Tuesday, May 3, 2011

ہیلری کلنٹن کے بیان پر ایک نظر ٭٭٭٭٭٭٭٭

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: 9/11 ۔/انسان / بدلے کی آگ/ سوچ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اُسامہ بن لادین کی ہلاکت پر ہیلری کلنٹن نے جو بیان دیا وہ قابل غور ہے کہ اُسامہ کی ہلاکت سے 9/11 کے ورثاء کو سکون ملے گا لیکن اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ عراق میں اتنے سارے بے گُناہ انسانوں کو ماردیا گیا اُنکے ورثاء کو کیسے سُکون ملے گا ؟ افغانستان میں جو اتنے سارے بے گُناہ انسان مارے گئے ہیں اُنکے ورثاء  کیسے سُکون پائیں گے ؟پاکستان میں جو اتنے سارے بے گُناہ انسان مارے جارہے ہیں اُنکے ورثاء کے سُکون کی کیا سبیل ہوگی ؟
 بدلہ لیکر سُکون حاصل کرنے والی سوچ وہی القاعدہ یا طالبانی سوچ ہے ۔9/11 میں اتنے انسان نہیں مرے تھے جتنے کے بدلے کی آگ میں آپنے ماردیئے ۔پھر اپنے منہ میاں مٹھو اپنے آپکو مہذب بھی کہتے ہیں ۔ جب تک مفادات اور بدلے کی آگ میں  بے گُناہ انسانوں کو مارنے کی سوچ  (چاہے وہ کسی کی بھی ہو )قائم رہے گی دُنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا ہے ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 
تراشہ روزنامہ جنگ 2 مئی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
درج ذیل عبارت اردو ٹائمز 3 مئی کی ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر باراک اوبامہ نےکہا ہےکہ القاعدہ کےسربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سےدنیا پہلےسےزیادہ محفوظ ہوگئی ہے۔ اسامہ کی ہلاکت سےانصاف ہوگیا۔ وائٹ ہائوس میں ایک خطاب کےدوران امریکی صدر نےکہا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کےبعد دنیا اب پہلےسےزیادہ محفوظ ہوگئی ہے اورامریکہ نےاپنا وعدہ پورا کردیا ہےاسامہ کی ہلاکت سےانصاف مل گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ آج امریکہ کےلئےاچھا دن ہےاورامریکی عوام خوش ہیں امریکی عوام اپنی افواج سےتحفظ چاہتےہیں جو وہ فراہم کررہی ہےاورمجھے امریکی افواج پرفخر ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپکا کہنا ہے اُسامہ کی ہلاکت سے 9/11  کے ورثاء کو انصاف مل گیاآپنےعراق،افغانستان اور پاکستان میں اتنے سارے انسان ماردیئے ہیں، اُنکے ورثاء کو اِنصاف کیسے ملے گا؟کیا امریکیوں کا خون ، خون ہے اور دوسروں کا خون پانی  ؟ دُنیا کو محفوظ بنانا ہے تو امریکیوں کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی ۔ اگر یہ ہی سوچ رہی تو اسی سوچ کے مادہ سے کئی نئے اُسامہ جنم لیتے رہیں گے ۔ 
شُکریہ ۔
نوٹ: تبصروں کی پبلشنگ بند ہے .
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خلوص کا طالب ۔( ایم - ڈی )۔

Monday, April 25, 2011

مستقبل کا اسلام / سوچ کے حوالے سے۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭

        
فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: طرز عبادت/ حجاب/ جہاد/نئے پیغمبر/فوکس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اب اس رائے میں اختلاف کی گُنجائش نہیں رہی کہ پروپگنڈہ کے زریعے اسلام کے چہرہ کو مسخ کرنے کی کوششوں کے باوجود اسلام پھیل رہا ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ابلاغیات نے فکر کو جو وسعت عطا کی ہے اُس وسعت کو عیسائی مذہب فِل کرنے سے قاصر نظر آتا ہے چونکہ بائبل کو مختلف لوگوں نے لکھا ہے اور سب نے زمانے کی مناسبت سے اپنے عقیدے عیسایت کو موثر بنانے کے لیے اپنا اپنا تعصب ڈالا ۔جو گُذشتہ زمانے کے لیے تو موثر تھا لیکن اِس نئی ترقی یافتہ فکر کو تثلیثی مذہب میں کوئی روحانیت محسوص نہیں ہورہی ہے مسلمانوں کا سادہ طرز عبادت اُنہیں مُتاثر کر رہا ہے ۔ عیسائی خواتین کو حِجاب میں بھی کشش محسوس ہورہی ہے وہ حجاب کو اپنانا چاہتی ہیں اِن وجوہات نے کئی عیسائی خواتین کو دائرہ اِسلام میں لے آئیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جو کام عُلمائے کرام جہاد جہاد چِلا کر حاصل نہیں کرسکے وہ کام حجاب کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی اور امریکی معاشرےحجاب سے خوف کھانے لگے ہیں ۔یہ ان معاشروں کی جڑوں کو ہلا رہا ہے ۔
   گوہم بھی میک اپ شُدہ روحانیت لیئے پھر رہے ہیں ۔ مُجھے یقین ہے اسلام پر چڑھایا گیا یہ غازہ ،  نئے  مسلمان اُتار پھینکیں گے چونکہ جب جب خُدا کے دین پر غازہ چڑھا یا گیا تو ایک نئے پیغمبر کو آنا پڑا اور نئے سرے سے جدوجہد کرنا پڑی  اب آخری پیغمبرحضرت محمد ﷺ آچُکے اب کوئی پیغمبر نہیں آئیگا۔ اب یہ کام نئے مُسلمان کریں گے  یہ جدید فکر سے آراستہ ہیں ۔ یہ اسلام سے جھاڑ جھنکاڑ کا صفایا کرکے اسلام  کا  حقیقی چہرہ دِکھائیں گے یہ قُرآن میں سے وہ کچھ نکالیں گے جو آج تک علُمائے کرام نہیں نکال پائے  ۔ آپ کہیں گے کیا نکالیں گے ؟
اس بات کو میں ایک بلاگر ساتھی پر گُزرے تجربہ سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں میرا یہ ساتھی نماز پڑھنے مسجد گیا وہاں دیکھاکہ ایک شخص میلے کُچیلے کام کے کپڑوں میں ملبوس نماز پڑھنے چلا آیا ہے (یہ تھی ظاہری شکل )میرے بلاگر ساتھی کو  بُہت ناگوار گُزرا مسجد میں میرے ساتھی کا فوکس وہی شخص بن گیا اس فوکس کا  یہنتیجہ نکلا کہ اُس شخص میں سے ایک نئی جہت برآمد ہوئی جو پہلی جہت سے بالُکل مختلف تھی (یہ تھی باطنی شکل )۔ اب ناگواریت کی جگہ خوشگواریت نے لے لی تھی اب اُس شخص کا چہرہ پُر نور لگ رہا تھا اب وہی شخص اچھا لگنے لگا تھا اور میرا ساتھی اپنی سابقہ سوچ پر اپنے آپ پر ملامت کر رہاتھا یہ سارا کرشمہ فوکس کا تھا اگر میرا یہ دوست اپنا ذہن اُس شخص پر فوکس نہ کرتا تو بصیرت حاصل کرنے سے محروم رہتا  ۔ باقی تفصیل باٹم لنک ٭پر ۔ 
جب جدید ذہن کلامِ خُدا یعنی قُرآنی آیات کی مفہوم پر فوکس رکھیں گے تو یہ وُہ کچھ نکالیں گے جو جدید فکر اور سائینس سے ہم آہنگ ہوگا ۔ چونکہ قُرآن خُدا کا کلام رہتی دُنیا تک کے لیے ہے اس لئے یہ زمانے کی گردش اور جدید فکر  کے ساتھ ہے ۔   
  جس  وقت ہم قُرآن سے بصیرت حاصل کر رہے تھے ہم دُنیا کے حکمراں تھے ۔اب ہماری میراث سے اغیار فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔جبکہ ہمیں ان باریکیوں میں اُلجھا دیا گیا کہ آپکی نماز قبول نہیں ہوگی اگرآپنے ہاتھ اس طرح نہ باندھا ،انگو ٹھا ایساہوناچاہئے ، انگلیاں اسطرح ہونی چاہئیے ٹانگوں کے درمیان اِتنا فاصلہ ہونا چاہئیے  ۔  ان بارکیوں کی وجہ سے ہم تنگ ذہن اور عدم برداشت کے شکار ہوگئے ہیں ۔انشااللہ یہ نئے مُسلمان ان سب جھاڑ جھنکاڑ  کا صفایا کریں گے ۔ بے شک یہ نئے مسلمان عیسایت کی باتیں بھی اپنے ساتھ لائیں گے ، عیسایت اسلام ہی کی تحریف شُدہ شکل ہے جب یہ اسلام کی اصل شکل یعنی اسلام کے بُنیادی فلسفہ کو اپنا لیں گے تو یہ ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں گے اسلام میں مُلا اور عیسایت میںپادریوں  نے جو خرافات ، جھاڑ جھنکاڑ ڈالیں ہیں یہ لوگ اُسکا  صفایا کردیں گے پھر یہ مغربی اور امریکی معاشرے کا اکثیریتی مذہب بن جائے گا  بے شک اس عمل کیلئے عرصہ درکار ہوگا 
                                کولون کی ایک مسجد میں سالانہ ’اوپن ڈے‘ کے موقع پر مقامی کمیونٹی کے ارکان مہمانوں کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں                                                       
 سادہ طرز عبادت (سجدہ) ذات کی نفی اور خواتین کا حجاب اسلام کی سربُلندی کا باعث بن رہے ہیں ۔ 
اِسکو میرا خواب نہ سمجھیں اِ سکی مثال میں جرمنی سے دونگا جرمنی کے لیڈران دیگر مغربی لیڈران کی طرح بُہت غُصہ میں آتے تھے کہ یہ مُسلمان ہم میں ضم کیوں نہیں ہوتے ؟ اب صدر اور وزیر داخلہ  کہہ رہے ہیں اسلام جرمن معاشرہ کا حصّہ ہے ۔ میرے خیال میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہے ۔جسکی تفصیل  کیلئے درج ذیل لنک٭ پر جائیں۔
 نوٹ :  تبصرے بند ہیں ۔ مُجھے دیں اجازت۔ آپ کا شُکریہ ۔
٭جب کلامِ خُدا (قُرآن) کو سمجھ کر پڑھیں گے٭ تب ہی خُدا اور اُسکی منشا کو پائیں گے٭   
خلوص کا طالب ۔( ایم - ڈی )۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ٭ مکمل تفصیل کیلئے ساتھی بلاگر کا لنک جو نماز میں تجربہ سے گُزرے۔ 

 

 ٭ اسلام جرمنی کا حصہ ہے، وزیر داخلہ کے مؤقف میں نرمی | معاشرہ | Deutsche Welle | 28.03.2011

Saturday, April 16, 2011

۔ ۔ ۔ رُوحانی خلا 0 مادی خلا 0 ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 فکرستان سےپیش ہے پوسٹ ٹیگز: قُرآن / تثلیث / بدھ مت/فلسفہ/  قدرتی عمل/ موسیقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
در اصل  مغرب اور امریکہ والے ایسے منصوبے چاہتے ہیں کہ جس سے مسلم معاشرہ جلد از جلد ویسٹرنمعاشرے میں ضم ہوجائے ۔ چونکہ بنیاد پرست عیسائی اس خوف میں مبتلاہوگئے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ میں ضم ہونے لگ جائے ۔ (چونکہ تثلیث والا مذہبی فلسفہ نئی نسل کو مُتا ثر نہیں کرپا رہا ہے) اسی خوف کے تحت  پالیسیاں اور قانون بنائے جا رہے ہیں ظاہر ہے خوف کے تحت قانون بنائے جائیں گے تو اُس میں سُقم رہے گا ۔ مثلاً فرانس کا  برقعہ پابندی قانون ملاحظہ فرمائیں آپ برقعہ پہن کر کار میں پورا فرانس گھوم سکتے ہیں۔اب فرض کریں آپکو شاپنگ سینٹر جانا ہے ۔اب آپ کار میں ہی برقعہ اُتار کر شاپنگ سینٹر میں داخل ہو نگے۔ آپ سوچیں گے یہ کیسی پابندی تو اسکا جواب ہے اسلام فوبیا ۔
یہ معاشرے اپنے آپکو سیکولر معاشرے کہتے ہیں انسانی حقوق و آزادی کے علم بردار کہلاتے ہیں ۔قُرآن جلائے جانے کو آزادی اظہار کا نام دیتے ہیں  حالانکہ اس اظہار سے نہ صرف دُنیاکے ڈھائی ارب مُسلمانوں کے دل دُکھی ہُوے بلکہ کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور القاعدہ کے فلسفہ کو تقویت بھی پہنچائی ۔
 لیکن مسلم عورت کوبرقعہ پہننے کی آزادی نہیں ہے۔۔اِسی برقعہ کو زبردستی پہنانے پر آپ طالبان کو مسلم انتہا پسند کہتے ہیں آپکا زبردستی برقعہ اُتارنا وہ ہی طالبانی سوچ کا مظہر ہے۔ یہ بھی نان مسلم انتہا پسندی ہے ، یہ ایک ہی سکّے کے دو رخُ ہیں ۔   
اصل میں مغربی اور امریکی معاشروں نے تعلیم اورسائنس میں کافی ترقی کی ہے اب تثلیث کا فلسفہ اُنہیں مطمعین نہیں کر پارہا نتیجہ وہاں روحانی خلا پیدا ہوگیا ہے   ۔ جیسے ہمارے یہاں معجزوں یعنی یہ پڑھ لو ٹیم جیت جائے وہ پڑھ لو اِتنے گُناہ معاف ہوجائیں  گے وغیرہ کے کلچر نے ہم سے دُنیاوی ترقی چھین لی ہے  ۔ ہم میں مادی ترقی کا خلا پیدا ہوگیا ہے ۔  ان میں روحانی کا  ۔اب وہ  روحانیت  حاصل کرنے کے لیے کوئی بدھ مذہب سے روحانی سکون حاصل کرنا چاہتا ہے ، کوئی خوب نشہ کرکے روحانی سکون حاصل کرنا چاہتاہے تو کوئی موسیقی میں چیخ  پُکار میں پناہ ڈھوندتاہے۔لیکن ان سب میں کوئی مذہبی فلسفہ نہیں ہے۔ مُسلمانوں کا طریقہ عبادت اور فلسفہ  اُنہیں مُتاثر کر رہا ہے یہی وجہ ہےکہ اتنے سارے اسلام منفی پروپگنڈے ، اپنے خاندان ،برادری سے کٹ جانے کے خوف کے باوجود لوگ مسلمان ہورہے ہیں ٭جس سے بُنیاد پرست عیسائی خوف زدہ ہیں یہ  اسلام کے نظریہ ، طرز عبادت ،  ، برقعوں اور حجابوں سے خوف کھانے لگے ہیں ۔ چونکہ یہ ان معاشروں کی اقدار کی جڑوں  کوہلا رہے ہیں۔ 
 حالانکہ یہ تعلیم یافتہ لوگ ہیں  انہیں چاہئے تھا کہ تمام کلچروں کو بلا مداخلت آزادیسے قدرتی عمل سے گُذرنے دیتے تو اپنے آپ شکل  بنتی رہتی جیسے انڈیا میں ہورہا ۔  جتنا یہ مسلمانوں پر قدغن لگا کر انہیں آئی سولیٹ کریں گے اُتنا ہی القا عدہ جیسی تنظیموں کو فائدہ پہنچائیں گے جو کسی کےحق بھی میں اچھا نہ ہوگا ۔یہ بندشیں قُدرتی عمل میں مداخلت ہیں ۔ قُدرتی عمل میں مداخلت سزا کا موجب ہوتا ہے ۔ جیسے ہم نے غیر قُدرتی طریقہ سےجہاد کو پرموٹ کیا جسکی آج ہمیں  کڑی سزا مل رہی ہے ۔


( باقی آئندہ پوسٹ میں نئے عنوان کے تحت/ نئی معلومات لنک پر )۔

Friday, April 15, 2011

چسپ ۔۔۔۔ ترا شے۔۔۔۔۔ Dil۔۔۔۔۔

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: الاسکا / نمبر ۔1/ نیند /کنفیوز بوائے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
اخبارات میں آئے دن دلچسپ خبریں چھپتی رہتی ہیں میں نے ان میں سے صرف تین  تراشے منتخب کئے ہیں ۔ پہلا تراشہ روزنامہ جنگ سے ہے جبکہ دوسرا اور تیسرا روزنامہ ایکسپریس سے منتخب کئے ہیں اب یہ آپ کے موڈ پر ہے کہ یہ آپ کو کتنے دلچسپ لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
پہلا ترا شہ روز نامہ جنگ کا ہے ۔

کیا مردحضرات  اونچی ہیل پہن کر ایک میل چل سکتے ہیں  Posted ImagePosted ImagePosted Image
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوسرا تراشہ ایکسپریس نیوز کا ہے ۔


مُلک کا دِفاع ہونا چاہئے پڑھائی گئی چولہے بھاڑ میں / 21 ترقی پزیر ملکوں میں وکٹری پر ہیں۔E21.gif  E21.gif  E21.gif
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تیسرا تراشہ ایکسپریس نیوز کا ہے۔( بُش کی وڈیو  یو ٹیوب  سے)۔ 

تقریر جب اتنی لمبی ہوگی تو نیند تو آئی گی نا ۔اب درج ذیل وڈیو میں دیکھیں بش کی لمبی تقریر نے معصوم بچّے کا کیسا حشر بنایا  کہ بیچارہ تالیاں بجانے میں بھی کنفیوز ہورہا ہے۔ آپ دیکھیں ایک منٹ کی وڈیو مُجھے دیں اجازت ۔
 ۔( ایم ۔ ڈی )۔


Wednesday, April 13, 2011

یہ کیسی انسانی سوچ ہے ؟ ؟ ؟٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 فکرستان سے پوسٹ ٹیگز: ٹارگٹ کلنگ/ صدام / قذافی / طالبان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کے لیے جناب ذوالفقار مرزا کو وزیر داخلہ بنانے کا مُطالبہ کیا ہے یہ تو ایسی بات ہے جیسے اُنکے دور وزارت میں ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوتی تھی ۔ اُنکی نظر میں وزیر داخلہ کے لیے کوئی دوسرا شخص کیوں نہیں آیا ؟ ؟ ؟ وجہ صاف ظاہر ہے مخالف کا مخالف ہمارا دوست ہے ۔رہا کراچی کا امن تو وہ جائے چولہے بھاڑ میں ہمیں تو مخالف کا مخالف عزیز ہے ۔ ہمیں متحدہ پسندنہیں ہے ۔
یہی انسانی سوچ نے کہا  صدام پسند نہیں ہے ۔چاہے کتنی ہی معصوم جانوں کا خون کرنا پڑے صدام کو ہٹا کے رہیں گے اس سوچ کا نتیجہ آج بھی وہاں معصوم جانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ یہی سوچ  کہ قذافی پسند نہیں لہٰذا وہاں بھی معصوم جانوں کا خوں بہہ رہا ہے ۔ طالبان  پسند نہیں اس لیے معصوم جانوں کو خوں میں نہلا رہے ہیں ۔ 
 نوٹ: اس پوسٹ پر تبصرے بند ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ میں ایک سوچ کی بات کررہا ہوں سیاست کی نہیں کہ اس 21 ویں صدی میں بھی انسان کی خود غرضانہ سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔انسان کب اِس سوچ سےچھُٹکارہ پائے گا ؟ ؟ ؟ 
۔( ایم ۔ ڈی )۔

Sunday, April 10, 2011

ایک محبّت ... زند گی چاہتی ہے ... دوسری موت ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


منجانب فکرستان پیش ہے پوسٹ ٹیگز: ارونا/ سوہن لال/ جنون/ پنکی/دو دُنیا /سابقہ پوسٹ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قُدرتی طور پر ایک لڑکی کے ذہن میں خاندان کا تصور لڑکے کے مُقابلے میں کافی اسٹرونگ ہوتا ہے ۔ جیسے جیسے وہ جوان ہوتی ہے اپنے ذاتی خاندان کے تانے بانے بُننے لگتی ہے ۔ارونا بھی یہی کچھ کر رہی تھی اُسکے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ اُسکے ساتھ ایسا واقعہ پیش آجائے گا ۔ وہ  معمول کے مُطابق اپنی ڈیوٹی انجام دے رہی تھی اُسے کیا معلوم تھا کہ کوئی اُسکی تاک میں لگا ہُوا ہے ۔ سوئپر سوہن لال کو ارونا کے جسم میں ایک خاص کشش محسوس ہوتی تھی ،کشش کے اِس جزبہ نے مذہب، قانون، اخلاقیات ان سب کا گلاگھو نٹ دیا اب وہ زنجیر سے ارونا کے گلے کو پوری طاقت سے دبانے لگا تاکہ ارونا آواز نہ نکال سکے ۔ وہ اس دباؤ سے بےدم سی ہوگئی تو سوہن لال  نےاپنے جزبات ٹھنڈے کیے اور بھاگ گیا لیکن بعد میں گرفتار ہُوا ،کورٹ  نے7 سال کی سزا سُنائی، دو منٹ کا جنون اُسکے لیے 7 سال کی قید لایا جبکہ دوسری زندگی تو اُس وقت سے زندہ درگور ہوگئی ۔ 37 سال سے وہ اُسی طرح نیم مردہ حالت میں زندگی اور موت کے درمیان پڑی ہوئی ہے۔ ارونا کی سہیلی پنکی کی مُحبت یہ برداشت نہ کرسکی اور  کورٹ سے درخواست کی کہ ارونا کو آسان موت دے دی جائے ۔
 ہاسپیٹل اسٹاف نرسوں کا پنکی سے شکوہ تھا کہ ارونا جس حال میں بھی ہے ، وہ ہےتو سہی ، 37 سال سے ہمارے درمیان ہے یہ ہماری روز مرّہ زندگی کا حصّہ ہے ،کبھی کبھی وہ چہرے سے تاثرات دیتی ہے تو ہم جی اُٹھتے ہیں ،ہم سب خوش ہوجاتے  ہیں یہ ایسی خوشی ہوتی ہے کہ جسکا مول دُنیا میں نہیں ، چونکہ وہ ہم میں سے تھی۔۔۔ یہ پنکی ہم سے یہ سب کُچھ کیوں چھیننا چاہتی ہے ۔۔۔ لیکن پنکی کا کہنا ہے کہ میں انکی مُحبت اور اتنے سالوں کی اِنکی خدمت کی قدر کرتی ہوں ۔ لیکن  میری محبت اروناکی تکلیف کو محسوس کر رہی ہے ۔چاہتی ہوں  کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے ارونا اس تکلیف سے نجات پا جائے ۔چونکہ اُسکی روح دو دُنیاؤں کے درمیان لٹکی ہوئی ہے ۔
کورٹ کا فیصلہ نرسوں کی خواہش کے مُطابق آیا تو تمام نرسوں کے چہرے کھلِ اُٹھے ،مٹھایاں بانٹنے لگیں۔اِدھرپنکی کی محبت اُداس ہوگئی ۔۔ اب وہ ارونا کی زندگی پر کتاب لکھے گی ۔۔۔مزید تفصیل کے خواہش مند درج ذیل لنک پر جائیں ۔ 
نوٹ : میں نے سابقہ پوسٹ میں جو بات کہنی چاہی تھی اُسی سے ملتی جلتی بات کو آج جاوید چوہدری نے بُہت  ہی اچّھے انداز میں لکھا ہے ۔ جو ذیل لنک پر ہے ۔
http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101213424&Issue=NP_LHE&Date=20110410
خلوص کا طالب۔(ایم ۔ ڈی )۔

Friday, April 8, 2011

درسِ قُرآن اور سپر بگس ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: ممتاز قادری/ علامہ اقبال / جرسومہ/سُپر مُسلمان /نوع
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آجکل گھروں کے دروازوں میں جو پمفلٹ اٹکائے جارہے ہیں ان میں ایسے پمفلٹوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے کہ اتوار کے دن فلاں شادی حال میں فلاں سابقے لاحقے کے حامل مولانا  درس قُرآن دیں گے ۔ پردے کا خاص انتظام ہے۔ ماشااللہ سے خواتین کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ان درسوں میں شرکت کرتی ہے ۔ یہ درس کتنے کامیاب جارہے ہیں اسکی ایک جھلک ممتاز قادری واقعہ پر مذہبی ٹمپریچر نے آپکو دکھادی ۔ اس جھلک میں روزافزوں اضافہ ہورہا ہے ۔ مُجھے صرف ایک بار ہی درس میں جانے کی سعادت حاصل ہوئی دوبارہ کبھی نہ جانے کی ٹھان لی ۔ پمفلٹ پر درس قُران لکھا ہوتا ہےشُروع بھی قُرانی آیت سے کرتے ہیں ۔اسکے بعدپورے درس میں زورِبیان/ حدیثیں بیان ہوتا ہے ان درسوں میں والدین کو یہ خوشخبری بھی دی جاتی ہے کہ آپکا بچّہ قُران حفظ کرلیگا تو آپکی بخشش ہوجائے گی ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ حفظ کرنے کے بعد بھولنا بُہت بڑا گُناہ ہے۔ یعنی مدرسوں سے فارغ التحصیل طُلبا کیلئے مستقل روزی روٹی کا بدوبست کیا جاتا ہے کہ پوش علاقوں میں 10 سے15منٹ سُننے کا اچھا خاصا مُشاہراہ لیتے ہیں ۔
 درس ، دُعائیں ، تسبیحیں ، کاؤنٹرز اتناسب کرنے کے بعد بھی ہم  پوری دُنیا میں پِٹ رہے ہیں ۔ذلیل و خوار ہورہے ہیں ۔ علامہ اقبال دور میں ہم اتنے بھی ذلیل خوار نہیں تھے لیکن پھر بھی علامہ چیخ اُٹھے شکوہ کربیٹھے ، عُلما نے فتوے صادر کردیے چونکہ عُلما علامہ کے اُس دُکھ سے نہ واقف تھے جو اُنکو مسلمانوں کی حالت دیکھ کر ہوتا تھا عُلما آج بھی اُس دُکھ سے نہ واقف ہیں جوایک مسلمان مسلمانوں کی حالت  زار پر محسوس کرتا ہےچونکہ اُنکی ساری توانائیاں اپنے مسلک کی افضلیت ثابت کرنے پر  صرف ہوتی ہیں ۔  ہمیں غور  کرنا چاہیئے کہ ترقی کی اس دوڑ میں کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہمارے عُلما ہمیں نزولی سمت میں دوڑا رہے ہوں ۔جس طرح ہمارے  سیاسی رہنما مُلک کو نزولی سمت دوڑا رہے ہیں۔ اس لیے کہ معمولی خورد بینی جرسُومہ نے پٹِنے کے بعد قانونِ قُدرت کو اپناتے ہوئے صحیح سمت جدوجہد کرکے اینٹی بایوٹیکس کو شکست دینے کیلئے سُپر بگس بن گیا ۔ اِسطرح یہ ننھا سا جرسومہ ہمیں دعوتِ فکر دے رہا ہے  کہ ہم غور و فکر کرنے والے بنیں ۔قانونِ قُدرت کی صحیح  سمت کو پہچانیں اور  اُس سمت جدو جہد کریں تاکہ ہم بھی سُپر مسلمان بن جائیں۔یا پھر ہم ہاتھ اُٹھا کر کہہ دیں کہ ہم چھوٹے سے جرسومہ سے بھی گئی گزری" نوع" بن گئے ہیں ۔ 
آپکے خلوص کا طالب ۔(ایم ۔ ڈی )۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...