Sunday, June 10, 2012

٭ فرق صاف ظاہر ہے٭

منجانب فکرستان:- اب بمع لنک نیویا رک ٹائمز اور یو ایس اے ٹوڈے نے امریکہ کو کھری کھری سُنائیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکی فوجیوں میں خود کشیوں کے رحجان میں ریکارڈ اضافہ۔155 دنوں میں 154 ملٹری اہلکاروں نے خودکشی کی،  گذشتہ برس کے مقابلے میں یہ اضافہ 18 گُنا زیادہ ہے۔۔دنیا کے سُپر پاور ملٹری اہلکاروں کی یہ کیسی بُزدلی ہے ؟ آخر خود کشی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ ان فوجیوں کو آسائیش کی کمی نہیں، طاقت کا شُمار نہیں۔۔ پھر بھی  اتنی بے ہمتی اور اتنی بذدلی کہ اپنی زندگی کو ہی ختم کر رہے ہیں۔۔۔یقیناً اسکی وجہ نفسیاتی ہے۔ میں نفسیات کا ماہر نہیں کہ اسکی نفسیاتی وجہ بتا سکوں لیکن اپنے طور پر ذہن میں جو وجہ سمجھ میں آتی ہے وہ میں اپنے قارئین سے شئیر کررہا ہوں ۔۔۔(اس خبر کی مزید تفصیل فوٹر لنک پر)۔۔
ٹوئین ٹاور حملے میں ایک بھی افغان نہیں تھا ، نہ کبھی افغانیوں نے امریکہ پر حملہ کرنے کا سوچا، اِس کے باوجود بِلا جواز آپنے افغان جنگ شروع کردی نتیجہ میں افغانیوں کو آپ سے لڑنے کیلئے دو طرح کےطاقت ور اخلاقی جواز فراہم ہوئے ایک جواز تو یہ ہے کہ اسلام دشمنوں کو افغانستان سے بھگانا ہے، جبکہ دوسرا جواز ملک کو غاصبوں سےآزاد کرانا ہے۔دونوں ہی طاقت ور اخلاقی جواز ہیں ، جبکہ آپکے فوجیوں کو پاس لڑنے کیلئے ایسے پاور فل اخلاقی جواز نہیں ہیں ۔۔۔ جہاں جنگ کا جواز ہی نہ ہو وہاں فوجیوں میں فرسٹریشن پیدا ہوگا ، میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ امریکی فوجی نفسیاتی امراض مبتلا ہوکر بذدِلانہ خودکشی کر رہے ہیں۔۔۔
کسی بھی جنگ کیلئے اُسکا اخلاقی جواز کا ہونا ضروری ہے، اور جتنا جواز اسٹرانگ ہوگا فوجیوں کی لڑنے کی طاقت بھی اتنی ہی اسٹرانگ ہوگی ،اور جیت کا تناسب بھی اُتنا ہی زیادہ ہوگا۔۔۔
القائدہ سے نپٹنے کیلئے وار اگینسٹ ٹیرر کا جواز یہ نہیں ہے کہ آپ آزاد خودمختار ملکوں پر حملے کریں۔۔۔
   میرا خیال ہے کہ بش صاحب کی امریکی ایگو نے جلد بازی میں بلا جواز غیر اخلاقی افغان جنگ شروع کرادی۔۔۔جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔۔۔
غرض کہ کسی جنگ میں فتح  کیلئے اخلاقی جواز کی طاقت کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔اس کی بہترین مثال افغان جنگ ہے ۔۔۔میرے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔(ایم۔ڈی)
 http://www.voanews.com/urdu/news/us-press-roundup-11june12-158487495.html    

Friday, June 8, 2012

٭ زوکر برگ کی شادی٭

منجانب فکرستان:-سگمنڈ فرائیڈ نے کی یہودی قوم کی تحلیل نفسی !!!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فیس بک کے شریک بانی زوکر برگ یہودی ہیں، لیکن شادی غیر یہودی لڑکی سے کی ،یہودیوں کو اس شادی پر یہ اعتراض ہے کہ اس طرح توخُدا" کی اعلیٰ ترین اور چہیتی نسل میں ملاوٹ ہوجائے گی۔اِس خاتون سے جو نسل دنیا میں آئیگی وہ خالص یہودی نہیں ہوگی۔۔ یہودی انتہا پسند گروپ لاھافا نے تو زوکربرگ کو مخلصانہ مشورہ  دیا ہے کہ فوراً طلاق دے دو۔۔ ورنہ خطرات میں گھِر جاؤگے۔۔
سگمنڈ فرائیڈ جو خود بھی یہودی ہیں، اپنی قوم کی تحلیل نفسی کی ہے ، انکا کہنا ہے کہ یہودیوں کا مزاج موسیٰؑ کی اُس تعلیم کا نتیجہ ہے ،جو اُنہوں نے  خُدا کو واحد و یکتا   ماننے کا حُکم دیا۔اس عقیدے نے جہاں فکرو دانش کی نئی راہیں کھولیں وہیں یہودیوں کو ذہنی برتری کےاحساس میں مبتلا کردیا کہ وہ خُدا کی واحد و یکتا  منتخب کردہ قوم ہے۔ یہ احساس اُن کے قومی مزاج اور مذہبی عقیدے کا حصّہ بن گیا ،جس سے یہودیوں میں ، خود پسندی ، گھمنڈ اور نسلی تفاخر نے نہ صرف جنم لیا بلکہ ان کے مزاج میں یہ سرایت کرگیا ہےکہ وہ خُدا کی پسندیدہ، لاڈلی ، چہیتی ،برگزیدہ اوروں سے جداگانہ یکتا و اعلیٰ نسل منتخبقوم ہے، اس لیے وہ دوسری قوموں کو حقارت  کی نظر سے دیکھتی ہے۔۔۔۔
یہ ہی وجہ ہے کہ وہ کسی غیر قوم میں شادی  نہیں کرتے ہیں۔۔۔یہودی کہتے ہیں زوکر برگ نے یہ غلط کیا ہے جو دوسری قوم کی لڑکی سے شادی کی۔۔۔اس طرح یہودی نسل خراب ہوجائیگی ۔۔۔
اب اِن یہودیوں کو کون سمجھائے کہ محبت نسل وسل کے جھگڑوں میں کہاں پڑتی ہے۔۔وہ تو صاف کہتی ہے ۔۔ لمبی دیواریں چُنوادو۔۔ لاکھ بِٹھادو پہرے ۔۔۔ 
ہیڈر پر موجود تصاویر  میں۔۔۔فطری محبتیں ۔
 نوٹ :-اس پوسٹ کی تیاری میں سگمنڈ فرائیڈ کے مضمون" موسیٰ اور مذہبِ توحید"  سے مدد لی گئی ہے ۔۔
اب اجازت دیں۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم ۔ ڈی) 

Monday, June 4, 2012

محرم کو اپنی نگاہیں اِدھر اُدھر نہ کرنی پڑیں!!!۔

منجانب فکرستان:- فطرت کی محبتیں تصویر میں /ایران سے خبر/"ناری" کی تشریح۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوست کا فون آیا کہ خواتین کے لباس پر اعتراض کرنے سے ریٹنگ کم ہوجائیگی ۔میرے خیال میں تو بعض خواتین کو بھی ایسے بے ہودہ لباس پر اعتراض ہوگا ،چونکہ جسم سے چپکے ٹراؤزرلمبی چاکوں والی شرٹ ، مغربی اسکرٹ سے بھی زیادہ عریاں ہے، بیشک گھر میں محرم  مرد  رہتے ہیں، لیکن اسکے معنی یہ نہیں ہے ہیں کہ اُنکے سامنے ایسے بے ہودہ لباس پہنے جائیں کہ اُنکو اپنی نگاہیں اِدھر اُدھر کرنی پڑیں، چونکہ گھر میں خواتین لیٹتی بھی ہیں بیٹھتی بھی ۔۔۔
ابھی حال ہی میں ایران میں نامناسب لباس پر خواتین کے خلاف پولیس کو کریک ڈاؤن ایکشن لینا پڑا (مزیدتفصیل لنک پر )۔۔۔جنسی ہراسمنٹ کے حوالے  سے دنیا بھر کی پولیس  خواتین کے لباس کو ہی الزام دیتی ہے۔۔۔
" ریاست ہریانہ"ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولیپمنٹ کی دائریکٹر" رینو " نے بی بی سی سے کہا کہ بعض لڑکیاں ایسے کپڑے پہن کر آتی ہیں کہ آگے پیچھے سب کچھ دکھائی دیتا ہے۔۔۔ اس لیے کام کے اوقات میں ہم نے ایسے کپڑے پہنے پر پابندی لگادی ہے۔ ( مزیدتفصیل لنک پر)۔۔۔
لفظ "ناری" کے حوالے سے جعلی اشتہاری حکیموں نے عورت پر  لیبل لگایا ہے کہ عورت میں مرد سے زیادہ جنسی آگ ہوتی ہے، یوں یہ نوجوانوں کے  خیالات کو پراگندہ کرتے ہیں ۔۔ کُچھ اسی طرح کا تصور انڈین فلموں نے بھی عورت کے بارے میں پھیلایا ہے ۔۔۔
 کچھ خواتین لباس کے ہی حوالے سے دوسری انتہا پر ہیں، گردن تا پیر تک دبیزکپڑے کی بغیر چاکوں والی شرٹ اور دبیز کپڑے ہی کی شلوار۔۔ (ایسا سوٹ کہ گرمی میں دم گُھٹے)پہنتی ہیں۔۔۔اسلام تو میانہ روی کا داعی ہے لیکن لباس کےمعاملے میں کُچھ عورتوں نے دو انتہاہوں کو اپنا یا ہُوا ہے ۔۔۔ممکن ہے ایک انتہا معاشرتی دباؤ کا نتیجہ ہو، لیکن دوسری انتہا تو عورت نے خود اپنی مرضی سے اپنایا ہے ۔۔۔
خواتین کو اس بات کا خود خیال رکھنا چاہئیے کہ نہ خود ایسا لباس پہنیں نہ بیٹیوں کو ایسا لباس پہنے دیں کہ گھر کے محرم مردوں کو اپنی نگاہیں اِدھر اُدھر کرنی  پڑیں۔۔۔۔۔
 میرےخیال میںہیڈرپرلگی تصویر،بُہت خوبصورت ہے۔۔اب اجازت دیں۔۔آپکا بہت شُکریہ۔(ایم ۔ ڈی)
حوالے کے لنک۔۔۔
http://e.jang.com.pk/04-29-2012/pindi/pic.asp?picname=68.gif
http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2012/05/120509_haryana_women_ka.shtml

Thursday, May 31, 2012

٭ " ورلڈ نو ٹو بیکو ڈے " کے حوالے سے٭

منجانب فکرستان :-اپنے لیے آنے والی نسل کیلئے /آپ بھی آزما کر دیکھیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میری طرح آپکو بھی کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آتی ہونگی مثلاً پوری دُنیا میں جنسی ہراسمنٹ کے حوالے سے خواتین کے لباس  کوموردِ الزام ٹھرایا جاتا ہے، مگر خواتین اس بات کو نہیں مانتی ہیں ،اورجسم سے چپکے ٹراؤزر پر لمبی چاکوں والی شرٹ پہنتی ہیں، خواتین کی طرح حکومت  بھی نہیں مانتی ہے  کہ 10سگریٹ والے پیکٹ پر پابندی لگانے سے سگریٹ نوشی میں اضافہ ہوگا، حکومت کئی طرح کی دلیلیں دیکر اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اسکے اس اقدام سے سگریٹ نوشی میں کمی واقع ہوگی ۔۔۔ جہاں تک دلیلوں کی بات ہے, اب کوئی بات یقینی نہیں رہی۔۔ اب  یہ کہنا بڑا مشکل ہوگیا ہےکہ سچ کیا ہے؟؟ چونکہ ہر شخص کے پاس اپنا سچ ہے اپنی دلیل ہے  ۔۔لیجئے صاحب حسبِ عادت میں  پھر بہک گیا کہ مجھے تو تمباکو نوشی کے بارے میں لکھنا ہے ۔۔۔
ہم اپنے ایک دوست کو جانتے ہیں جو چین اسموکر تھے لیکن اُنہوں نے بلاکسی پریشانی کے سگریٹ پینا چھوڑ دی وہ ماہرین کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے کہ سگریٹ نشہ ہے۔۔  وہ کہتے ہیں "سگریٹ نشہ نہیں عادت ہے"  نشہ چھوڑنا مشکل ہوتا ہے جبکہ عادت کو تھوڑی سی قوتِ ارادی کے زریعے آپ چھوڑ سکتے ہیں، پہلے دماغ میں یہ فیصلہ کریں کہ سگریٹ نشہ نہیں عادت ہے ،پھر چھوڑنے کی کوشش کریں چھوٹ جائے گی ۔۔۔ہمارے یہ دوست تو کافی اعتماد سے یہ باتیں کہہ رہے  ہیں۔۔۔تو پھر آنے والی نسل کیلئے آپ بھی آزما کر دیکھیں۔۔سگریٹ نوشی کو بجائے نشہ کے عادت کہیں،اور قوتِ ارادی کو استعمال میں لاکر چھوڑ دیں۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا شُکریہ ۔۔۔(ایم-ڈی)   

Tuesday, May 29, 2012

٭ دو محبتیں مگر رنگ جُدا / جُدا ٭

منجانب فکرستان:موسیقار اے آر رحمان کی کتابکمپیئرو اداکار جناب نورالحسن کی زندگی میں/ اہم موڑ ثابت ہوئی!!!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سنڈے ریگل اولڈ بُکس بازار، بیت المکرم اولڈ بکس بازار اور کراچی میں جہاں کہیں بکس بازار لگے وہاں پر محترم جناب پروفیسرسحرانصاری ضرور نظر آتے ہیں ، میں نے اُنکی کتابوں سے بے پناہ محبت کو اپنی آنکھوں سے ان بازاروں میں دیکھا ہے کہ کس طرح وہ اپنی محبت پر(آج کے دور میں بھی ) روپئے پیسوں کو  کوئی وقعت نہیں دیتے سچ ہے کہ محبت کے سامنے دنیا کی ہر چیز بے وقعت ہوجاتی ہے، ان بازاروں سے وہ اردو اور انگلش  کتابوں کے بنڈل کے بنڈل بندھواکر لے جاتے ہیں ،ان بنڈلوں کو دیکھ کر ہمیشہ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ ان ساری کتابوں کو نہیں پڑھ سکتے بس کتاب سے محبت ہے کہ یہ  کتاب بھی میرے کتب خانے میں ہونا چاہئیے ۔۔۔20 مئی 2012 سنڈے ایکسپریس میگزین میں" بھلا نہ سکے" عنوان کے تحت  یہ پڑھ کر مجھے بہت رنج ہُوا کہ محترم پروفیسر سحر انصاری صاحب کے  کُتب خانے  کا شیشہ توڑ کر کسی نے آتش گیر مادہ پھینکا جس سے آگ لگ گئی اور آگ نے ساری کتابیں جلا ڈالیں کچھ بچ رہیں تھی جنہیں پانی نے بھگو ڈالا 22 اپریل عالمی یوم کتب کے دن دوبارہ شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی مزید کتابیں جل گئیں۔انِ سانحات پر پروفیسر صاحب کے تاثرات اُنہیں کے الفاظ میں " مجھے جلی ہوئی کتابوں    کے درمیان بیٹھ کر ایسا محسوس ہُوا ،گویا میں اپنے عزیزوں کی جلی ہوئی لاشوں کے درمیان بیٹھا ہوں ۔۔۔ آگ اور پانی نے مل کر مُجھے برباد کردیا"۔اللہ تعلیٰ کا بڑا کرم ہے کہ پروفیسر صاحب ان سانحات پر دماغی توازن کھونے سے محفوظ رہے ۔۔۔
شُکر ہے مالک ،شُکر ہے پروردگار ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
معروف کمپیئراور اداکار جناب نورالحسن " بھلا نہ سکے" میں کہتے ہیں کہ اداکار شان کی سالگرہ پر دینے کیلئے کتابیں خریدیں ، اور اپنے لیے اے آر رحمان کی سوانح "The musical strom " خریدی اس کتاب کا پڑھنا میری زندگی کا اہم ترین موڑ ثابت ہُوا (اسکی مثال وہ اس طرح دیتے ہیں) خراب انٹینا ٹھیک ہوجائے تو تصویر اور آواز ٹی وی پر ٹھیک آنے لگتی ہے ۔۔۔اس کتاب نے میرے ساتھ ایسا ہی کچھ کیا۔۔۔اےآر رحمان سے مجھے ہمیشہ ایک روحانی تعلق محسوس ہوتا ہے۔۔۔مُجھے ہمیشہ اے آر رحمان سے ملنے کا اشتیاق اور اُنکا انٹرویو لینے کی خواہش رہی ہے۔۔۔لیکن اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ان سے ملنے کی خواہش نہیں رہی ۔۔۔میرا ان سے روحانی سا تعلق بن گیا ہے ۔۔۔جس میں بالمشافہ ملے بغیر بھی ان کا قرب محسوس ہوتا ہے ۔۔۔کسی سے محبت کرنے کیلئے اس سے ملنا ضروری نہیں ۔۔۔بلکہ آپ دُور رہ کر زیادہ قریب ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔ 
محترم قارئینِ کرام آپ نے محبت کے دو رنگ دیکھے۔۔اب مجھے اجازت دیں۔ آپ کا بُہت شُکریہ۔(ایم -ڈی) 

Wednesday, May 23, 2012

٭ خاندان اور مذہب ٭

منجانب فکرستان :- کیا انسان جتنا " سماجی " بننا تھا بن چُکا اور اب؟؟؟۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس بات میں کسی قسم کی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ جب انتخابات قریب ہوتے ہیں تو انتخابات میں حصّہ لینے والے ایسی باتوں سے گریز کرتے ہیں  جو سماج میں کسی قسم کے تنازعہ کا درجہ رکھتی  ہوں، ایسی متنازعہ باتوں پر نہ تو حمایت میں بیان دیا جاتا  اور نہ ہی مخالفت میں چونکہ یہ باتیں  براہِ راست رائے دہندگان کی رائے  پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے انتخابات میں حصّہ لینے والے متنازعہ باتوں پر کسی بھی قسم کا بیان دینے سے گریز کرتے ہیں ۔۔۔امریکی الیکشن قریب ہیں اس لیے "اوباما" کا ہر بیان انتخابات  سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، اوباما کا سماج میں متنازعہ "ہم جنس پرستی" فعل کی حمایت میں بیان دینا سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔۔۔ یا  پھر کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ امریکی رائے دہندگان کی اکثریت ہم جنس پرستی کے حامی ہوگئے ہوں (چونکہ یہ روش دنیا میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے)  جس بنا پر انہیں یقین دلانے کیلئے ایسا بیان دیاگیا ہو تاکہ اُن کے ووٹ حاصل کرسکیں ۔۔۔
 اگر ایسا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا  ہے کہ آیا انسان "سماجی" بننے کےعمل میں ترقی کی جانب گامزن ہے  یا  تنذلی کی جانب یا پھر  جتنا سماجی بننا تھا بن چُکا اور اب اس نے دوبارہ  تنذلی کی جانب اپنا سفر شروع کردیا ہے، بظاہر لگتا تو ایسا ہی ہے چونکہ ہم جنس پرستی کے  معنی خاندان کا ٹوٹنا ہے،خاندان کا ٹوٹنا مذہب سے دور ہونا ہے، مذہب سے دور ہونا  گویا انسان سے اُس  کا  مقصدِ زندگی چھنِ جانا ہے، کوئی مانے یا نہ مانے یہ سچّی حقیقت ہے کہ  خاندان اور مذہب نے زندگی کو معنی دیے ہوئے  ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔خاندان اور مذہب کےچھنِ جانے پر انسانی زندگی بے معنی ہو جائے گی ۔۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم۔ڈی)

Monday, May 21, 2012

٭ جوشِ خطابت کا کرشمہ ٭

منجانب فکرستان :-جوش خطابت نے/ عجب نعرہ لگوایا !!!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سابقہ پوسٹ قاضی صاحب کی "بین الفقہی" کانفرنس سے وابستہ توقعات کے بارے میں لکھی تھی جسے پڑھ کر میرے دوست نے کہا، یہ تم کیسی خوش فہمی میں مبتلا ہورہے ہو؟ یہ سب انتخابات کیلئے نیا مذہبی پلیٹ فارم تیار ہورہا ہے۔۔۔۔سچی بات یہ ہے کہ مجھے تو قاضی صاحب کی باتوں میں خلوص نظر  آرہا ہے، باقی رب جانے، لیکن دوست نے دماغ میں شک کا بیج بھی بودیا ہے۔اب فیصلہ وقت کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔
سابقہ پوسٹ میں جمعہ خطبوں کے بارے میں لکھا تھا کہجوش خطابت میں خطیب اِن خطبوںمیں ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو نہ صرف فرقہ واریت انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہیں بلکہ بعض باتیں ایسی بھی کہہ جاتے جوتعلیماتِاسلامی کے بھی خلاف ہوتی ہیں ۔۔۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ جوشِ خطابت میں انسان کچھ کہنے کا کچھ کہہ جاتا ہے جسکی ایک جھلک درج ذیل تراشہ میں صاف نظر آتی ہے۔دیکھیں کہ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر نے یہ کیسا نعرہ لگادیا ؟؟؟؟

                    
ہے نا کیسی عجب بات !!!

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...