Tuesday, January 15, 2013

"شاید کے دل میں اُتر جائے "

منجانب فکرستان: کُھلی بات
-----------------------------------------------------------------
سابقہ پوسٹ پر ای میل ملی" لگتا ہے آپ بریلوی ہیں" ایک پوسٹ میں ڈاکٹر عبدالسلام کا حوالہ دینے  پر تبصرہ آیا "کیاآپ قادیانی ہیں" میرا استدلال(آیت 159 الانعام)پرہےکہ مجھےاپنےآپ پر/دیوبندی، اہلحدیث، بریلوی، شیعہ، وغیرہ جیسا کوئی لیبل۔نہیں لگنے دینا چاہئیے/چونکہ آیت کا ترجمہ ہے " جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً اُن سے تُمہارا (محمدﷺ) کُچھ واسطہ نہیں۔۔۔۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ۔۔۔ وہی ان کو بتائے گا کہ۔۔ انہوں نے کیا کُچھ کیا ہے( ترجمہ مولانا مودودی) ۔۔  رب کی اتنی  واضع اور سخت برہمی پر میں اپنے آپ کو  کسی فرقے یا گروہ سے  کیسے وابستہ کر لوں۔۔
ایسی ہی ایک اور آیت آلِ عمران کی 105 ہے۔" کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے ۔۔۔اور کُھلی کُھلی واضع ہدایت پانے کے بعد۔۔۔ پھر اختلاف میں مبتلا ہوئے۔۔۔جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روز سخت سزا پائیں گے ( ترجمہ مولانا مودودی)"۔۔انِ آیات کی روشنی میں/میں اپنے آپ کو کسی فرقے یا گروہ سے وابستہ نہیں کرسکتا ۔۔۔ 
 آجکل پاکستان میں فرقہ واریت ٹار گٹنگ میں جو خون بہہ رہا ہے یا اب تک جو بہا ہے،کیا وہ درج بالا قُرآنی آیت کی  خلاف ورزی کا نتیجہ کہلانے کا حقدار نہیں ہے ؟؟؟
رہی بات قادیانیوں  کی تو مسلمان کہلانے کی بنیادی شرط ہی یہ ہے کہ کوئی بھی شخص  حضرت محمد ﷺ کوخاتم النبیین مانے بغیر مسلمان کہلانے کا حق دار نہیں ہے۔۔۔
میری باتوں سے اتفاق ضروری نہیں ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔رب راکھا۔۔۔


Wednesday, January 9, 2013

" نیچر میں نظامِ سزا "

منجانب فکرستان: یوناندیویاں/نئی مثال  / اقوام متحدہ/ شاندار/سزا 
---------------------------------------------------------------------
پوری کائنات میں نظم موجود ہے اور انسان کو اِس نظم سے  فائدہ اُٹھانے کی   پوری اجازت ہے ،لیکن اس میں غیر فطری مداخلت کر نے کی اجازت نہیں ہے ، نہ صرف اجازت نہیں ہے بلکہ غیر فطری مداخلت کرنے پر سزا  کا نظام بھی  رائج ہے ۔۔۔مثلاً یونان کے ڈیلفی  کے مندر کا دیوتا لوگوں کے پوچھنے پر غائب کی باتیں بتایا کرتا تھا ،ایک دن  یونان کے لوگوں   نے ڈیلفی کے مندر کے دیوتا سے پوچھا  کہ رات کو تارے ٹوٹ کر زمین کی طرف آتے دکھائی دیتے  ہیں لیکن پھر کوئی غیبی طاقت زمین پر گرنے سے پہلے اُنہیں جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔۔جواب آیا کہ جو تارے نظام کی پابندی نہیں کرتے ہیں دیویاں اُنکا پیچھا کرتی ہیں اور سزا کے طور پر جلاکر بھسم کردیتی ہیں۔۔
 نئی مثال:الٹراساؤنڈ مشین بیماریوں کی تشخیص وغیرہ کیلئے ہے لیکن انسان اسے لڑکیوں کے پیدا ہونے سے پہلے مار دینے کیلئے استعمال کر رہا ہے یوں ازل سے نیچر میں موجود مرد عورت 50/50 فیصد کے تناسب  میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے جسکی سزا: اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق بھارت میں 5 کروڑ لڑکیاں مختلف علاقوں  سے غائب ہوئی ہیں۔۔۔
انسان کی پیدائش سے لیکر آج تک دنیا  بھر میں عورت اور مرد  میں 50/50 فیصد کا تناسب قائم رکھنے کیلئے نیچر میں لڑکا اور لڑکی کی گنتی  کا کیسا شاندار نظام قائم ہے جو کہہ رہا ہے ۔۔وہی تو ہے۔۔۔وہی تو ہے۔۔۔جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔۔۔
دوستو: میری باتوں سے متفق ہونا ضروری نہیں۔۔۔اب اجازت دیں۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔رب راکھا۔۔۔
 http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2013/01/130108_girl_abduction_india_zs.shtml   

Tuesday, January 8, 2013

" لڑکی بھی قصور وار تھی "

 منجانب فکرستان: یہی دنیا کا دستور ہے ۔
--------------------------------------------------------------------
بھارتی گرو کو بھی جانے  کیا سوجھی کہ اتنے دنوں بعد یہ بیان داغہ کہ بس میں زیادتی والے کیس میں لڑکی بھی قصور وار تھی اور اُس  کا قصور یہ تھا  کہ وہ مقدس شبدوں (لفظوں)  کا ورد نہیں کر رہی تھی اگر وہ مقدس شبدوں  کا ورد کررہی ہوتی تو وہ شبد لڑکی کو تحفظ فراہم کرتے ۔۔بہرحال  یہ کہہ کر  گرو نے ایک نیا ٹنٹا میڈیا کے حوالے کردیا ہے ، ہمیشہ کی طرح  شروع شروع میں ایک  شدید عوامی ریلا گرو کے بیان کی مخالفت میں آئے گا اسکے بعد ایک اور ریلا گرو کی حمایت میں بھی آ سکتا ہے۔۔اور پھر اس کے بعد  ہمیشہ کی طرح ، پھر  کوئی نیا موضوع اور نئی بحثیں کہ یہی دنیا کا دستور ہے ۔۔۔اب اجازت دیں۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔
دوستو: مکمل تفصیل کیلئے لنک پر جائیں ۔
 http://www.dw.de/%D8%A7%D8%AC%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B9%DB%8C-%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%B1-%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%DA%AF%D8%B1%D9%88/a-16505308  

Wednesday, January 2, 2013

" یہ ایک حقیقت ہے "


منجانب فکرستان: عمران خان/طاہرالقادری / بی بی سی تجزیہ کار/ٹشو پیپر
-----------------------------------------------------------
آج کا میڈیا چِیل اُڑی کہنے پر بھینس اُڑی کی ہیڈنگ لگا دیتا ہے۔مثلاً سینیئر بُش  کے ہاسپیٹل داخلے پر اُنکے مرنے کی خبرجرمنی کے اخبار نے لگادی۔۔ جبکہ ہمارے  چنچل میڈیا کو اپنے جوہر دکھانے کیلئے ایک نیا چہرہ طاہرالقادری کی صورت میں مل گیا  ہے اُنکے بیان کو ہر اخبار اپنے رنگ میں دِکھاتا ہے یوں اُنکا بیان ملٹی کلر بن  کر عوام میں اصل رنگ کونسا کا کنفیوژن پیدا کررہا ہے ۔۔۔   
ڈاکٹر طاہرالقادری نے الیکشن کے بنتے ہوئے ماحول میں اچانک عوامی پھلجھڑی   (نظام کی تبدیلی) چھوڑی ہے۔ لیکن یہ ایسے وقت میں چھوڑی گئی ہے جب عوام ووٹ دینے کی تیاری پکڑ رہے تھے جبکہ ایسی ہی تبدیلی کی بات تو عمران خان بھی  کہہ رہے ہیں ،لیکن وہ الیکشن میں کامیاب ہونے کے بعد نظام میں تبدیلی لانے کی بات کرتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری الیکشن سے پہلے نظام کی تبدیلی کی بات کررہے ہیں، یہی وہ بات ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں جگہ نہیں بنا پا رہی ہے ۔ ۔۔درج ذیل بھارت کے بارے میں بی بی سی کے تجزیہ کار کےچند پیرائیے ہیں۔
------------------------------------------- 
ریپ تشدد کا سب سے بھیانک اور تکلیف دہ روپ ہے۔ بھارت میں اوسطاً ہر بیس منٹ میں کہیں نہ کہیں ایک ریپ ہو رہا ہوتا ہے۔
بھارت کا سیاسی نظام اگرچہ جمہوری اصولوں پر قائم ہے لیکن اسے چلانے والے وہی لوگ ہیں جو کچھ عشرے پہلے تک جاگیردار ہوا کرتے تھے۔ساٹھ برس کی جمہوریت کے باوجود ان سیاسی رہنماؤں کی نفسیات سے جاگیرداری کا تصور جا نہیں سکا ہے۔۔۔ 
وہ خود کو منتظم اور سیاسی رہنما نہیں بلکہ حکمراں سمجھتے ہیں اور عوام ان کی نظروں میں اب بھی محض رعایا ہے جس کی قسمت کے وہ خود کو مالک سمجھتے رہے ہیں۔۔جمہوری بھارت میں سیاست طاقت، دولت اور تکبر کے حصول کا ذریعہ بنی ہوئی ہے ۔
پچھلے دو برس سے بھارت کے عوام کسی لیڈر اور قیادت کے بغیر ملک کے اس فرسودہ سیاسی نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔ خواہ وہ بدعنوانی کا معاملہ ہو یا ریپ کا آج ہزاروں کی تعداد میں میں پورے ملک میں لوگ ایک ساتھ نکلتے ہیں اور موجودہ سیاسی نظام سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔

--------------------------------------------------
پاکستان میں جاگیرداری نظام قائم ہے، ن لیگ ہو کہ پیپلز پارٹی، طاقتور سیٹ ہولڈر وں سے مزین ہیں، ان سیٹ ہولڈروں کیلئے نظام کی تبدیلی نقصان دہ بات ہے۔لیکن یہ سیٹ ہولڈرز عوام کو دکھانے کی حد تک لولی پاپ نعرہ " نظام کی تبدیلی" لگاتے ہیں ،کامیاب ہونے کے بعد اس نعرہ کو استعمال شُدہ ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتے ہیں۔
 پاکستان ہو کہ بھارت یہ ایک حقیقت ہے کہ یہاں پر رائج نا انصافی پر مبنی لوٹ کھسوٹ کے فرسودہ سیاسی نظام سے یہاں کی عوام کافی حد تک بیزار ہو چُکی ہے ، اسی لیے چاہتی کہ انصاف پر مبنی سخت قسم کا  جواب دہ نظام کا نفاظ ہو،لیکن عوام کی یہ خواہش کب اور کیسے پوری ہوگی یہ ایک سوالیہ نشان ؟ ہے۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔" رب راکھا "۔۔

Saturday, December 29, 2012

" اِدھر اُدھر سے "

منجانب فکرستان: نان نفقہ 40 لاکھ ڈالر ماہانہ:خون سے لکھا قُرآن پریشانی کا باعث: :فلسطین اسرائیل کے حوالے: کینسر میں مبتلا کردونگا 
-------------------------------------------------------------------
 بابر بہ عیش کوش  کہ عالم دوبارہ نیست نظریہ کے حامل  اٹلی کے سابق وزیر اعظم جناب سلویوبرلسکونی  نے بالآخر نان نفقہ کی مد میں اپنی سابقہ محبوبہ اور طلاق یافتہ بیوی کو  ماہانہ تقریباً 40 لاکھ ڈالر ماہانہ دینے پر تیار ہوگئے ہیں۔ 
حملے میں بیٹے کے بچ جانے کے تشکر میں صدر صدام حُسین نے اپنے جسم کے 27 لیٹر خون سے قُرآن لکھوا یا تھا جو عُلماء کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہُوا ہے کہ اِس قُرآن کا کیا، کیا جائے ۔۔۔۔
 فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل اسی طرح ناجائز یہودی آبادکاری جاری رہی تو نتین یا ہو کو فلسطینی اتھارٹی ہیڈ کواٹر بُلاکر کہوں گا دوست یہ لو چابیاں اب فلسطین بھی تمہارے حوالے ۔۔۔ 
 خواتین کیلئےمخصوص لباس کی فروخت کی دکانوں پر خواتین ملازم رکھنے کے قانون پر سعودی وزیر محنت کو سعودی عُلماء کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں ایک عالم نے کہا کہ  میری بات نہ سننے پر میں نے پہلے بھی ایک سینئیر کو بد دُعا دی تھی جو  کینسر میں مبتلا ہوکر مرگیا تھا ۔۔
 مکمل تفصیلات کیلئے لنک پر جائیں۔۔۔ مجھے دیں اجازت ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔

Sunday, December 23, 2012

"منتخب جملے"


منجانب فکرستان: اناڑی: ناجائز : بدنامیاں : دانش
--------------------------------------------------
محترم نذیر ناجی کے کالم سےمنتخب چند جملے۔
"سرکاری خزانے کی جو لوٹ مار تاجر اور سرمایا دار طبقہ کرتا ہے پیپلز پارٹی کے اناڑی لیڈر اسکا 5 فیصد بھی نہیں کماتے ہونگے، مگر اُن کی ناجائز کمایوں کا شور اتنا زیادہ مچتا ہے کہ دوسروں کا کھایا  پیا دکھائی نہیں دیتا ہے۔"
" پیپلز پارٹی والوں کی 5 روپئے کی کرپشن 5 ارب روپئے سے زیادہ بناکر دکھائی جاتی ہے کھانے والے کھاتے رہتے ہیں پیپلز پارٹی والے بدنامیاں اپنے کھاتے میں ڈال لیتے ہیں۔"
ہاریوں، مزدوروں،غریبوں،چھابڑی والوں اور خوانچے والوں کے خیالات کے حوالے سے فرماتے ہیں یہ۔۔
" کسی بھی جماعت کو موزوں نہ پا کر محنت کشوں کو مجبوراً اسی پارٹی کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اور اس پارٹی کے لیڈر بھی حکومت میں آنے کو بعد مجبوراً  غریبوں کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرتے ہیں" ۔۔۔
قارئین دوستوں سے گُذارش ہے کہ لنک پر جائیں مکمل کالم پڑھیں، دانش میں اضافہ کریں ۔۔ ہاں جی
 مجھے اجازت دیں۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔

Thursday, December 20, 2012

"21 دسمبر "

منجانب فکرستان : " توہم پرستی "
-----------------------------------------------------------------
دوستو: رسل جیسا لاادری (agnostic)شخص بھی جب خواب میں دیکھتا ہے کہ انکی والدہ فوت نہیں ہوئی ہیں بلکہ محض ہوش و حواس  سےمحروم ہوئی ہیں اور یہ کہ جس دن اُنہوں نے خواب دیکھا تھا اتفاق سے وہ دن انکی محبوبہایلس کا جنم دن تھا   تو اسطرح وہ " توہم پرستانہ ہیپناٹائزڈ ہوگئے۔ خوف ، وسوسوں اور اِن اندیشوں میں مبتلا ہو گئے کہ یہ خواب اشارہ ہے کہ ایلس سے شادی نہ کی جائے ۔۔اب ایک طرف ایلس کی محبت اور دوسری طرف خواب کے توہم پرستانہ وسوسے تھے ۔۔۔اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بے چارے رسل کی ذہنی کشمکش کیسی رہی ہوگی۔۔۔ 
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم بھی توہم پرستی کو لگام دینے میں ناکام رہی ہے،  یہ ہی وجہ ہے web bot: ۔ IChing۔اور مایا کیلنڈر 3113 قبل مسیح میں کہی گئی جاہلوں کی بات کوآج کا تعلیم یافتہ شخص توہم میں مبتلا ہوکر پریشان ہو رہا ہے ۔۔
دوستو: میری سابقہ پوسٹوں میں کہی گئی کسی بات سے جس کسی کی ذرا سی بھی دل آزاری ہوئی ہو ، اُس سے درخواست ہے کہ وہ مجھے معاف کردے۔۔ زندگی رہی تو انشاء اللہ پھر ملاقات ہوگی ۔۔اب اجازت دیں آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
 دوستو: نیا سال مبارک ہو ۔۔ہم زندہ ہیں ۔۔۔۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...