Sunday, February 10, 2013

"انسانی خواہشات "

منجانب فکرستان: شفاف الیکشن:اندازہ لگائیں
-----------------------------------------------------------
 " الیکشن کمیشن "جس طرح مشکلات،اعتراضات اور مطالبات میں گھرا  ہُوا ہے رضیہ کی مثال یاد آجا تی ہے،لیکن جب چیف الیکشن کمشنر کو  جوابات دیتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے بُدھا اور اُسکا نروان یاد آنے لگتا ہے کہ"انسان کے تمام دُکھوں کا  کارن انسان کا خواہشات میں مبتلا ہونا ہے "۔۔۔۔ مثال کیلئے  ہمارے فخرو بھائی ( چیف الیکشن کمشنر) کو ہی  دیکھ لیں  ماشااللہ سے 12 فروری کو پورے 85 سال کے ہوکر 86 میں داخل ہوجائیں گے۔۔۔لیکن اس عُمر میں بھی  طاقت حاصل کرنے کی خواہش اور شفاف الیکشن کراکے امر ہونے کی خواہش نے اُنہیں چیف الیکشن کمشنر بنادیا ۔ اندازہ لگائیں کہاں 85 سال کی عُمر اور کہاں چیف الیکشن کمشنر کےبکھیڑے کہ جس میں آئے دن نتِ نئے مسئلے اور نتِ نئے مطالبے سامنےآتےہیں۔۔۔اُس پر شفاف الیکشن کرا کےامر ہونے کی تمنّا۔۔۔
 کیا بڑے میاں الیکشن تک ٹِک پائیں گے یا بھاگ جائیں گے؟؟؟یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔۔
اب اجازت دیں۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔         

Thursday, February 7, 2013

" غور کا مقام ہے "

منجانب فکرستان: صحابہ کرام ، تابعین اورتبع تابعین۔
-----------------------------------------------------------------
 شہرجدہ جگہ جگہ سے کھُدا پڑا ہے،ترقیاتی کام زوروں پر چل رہا ہے، متبادل روڈوں پر ٹریفک رینگ رہا ہے، وجہ پیٹرول کا ریٹ کم ۔۔ گاڑیاں بڑی بڑی ہیں، پیٹرول بھرانے پر پمپ والے تین چار ڈبے ٹشو پیپرز کے فری میں دیتے ہیں غرض کہ عرصہ ایک ماہ تک یہ نظارے دیکھتا رہا اس کے علاوہ  خانہ کعبہ کا طواف وسعی اور مسجدِ نبوی اور روضہ اقدس  کی زیارت بھی ہوئی۔۔سنتوں کی ادائیگی کے بعد جماعت کھڑی ہونے تک لوگوں کو مختلف طریقوں سے نماز پڑھتے بھی دیکھا ، اور دماغ میں یہ خیال بھی آیا کہ حضورﷺ جس طریقے پر نماز پڑھتے تھے اُسی طریقے پر نہ صرف تمام صحابہ کرام بلکہ تابعین اورتبع تابعین نماز پڑھتے تھے اور مسجد نبوی میں مسلسل تواتر کے ساتھ دن میں پانچ بار نماز کی ادا ئیگی ہوتی تھی تو پھر نماز کی ادائیگی کے طریقے میں اتنے سارے فرق کہاں  سے آگئے ؟؟؟
(غور کا مقام ہے) 
" اب اجازت دیں۔۔آپکا بُہت شُکریہ" 

Saturday, February 2, 2013

" حلول "

منجانب فکرستان : روح / پرویز مشرف/ ضد 
-----------------------------------------------------------------
دوستوں روحوں کے جسم میں حلول کر جانے کے بارے میں میں نے بھی پڑھا ہے کہ روحیں جسم میں حلول کرجاتی ہیں۔۔۔ اور انسان کو کیا سے کیا بنادیتی ہیں۔۔۔لیکن کبھی میں نے اس نظریہ پر اعتبار نہیں کیا ۔۔لیکن پرویز مشرف کے حوالے سے مجھے ایسی خبریں پڑھنے کو ملیں کہ اب  مجھے اس بات کا پکا پکا یقین ہوگیا  ہے  کہ ۔۔۔ روحیں جسم میں حلول کرجاتی ہیں۔۔۔ثبوت: اخباروں میں پرویز مشرف کے حوالے سے دو ایسی خبریں شائع ہوئیں ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں یعنی ایک خبر پرویز مشرف کو بزدل ترین ثا بت کرتی ہے  تو دوسری بہادر ترین۔۔پہلی خبر  بقول اسحاق ڈار" کار گل پر بریفنگ دیتے ہوئے  مشرف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں"۔۔۔
اور دوسری خبر میں سابق بھارتی آرمی چیف وی کے سنگھ یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ " بطور فوجی کمانڈر میں مشرف کے حوصلے کی داد دیتا ہوں کہ جنرل مشرف بھارتی حدود کے 11 کلومیٹر اندر تک چلے  آئے  ،حالانکہ وہ جانتے تھے کہ یہ خطرنا ک ہے پھر بھی انہوں نے اپنے فوجیوں کے ساتھ رات گُذاری"۔۔۔اور یہ ہماری نا اہلی تھی کہ وہ بحفاظت واپس چلے گئے " ۔۔۔
اب ہم محترم جناب اسحاق ڈار صاحب  کی کہی بات کو جھوٹ کیسے کہہ سکتے ہیں اور ظاہر ہے وی کے سنگھ کے اعتراف کو بھی جھوٹ نہیں کہہ سکتے ہیں۔اس لیے ہمیں روحوں کے حلول کرجانے والے نظریہ کو ماننا پڑے گا کہ:  پرویزمشرف میں کبھی بزدلی کی روح حلول کرجاتی ہے تو کبھی بہادُری کی ۔۔۔:grin:  :grin:۔
 میری باتوں سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ 


Tuesday, January 29, 2013

" سمجھ سے بالا باتیں "

منجانب فکرستان: ایڈم تھامسن/ن لیگ/عمران خان  
------------------------------------------------------------------
بعض باتیں سمجھ سے بالا ہوتی ہیں۔مثلاً برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن  نے دہشت گردی،توانائی کے بحران اور بیمار معیشت کے حوالے سے  پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ناکامی قرار دیا ہے ، تعیناتی مُلک کی حکومت پر اُنکا اسطرح سے تنقید کرنا سمجھ میں نہ آنے والی  بات ہے، چونکہ وہ جس منصب پر فائز ہیں یقیناً  اُن کے تقاضوں سے بھی  وہ خوب واقف ہونگے،اس کے باوجود میڈیا کے نمائندوں کے سامنے تعیناتی ملک کی حکومت پر تنقیدکرنا  ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت  کرنا  جیسی بات ہے، جو دونوں مُلکوں کے تعلقات پر اثر انداز ہوسکتی  ہے۔ غرض کہ وہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اُنہوں نے حکومت پر تنقیدآخر کس سوچ کے  تحت کی ؟؟؟ یا پھر غریب کی جورو سب کی بھابی والی بات لگتی ہے۔۔۔
 اسی طرح عمران خان کی یہ سوچ بھی میری سمجھ سے بالا ہے کہ وہ  فرسودہ نظام کے حامی  سیٹ ہولڈرز جاگیرداروں اور سرمایاداروں کے رائے ونڈ میں کئے گئے فیصلوں کے تحت دھرنے میں شریک ہونے کو کیوں کر  تیار ہوگئے تھے ؟؟؟ چونکہ عمران خان تو موجودہ نظام کے خلاف ہیں، جبکہ دھرنے میں شریک جماعتیں موجودہ نظام کی حامی ہیں ۔۔۔یہی بات ممتاز  بھٹو نے ایک ٹی وی پروگرام میں شکایتاً  کی  کہ عمران خان تو موجودہ نظام کے خلاف ہیں اسی لیے ہم نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کی۔۔۔۔۔ ظاہر ہے ممتاز  بھٹو جیسے جاگیر دار کیلئے سرمایادار ن لیگ ہی سوٹ کرتی ہے۔۔۔چونکہ عمران تو زراعت پر ٹیکس کی بات کرتا ہے۔
درج بالا باتوں سے اتفاق ضروری نہیں۔۔اب اجازت دیں۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔


Friday, January 25, 2013

" سروے رپورٹ '

منجانب فکرستان: سن 2012 کی ایشیاء کی مقبول ترین شخصیات 
------------------------------------------------------------------
جان راکفیلر نے  1956 میں "ایشیاء سوسائٹی " قائم کی تھی جس کا ہیڈ کواٹر نیویارک میں واقع ہے ۔۔اُس نے اپنی آن لائن سروے رپورٹ 2012  کے نتائج جا ری کردیے ہیں ،جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف  کے چیئرمین عمران خان ایشیاء کی مقبول ترین شخصیت قرار پائے ہیں ، انہوں نے78۔87 فیصد ووٹ حاصل کئے  جبکہ 29۔3 فیصد ووٹ لیکر ملالہ یوسف زئی دوسرے نمبر پر رہیں اور 98 ۔1 فیصد ووٹ لیکر آنگ سان سوچی تیسرے نمبر پر آئیں۔۔۔فلمی اداکار عامر خان  نے 81۔ 1 ووٹ لیکر چوتھی پوزیشن حاصل کی ۔۔۔ 
اب اجازت دیں۔۔ آپکا بُہت شُکریہ۔۔




Tuesday, January 22, 2013

" مقدس خودکشی "

منجانب فکرستان: روحانیت/ جمعرات/ منظور وساں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی ذہن  میں کوئی عقیدہ یا خیال راسخ ہوجائے تو پھر کسیتعلیم یا کسی بھی دلیل سے راسخ شُدہ  عقیدے یا خیال کو ذہن سے نکالنا ناممکن جیسی بات  ہے ، مثلاً مہنت ربندر نے  18 سال پہلے خواب میں دیکھا تھا  کہ کوئی اُسے دُور بُہت دُور لئیے جا رہا ہے ۔۔۔۔خواب کے زیرِ اثر دودن تک وہ تیز بُخار میں رہے اسکے بعد دل (ذہن) میں روحانیت کا عقیدہ ایسا راسخ ہوگیا کہ نوکری کو چھوڑ چھاڑ سادھو بن گئے یہ کہانی مہا کمبھ میلے میں آئے ہوئے بابا مہنت ربندرآنند کی ہے جسکی مزید تفصیل بی بی سی اردو پر موجود ہے۔۔
--------------------------------------------------
درگاہوں پر جانے والے عقیدت مند "جمعرات" کے دن کو مقدس مانتے ہیں  ،راجستھان کے شہر اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ عقیدت مندوں میں بُہت مقبول ہے ۔ جمعرات کے دن بیٹی ماں پکنے میں اُبلتی ہوئی دیگ میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی ،ممکن ہے یہ بھی کسی  راسخ شُدہ خواب کی تکمیل میں بیٹی ماں نے مقدس خود کشی کرلی ۔۔۔ ماں بیٹی کا یوں ایک ساتھ دیگ میں چھلانگ لگا کر خود کشی کے فعل کو انجام دینا مقدس خودکشی کو  جواز  فراہم کرتا ہے ۔۔۔ 
--------------------------------------------------
 صوبائی وزیر سندھ منظور وساں کا عقیدہ ہے کہ انکے خواب سچّے ہوتے ہیں۔۔۔  طاہرالقادری صاحب کا بھی خوابوں کے بارے میں ایساہی عقیدہ ہے ، سوشل میڈیا پر انکے سچّے خواب کے تزکرے موجود ہیں جبکہ اُنکے مخالفین اُنہیں جھوٹے قرار دیتے ہیں ۔۔۔ اِن خوابوں  کے حوالے سے مُجھے خیال آرہا ہے کہ الیکشن کے بالکل قریب ناممکن ایجنڈا  لیکر اُن کا اچانک کینیڈا سے پاکستان آنا کہیں کسی خواب کا نتیجہ نہ ہو ؟؟؟۔
 میرے خیالات سے اتفاق ضروری نہیں---اب اجازت دیں---آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔رب راکھا۔۔  

Saturday, January 19, 2013

" خفیہ ہاتھ "


منجانب فکرستان: محمد مرسی/ طاہر القادری/ ایاز امیر/ جمہوریت / زرداری 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب تک میں صدر ہوں مصر میں اسلامی حکومت کا قیام خارج از امکان ہے، میں مذہبی حکومت پر یقین نہیں رکھتا ، شہری ریاست پر یقین رکھتا ہوں ،جس میں مذہب اور عقیدے سے بالاتر ہوکر تمام انسانوں کو یکساں حقوق حاصل ہوتے ہیں ( محمد مرسی کا انٹرویوایاز امیر اپنے کالم میں لکھتے ہیں : "طاہر القادری کی گستاخی ملاحظہ فرمائیں، وہ لبرل اسلام، خواتین کی آزادی،اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔لفظ مولانا سے چڑتے ہیں اس پر مستزاد وہ عوامی جمہوریت کی بات کرنے کی جسارت بھی کر رہے ہیں، عقل کو ہاتھ ماریں جناب پاکستان میں عوامی جمہوریت "۔۔:grin: :grin:
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار بُہت اہم ہوتا ہے ،اس 5 سالہ جمہوری دور میں اپوزیشن نام کی کوئی  چیز نہیں تھی عوام/میڈیا دُہائی دیتے رہے لیکن اپوزیشن، اپنی باری کی کاؤنٹ ڈاؤن گنتی میں مصروف رہی ،ایسے میں مجبوراً چیف جسٹس صاحب کو سو مو ٹو ایکشن لینے پڑے ۔(پھر بھی  اپوزیشن کو کُچھ خیال نہ آیا)۔اور یوں میرے خیال میں چیف جسٹس صاحب نے اپوزیشن کے "خلا" کو کافی حد تک پورا کیا ۔۔۔
ایسے میں عمران خان کی سونامی آگئی تو  اپوزیشن کو وقت سے پہلے الیکشن کمپین شروع کرنی پڑی جس کے تحت  خیمہ،پنکھا ،بس اور لیپ ٹاپ اور اشتہار بازی  کے زریعے ووٹر کو لبھانے کے  حربے استعمال ہونے لگے لیکن اصل ذمہ داری یعنی اپوزیشن کا کردار وہ آج بھی ادا نہیں کر رہے ہیں۔۔۔اس کے بجائے  مفاد پرست سیٹ ہولڈرز  اور جاگیر داروں  کو اپنی جماعت میں بھرتے جا رہے ہیں۔۔۔ ساتھ میں عوام کو لطیفہ بھی سُنا رہے ہیں کہ تبدیلی لائیں گے ۔۔۔
 اپوزیشن کے  اس وسیع خلا کو دیکھتے ہوئے ایک طائر کینیڈا سے پرواز کرکے پاکستان کے اپوزیشن خلائی زون میں اُتر آیا اور اس نے ایسا شو دکھایا کہ بادی النظر میں باری والوں کو اپنی باری بوٹوں تلے  نظر آنے لگی ۔۔۔دوسری طرٖف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی اپنی ساکھ کی فکر لاحق ہوگئی  یوں سب نے مل کر طاہر القادری کے خلاف خفیہ ہاتھ کا الزامی کورس گانا شروع کردیا۔۔۔لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہُوا تو اب زرداری صاحب سے تعلق جوڑا جا رہا ہے۔۔۔
 شروع شروع میں عمران خان پر بھی طرح طرح  کے الزا مات کی خوب بارش ہوتی تھی اب  بھی وڈیو جیسے اسکینڈل آجاتے ہیں۔۔۔غرض کہ جو بھی اس فرسودہ  نظام کے خلاف بات کرتاہے نظام کے مفادی  اُس  کے خلاف اتحادی محاذ بنالیتے ہیں اور اُس کے کردار کو عوام کے سامنے فرشتوں جیسی صفاتی ترازو لیکر تولنے لگتے ہیں، لیکن اپنے گریبانوں میں ذرا نہیں جھانکتے اور الزام تراشی میں اپنے گلے خشک کرلیتے ہیں۔۔ 

  میرے خیالات سے اتفاق ضروری نہیں۔۔اب اجازت دیں۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔رب راکھا۔ 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...