Tuesday, October 25, 2011

غلط فہمی یا کہ خوش فہمی ؟؟؟؟؟؟؟

 فکرستان : نئے سال کیلئے دُعا گو ہے کہ سرمائے کو لگام لگے۔(آمین)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ پوسٹ " سرمائے کا بلیک ہول " کے عنوان کے تحت  31 دسمبر 2010 کو لکھی گئی تھی  ۔ جس پر جاوید گوندل بھائی کا تبصرہ بھی موجود ہے ۔ صرف پوسٹ کا  عنوان  تبدیل کیا ہے   پوسٹ  کےآخر میں  جو دُعا کی گئی تھی  وہ  بھی من وعن  اُسی  طرح سے ہے۔ اُس دُعا کے الفاظ دیکھیں، چلیں 31 دسمبر والی پوسٹ پڑھتے ہیں ۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دنیا کے ہر ملک  میں  سرمایا داروں  نے  آپس میں  ٹاپ ٹین  بننے کی نہ ختم ہونے والی دوڑ لگا رکھی ہے ۔۔۔  جس سے دُنیا میں کرپشن ،ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی  خوب پروان چڑھ رہی  ہے ۔۔۔۔۔۔ اس  طرح  سے سرما یا دارانہ نظام کا یہ " بلیک ہول " ایک طرف غریب طبقہ کو نگل  رہاہے، تو دوسری طرف درمیانی طبقہ  کو سسِکا رہا ہے ۔۔۔لیکن اس ریس کو  کوئی روک نہیںسکتا ہے ۔۔۔چونکہ سرمائے کا" بلیک ہول" مذہبی اخلاقیات  اور ضمیری اخلاقیات کو نگل چُکا ہے۔۔ ۔اب کالم نگار لفافےکے زیراثر لکھتا ہے ۔۔۔الیکٹرانک میڈیا بھی سرمائے کے زیر اثر چیزیں دکھاتا ہے ۔۔۔دانشوروں نے بھی سرمائے کی غُلامی کو قُبول کیا ہُوا ہے ۔۔۔بے بس کے پاس صرف ایک ہی آسرا رہ جاتا  ہے ۔ وُہ ہے دُعا ۔۔۔آئیں رب سے دُعا مانگیں کہ وہ ہیسرمائے کی اس شیطانی دوڑ سے انسان کو نجات دلائے ۔۔۔وہ ہی ایسے اسباب بنا سکتا ہے کہ سرمائے کو لگام لگے ۔خالق ، مالک،پروردگار انسان سے بُہت بڑی غلطی ہوئی کہ اُسنے سرمائے کو متعارف کرایا۔اب یہ انسان پر سوار ہوگیا ہے۔   خالق ، مالک، پروردگاراس سال  انسانی شعور کو اتنی وسعت عطا کر کہ  یہ سرمائے کو لگام دینے میں کامیاب ہوجائے ۔آمین۔
31 دسمبر کو جب یہ دُعا مانگی گئی تھی اس وقت یہ دُعا عجیب معلوم ہوتی تھی چو نکہ اس وقت سرمایا دارانہ نظام کے خلاف " وال اسٹریٹ قبضہ" جیسی تحریک  کا تصّور نہیں پایا جاتا تھا ۔ لیکن جیسا کہ میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں جو کُچھ بھی محسوس کرتا ہوں وہ لکھ دیتا ہوں ۔ چاہے میرے  یہ محسوسات عام لوگوں سے کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں ۔ ۔۔۔۔آپ نے 31 دسمبر سرمایا دارانہ نظام کے خلاف انسانی شعور بیداری والی دُعا پڑھ لی ۔ وال اسٹریٹ تحریک چل پڑی ہے، تو کیا مُجھے اس غلط فہمی یاکہ خوش فہمی مبتلا ہوجا نا چاہئیے کہ رب نے میری دُعا قبول کرلی ؟؟؟      
 تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔بھائی جاوید گوندل  کا تبصرہ پہلی جنوری کا ہے ۔۔۔ آپکا بُہت شُکریہ۔ ( ایم ۔ ڈی )  

Sunday, October 23, 2011

کیا (ن) لیگ تبدیلی لاسکتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

 منجانب فکرستان پیش ہے : ( ن) لیگ دیگر سیاسی پارٹیوں سے کتنی مختلف ہے ایک مختصر سا جائزہ ؟؟؟؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا (ن) لیگ ملک میں تبدیلی لا سکتی ہے ؟ ؟ ؟یہ پارٹی دیگر سیاسی پارٹیوں سے کتنی  مختلف ہے۔۔۔ ایک مختصر سا جائزہ لیتے ہیں ۔ یہ بات سب ہی کو معلوم ہے کہ ق لیگ کو قاتل لیگ کہا گیا تھا ۔۔۔لیکن اقتدار میں رہنے کی مصا لحتی / مفاہمتی  پالیسی  کے تحت ق لیگ کو حکومت میں شامل کیا گیا ۔۔۔اسی مصالحتی /مفاہمتی پالیسی کو اپناتے ہوئے  ق لیگ نے  بھی قاتل لیگ کہنے کا بُرا نہیں منایا ۔۔۔ ذاتی مفاد کو عوامی مفاد کا نام دیکر پیپلز پارٹی سے اشتراکِ کرلیا ۔۔۔اب ہم نواز شریف اقتدار حاصل کرنے کی مصالحتی / مفاہمتی پالیسی کی طرف آتے ہیں ۔۔۔آپ نے آئندہ الکشن اور اقتدار میں آنے کیلئے ۔۔۔ اُن تمام مفاد پرست سیٹ ہولڈروں کو کہ جنہوں نے  ق لیگ اور مشرف کو حمایت دی ۔۔۔جنہیں لوٹے اور دیگر  بُرے القابات سے نوازا گیاتھا ۔۔۔ اب  اقتدار کی مصا لحتی / مفاہمتی  پالیسی کے تحت  اُنہیں اپنی پارٹی میں شامل کرنے کیلئے تیار ہیں ۔۔۔اُنہیں ن لیگ میں آنے کی دعوت دے رہے ہیں  ۔۔۔ تو پھر اقتدار میں رہنے کیلئے پیپلز پارٹی / ق لیگ / ایم کیو ایم یا اے این پی  کی اُسی اقتداری مصا لحتی/ مفاہمتی پالیسی پر اعتراض کیوں ؟؟؟ یہ یقینی بات ہے کہ اقتدار کیلئے مصالحتی / مفاہمتی پالیسیوں کو اپنانے والے ملک میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے ہیں ۔۔۔ ان سب  پارٹیوں کو پاکستان یا پاکستانی قوم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔۔۔ انہیں صرف اقتدار سے محبت ہے ۔۔۔اس بات میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ہے کہ کل ن لیگ اور ایم کیو ایم قومی مفاد کی خاطر  ایک  دوسرے کے گلے میں باہیں ڈالے وکٹری کا نشان بنا رہے ہونگے ہیں ۔۔۔۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے/ آپ کا بُہت شُکریہ( ایم ۔ڈی)

Tuesday, October 18, 2011

" حمید اختر کے مذہبی خیالات "

 منجانب فکرستان سے پیش ہے : " حمید اختر کے مذہبی خیالات "
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
حمید اختر کے نزدیک  مذہبی زندگی کا فلسفہ یہ تھا کہ کوئی کافر نہیں،سب ہی انسان اُسی کی مخلوق ہیں ، اچھا وہی ہے جس سے دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے ، نفرت جو سکھائے وہ خُدا کا مذہب نہیں ہوسکتا ۔یہی وجہ ہے کہ  پاکستان میں پائی جانے والی مذہبی انتہا پسندی سے وہ بہت دُکھی تھے ۔ جس کا اظہار وہ آئے دن اپنے کالموں میں کرتے رہتے تھے ۔۔
دُعا گو ہوں کہ مالک ،خالق ،پروردگار انکی لغزشوں کو معاف فرمائے( آمین) ۔ تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔۔۔
 حمید اختر صاحب:اس  اِنسرٹ شدہ گانے/ ساحر کے پیغام سے  بہت متاثر تھے۔۔ 

Sunday, October 16, 2011

" جیلانی بانو کا خصوصی انٹر ویو "

 منجانب فکرستان پیش ہے :جیلانی بانو کا خصوصی انٹر ویو (بشکریہ ایکسپریس سنڈے میگزین)  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Oجیلانی بانو4 نومبر 1936بدایوں میں پیدا ہوئیں ، لیکن حیدرآباد دکن  کو  اپنا وطن  مانتی ہیں Oواجدہ تبسم کے افسانے اچّھے ہیں لیکن ان افسانوں کا حیدر آبادی کلچر سے کوئی تعلق نہیں  ہےOدکنی اردو اس وقت ٹیکساس یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے O اوم پوری نے کہا ، شیام بینیگل نے مُجھے فلم پر بات کرنے لیےآپ کے پاس بھیجا ہے   ۔۔۔۔ 
نوٹ: جنہیں نہیں معلوم اُنکے کیلئے عرض ہے کہ بہتر پڑھنے کیلئے بائیں جانب انگلش  لائن امیج فروم پر  پیج وائز کلک کریں ۔مُجھے دیں اجازت آپ کا بُہت شُکریہ۔
 ( ایم ۔ ڈی )   



Thursday, October 13, 2011

" ذرداری کے نام ہزار دستخطوں وا لا خط "

فکرستان سےپوسٹ ٹیگز:اعتدال پسند/علماء مشائخ/مذہبی انتہاپسندیپیش گوئی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1)ایسا لگتا ہے بھٹو دور کی طرح ایک بار پھر پیپلز پارٹی مذہبی ٹیسٹ دائرہ میں داخل ہورہی ہے ۔ بھٹو دور میں قادیانی کافر قرار دیئے جانے کا ٹیسٹ  کیس تھا  اب زرداری کے سامنے ممتاز قادری کیس ہے دنیا کینظریں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں ، پاکستان  کیلئے بھی یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ۔ بھٹو کے فیصلے سےاعتدال پسند ناراض ہوئے تھے اور کچھ نے تو پیش گوئی بھی کرڈالی تھی کہ اس فیصلے  سے مذہبی انتہا پسندی بڑھے گی۔ جو سچ ثابت ہوئی۔۔۔
سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمیں صاحبزادہ فضل کریم نے صدرِ مملکت آصف ذرداری کو 1000سے زائد علماء مشائخ  کے دستخطوں کے ساتھ تفصیلی خط ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر خصوصی صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ تبدیل کریں ۔۔۔ ٹرین مارچ ، دھرنا اور تحریک تیز کرنے کا اِندیا بھی دیا ہے ۔۔۔ تفصیل کے خواہش ذیل لنک پرجائیں مجھے دیں اجازت آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔(ایم ۔ ڈی)
http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101352718&Issue=NP_LHE&Date=20111013
   



Wednesday, October 12, 2011

" عورت کی ہمت کو سلام "

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: خُدائی کلکولیشن/ کائنات میں رنگ/ بیوقوف بنانا/ ماں کی تعریف کے الفاظ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کشمیر "سری نگر" میں لڑکیوں کے اسقاط کا سروے ہونے لگا تو وہاں کی عورتوں نے کہا " مسلمان لڑکیوں کا اسقاط نہیں کراتے ہیں" لیکن سروے رپورٹ نے حقیقت کھول دی بھارتی مسلمانوں میں بھی معمولی فرق کے  ساتھ یہ عمل جاری ہے بھارت میں صورت حال اب یہ ہوگئی ہے کہ 1000لڑکوں کے مقابلے میں صرف 914 لڑکیاں رہ گئی ہیں ۔یہ خُدائی معاملے میں انسانی مداخلت کا نتیجہ ہے ورنہ خُدائی کلکولیشن تو صدیوں سے ٹھیک طریقہ سے لڑکے لڑکیاں برابری کی بنیاد پر چل رہی تھی اسی کے تحت کہا جاتا تھا کہ جوڑے آسمان میں بنائے گئےہیں، الٹراساؤنڈ کی کارستانی سے جوڑوں کی جوڑی اسقاط کے نظر ہورہی ہے ۔ 
اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ ۔عورت کی ڈیزائننگ کوڈ( جنیوم) میں یہ بات شامل ہے کہ گھر ہوکہ ویرانہ اسکو وہ سجاتی ہے قابلِ دید بناتی ہے اپنے آپ کو بھی سجا کر قابلِ دید بناتی ہے ۔ رنگوں کا استعمال بھی خوب جانتیں ہیں ( شوہروں کو بیوقوف بنانا بھی خوب آتا ہے) ۔۔۔ماں کے روپ کے تو کیا کہنے الفاظوں میں وہ دم خم نہیں ہے جو ماں کے روپ کی تعریف کرسکیں عورت  کوخالق نے جسمانی لحاظ سے مرد سے کمزوربنایا ہے لیکن  یہ کمی عورت کو زیادہ   ہمت دے کر پوری کردی ہے ۔ وہ جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتے ہوئے بھی ہر طرح کی    تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتی ہے بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ مردوں سے بھی آگے رہتی ہے ۔  
عورت میں موجود ہمت کی ایک جھلک اس خاتون نے دِکھادی ہے ۔ پورے دنوں کی حاملہ ہوتے ہوئے بھی 42 کلومیٹر میراتھن ریس میں حصّہ لیا ( عورت ہر معاملہ میں    اسی طرح سے فعال ہے/سوائے ایک معاملے کے) یہ فاصلہ سوا 6 گھنٹوں میں مکمل کیا پھر ہاسپیٹل جاکر بچیّ کو جنم دیا ۔۔۔"عورت کی ہمت کو سلام ہے" ۔۔۔۔
 نوٹ ؛ اس پوسٹ پرکئے گئے تبصرے  پبلش ہونگے ۔(ایم ۔ڈی )

Tuesday, October 11, 2011

عمران خان کیلئے ووٹ کیوں ؟؟؟

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: محور/مذہبی اسکالر/طالبان/امریکہ/ نواز شریف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــجیسا کہ عمران خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ علامہ اقبال ، محمد اسداور ڈاکٹر فضل الرحمان کے مذہبی خیالات سے متاثر ہیں ۔ یہ لوگ کسی  مذہبی درسگاہ کے  پڑھے ہوئے نہیں ہیں  ، جہاں مخصوص فرقہ کی تعلیم دی جاتی ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ انکا محور قُرآنی آیات ہیں ۔ دینی درس گاہوں سے نکلے عالم انہیں مذہبی اسکالر نہیں مانتے ۔بعض تو اِنکے خیالات پر  کُفر کا فتویٰ بھی لگا دیتے ہیں ۔۔۔
ہمارے مذہبی رہنما میڈیا میں "اِن " رہنے کیلئے  جمعہ کے جمعہ  کسی نہ کسی مسئلہ کو "مذہبی اشو "بناکے احتجاجی ریلیاں نکالتے ہیں  ۔۔۔ یہ مذہبی ہڑتالیں اور ریلیاں،  ایک طرف بے روزگاری ، حد سے زیا دہ بڑی ہوئی  مہنگائی ،معاشی نا انصا فی اور کرپشن جیسے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دیتیں ہیں  تو دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی کو بھی فروغ دیتی ہیں ۔۔ ۔
 عرب دنیا ، اسرائیل ،انڈیا ، یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے لوگ بڑے ہوئے انسانی مسائل   پر ریلیاں نکال رہے ہیں۔۔ ۔ جب کے ہم ان انسانی مسائل میں پورے کے پورے دھنسے ہوئے ہیں ۔اسکے باوجود ہم ان مسائل پر احتجاج نہیں کر رہے ہیں ۔ اسی سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے  کہ ہمارا ملک کس  انتہا پسندی  کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔۔۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں  اپنا رول صحیح ادا نہیں کر سکیں مثلاً شریف برادران ساڑے 3سال  تک سوتے رہے اس خلا کو کسی  سیاسی جماعت نے بھی فلِ نہیں کیا جسکا نتیجہ مذہبی رہنماؤں کو اسپیس مل گیا اور وہ جمعہ کے جمعہ مذہبی دُکان چمکانے لگے۔ ایسے میں عمران خان ہی پاکستانیوں کےمسائل پر  آواز اُٹھاتے ہیں ۔ وہ مذہب کے معاملے میں بھی فرقہ پرست یا انتہا پرست سوچ کے حامل نہیں ہیں اسکے علاوہ  ہمارے سامنے اور کوئی متبادل بھی تو نہیں ہے سارے آزمائے ہوئے ہیں  ایسے میں عمران خان کی صورت میں ہی ملک کیلئے کُچھ بہتری کی امید نظر آتی ہے کہ شاید وہ مُلک کی بہتری کیلئے جراَتمندانہ انقلابی فیصلے کرکے مُلک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکیں  چونکہ مُلک کو انقلابی فیصلوں کی ضرورت ہے نہ کہ مصلحتوں کی۔۔۔اب اجازت دیں   ۔۔بہت شُکریہ ۔۔۔(تبصروں کی پبلشنگ بند ہے )۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے ۔(ایم ۔ڈی)


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...