منجانب فکرستان ۔۔۔بھارتی براڈکاسٹر،شاعر اور ڈائریکٹرماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹربھارت کے جناب عُبیدصدیقی کے خیالات پر مشتمل آرٹیکل ایکسپریس نیوز میں شائع ہُوا تھا اسی سے اقتباس پیش ہے ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگر آپنے بھارتی چینل ۔ای۔ٹی۔وی، اُردو پر "ہمارے مسائل" نامی پروگرام دیکھا ہے تو پروگرام کے کمپئیر جناب عبید صدیقی کی صورت سے ضرور واقف ہونگے۔ اب ہم اُنکے خیالات سے بھی واقفیت حاصل کرتے ہیں ۔
چونکہ آپ تقریباً دس سال تک بی بی سی سے منسلک رہے ہیں ۔اسلیئے فرماتے ہیں کہ بی بی سی میں خبر کی صحت پر بڑا دھیان دیا جاتا ہے ، معاملات کو معروضی انداز میں بیان کیا جاتا ہے ۔ لیکن بی بی سی جو چیزپیش کرتا ہے وہ مغربی نقطہ نظر کے تابع ہوتی ہے ۔
تعلیمی مسائل صرف برصغیر ہی نہیں بلکہ سارے دُنیا کے مسلمانوں کو در پیش ہیں ۔آپنے کہا دنیا بھر کے مسلمان اس وقت ترقی یافتہ قوموں سے کم سے کم سو سال پیچھے ہیں ، بعض لوگ اسکی وجہ مذہب کو ٹھراتے ہیں میں اس سے متفق نہیں ہوں کیونکہ یہ اتنا سیدھا سادا معاملہ نہیں ہے ۔ تحقیق کرنےکی ضرورت ہے ۔
مسلمانوں میں انتہا پسندی نے اسلئے جنم لیا کہ مسلمان دوسری قوموں سے بچھڑ گیا ہے ۔دنیاکے ساتھ استدلال سے بات کرنے کی قوت ہمارے اندر ختم ہوگئی ہے ۔اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے منطق کے قائل نہیں رہے ۔نتیجہ میں بزور طاقت دنیا کو زیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔
میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کا حال ایک جیسا ہے ۔زیادہ تر پروگراموں میں کِھلواڑ ہوتا ہے ۔بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ پروگرام مقبول کتنا ہے ۔کیونکہ میڈیا بنیادی طور پر کنزیومر پروڈکٹ ہے ،اسلئے لوگ ہی اسکی سمت درست کرسکتے ہیں ۔
اخبارات میں ایڈیٹر کا کردا ر ختم ہوگیا ہے ،مارکِٹنگ والے بتا تے ہیں کہ کیا شائع ہونا چاہیے ۔یہ بزنس ہے جو اتنا پیسہ لگائے گا وہ بزنس ہی کرے گا۔
انکے خیال میں کہ آدمی مسلسل سوچتا رہتا ہے اور غور کرتا رہتا ہے جس سے اسکے خیالات میں تبدیلی آتی ہے ۔اسکی مثال وہ اسطرح دیتے ہیں ۔اگر کوئی شخص آج جیمز جوائس کو پسند کرتا ہے تو ہوسکتا ہے کل وہ اشرف علی تھانوی کی تقلید کرنے لگے ۔