Friday, July 20, 2012

مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟؟؟

منجانب فکرستان: کہیں یہ" مُک مُکا" کا مسئلہ تو نہیں ہے؟ خبر کیا کہتی ہے ؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بیچارے بچے کہیں "انا" اور ضد کی وجہ سے  پولیو میں مبتلا نہ ہوجا ئیں شمالی وزیرستان کے ایک لاکھ 61 ہزار بچّوں کا کیا قصور ہے کہ جنہیں پولیو کے قطرے نہیں پلائے جارہے ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ شمالی وزیرستان نے پولیو مہم کی بحالی کے لیے میران شاہ اتمان زئی قبیلے کا جرگہ طلب کیا، جرگہ میں پولیٹیکل ایجنٹ نے بتایا کہ حکومت نے تمام ترقیاتی فنڈ اس لیے  روک لیے ہیں کہ پولیو قطرے پلانے کی مہم شروع نہیں کی گئی، جواباً اتمان زئی جرگہ کے عمائدین نے پولیٹیکل ایجنٹ پر واضع کیا کہ جب تک ڈرون حملے بند نہیں ہو تے تب تک پولیو مہم کا بائیکاٹ جاری رہے گا ۔۔۔ڈر یہ ہے کہ کہیں اس بائیکاٹی ضد کی وجہ سے بیچارے بچے پولیو میں مبتلا ہوکر اپائج  نہ ہوجائیں ۔بے شک ڈرون حملے ظلم ہیں لیکن / کیا اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ہم اپنے ہی بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلاکر زندگی بھر کیلئے معزور بنا ڈالیں ؟؟؟ 
 خبر کیلئے لنک پر جائیں، اور مجھے دیں اجازت۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ۔۔ (ایم۔ڈی)    

Thursday, July 19, 2012

* ٹرائینگلی محنت کی سول ٹچ تخلیق *

منجانب فکرستان: راجیش کھنہ پر پکچرائز ایسا گانا ، جس میں فلسفہ زیادہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جنہیں ہم جانتے ہیں چاہے وہ کسی حوالے سے ہو اُن میں سے کوئی اس دُنیا سے چلا جاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارا کوئی چلا گیا ہے راجیش کھنہ کے چلے جانے کا احساس بھی ایسا ہی ہے۔اُن پر پکچرائز ایک ایسا پُر اثر گا نا جس میں فلسفہ زیادہ ہے۔اس گانے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اِسکو لکھنے والے آنند بخشی ،میوزک دینے والے آر۔ڈی برہمن اور آواز دینے والے کشور کمار تینوں اس دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن اپنی ٹرائینگلی محنت کا ثمر روح کو چھو لینے والا یہ پُر اثر نغمہ ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں۔۔ آئیں کچھ دیر کیلئے اپنا وقت انکی تخلیق کے دائرہ اثر  میں گُذاریں۔
نوٹ :- اگر نیٹ کی اسپیڈ کم ہے تو وڈیو کی اسپیڈ 240 کرلیں شکریہ ۔ (ایم۔ڈی) 

Monday, July 16, 2012

" نا دیدہ مخلوق "

منجانب فکرستان:جن،بھوت،پری وغیرہ کے بارے میں"آئس لینڈی" باشندوں کی دلچسپ مختصر لوک کہانی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک بارخُدا  نے"ایڈم اور ایو " سے ملاقات کی، اُنکا گھر دیکھا ، اُن کے بچوں کو دیکھا، پھر خُدا  نے ایو سے پوچھا "باقی بچّے کہاں ہیں ؟" ایو نے کہا" بس یہ ہی ہیں" وہ اس  بات  پر شرمندہ تھیں کہ باقی بچوں کو خُدا کے سامنے اس وجہ سے نہ لا سکیں کہ وہ نہائے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔اس پرخُدا نے کہا " جو لوگ خُدا  سے چھپتے ہیں خُدا  بھی اُنہیں باقی لوگوں سے چُھپا دیتا ہے "اس طرح یہ بچّے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پوشیدہ ہوگئے۔۔۔جن،بھوت، پری،بونے، وغیرہ انہیں پوشیدہ بچوں کی اولادیں ہیں اور جو بچے خُدا کے سامنے صاف ستھرے آئے تھے ، ہم انسان، اُنکی نسلیں  ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ تاویلی لوک کہانی 15 جولائی کے سنڈے ایکسپریس میگزین میں چھپی، مُجھے دلچسپ لگی اس لیے اپنے اُن دوستوں کیلئے بلاگ پر سجائی ہے کہ جن کی نظروں سے یہ کہانی نہیں گُذری۔۔/اب اجازت دیں۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
 (ایم۔ڈی)


Monday, July 2, 2012

پا جی " موجاں کرو "

منجانب فکرستان: انٹرویو سے اخذ/نعیم بُخاری کی چند دلچسپ باتیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نعیم بُخاری:-۔کیا صرف نماز کی صفیں سیدھی کرنا ہی مذہب ہے؟ قرآن مجید کو احترام سے سنبھال کر رکھتے ہیں مگر اسکو سمجھ کر پڑھنے کی کبھی توفیق نہیں ہوتی،کسی کی بھی تفسیر پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ قُرآن کو سمجھ لیا ہے۔ ہمارے ایک استاد نے کہا کہ ہر بندہ اس لیے نماز پڑھ رہا ہے کہ بدلے میں خُدا اسکے کام کرے گا، اس کی دُعائیں سُنے گا، ہم تو خُدا سے بھی  سودا کرتے ہیں ، میں تیرے لیے نماز پڑھ رہا ہوں ، تم میرے کام سیدھے کرو۔ 
٭ ہم نے گُلی ڈنڈا کھیلا، پتنگیں اُڑائیں، محلے کی عورتوں کو تاڑا (قہقہہ)۔۔ ۔والد صاحب ہم سے بڑی محبت کرتے تھے، مگر ہمیں، تھپڑ لگانے میں اُنکو ذرا دیر نہیں لگتی تھی۔۔میں بھی اپنے بچوں سے عشق کرتا ہوں مگرعشق اپنی جگہ اور تھپڑ اپنی جگہ  (ہنستے ہوئے) ۔۔
 ٭ والدصاحب کی خواہش پر فوج میں اپلائی کیا ، سارےٹیسٹ کلئیر ہوگئے جس سے ہمیں یہ اندازہ تو ہوگیا کہ ہماری مردانگی میں کوئی کمی نہیں ہے۔۔۔ لیکن انٹرویو میں فیل ہوگئے ۔۔سوال پوچھا گیا تھا کہ آرمی کیوں جوائن کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے بڑے تفاخر سے جواب دیا کہ ہم یونیفارم میں بہت وجیہہ دکھائی دیتے ہیں۔یہ بڑی معقول وجہ تھی جو  میں نے اُنہیں بتائی (ہنستے ہوئے) ۔۔ 
٭ ہمارے ایک دوست تھے وہ داتا صاحب بُہت جاتے تھے وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے پھر وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوگئے اور پھر سپریم کورٹ کے جج ہوگئے مگر وہ داتا صاحب پھر بھی جاتے رہے تو میں نے اُن سے کہا " راتیں داتا صاحب میرے خواب وچ آئے سن ، او کہندے سن ، اونوں روک، ہور میں اوندے لئی کُجھ نہیں کر سکدا "۔۔
٭ ٹی وی پر میرا حادثاتی طور پرآنا ہُوا، میری زندگی کے اکثر واقعات حادثاتی طور پر ہوئے،  ایک لطیفہ یاد آگیا جو مجھے احمد فراز نے سُنایا تھا وہ یوں تھا کہ ایک میراثی نے اللہ سے دُعا کی ، مجھے ایک کروڑ دے یا موت دے دے ۔اتنا کہنا تھا کہ فوراً زلزلہ آگیا ،میراثی بھاگتا ہُوا باہر نکلا اور کہنے لگا ، بُری باتیں کتنی جلدی مانتا ہے ۔۔۔
٭ میں بُہت خوش نصیب ہوں ، اللہ تعلیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر شُکر ادا کرتا ہوں  اور مجھے کسی سے حسد نہیں ہوا ،کسی کی گاڑی ہو یا بنگلہ حتیٰ کہ خوبصورت بیوی بھی ہُوتو دیکھ کر یہی دُعا نکلتی ہے"پاجی موجاں کرو"(قہقہہ)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نوٹ: یہ انٹرویو"خُرم سُہیل" نے کیا تھا جسے اُنہوں نے اپنی کتاب "باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے " میں شامل کیا ہے ۔۔۔مجھے یہ پسند آیا تو اپنے دوستوں سے شئیر کرنے کیلئے اسکی چند باتیں اپنے بلاگ پر سجالیں ہیں۔۔۔۔۔
میرا ایسا خیال ہے کہ پنجابی کا لفظ" مُک مُکا " کو اردو زبان میں عام فہم بنانے میں محترم جناب نعیم بخاری صاحب  کا ہاتھ ہے۔۔آجکل اس لفظ پر جوانی آئی ہوئی ہے ۔اب اجازت دیں آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ (ایم۔ڈی)   
       


Tuesday, June 26, 2012

٭ مکس پلیٹ ٭

منجانب فکرستان ٹیگز: مسرت جبیں۔فوذیہ صدیقی۔پی پی انویسمنٹ۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
نئی پُرانی نسل کی حیرتیں:سینئرکالم نگار محترمہمسرت جبیں صاحبہ جب اپنے پرانے ریڈیو کیسٹ پلئیرمیں پرانے گانوں کی کیسٹ لگاکر آنکھیں بند کرکے گانوں کا  آنند لیتی ہیں تو مسرت جبیں کے بیٹے اور اُنکی اولادیں حیرت سے دیکھتے ہیں۔۔ اسی طرح مسرت جبیں صاحبہ اپنی 6 سالہ پوتی کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوتی ہیں جو پچھلے 2سالوں سے کارٹونوں کی سی ڈی لگانا ، نکالنا،آواز کم زیادہ کرنا اور وقفہ دینا جانتی ہے۔جبکہ مسرت جبیں کو سی ڈی پلئیر میں سی ڈی لگانا بھی ایک مرحلہ لگتا ہے۔۔(تفصیل کے خواہشمند فوٹر لنک پر جائیں)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میرے خیال میں دھان پان دبلی پتلی کمزور دکھائی دینے والی " ڈاکٹر فوزیہ صدیقی " کی شخصیت کو ظاہر کرنے کیلئے جوالفاظ بنے ہیں وہ کُچھ اس طرح سے ہیں محبت ( بہن کیلئے)،  ہمت، صبر، ثابت قدمی ، استقامت ، بلند ہمتی ، پُر اُمیدی ، جہد مسلسل وغیرہ دُعا گو ہوں کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہو (آمین)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
موجودہ حکومتی سیٹ اپ بتا رہا ہے کہ زرداری نے ق لیگ کو 15 وزارتیں دیکر اور پرویز الہٰی کو نائب وزیر اعظم بناکر مستقبل کی انویسمنٹ کی ہے تو دوسری طرف اس سے ق لیگ چھوڑنے والوں کو بھی ایک پیغام مل گیا ہے کہ ق لیگ کی سیاسی حکمت عملی، افادہ لیے ہوتی ہے اس لیے  ق لیگ کو چھوڑنا نقصان دہ بات ہے ۔۔۔
صحیح معنیٰ  میں  ق لیگ کی موجاں ایں موجاں ۔۔ہو گئیاں۔
اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم۔ڈی)  

Saturday, June 23, 2012

٭ " ختنہ " تاریخ کے آئینہ میں ٭

منجانب فکرستان ٹیگز: ارکانِ پارلیمنٹ ، ہیروڈوٹس /ختنہ کا آغاز/عہدنامہ قدیم/ابراہیمؑ/ موسیٰؑ ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ختنہ کرانے سے ایڈز کے جراثیم  کے لگنے کے امکانات کم ہوجاتے  ہیں، عوام کو اس جانب راغب کرنے کیلئے زمبابوے کے ارکان پارلیمنٹ ، اپنے ختنے کرارہے ہیں۔اس سلسلے میں پارلیمنٹ کی عمارت میں ہی ایک خصوصی کلینک قائم کیا گیا ہے۔اس پوسٹ میں ہم"ختنہ" کو تاریخ کے آئینہ میں دیکھیں گے۔۔۔(  اس خبر کی تفصیل فوٹر لنک پر ہے)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بابائے تاریخ ہیروڈوٹس کہتے ہیں کہ ختنہ کی رسم کا آغاز مصر سے ہُوا ہے۔۔جسکی تصدیق ممیوں کے اجسام اور مقابر کی دیواروں پر بنی تصاویر سے ہوتی ہے ۔۔ سگمنڈ فرائیڈ جوکہ خود بھی یہودی ہیں۔۔ اپنے مضمون موسیٰ اور مذہبِ توحید میں کہتے ہیں کہ ۔۔" ایسا مفروضہ یکسر مسترد کئے جانے کے لائق ہے جو اس حقیقت سے انکار کرے کہ یہودی دینِ موسیٰؑ سے پہلے ختنہ نامی کسی رسم سے واقف تھے یا مصر آنے سے قبل بھی ختنہ کراتے تھے"۔۔ البتہ عہد نامہ قدیم میں  ختنہ کے بارے ایک جگہ تو لکھا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ اور خُدا کے مابین ایک معاہدہ کے ثبوت کے طور پر رائج رسمی روایت ہے۔۔ تو دوسری جگہ لکھا ہے کہ موسیٰؑ کے ختنہ نہ کرانے پر خُدا موسیٰؑ سے ناراض ہوگیا تو انکی بیوی نے  فی الفور خود اُنکا ختنہ کیا ۔۔ ۔عہد نامہ قدیم میں " ختنے " کا آغاز حضرت ابراہیمؑ سے منسوب ہونے کے باوجود یہودیوں کا عقیدہ حضرت موسیٰؑ سے آغاز منسوب کرنا حیرت کی بات ہے ! لیکن حیرت میں پڑنے کی ضرورت نہیں ، عقیدے کو عقل سے کیا لینا دینا ، البتہ عقل کو مطمئن کرانے کیلئے تاویل گھڑنا پڑتا ہے ۔یہودیوں نے بھی موسیٰؑ سے ختنے کا آغاز ثابت کرنے کیلئے یقیناً کوئی نا کائی تاویل ضرور گھڑی ہوئی ہوگی اسی لیے تو یہ عقیدہ کامل ترین یقین کا درجہ حاصل کئے ہوئے ہے۔۔۔۔   
اب اجازت دیں ۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔ (ایم۔ڈی) 


Wednesday, June 20, 2012

٭ آنسوؤں میں تناسب کی شرح ٭

منجانب فکرستان:-کیا راج کپور کی آنکھوں سےآنسوؤں کے بہنے کی وجہ عقیدت مندی تھی ؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
حسینہ معین صاحبہ کے انٹرویو کو اپنے خیالات  ظاہر  کرنےکے لیے بطور سہارا استعمال  کر رہا ہوں۔۔۔، پہلے اس انٹرویو سے اخذ شُدہ چیدہ چیدہ باتیں۔۔۔۔٭ڈرامہ "آہٹ" دِکھائے جانے کے بعد  حسینہ معین کے گھر جماعت اسلامی کی چند خُواتین آئیں اور کہا کہ آپنے فحش نگاری کی ہے۔ حسینہ  نے چیلنج دیا کہ پورے ڈرامہ میں ایک جملہ بھی فحش بتادیں۔۔ جس پر خواتین نے کہا کہ ڈرامہ میں حاملہ عورت کو دکھایا گیا ہے اور حاملہ عورت کو دکھانا فحش بات ہے !!!ایکسپریس: آپنے ابتک شادی نہیں کی ہے،کیا آئیڈیل  نہیں ملا یا کوئی اور وجہ رہی ؟ حسینہ معین : دونوں وجوہات ہوسکتی ہیں۔۔۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید میرا دماغ زیادہ خراب تھا ۔۔۔اور دوسری وجہ یہ کہ جوانی میں آدمی کو کام کا جنون ہوتا ہے ۔۔۔میں کام  میں اتنی زیادہ مصروف ہوگئی کہ شادی کا خیال ہی نہیں آیا۔بطور رائٹر اتنی شہرت ملی تھی کہ میں چاہتی تھی کہ ایک سے بڑھ کر ایک کام کرتی چلی جاؤں۔۔۔اُسوقت مجھے شادی کی کوئی پروہ نہیں تھی ۔۔۔بس میرے شادی نہ کرنے کی یہی وجہ ہے ۔ ٭ حسینہ نے کہا عورت کو اُسکا اصل مقام دلانے کی میری 40 سالہ محنت پر نجی ٹی وی چینل پانی پھیر رہے ہیں۔۔۔۔
٭ حسینہ معین صاحبہ کے ڈرامے " ان کہی اورروشنی" دیکھ کر راج کپور اتنے متاثر ہوئے تھے کہ وہ تین سال سے حسینہ معین سے ملنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہ فلم "حنا" کے مکالمے حسینہ سے لکھوا سکیں۔۔۔ اس سلسلے میں وہ حسینہصاحبہ سے ملنا چاہتے تھے۔ جب حسینہ اُن سے ملنے بھارت گئیں تو راجکپور صاحب ہاتھ جوڑ کر قالین پر بیٹھ گئے اور اُنکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔جس نے حسینہ کو کافی متاثر کیا  اسی وجہ سے وہ خود بھی بے ساختہ رو پڑیں۔۔۔  راج کپور کہہ رہے تھے کہ اگر  حسینہ  ڈائیلاگ نہیں لکھیں گی تو "حنا" نہیں بنے گی۔۔۔
 میرے خیال میں اصل وجہ ڈرامے ان کہی اور روشنی کے ڈائیلاگ نے راج کپور کو بُہت زیادہ مُتاثر کیا اور جب کوئی کسی سے مُتاثر ہوتا ہے تو اُس میں عقیدت کے جذبات بھی پیدا ہوجاتے ہیں  جسکا ثبوت راجکپور کے آنسو۔۔۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عموماً دیکھا گیا ہے کہ عقیدت کی وجہ سے لوگوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں، مثلاً قُرآن پڑھنے/سننے میں، حضورﷺ کی سیرت پڑھنے/سننے میں، درگا ہوں پر/ قوالی سننے پر/پیِر کے سامنے غرض کہ جس سے بھی عقیدت ہو اُسکے سامنے عقیدت مند کے آنسو نکل پڑتے ہیں۔ میرے خیال میں عقیدت مندجو آنسوبہاتا ہے ،جہاں اِن آنسوؤں میں عقیدت مندی شامل ہوتی ہے وہیں پر اِن آنسوؤں میں شخص کے دل میں موجود دُکھوں کا غُبار بھی" ضرور بہ ضرور شامل ہوتا ہے "۔۔۔ تناسب کی شرح شخص کے دل میں موجود  عقیدت اور دل میں موجود غبار کے تعلق سے ہی آنسو میں تناسب کی شرح ہوگی۔۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عقیدت مندانہ آنسوؤں میں دل میں موجود غُبار کی آمیزش ہوتی ہے۔۔۔ اسطرح انسان آنسو بہا کر اپنے دل کا بوجھ بھی کم کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ عقیدت مندانہ رونے سے انسان کو سکون حاصل ہوتا ہے۔   (میرے  خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں )۔
نوٹ: حسینہ معین صاحبہ کا یہ انٹرویو ایکسپریس 20 جون کے سنڈے میگزین میں شائع ہُوا ہے ۔۔۔بُہت شُکریہ 
(ایم ۔ڈی) 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...