی رہائشی 18 سالہ دوشیزہ نام منگلی منڈا کے بارے میں ایک مذہبی" گُرو
نے فرمایا کہ اس پر بڑاہی نکِشٹ( نحوست) کا سایا ہے، اور جو شخص بھی اس دوشیزہ سے شادی کرے گا 
اُس پر بھی اس نحوست کا سایا پڑ جائے گا  گُرو نے یہ بھی فرمایا  کہ مجھے تو ایسا بھی اوش لگتا ہے کہ اس
 دوشیزہ کی نحوست کا سایا پوری بستی پربھی پڑ نے والا ہے۔۔۔
لڑکی کا باپ اور ساری بستی والے گُرو کی باتوں سے اس قدر پریشان ہوگئے کہ بستی والوں کو اُٹھتے بیٹھتے، 
سوتے جاگتے  نا گہانی بلائیں نظر آنے لگیں،لڑکی  بیچاری تو یہ باتیں سُن کرسہم ہی گئی کہ یہ کیسا سایا اُس 
پرآیا ہے کہ جِسکا اثر پوری بستی پر بھی پڑے گا اور جس کسی نے اُس سے شادی کی وہ تو گیا کام سے۔۔
لڑکی کا باپ اور تمام بستی والے اُس گُرو کے پاس گئے اورگُرو سے کہا"مہاراج آپنے منگلی منڈا پرنحوست
 کا سایا بتایا ہے۔۔۔اب بستی والوں پر رحم فرما کر اس نحوست کا کوئی اُپائے بھی بتائیں تاکہ منڈلی منڈا اور 
بستی والوں کو اس نحوست سے نجات ملے : گرو  نے بستی  والوں  سے اُپائے  بتانے کی رقم اینٹی آسمان کی 
طرف دیکھا اور پھر بستی والوں کی طرف دیکھا اورآخر میں لڑکی طرف دیکھ کر بتایا کہ دوشیزہ کا باپ ایک
 آوارہ کُتےکی تلاش میں نکلے اور جو کُتا پہلے نظر آجائے اُس کو گھر لے آئے اورکتے کے ساتھ اپنی بیٹی کی 
شادی جملہ رسومات کے ساتھ دھوم دھام سے کرے۔۔تمام بستی والے اس شادی میں شریک ہوں منڈلی
 کے والدین اور تمام بستی والے کتے کو وہی عزت دیں گے جیسے ایک داماد کو دی جاتی ہے ۔۔
بستی والوں نے جیسا گُرو نے کہا اُسی طرح کیا:گواہی کیلئے تصاویر اور تفصیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں اور مجھے 
اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     



Thursday, September 4, 2014

" خبر کا پس منظر "

فکرستان کی شئیرنگ :غور وفکر اور آگئی کیلئے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
22 اگست روزنامہ جنگ کراچی
31اگست + 4ستمبر Daily Express  2014 
۔۔۔۔۔۔۔محترمہ رئیس فاطمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔





Monday, September 1, 2014

" سچّی جگ بیتی "

فکرستان کی شئیرنگ: غور وفکر اور آگئی کیلئے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
21 اگست Daily Express  2014

Displaying IMG-20140803-WA0004.jpg

Sunday, August 31, 2014

" من موہن تا ممنون حسین تک "

منجانب فکرستان ٹیگز: طبعیت؛ بی جے پی ؛ نواز شریف؛ زائچہ
آجکل ایک سوال گردش میں ہےکہ پاکستان کی اِس بحرانی کیفیت میں پاکستان کے صدرمملکت کہاں ہیں؟ 
 کالم نگارمحترم ڈاکٹر مجاہد منصوری صاحب نے تو آج اپنے کالم کا عنوان تک یہی  رکھا ہےکہ"صدر مملکت
 کہاں ہیں؟"
بھارت کے وزیر اعظم جناب من موہن سنگھ کو گونگا، بہرا اور مُسکراہٹ سے  نا آشنا  وزیر اعظم  کہا جاتا
 تھا، یہ تو بھلا ہو اُنکی بیٹی کا کہ اس بارے میں ایک کتاب لکھ کراپنے باپ پر لگے اِس الزام کو دُھونے کی
 اپنی سی کوشش کی کہ وہ گونگے بہرے بالکل بھی نہیں ہیں، مُسکرانا تو کیا وہ تو ہنسنا بھی جانتے ہیں ، مزاق 
کرنا بھی آتا ہے،قہقہہ بھی لگا  سکتے ہیں، مجبوری  یہ تھی کہ اُنہیں وزیراعظم سونیا گاندھی  نے بنا یا تھا اس 
لئیے وہ  سونیا  کے ممنون تھے (جس طرح ممنون حسین نواز شریف کے ممنون ہیں)۔۔
  من موہن سنگھایک وضع دار انسان ہیں:اس لیے شاید وہ سمجھتے تھے کہ بولنے پر کہیں منہ سےکوئی ایسی 
بات نہ نکل جائے جو سونیا کی طبعیت پرگراں گُزرے،بات سونیا کو پسند نہ آئی تو  کہیں احسان فراموشی نہ
 ہوجائے۔۔۔شاید اسی خیال کے زیرِ اثر وہ خاموش رہنے کو ہی بہتر حکمت عملی سمجھتے تھے، لیکن بُرا ہو بی 
جے پی والوں کا کہ اُنہوں نےمن موہن سنگھ کی اس خاموشی کوالیکشن نعرے میں استعمال کیا کہ"بھارت
   کو گونگا بہرا وزیر اعظم نہیں چاہئیے"  
من موہن کی طرح ہمارے صدر بھی وضع دار شخصیت کے مالک ہیں،  نام کے  زائچہ  ماہرین  بتاتے  ہیں
 کےشخصیت پر نام کے اثرات مرتب ہوتے ہیں، ہمارے صدر کا نام ممنون سے شروع ہوتا ہے،اس لیے
 ممکن ہے کہ آپ نے بھی من موہن کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہو کہ خاموشی اُس سے بہتر ہے کہ کوئی 
بات منہ سے  ایسی نہ نکل  جائے جو نواز شریف کی طبعیت پر گراں گُزرے اورممنون کہلائے جانے کے
 بجائے احسان فراموش کہلائے جائیں۔۔۔
٭۔۔۔٭ ۔۔۔٭
 پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }           

Saturday, August 30, 2014

" سچّی محبت "

منجانب فکرستان: مُلک میں جمہوریت جمہوریت ہورہی ہے: کچھ نیا ہوجائے  : :
  
پانی میں رہتے پانی سے اجتناب برتنا ممکنات میں سے نہیں،پردہ اسکرین پر بناوٹی محبت جتانے والے خود 
 سچّی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں آج ایک ایسی ہی داستان فکرستان کے قارئین  سےششی کپور کی 2 دو
 چاہتوں کا ذکر ہوگا کہ اُنہوں نے  دونوں چاہتوں  سے بے وفائی نہیں کی۔پوسٹ کے آخر میں اسٹیج نغمہ
  آپ  نغمے کوششی کپور کی دل کی آواز بھی کہہ سکتے ہیں ۔تصاویر اسلئیے لگائی گئیں ہیں کہ آپ وقت کو
 دیکھ سکیں ہر جوانی سمجھتی ہے ہم پر بُڑھاپا نہیں آئے گا ۔۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔نہ صرف بڑھا پا 
آجاتا ہے بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کا کھیل تمام ہوجا تا۔۔آخر میں صرف اُس نغمہ کی صدا باقی رہ جاتی
 ہے ، جو اسٹیج پر مقبول ہُوا۔۔
٭ ۔۔۔٭۔۔۔٭
میری نظر میں، پُرتھوی راج کے بیٹوں میں سب سے خوبصورت ششی کپور ہیں،ششی کی پہلی چاہت اسٹیج 
ہے، اسی اسٹیج کیلئے ایک اداکارہ  کی ضرورت تھی، اتفاق سے برطانوی تھیٹر کی اداکارہ محترمہ جینیفر کینڈل
 اُن دنوں اسٹیج کے سلسلے میں بھارت آئی ہوئی تھیں،یوں جینیفر پُرتھوی تھیٹر میں کاسٹ ہوئیں، جینیفر کو
 ہندی سکھانے  کی ذمہ داری  ششی  نے  قبول  کی ،  18 سالہ ششی 22سالہ جینیفر کو ہندی سکھانے لگے،
 دُنیا بھر میں ایسا ہوتا  آیا ہے کہ اُستاد شاگرد ایک دوسرے کی چاہت  بن جاتے  ہیں،چاہت بھی ایسی کہ
دوجا اور کوئی نہ بھائے۔  لیلےٰ کے بارے میں مشہور ہے کہ   وہ کالی تھی لیکن مجنوں کی نظر میں حور تھی، 
اسی سے ملتی جُلتی بات ہم ششی اور جینیفر کے بارے میں کہہ سکتے ہیں،جینیفر معمولی صورت کی 22 سالہ 
تھی اورششی  نہایت خوبصورت صرف 18 سال کے تھے اس عمر میں لڑکے کی بھرپور جوانی بد صورت کو 
بھی  خوبصورت بنا دیتی ہے،جبکہ ششی تو تھے ہی خوبصورت  جوانی نے مزید سونے پر سہاگہ چڑھایا تو باپ
 نے سوچا کہ بہو کسی مہا رانی کی بیٹی ہونا  چاہئیے اور اس سلسلے میں گجرات کے  ایک اسٹیٹ کی  مہارانی کی
 بیٹی سے بات چلانے والے تھے کہ  ششی نے اپنے گھر والوں کو  صاف صاف بتادیا کہ وہ کسی مہارانی  کی 
بیٹی سے شادی نہیں کریں گے وہ صرف جینیفر سے شادی کریں گے۔۔ اور پھر جینیفر کے ساتھ سنگھا پور 
چلے گئے یہاں دوسرے بیٹوں نے باپ کو راضی کراکےششی کو سنگھا پور فون کردیا کہ آجاؤ باپ کوراضی 
کرلیا گیا   یوں جینیفر اور ششی کی شادی ہوئی، تین بچّے( کنل کپور،سنجنا کپور،کرن کپور) ہوئے ہنسی خوشی 
زندگی چل رہی تھی،کہ جینیفر کینسر میں مبتلا ہوگئی اور دُنیا سے ہمیشہ کیلئے چلی گئی اِس صدمے نے ششی کو 
بالکل ہی توڑ دیا گُم سُم کومے جیسی حالت ہوگئی  تو بھائیوں نے جینیفر کی  نشانیوں بچّوں اور تھیٹر  کے رُل
 جانے کی حوالے دے دیکر ششی میں دوبارہ زندگی کی رمق جگائی تا ہم اُنہوں نے دوسری شادی نہیں کی
 جینیفر کی جگہ کسی اورکو دینے کیلئے وہ تیار نہیں ہوئے،ششی اپنی پہلی چاہت یعنی تھیٹر سے آج بھی وابستہ 
ہیں ساتھ میں بیٹی  سجنا کپوراور کنل کپور   اپنے باپ دا دا کے تھیٹر کو آج بھی زندہ
 رکھے ہوئے ہیں۔۔تاہم 76 سالہ ششی کپور آج بھی اپنی محبت جینیفر کو یاد کرکے رو پڑتے ہیں۔۔۔۔
ایک کلک کے فاصلے پر ششی کے احساسات کا نمائندہ نغمہ بھرے ہال کے اسٹیج پر۔۔۔             
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


Thursday, August 28, 2014

"دائی سی پیٹ چُھپا نہیں رہتا "

منجانب فکرستان ٹیگز: 30 فیصد: NO : کلعدم: وڈیو لنک
سابقہ سیکریٹری الیکشن کمیشن محترم جناب کنور دلشاد صاحب نے اے ٹی وی کی اینکرمحترمہ فرح صاحبہ کو 
انٹرویو دیا ہے۔ انٹرویو وڈیو میں دی گئی آگہی کی شئیرنگ فکرستان کے قارئین سے۔۔ 
کنور دلشاد صاحب نے کہا ہے کہ :  پاکستان میں الیکشن  کے قوانین بد نیتی پرمبنی ہیں: بنگلہ دیش کے بیلٹ 
پیپر پرلکھا ہوتا ہےکہ "آپ جِس کوووٹ دے رہیں کیا وہ ایماندار ہے ؟ اگرمنتخب ہوکراُسنےکرپشن کی تو 
اُسمیں آپ بھی برابر کے شریک ہونگے،  اور اگرآپ سمجھتے ہیں کہ بیلٹ پیپر پرموجودامید واروں میں
 سے کوئی بھی امیدوار ایسا نہیں ہے جو آپ کے معیار پر پورا اُتر تا ہو تو آپ"NO"والے خانے پر مہر 
لگا سکتے ہیںاورآپکا یہ ووٹ شُمار ہوگا،اگر30 فیصداسی قسم کے ووٹ کسی حلقے میں پڑے تو اُس حلقے کا نتیجہ
 کلعدم قرار پائے گا۔۔اُنہوں نے مزید یہ کہا  کہ میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں کہ میں کبھی ووٹ دینے نہیں 
جاتا کیونکہ بنگلہ دیش کی طرح پاکستان کے بیلٹ پیپر پر NO کا خانہ نہیں ہوتا ۔۔۔   
میرے  خیال  میں مزید آگہی کیلئے بہتر یہی ہےکہ:لنک پر جائیں،محترم دلشاد صاحب اورمحترمہ فرح صاحبہ 
 کی باتیں براہ راست دیکھیں سُنیں ، اور مجھے اجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔  
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }       

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...