Monday, August 19, 2013

بیچارہ کیسے ثابت کرے گا ؟؟

منجانب فکرستان:: مولانا فضل الرحمان:منشور: نئی اصطلاح
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مصری عوام کے ٹکروں پر پلنے والی مصری فوج کے جنرل جناب عبدالفتح اپنی نہتی عوام کو تشدد کے زریعے فتح کرنا چاہتے ہیں۔ اور چور مچائے شور کے مصداق جنرل صاحب پوری دُنیا کی آنکھوں میں ناقابلِ قبول دُھول جھونکنے کی کوشش میں  یہ شرم ناک لطیفہ سُنا  رہے ہیں کہ فوج  مزید تشدد برداشت نہیں کرے گی،(گویا اب تک فوج تشدد برداشت کرتی رہی ہے) ۔ ۔ جنرل صاحب کے اِس بے شرمانہ لطیفے پر داد نہ دینا بد ذوقی کہلائے گی ۔ ۔
 پاکستان کی سیاسی جماعتیں منشور میں جو باتیں لکھتی ہیں وہ عوام کو دھوکہ دینے کیلئے لکھتی ہیں ، اسکی واضع مثال مسلم لیگ ن کا بلدیاتی الیکشن غیر جماعتی بنیاد  کرانے کا اعلان ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے منشور میں بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیاد پر کرانے کا لکھا ہے ۔۔یہ ہے مسلم لیگ ن کے قول و فعل کا کھلا تضاد،گویا کہی ہوئی باتوں کو تو چھوڑیں ، یہ تو لکھی ہوئی باتوں پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، تو پھر عوام اِن سے آئندہ کے بارے میں کیا توقع رکھیں ؟؟؟
مولانا فضل الرحمان نے لیڈر ہونے  کیلئے  لازمی شرط کی ایک بالکل ہی  نئی اصطلاح وضع کی ہے، وہ یہ ہے کہ لیڈر کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک اچّھا شوہر ہو، لیکن اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایک کنوارہ لیڈر بیچارہ اپنے آپ کو ایک اچّھا شوہر کیسے ثابت کرے گا ؟؟؟
"آپ کا بُہت شُکریہ"  
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    


Monday, August 12, 2013

" ہولی پیچھے ٹر "

منجانب فکرستان: ہولی : کہانی: لندن
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 محاورہ عید پیچھے ٹر سُنا ہوگا، ہولی پیچھے ٹر لندن والوں کی ایجاد ہے، جس میں لندن کی خواتین اِس بات کو  سچ ثابت کرکے دِکھا  رہی ہیں کہ:
 "وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ"  ۔۔اور اگر کسی "سپائی نوزا " ٹائپ شخص کو اِس بات پر شک ہے تو یقین کریں کہ تصاویر کو دیکھ کر وہ بھی ایمان لے آئے گا۔۔ 
ہولی "ہولیکا" کے جل مرنے کی کہانی  ہے، جس میں بادشاہ " ہرنا کشیپ " اپنے آپکو پر ماتما (خُدا ) متعارف کرواتا ہے جس پر ایک بڑی تعداد ایمان لے آتی ہے ۔۔لیکن بیٹا "بھگت پر ہلاد" ایمان نہیں لاتا ہے اسلئیے بیٹے کو جلاکر مارنے کی ترکیب سوچی جاتی ہے ۔ 
بادشاہ کی بہن" ہولیکا " کو یہ شکتی ملی ہوئی تھی کہ آگ اُسے جلا نہیں سکتی تھی  فیصلہ ہُوا کہ "ھولیکا "  بھگت پر ہلاد " کو گود میں لیکر دھکتی آگ میں بیٹھے گی ہولیکا پر آگ اثر نہیں کرے گی اور "بھگت پر ہلاد " جل کر خاک ہوجائے گا۔ ۔ ۔
مگر ہُوا یہ کہ ھولیکا ہی جل مری اور "بھگت پر ہلاد" زندہ  صحیح سلامت آگ میں سے نکل آیا ۔۔گویا حق صحیح سلامت رہا اور باطل جل مرا ۔۔۔اسی روایت کی یاد میں ہولی کا تہوار رسمی طور پر پھاگن کے مہینے میں منایا جاتا ہے، پہلے دن " ہولیکا " کو جلایا جاتا ہے اور دوسرے  دن ہولیکا کے جل مرنے کی خوشی میں ایک دوسرے پر رنگ اُچھالتے ہیں ۔ہندوستان کا یہ تہوار ہندوستان میں مارچ کے مہینے میں منایا جا چُکا ہے ۔۔لیکن ہولی پیچھے ٹر کے طور پر لندن میں گوریوں نے اگست کے مہینے میں اس تہوار کو خوب انجوائے کیا، جسکی تصاویر لنک پر موجود ہیں ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ 
نوٹ :رائے سے اختلاف / اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔۔
{ ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Friday, August 2, 2013

"غلطیاں "

 منجانب فکرستان: خبر کے لنکس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصرہ کا آپشن بند  ہونے کی وجہ سے بعض دوستوں کی تبصرہ ای میل آجاتی ہیں جن میں" جناب افتخار اجمل بھوپال" بھی شامل ہیں۔سابقہ پو سٹ "اصول پرستی لچک پرستی" پر اُنکی جو ای میل ملی اُس سے مجھے ایسا تاثر ملا کہ شاید میری سابقہ پوسٹ نے ایسا تاثر قائم کیا ہو کہ جیسے میں عمران خان سے مایوس ہوگیا ہوں ۔۔
تو عرض ہے کہ میں عمران خان سے بالکل بھی مایوس نہیں ہُوا  ہوں، مایوس ہونے کا میرے پاس آپشن نہیں ہے،اس لیے کہ عمران خان کے علاہ میری نظر میں کوئی دوسرا عوامی لیڈر نہیں ہے ۔۔
 البتہ میں اُنہیں ایک انسان سمجھتے ہوئے سمجھتا ہوں کہ وہ غلطیاں بھی کررہے ہیں۔۔مثلاً میرے خیال میں ممتاز بھٹو کو پی ٹی آئی  میں شمولیت کی دعوت دینا، ایک بڑی غلطی ہے، اس سے پارٹی کو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا۔۔بس اتنی سی بات ہے ۔۔
"ممتاز بھٹو شمولیت دعوت کی خبر کیلئے لنکس پر جائیں "

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, August 1, 2013

" اصول پرستی " لچک پرستی "

منجانب فکرستان : جیل: منشور : متصادم 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی شخصیت بھی بڑی عجیب ہے۔۔ کبھی تو اُصول پرستی پر سب کچھ بھسم کرنے پر اڑ جاتی ہے ۔۔تو کبھی لچک پرستی پر ،اُصول پرستی کو خاک میں ملا نے تیار  رہتی ہے، اِسکی بہترین مثال  پی ٹی آئی کے سربراہ جناب عمران خان صاحب کی شخصیت ہے جو ایک طرف تو کہہ رہے ہیں کہ:
 توہینِ عدالت نوٹس پر معافی نہیں مانگوں گا، چاہے جیل  ہی جانا کیوں نہ پڑ جائے، یعنی لچک نہیں دِکھاؤں گا، تو دوسری طرف ممتاز بھٹو کے بارے میں اپنی اصول پرستی کو خاک میں ملا کر لچک پرستی دکھا رہے ہیں۔۔پی ٹی آئی منشور سے متصادم خیالات کے حامل جناب ممتاز بھٹو کو پارٹی میں شمولیت کے لیئے دعوت  دی جا رہی ہے،  پی ٹی آئی منشور  بڑے زمینداروں پر ٹیکس کی بات کرتا ہے جبکہ ممتاز بھٹو صاحب اِس ٹیکس کے سخت خلاف ہیں۔۔
"اگر مزید تفصیل پڑھنا چاھیں تو لنک پر جائیں"
  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
{ ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


Tuesday, July 30, 2013

مذہب عیسائیت میں یہ کیسا انقلاب آیا ہے ؟؟

منجانب فکرستان :  گُناہِ کبیرہ : خون : سچ ہےکہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانوں کو اِسی دُنیا میں  "جنّتی / دوزخی"  کا سر ٹیفیکٹ دینے والے گویا خُدا کے کرنے کے فیصلے خُود کرنے والے عیسائی مذہب کے ٹھیکیدار پادریوں کے سربراہ پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ " ہم جنس پرستی" پر فیصلہ دینے والا میں کون ہوتا ہوں ؟؟؟
 اُنہوں یہ بات اِس تناظر کی روشنی میں کہی ہے کہ " اگر کوئی شخص ہم جنس پرست ہے اور خُدا کو چاہتا ہے اور نیک نیت ہے تو پھر میں کون ہوتا ہوں اُس کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے والا
 جبکہ:اِسی مذہب نے کسی شخص  کی کہی ہوئی بات پر/ لکھی ہوئی بات پر/ دوسرے فرقوں پر / دوسرے مذاہب پر جہنمی ہونے کے فیصلے دئیے ہیں، اِن فیصلوں نے خُدا کی مخلوق کو کس طرح سے خونمیں نہلایا تاریخ گواہ ہے ۔۔   
مگر آج اُسی عیسائیت میں یہ کیسا انقلاب آگیا ہے کہ: پوپ صاحب  کہہ رہے  ہیں،  اگر کوئی شخص ہم جنس پرست  یعنی  گُناہ کبیرہ  کا  ہی مرتکب کیوں نہ ہُوا ہو لیکن خُدا کو چاہتا ہے اور نیک نیت ہے تو پھر میں کون ہوتا ہوں اُس  کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے والا۔۔
  " سچ ہے کہ فیصلہ رب ہی نے دینا ہے" 
پوپ کے بیان کی مزید تفصیل اگر پڑھنا چاہیں تو لنک پرجائیں 

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Saturday, July 27, 2013

" شادی کی رسمیں" طلاق سے بچاتی ہیں "

 منجانب فکرستان: سندھ ؛ کُنڈ جی رسم؛ زیادہ طلاقیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد رمضان شادیوں کا موسم شروع ہوجائے گا۔۔ شادی بیاہ کی رسموں کو بُہت سے لوگ فُضول سمجھتے ہیں، جبکہ میرے خیال میں  شادی کی یہ رسمیں طلاق کی شرح میں کمی کا باعث ثابت ہوتی ہیں۔۔ زیادہ تر رسمیں لڑکی سے متعلق ہوتی ہیں اور  اِن رسموں میں اسرار  پایا جاتا ہے، ۔
 سندھ کے بعض حصّوں میں "کُنڈ جی رسم" یعنی" کونے کی رسم" ادا کی جاتی جو دراصل مایوں کی ہی رسم  ہے۔۔ اِس رسم میں دُلہن بننے والی کا چہرہ گوٹے کناری لگے کپڑے کے نقاب سے  چُھپا دیا جاتا ہے جس میں دیکھنے کیلئے دو سوراخ ہوتے ہیں اور اسے کمرے کے ایک کونے میں بٹھادیا جاتا ہے جس بنا پر اس رسم کو کُنڈ جی رسم کہتے ہیں۔۔
 لڑکی جب مایوں ،مہندی و دیگر رسوماتی مرحلوں سے گُذر کر شادی کا مرحلہ طے کرتی ہے،تو یہ تمام باتیں اُسکے ذہن پر اثر پزیری اثر چھوڑتی ہیں جو طلاق لینے کا سوچتے  وقت لاشعوری مزاحمت  کا کردار ادا کرتی ہیں ، اسطرح طلاق لینے سے باز رکھتی ہیں ۔۔
"  ثبوت یہ  ہے کہ جن قوموں  میں شادی کی رسومات نہیں ہوتی ہیں،اُن قوموں  میں طلاقیں زیادہ ہوتی ہیں"۔۔

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, July 25, 2013

" عذابِ قبر سے متعلق " امام غزالی کی رائے "

  منجانب فکرستان:- عذابِ قبر؛ امام غزالی؛ احیاءالعلوم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عذابِ قبر سے متعلق  کچھ لوگوں کے دل میں یہ خیال آتا ہوگا کہ ہندو مت میں لاش جلا دی جاتی ہے ،پھر عذابِ قبر کیسا ؟ ؟ پارسی لاش چیل کوؤں کو کِھلا دیتے ہیں پھر عذابِ قبر کیونکر ممکن ؟؟ ڈوب کر مرنے والوں کی لاش مچھلیاں کھاجاتی ہیں پھر عذابِ قبر کس طرح ؟؟
اِسبارے میں امام غزالی نے اپنی کتاب احیاء العلوم میں وضاحت کی ہے ۔جس کے اردو ترجمہ کا خلاصہ اسطرح سے ہے کہ:
بے شک لوگوں نے کافروں کی قبریں کھول کر دیکھیں ہیں، تاہم ان قبروں میں سانپ بچھو کہیں نظر نہیں آئے ایسے میں عذاب ِ قبر کا کیسے یقین آئے ؟ اِس بارے میں تین احتمال ہیں :
پہلا احتمال یہ ہے کہ کافروں کی قبروں میں سانپ بچھو ہوتے ہیں اور یہ کاٹتے بھی ہیں چونکہ یہ عالمِ ملکوت کے واقعات ہیں اور عالمِ ملکوت کے واقعات اِن آنکھوں سے نہیں دیکھے جاسکتے ہیں۔۔۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ عذابِ قبر کو خواب کے واقعات پر قیاس کیا جائے ،خواب میں سانپ  بچھو کاٹنے پر جو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ یہی تکلیف عذابِ قبر ہے۔۔
تیسرااحتمال یہ ہے کہ مرنے کے بعد اُسکو روحانی تکلیفیں ہونگی  جِسے سانپ بچھو کے کاٹنے  سے تعبیر کیا گیا ہے ۔۔۔  
 نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔   
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...