Saturday, March 24, 2012

'' مفکر کی ذاتیات / مفکر کی فکریات ''

منجانب فکرستان پیش ہے۔کیا مفکر کی ذاتیات اور مفکر کی فکریات/ دو مختلف حلقے  ہیں ؟؟؟ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نام کتاب ''استقرائی استدلال اور فکرِ اقبال'' فکری کاوش جناب خالد الماس'' صفحہ 145 پر لکھا ہے  کہ ایک  دفعہ اقبال نے اپنے اور بنگالی شاعر رابندرناتھ ٹیگور کی شاعری کا موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ/ ٹیگور کی شاعری بے عمل ہے/ جب کہ وہ انسان باعمل  ہے/ میں بے عمل انسان ہوں/ جب کہ میری شاعری با عمل ہے ۔ اقبال کے اس بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مفکر کی ذاتیات /مفکر کی فکریات/ دو مختلف حلقے ہیں انکو آپس میں ملانا نہیں چاہئیے ۔۔۔ یہ تو ہوئیں مفکر لوگوں کی مفکرانہ باتیں ۔۔۔۔
آئیں اب ہم روز مرہ زندگی میں عام لوگوں باتیں کریں ، مثلاً  ڈاکٹر حضرات سگریٹ نوشی کے نقصانات گِنوا کر لوگوں کو سگریٹ نوشی ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن خود  اس پر عمل نہیں کرتے ہیں ، والدین بچوں کو جھوٹ نہ بولنے  کا درس دیتے ہیں، لیکن خودجھوٹ بولتے ہیں ، ہم جن باتوں کو دوسروں میں دیکھنا پسند نہیں کرتے/ اُن ہی باتوں کو ہم خود اپنائے ہوئے ہوتے ہیں / ہم دوسروں سے   جن اچّھی باتوں کے طالب ہیں / اُن اچّھی باتوں کو ہم نے اپنے پر لاگو نہیں کیا ہُوا ہے۔ غرض  کہ جب ہم اپنی زندگی پر ایمان دارانہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں اسی طرح کےبہت سارے  تضاد نظر آجا تے ہیں۔۔۔۔اگر کسی کو شک ہے تو اپنی زندگی کا ذرا غیر جانب دارانہ محاسبہ کر کے دیکھ لے (  کم یا زیادہ کے اعتبار سے ) قول وفعل کا تضاد صاف نظر آجائے گا ۔۔۔میری رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم ۔ڈی)             

Wednesday, March 21, 2012

'' اخلاقی معیار بلند ہو گا ''

منجانب فکرستان پیش ہے : ( K ( M.D :1-jokes: تبصرے  :1-jokes:
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خبر: بھاول نگر تحریک انصاف کے جلسے کے خاتمہ پر بد نظمی۔صوفے کُرسیاں ہوا میں اچھالیں گئیں۔
٭: میرے خیال میں صوفے کرسیاں ہوا میں ایسے ہی نہیں اچلتیں پیسہ انہیں ہوا میں اچھالتا ہے۔ موروثی سیاست دانوں نے سونامی کو روکنے کیلئے سرمائے کا بند باند نے کی ٹھان لی ہے ،جس کی جھلک پرنٹ/الکٹرانک میڈیا میں صاف دیکھی جاسکتی ہے، خاص کر کچھ کالم نگار تو عمران خان کے خلاف اتنے  عریاں انداز میں لکھ رہے ہیں کہ کالم خود گواہی دے رہا ہے کہ پیسے لیکر لکھا گیا ہے۔۔۔ انہیں اپنی آنے والی نسلوں کا کوئی خیال نہیں ہے ۔۔۔ انہیں صرف اپنے لیے پیسے بنانے خیال ہے۔ 
خبر: سندھ میں لائسنس یافتہ اسلحہ لیکر چلنے پر پابندی ختم/ لیکن اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہے۔
٭: اسلحہ لیکر چلنا یا اسلحہ کی نمائش کرنا ۔۔۔ کیا فرق ہے؟ یہ گنگا رام کی سمجھ میں نہ آئے ۔
خبر: خیبر پختونخوا، 28 خواجہ سراؤں کی مختلف محکموں میں بھرتیوں کا اعلان۔
٭: مجھے یقین ہے کہ ان بھرتیوں میں معیار کا پورا ،پورا ، خیال رکھا گیا ہوگا۔ اور جن محکموں میں یہ خواجہ سرا بھرتی ہوکر جا رہے ہیں یقیناً اُن محکموں کی نہ صرف کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ اخلاقی معیار بھی کافی بلند ہوجائے گا۔۔۔ شاید اسی سوچ کے تحت ہی خیبر پختونخوا حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔۔۔     
بشکریہ روزنامہ جنگ/ 21 مارچ ۔
 

Monday, March 19, 2012

ورنہ سہاگ رات ؟؟؟

منجانب فکرستان پیش ہے: تبصرے  xD   K . (  M . D  xD
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خبر:لکی مروت میں شرپسندوں نے بارودی دھماکوں سے 3 اسکول تباہ کردیے۔۔۔
 ٭جبکہ اسی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے سندھ کے جاگیردار زیادہ سمجھدار ہیں وہ اسکولوں کو برباد نہیں کرتے بلکہ انہیں اپنی اوطاق (بیٹھک) بنالیتے ہیں۔۔۔ ۔
خبر: کوسٹ گارڈ کا چھاپہ بھاری مقدار میں غیرملکی شراب پکڑی گئی ۔۔۔
٭ آخر محکمہ کو بھی تو زندہ رکھنا ہے تاکہ روزی روٹی چلتی رہے ۔۔۔۔ 
 خبر: سندھ کے وزیرِ داخلہ نے بھتہ خوری کے خلاف پولیس کو فری ہینڈ دے دیا ۔۔۔
 ٭جواب میں پولیس نے فوری ایکشن لے لیا، ناکے لگا کر موٹرسائیکل والوں سے بھتہ وصولی شروع کردی ہے۔۔۔
خبر: ڈاکوؤں نے دولہا دلہن  باراتیوں کے طلائی زیورات اور نقدی لوٹ کر لے گئے ۔۔۔
٭شُکر کرو دولہا میاں کہ/ آپکی دُلہن کو لے کر نہیں گئے۔۔ ورنہ آپکی سُہاگ رات :0-flowerface::0-flowerface: 
اب اجازت دیں آپ کا بُہت شُکریہ۔۔۔ (ایم۔ڈی)

Saturday, March 17, 2012

'' تبصرے اور تراشہ ''

منجانب فکرستان پیش ہے:- تبصرے :0-16_angry:  ( ایم ۔ ڈی )کے :0-16_angry:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭عاصمہ جہانگیر نے بلوچستان مسئلہ پر کہا کہ لوگوں کو زبردستی ساتھ نہیں رکھا جاسکتا ہے۔۔۔ اور نہ ہی کسی جگہ کو کالونی سمجھا جا سکتا ہے۔۔۔لیکن پنجابیوں کا رویہ اور سوچ یہ ہی رہی ہے ۔۔۔ تبصرہ۔ اسطرح لیبل چسپاں کرنے کا رویہ کبھی میری سمجھ میں نہیں آیا فرانسیسی، برطانوی پر،امریکی، روسیوں پر،چینی، جاپانیوں پر،مسلمان، ہندؤں پر، ھندو، عیسائیوں   پر عیسائی، یہودی پر، کالے گوروں پر اور انکا الٹ بھی ایک دوسرے پر بُرے لیبل لگاتے ہیں غرض کہ یہ لیبل نسلی ،جغرافیائی علاقائی ،مذہبی، جسمانی رنگت اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں ، یہ لیبل نہ صرف غیرتعلیم یافتہ بلکہ تعلیم یافتہ بھی لگاتے ہیں ۔اس وجہ  سےیہ کبھی بھی میری سمجھ میں نہیں آئے، شاید مذہبی عقیدوں  کی طرح  یہ لیبلز بھی ایک یقین کی صورت اختیار کر گئے ہیں ۔۔۔٭ تحریکِ انصاف کے چار ٹکڑے ہونے والے ہیں راناثناءاللہ۔۔۔ تبصرہ : سچ ہے کہ/ پیسہ بڑی طاقت ہے ۔۔۔٭ کراچی میں بھتہ ، پرچی مافیا کا راج ہے ۔۔۔۔
 تبصرہ : یہ مفاہمتی بیج کےثمرات ہیں۔۔۔۔
میرے تبصروں سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔( ایم ۔ڈی )
 درج ذیل تراشہ جنگ 14مارچ سے لیا گیا ہے۔
 

Thursday, March 15, 2012

'' فوجی ایسا کیوں کرتے ہیں ؟؟ ایک جائزہ ''

منجاب فکرستان پیش ہے:افغانی ہمارے ملکوں پر حملہ آور نہیں ہوئے،پھر ہم افغانیوں سے کیوں لڑرہے ہیں؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکی فوجی نے بلا وجہ9 بچوں، خواتین سمیت 16افراد کو ہلاک کردیا ،اس سے پہلے قُرآن جلانےاورلاشوں پر پیشاب کرنے کے واقعے پیش آچُکے ہیں۔فوجی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ میرے خیال میں اسکی وجہ یہ ہے کہ نیٹو، امریکی فوجیوں کی دل میں یہ خیال آرہا ہو کہ سیاست دانوں نے ہمیں بلاوجہ/ بے مقصد کی جنگ میں جھونک دیا ہے۔ افغانیوں سے ہماری کیا دشمنی ہے ؟ افغانی ہمارے ملکوں پر حملہ آور نہیں ہوئے ہیں ،پھر ہم افغانیوں سے کیوں لڑرہے ہیں ؟؟؟ افغانیوں سے لڑنے کا کیا جواز ہے ؟؟؟ ہم  بلا وجہ،  بے مقصد،  اور  لاحاصل جنگ کیوں لڑرہے ہیں/ہم کیوں اپنے ملک سے، خاندان سے دور ہیں ، ہم کیوں خوف کے سائے میں اذیت ناک زندگی گذار رہے ہیں۔۔۔۔  اس طرح کی سوچ سخت فرسٹریشن پیدا کرتی ہے، نتیجہ سیاست دانوں کا غصہ وہ معصوم بچوں ، عورتوں اور نہتے لوگوں کو مار کر/ قُرآنی نسخے جلاکر/لاشوں کی بے حرمتی کرکے اُتارتے ہیں۔۔۔امریکہ اور نیٹو ممالک کے سیاست دانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ ایسی بلاوجہ/ بے جواز جنگوں سے اُنکے فوجی ہمیشہ فرسٹریشن میں مبتلا ہونگے۔۔۔ چونکہ ایسی بلا جواز جنگوں میں لڑنے والے فوجیوں میں لڑنے کیلئے جن جذبات کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔ وہ جذبات  جنگ کے جواز اور مقصد سے نتھی ہوتے ہیں ۔۔۔ جہاں جنگ کا جواز اور مقصد ہی نہ ہو وہاں فوجیوں میں جنگی جذبات کی جگہ فرسٹریشن ہوگا ۔۔۔اور فرسٹریشن میں مبتلا فوجیوں سے کچھ بھی حرکت سرزد ہوسکتی ہے ،جوشرمندگی کا باعث ہوتی ہے ۔ بلا جواز جنگی جذبات سے عاری جنگیں چھیڑنے والوں کو شکست کا منہ  بھی دیکھنا پڑتا ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
میرے خیالات سےمتفق ہونا ضروری نہیں ہے، میں تو اپنے خیالات آپ سے شئیر کر رہا ہوں(ایم۔ ڈی)  

Saturday, March 10, 2012

'' کراچی وال چاکنگ ''

منجانب فکرستان پیش ہے : کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے ؟؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محترم جناب افتخار اجمل بھوپالی صاحب نے پوسٹ '' محبت'' پر تبصرہ میں اپنی والدہ ماجدہ کی محبت کا تذکرہ کیا ، اُسے شائع ہونا چاہئیے تھا، لیکن پبلشنگ کی بندش کی وجہ سے شائع نہ ہوسکا،ایسے تبصروں کی اشاعت کیلئے گنجائش نکالنی ہوگی۔۔۔کراچی میں مہاجر صوبے کیلئے نہ صرف وال چاکنگ ہوئی ہے بلکہ پوسٹر بھی لگائے گئے ہیں، جس پر سندھ اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد منظور ہوئی ہے جس میں وال چاکنگ کی مذمت کی گئی ہے اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس عمل کے پسِ پشت عناصر کو بے نقاب کیا جائے ۔۔۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی کے تمام علاقوں میں وال چاکنگ ہوگئی، پوسٹر لگ گئے، اتنا سب کچھ ہوگیا لیکن حکومتِ وقت کو یہ تک معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کن لوگوں کی کارستانی ہے ؟یہاں تک کہ اسمبلی  میں حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے ؟؟؟
 نوٹ : بحث کی راہ دکھانے والے تبصرے شائع نہیں ہونگے ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ ڈی)

Friday, March 9, 2012

'' محبت ''

منجانب فکرستان پیش ہے: ڈاکٹر جاوید اقبال کے مقالہ سے ماخوز پوسٹ " محبت0-heartbeat.gif"   
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈاکٹر جاوید اقبال  کہتے ہیں کہ '' کئی بار خیال آیا کہ میں اپنے والدین  کا حقیقی بیٹا نہیں ہوں، بلکہ انہوں نے مجھے کسی سے لے کر پالا ہے  ''اسطرح کی  سوچ پیدا ہونے کی وجہ کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ'' علامہ نے کبھی ایسا موقع نہیں دیا جس سے میں انکی شفقت ،الفت یا محبت کا اندازہ لگا سکوں ،والدین اپنے بچوں کو اکثر پیار سے بھینچا کرتے ہیں ،اُنہیں گلے لگاتے ہیں ،اُنہیں چومتے ہیں، مگر مجھے انکے خدوخال سےکبھی اس قسم کی شفقت پدری کی موجودگی کا احساس نہیں ہُوا  ( علامہ نے میری پیدائش کیلئے حضرت مجدد کی درگاہ میں حاضر ہوکر اللہ سے بیٹے کی عطا کی دُعا مانگی تھی )،ان باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اُنہیں مجھ سے محبت نہیں تھی سرا سر غلط ہے ۔انکی محبت کے اظہار میں ایک قسم کا ضبط محبت تھا ، گہری خاموشی تھی، اس محبت کی نوعیت فکری یا تخیلی تھی جس تک میرا ذہن نارسا پہنچنے کی اہلیت اُس عُمر میں نہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔ 
یہ پوسٹ مقالہ "اقبال ایک باپ کی حیثیت سے " سے ماخوذ ہے۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دنیا میں ایسے بُہت سے والد ہیں جو علامہ کی طرح اپنے بچوں سے دل میں محبت رکھتے ہیں مگر جس کا وہ اظہار نہیں کرتے ممکن ایسے مفکر قسم کے لوگوں کو اظہار محبت کرنے میں عامیانہ پن محسوس ہوتا ہو۔1-think.gif
میری رائے سے آپکا متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم ۔ ڈی )
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔۔۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...