Thursday, June 18, 2020
Wednesday, April 29, 2020
گھڑی 2 گھڑی کا میلہ ہے/ جوآیا ہے اُسکو جانا ہے - - -
بولی وڈ اداکار عرفان خان 53 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
منجانب فکرستان:عرفان خان کے " مذہبی " خیالات
بیماری سے پہلے بیماری کے بعد
دیکھیں غوروفکرکیلے
دیکھیں غوروفکرکیلے

انسانی بیداری شعور نے جب "کائنات اور اپنی ذات" کا سوال اُٹھایا تو وہ دو 2 رویا شاہراہ" دل و دماغ "پر گامزن ہوُا۔
"دل"نے اپنی شاہراہ کو مختلف مذاہب فرقوں سے سجایا تو ''دماغ'' نے اپنی شاہراہ کو حیران کُن ایجادات سے سجایا،
دُنیا گلوبل ولیج بن گئی تو جان پایا کہ ''جس خطہ زمین اورجس گھرانے میں پیدا ہوا '' ،وہاں کا مذہبی ماحول اِس یقین کو پکّا کرتا ہے کہ دُنیا میں صرف اُسی کا مذہب یا فرقہ ہی سچّا ہے کہ بخشش بھی صرف اِسی مذہب یا فرقے کے پیروکاروں کی ہوگی اور جنّت کے حقدار بھی صرف یہی ٹھرائے جائیں گے ۔۔اِس تمہید کے بعد آئیں جانیں کہ مذہب کے بارے میں عرفان خان کا نقطہ نظر کیا ہے؟۔۔۔۔
''بیماری سے پہلے عرفان کے "خیالات "
ہر فرد کو اپنے لئے، اپنے مذہب کو تلاش کرنا چاہئے۔
دوسرے کی طرف سے بتایا گیا مذہب کوئی مذہب نہیں ہوتا اور جو ایمان لائے ہے وہ صرف اپنی تسلی کے لئے مانتے ہے۔
"ہر مذہب میں موت کے بعد کی کہانی بتائی گئی ہے اور ہر مذہبی شخص کو لگتا ہے کہ اس کے مذہب نے صحیح کہا ہے تو دیکھ لیجئے دنیا کتنے بڑے بھلاوے میں جی رہی ہے."۔۔۔
''بیماری کے بعد کے "خیالات''
عرفان خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب انہیں پہلی بار پتہ چلا کہ انہیں نیورو اینڈوکرائن ٹیومر کا مرض لاحق ہوگیا ہے تو وہ بہت زیادہ پریشان ہوگئے تھے اور وہ ہر وقت یہی سوچتے تھے کہ وہ ٹھیک ہو پائیں گے یا نہیں۔عرفان نے اپنے مداحوں سے دعاؤں کی التجا کی۔
عرفان خان نے تسلیم کیا کہ بیماری کے ابتدائی دنوں میں وہ بہت ڈر گئے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کے سامنے زندگی کا نیا نظریہ آیا جو پہلے سے بہتر ہے۔۔اس لئے بیماری کو غنیمت قرار دیتے ہوئے اقرار کیا کہ اگر انہیں بیماری نہ ہوتی تو وہ دنیا اور زندگی کو اتنا جلد اس طرح نہیں سمجھ پاتے۔
ان کہنا ہے کہ بیماری کے چند ماہ میں انہوں نے 30 سالہ زندگی کا تجربہ کرلیا، یہ تجربہ انہیں میڈیٹیشن کا علم حاصل کرنے سے بھی نہ ملتا ۔۔۔
"عرفان کی خواہش ہے کہ دنیا کے تمام لوگ قدرت پر یقین رکھیں کیوں کہ اس سے زیادہ قابل بھروسہ اور کوئی چیز نہیں"۔
عرفان خان نے اپنی پوسٹ میں آسٹرین ناول نگار اور شاعر رائنر ماریہ رلکے کی انتہائی جذباتی نظم لکھی کہ
"خدا ہم سب سے بات کرتا ہے، جیسا کہ وہ ہم سب کو بناتا ہے، پھر رات کی تاریکی میں خاموشی سے وہ ہمارے ساتھ چلتا ہے، اور ہم اس سفر میں کچھ الفاظ آہستہ آہستہ سن لیتے ہیں"۔
عرفان خان کہنا کہ "یہاں کچھ بھی مستحکم و مضبوط نہیں" تاہم خود کو کبھی شکست خوردہ نہ سمجھو اور آگے بڑھتے رہو، یہاں خوبصورتی بھی ہے، دہشت بھی ہے، یہاں ایک شعلے کی طرح
زندگی گزارو اور چمکنا سیکھو"۔
__________________________________
https://twitter.com/sunday77
زندگی گزارو اور چمکنا سیکھو"۔
__________________________________
https://twitter.com/sunday77
پوسٹ کی تیاری میں درج ذیل سائیٹس کا شُکریہ ۔۔۔۔
http://www.bbc.com/hindi/entertainment-39771377
www.dawnnews.tv/news/1084335/?preview
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق کرنا / نہ کرنا آپ کا حق ہے۔
۔اب اجازت۔
{ رب مہربان رہے }۔
Sunday, November 17, 2019
دماغ /ذہن کی "متحرک کھوجی فعلیت" کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے ؟
منجانب فکرستان
کاسہِ سر میں رکھا، جسم کا اہم ترین عضو "دماغ" جِس کی"متحرک کھوجی فعلیت" انسان کو کسی طور چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔
خیال میں آنے کی دیر تھی کہ "مادہ"کس چیز سے بنا ہے؟بس پھر کیا تھا مادہ کو کوٹا پیسا جزوِلایتجزیٰ (ایٹم) کو نکالا۔۔خوش ہوگیا کہ میدان مار لیا، کائناتی بنیادی بلڈنگ بلاک ہاتھ آگیا۔
جمعہ جمعہ آٹھ دن گزرنے نہ پائے تھےکہ بے چین کھوجی فعلیات نے پھر سر اُٹھایا ۔۔ہتھوڑا لیکر ایٹم کو توڑنے کے جتن کرنے لگا
ایٹم ٹوٹا تو جانا کہ انسان سمیت تمام چیزیں بنیادی طور پر اپ کوارک، ڈاؤن کوارک اور الیکٹران ذروں سے مل کر بنی ہیں،گویا یہ ہی تین ذرے کائناتی بلڈنگ بلاک ہیں۔کیا اس سے دماغی کھوجی طبعیت کو کُچھ چین آیا ؟
چین کیسا ؟ اُڑتا ہُوا یہ خیال ذہن میں آن گُھسا کہ مقناطیس کو مخالف پولزوں کے قریب لانے پر کیوں محسوس ہوتا ہے کوئی نادیدہ (لیکن) حقیقی فزیکلی قوت موجود ہے جو مخالف پولز کو دور دھکیل دیتی ہے، مائیکل فیراڈے نے اس قوت کے بارے یہ تصور دیا تھا کہ کہ الیکٹرک ، میگنیٹک فیلڈ ہر سو پھیلا ہوا ، میکسویل نے کہا، روشنی کا تعلق بھی اسی فیلڈ سے ہی ہے۔یوں "فیڈ" نے بھی کائنات پر اپنی حُکمرانی کا دعویٰ ٹھوکا۔
تین ذرات، جن کا پہلے ذکر آیا،ان کے علاوہ چوتھا پارٹیکل نیوٹرینو ہے۔ جب سے آپ نے یہ آرٹیکل پڑھنا شروع کیا ہے،کھربوں نیوٹرینو آپ کے جسم کے آرپار ہو کر گزر چکے ہیں۔
قدرت میں جتنے بھی پارٹیکل ہیں، ان کی دو اور کاپیاں بھی پائی جاتی ہیں جو ویسی ہی خصوصیات رکھتی ہیں، صرف ان سے بھاری ہیں۔یوں ذرات والے فیلڈز کی تعداد بارہ بن جاتی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
الیکٹران
موؤن
ٹاؤ
الیکٹران نیوٹرینو
موؤن نیوٹرینو
ٹاؤ نیوٹرینو
اپ کوارک
سٹرینج کوارک
بوٹم کوارک
ڈاؤن کوارک
چارم کوارک
ٹاپ کوارک
اب دماغ /ذہن کی "متحرک کھوجی فعلیت" کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ ہر بنیادی ذرہ، اپنی دو بھاری کاپیاں کیوں رکھتا ہے؟ پوسٹ کی تیاری میں مختلف سائیٹس کی مدد شامل ہے ۔۔
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق کرنا / نہ کرنا آپ کا حق ہے۔
اب اجازت دیں
رب مہربان رہے
رب مہربان رہے
Tuesday, August 20, 2019
چار 4 بت ؟ ؟ ؟ ؟۔
منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3-%D8%AF%D8%A7%D9%86-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA/a-50070040
بھارتی وزیرتعلیم رمیش پوکھرل،پوسٹ گریجویشن اور چالیس کتابوں کےمصنف ہیں-
موصوف کا دہلی میں سائنس دانوں، ماہرین تعلیم سے خطاب ہو کہ آئی آئی ٹی بمبئی کے کنووکیشن سے خطاب، وزیر موصوف مذہبی یقینی دُنیا میں رہتے ہیں ۔
ہندوں کا عقیدہ ہے کہ ویدوں کی سنسکرت زبان مہان رشیوں پر بزریعہ الہام ودیعت کی گئی اسلئیے ہراعتبار سے ابدی،مقدس اور سچّی ہے جسے وزیر موصوف سائنسی زبان بھی کہتے ہیں، زمانہ صدیوں کی مسافت کیوں نہ طے کرلے مذہبی عقیدوں اور مذہبی زبان کو کوئی گزند نہیں پُہنچ سکتی۔۔
جتنی بھی سائنسی ایجادیں ہو رہی ہیں وہ سب کی سب پہلے سے ویدوں میں سنسکرت زبان میں لکھی ہوئیں ہیں،
اسی سبب اپنے خطاب میں وزیرموصوف نے اعلیٰ ترین سائنسی تعلیمی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کی کہ ”ہم سنسکرت کی صلاحیت ثابت نہیں کر پائے، اس لیے ہم پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ میں آئی آئی ٹی اور این آئی ٹی کے وائس چانسلروں سے اپیل کرتا ہوں کہہمیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ سنسکرت سے زیادہ سائنسی زبان کوئی نہیں ہے۔"--
ایسے میں مُجھے سائنس کے امام جناب فرانسس بیکن کے چار بت یاد آگئے آپ بھی پڑھ لیں اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔
http://www.sirbacon.org/links/4idols.htmــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3-%D8%AF%D8%A7%D9%86-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA/a-50070040
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق کرنا / نہ کرنا آپ کا حق ہے۔
{ رب مہربان رہے }
Monday, July 15, 2019
دل کی زبان، ہونٹوں سے اداہوئی
منجانب فکرستان
کئی سالوں تک لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والی سنگر الکایاگنک ایک عرصےسے گمنامی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
بی بی سی سے انٹرویو میں بتایا کہ آجکل موسیقی کی کوالٹی اچھی نہیں ہے اور دُھنوں میں بھی میلوڈی کی کمی ہے۔
تاہم الکا کےاِس"سچ"پر الکا کے مخالف یہ "ٹیگ" لگا سکتے ہیں کہ الکا کو " گانےنہیں مل رہے ہیں"
کیوں کہ زمانہ اُس فیز میں داخل ہو چُکا ہے کہ جہاں " جُھوٹ سچ "باہم" شیر وشکر" ہو گئے ہیں۔
کیوں کہ زمانہ اُس فیز میں داخل ہو چُکا ہے کہ جہاں " جُھوٹ سچ "باہم" شیر وشکر" ہو گئے ہیں۔
14جولائیماسٹرآف میلوڈی"مدن موہن" کی وفات کا دن ہے،بیٹے نے یہ واقعہ شیئر کیا۔
"ایک دن پوری فیملی کارمیں جا رہی تھی ہم دونوں بھائی ڈیڈ سے کہہ رہے تھے کار اور تیز چلائیں۔۔ کہ اتنے میں سائرن بجاتی ٹریفک کار پیچھے سے آتی محسوس ہوئی مدن جی نے کار روک دی۔۔
انسپکٹر نے کہا "میں نے آپ کے پیچھے سائرن بجاتی اسلئے لگائی کہ میں نے آج ہی آپ کا یہ گانا سُنا ہے" آپکی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مُجھے
" کمال گانا ہے " اور ہاتھ ہلاتے چلے گئے۔۔
ڈیڈ نے ماتاجی سے کہا "دِیکھا یہ ہے میرا ایوارڈ" یوں دل کی زبان، ہونٹوں سے ادا ہوئی
انسپکٹر نے کہا "میں نے آپ کے پیچھے سائرن بجاتی اسلئے لگائی کہ میں نے آج ہی آپ کا یہ گانا سُنا ہے" آپکی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مُجھے
" کمال گانا ہے " اور ہاتھ ہلاتے چلے گئے۔۔
ڈیڈ نے ماتاجی سے کہا "دِیکھا یہ ہے میرا ایوارڈ" یوں دل کی زبان، ہونٹوں سے ادا ہوئی
آپ نے سابقہ پوسٹ میں مدن جی کو ایوارڈ نہ ملنے کی تفصیل پڑھ لی ہوگی۔
پوسٹ کی تیاری میں ذیل سائیٹس سے مدد لی ہے ۔
_____________________________________
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق کرنا / نہ کرنا آپ کا حق ہے۔
۔اب اجازت۔
{ رب مہربان رہے }
Wednesday, July 10, 2019
کیا یہ بھی " انّا " کی ایک " قِسم " ہے؟
منجانب فکرستان


"غوروفکرکیلئے"تحت عموماً کوشش ہوتی ہے کہ" کوئی نئی بات " کوئی نئی تحقیق" آپ سے شیئر کروں۔
آج کی کہانی اداکار "سنجیو کمار اور مدن موہن " کےگرد گھومتی ہے۔۔9جولائی سنجیو کمار کا جنم دن ہے۔
سنجیو خاندان میں یہ" ذِکر" کہ مرد حضرات 50 سال سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں والی اِس بات نے سنجیو کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا، ہُوا بھی کُچھ ایسا ہی ۔ 1976 میں سنجیو کو ہارٹ اٹیک ہُوا ،امریکہ میں بائی پاس بھی کرایا، تاہم 6 نومبر 1985کو "47" کی عُمر میں سنجیو کا انتقال گیا۔
https://twitter.com/sunday77
https://twitter.com/sunday77
اب بات میرے پسنددیدہ موسیقار "مدن موہن" کی 1950s, 1960s, 1970s.میں ماسٹر آف میلوڈی "مدن موہن" کے گانے ہر سو خُوب گونجتے تھے، اسِ کے باوجود کسی ایوارڈ سے نہیں نوازا گیا جِس کا اُنہیں رنج تھا ۔۔
ایک دن محمدرفیع اور مدن موہن ایک دُھن ترتیب دے رہے کہ مدن موہن کا بیٹا بھاگ تا ہوا آیا اور باپ کو یہ اطلاع دی کہ فلم " دستک" پر آپ کو بہترین موسیقار کا نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اور فلم دستک کے ہیرو سانجیوکُمار کو بھی بہترین ہیرو نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔۔۔
مدن موہن نے کہا
"اب آیا ہے خیال ایوارڈ دینے کا،میں یہ ایوارڈ لینے نہیں جاؤ گا"۔۔۔۔
سانجیوکُمار کو مدن موہن کے اِس دُکھ کا اندازہ تھا اُس نے کہا
" اگر آپ ایوارڈ نہیں جائیں گے تو میں بھی ایوارڈ لینے نہیں جائونگا"
یوں سانجیو نے مدن موہن کو دُکھ سا نکالا اور دوسوٹ سلوائے ایک اپنے لئے اور دوسرا موہن کیلئے۔(یہ واقعہ ریڈیو VBS پر مدن موہن کے بیٹے سُنایا )۔۔۔
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق کرنا / نہ کرنا آپ کا حق ہے۔
۔اب اجازت۔
۔اب اجازت۔
{ رب مہربان رہے }
Wednesday, June 5, 2019
" مُلک ایک" عیدیں دو"!! ۔
منجانب فکرستان

فلپائنی صدر کی صحتمندی اور
مُلک ایک عیدیں دو کی ٹویٹ کیلئے
https://twitter.com/sunday77
اب اجازت
رب مہربان رہے
فلپائنی صدر کی صحتمندی اور
مُلک ایک عیدیں دو کی ٹویٹ کیلئے
https://twitter.com/sunday77
اب اجازت
رب مہربان رہے
Subscribe to:
Posts (Atom)
یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔
منجانب فکرستان : غوروفکر کے لئے [ رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...
-
منجانب فکرستان : غوروفکر کے لئے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اما...
-
منجانب فکرستان : غوروفکر کے لئے ___________________________ کراچی میں ماموجان اپنی ذاتی لکڑی کی ٹال کے مالک تھے مکان کرائے کا تھا،سنہ...
-
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے، خالِق کائنات، مالِک کائنات عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت، خالِق کائنات، مالِک کائنات آنکھیں کہ...