Wednesday, September 28, 2011

" THE GOD PARTICLE "

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: پارٹیکل/امیج /سائنس/ مذاہب / ماورائی
__________________________________________________
لگتا ہےسرن( cern)  کےسائنسدان بھی سائنس کے عشق میں مبتلا ہوکر  کُچھ جذباتی ہو گئے ہیں  کہ  ہیگز بوزون "ذرہ" کو" خُدا" کا درجہ دینے لگے ہیں۔۔۔ جبکہ سائنسدان تو خود  اچھی  طرح جانتے ہیں کہ سائنسی نظریات تو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔۔۔ ایسے میں  ہیگز بوزون کو" گاڈ" پارٹیکل کہنا کہاں کی عقل مندی ہے ۔۔۔  یہ سائنس کو بند گلی میں لے جانے والی جیسی بات  ہے ۔۔۔ کل کلاں کو  ہیگز بوزون سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ذرہ کی نشان دہی ہوتی ہے تو پھر آپ کیا کریں گے ؟؟؟چلیں مان لیتے ہیں کہ ہیگز بوزون ذرہ دریافت ہو بھی جاتا ہے مگر اسکو " گاڈ "پارٹیکلکون مانے گا مذاہب نے  انسانی ذہن میں "گاڈ" کا جو امیج بنایا ہے وہ ماورائی ہے ۔۔۔ اس سے دُنیاوی کوئی چیز میل نہیں کھا سکتی ہے۔۔۔ 
جس کمپیوٹر نے ذہانت میں انسان کو شکست دی ۔۔۔یقیناً وہ بہت ذہین  ہے مستقبل قریب میں  اس سے بھی زیادہ ذہین ترین کمپیوٹرز بنیں گے لیکن کیا  یہ ذہانت سے معمور کمپیوٹرز اپنے بنانے والے کو جان سکتے ہیں ؟؟؟ یہ ذہانت میں انسان سے چاہے کتنے ہی زیادہ ذہین کیوں نہ ہوجائیں پھر بھی یہ اپنے بنانے والےکو نہیں جان سکتے ہیں ۔ یہی حال انسان کا ہے کہ وہ چاہے کتنی ہی بڑی لیب کیوں نہ بنالیں وہ اپنے خالق کو کبھی نہیں جان سکتا ۔ ۔۔ شُکریہ۔۔۔
 میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے ۔
( ایم ۔ ڈی)

Monday, September 26, 2011

٭٭ زرداری سیاست ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ ٭٭

فکرستان سےپوسٹ ٹیگز:/میاں صاحب /عمران خان/ٹارگٹ کلنگ/سیاسی بصیرت/ذوالفقار مرزا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ماؤزے تنگ نے اپنی تمام زندگی کا فلسفہ لال کتاب میں لکھ دیا ہے جبکہ ہمارے صدر جناب آصف علی زرداری صاحب نے اپنی تمام زندگی کا فلسفہ اپنی اورل کتاب کتابِ مفاہمت میں سمودیا ہے ، وہ یہ کتاب سیاسی رہنماؤں کو پڑھواتے ہیں ، میاں صاحب تو 3 سال تک اس کتاب کے سحر میں ڈوبے رہے ۔انہیں یہ  بھی ہوش نہیں  رہاکہ عوامی ووٹ سے نتھی  کُچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں ؟؟؟اسی طرح یہ کتاب ایم کیو ایم ، اے این پی اور جے یو آئی (ف)نے بھی پڑھی اب چوھدری برادران بھی پڑھ رہے ہیں اس کے بعد میدان بالکل صاف ہوگیا عوام کی مشکلات کو زبان دینے والا کوئی نہیں رہا ، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہیں ۔۔۔ مفاہمت جاری رہی ۔۔۔ ریلوے کا دھڑام تختہ ہوگیا ۔۔۔مفاہمت جاری ہے۔۔۔ دنیا کی جمہوریتوں میںاپوزیشنوں کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ لیکن زرداری کی کتابِ مفاہمت میں اپوزیشن کا تصورنہیں پایا جاتا ۔۔ ۔ ۔ عوام اور میڈیا میاں صاحب کو اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کیلئے مفاہمت کے سحر سے جگانے کی کوشش کرتے رہے ۔۔۔ وہ نہ جاگے ۔۔۔۔فطرت کو خلا پسند نہیں اپوزیشن کا خلا پیدا ہوگیا تھا  ایسے میں عمران خان کے جلسوں کو پزیرائی ملنے لگی تو میاں صاحب جاگ گئے ۔ ۔ ۔  ہائیں یہ کیا ہورہا ہے ؟؟؟ لیکن لگتا ہے کہ ابھی پوری طرح نہیں جاگے ہیں ممکن ہے کہ انرجی کو آنے والے الیکشن کیلئے بچا کے رکھنا چاہتے ہوں ۔۔۔
بڑے بڑے سیاسی ماہرجو یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے تھے کہ زرداری کی حکومت سال ڈیڑھ  کی مہمان ہے۔۔۔ کوئی  بھی سیاسی پنڈت دوسال دینے کیلئے تیارنہیں ہو تا تھا کہ زرداری میں  سیاست کو درکار بصیرت نہیں ہے ۔۔۔لیکن صدر صاحب نےمفاہمتی سیاست کی ایسی بصیرت نکالی کہ اپوزیشن کو چت کر کےرکھ دیا ۔۔۔ وہی سیاسی پنڈت جو ڈیڑھ دو سال دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے اب پورے ٹرم کی بات کر رہے ہیں ۔ اب وہ زرداری صاحب کو ماہر سیاست داں سمجھنے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ ذوالفقار مرازا کی گھن گرج کے پیچھے بھی زرداری  کی سیاست کو تلاش کر رہے ہیں ۔ ۔۔۔قدرت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں جس مفاہمتی پالیسی کے زریعے زرداری صاحب نے تمام اپوزیشنوں کو چت کیا اُسی مفاہمتی پالیسی پر پارٹی میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔۔۔۔اب  دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے الیکشن میں زرداری صاحب اپنی پٹاری میں سے کیا نکالتے ہیں ۔۔ ۔ ویسے زرداری پٹاری میں سےصوبوں نے تو ابھی سے جھانکنا شروع کردیا  ہے۔۔۔ شُکریہ۔۔ تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔
(ایم ۔ ڈی )  

Monday, September 19, 2011

٭ نریندر مودی شو اور پُر تاثر نظم ٭

منجانب فکرستان پیش ہے:سنجیوبھٹ کےخط کی تاثراتی نظم "بہتر ہوگا کہ ہم جنگ شروع کریں "۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 مذہبی نیتا  ہوں کہ سیاسی نیتا یہی وہ دو نیتا ہیں جو اپنی چرب زبانی کے زریعے  بڑے پیمانے پر انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔حالیہ مثال نریندرمودی شو ہے جو 3 گھنٹے شو کی جگہ تین دن کا برت شو ہے اس شوکے زریعے وہ اپنے انسان خونی جسم پر ،انسان دوستی کا لیبل لگوانا چاہتے ہیں لیکن انٹیلی جنس انچارج سنجیو بھٹ ( لقب بہادربھٹ ) نے  کھلے خط میں لکھا ہے مودی کچھ بھی کرلے وہ گمراہ نہیں کر سکے گا۔خط میں پرتاثرنظم بھی ہے جسکا ترجمہ انقلاب انڈیا نے چھاپا ہے۔قارئین کیلئےنقل پیش ہے۔۔۔ گُزارش ہے کہ نظم سلو موشن میں پڑھیں شُکریہ۔۔۔۔
میرے پاس اصول ہیں ،لیکن طاقت نہیں ۔۔۔تمہارے پاس طاقت ہے ،لیکن اصول نہیں ۔۔۔ تم چونکہ تم ہو۔۔۔ اور میں چونکہ میں ہوں ۔۔۔ اس لیے مجھ میں اور تم میں سمجھوتا ممکن نہیں ہے ۔۔۔بہتر ہوگا کہ ہم جنگ شروع کریں۔۔۔میرے پاس سچائی ہے ،لیکن فوج نہیں ۔۔۔ تمہارے پاس فوج ہے ،لیکن سچائی نہیں ۔۔۔اس لیے مجھ میں اور تم میں سمجھوتا ممکن نہیں ہے ۔۔۔ بہتر ہوگا کہ ہم جنگ شروع کریں ۔۔۔تم میری گردن مروڑ سکتے ہو ۔۔۔ میں مزاحمت کروں گا ۔۔۔تم میری ہڈیاں توڑ سکتے ہو ۔۔۔ میں مزاحمت کروں گا ۔۔۔ تم مجھے زندہ دفن کرسکتے ہو ۔۔۔ میں پھر بھی مزاحمت کروں گا۔۔۔ سچائی میری شریانوں میں دوڑتی پھرے گی ۔۔۔اور میں لڑوں گا ۔۔۔مجھ میں جب تک طاقت ہے ۔۔۔میں لڑوں گا ۔۔۔ آخری سانس تک لڑتا رہوں گا۔۔۔لڑتا ہی رہوں گا تب تک۔۔۔جب تک تمہارے جھوٹ کا محل منہدم نہ ہوجائے ۔۔۔اور جھوٹ کے جس دیوتا کی تم پوجا کرتے ہو۔۔۔میرے سچائی کے فرشتے کے قدموں میں اوندھے منہ گر نہ پڑے۔۔۔۔۔شُکریہ۔ تصاویربشکریہ ( بی بی سی) نظم ترجمہ اردو بشکریہ( روزنامہ انقلاب)۔( ایم ۔ ڈی)
                                                                                 
                       




     
    فرض شناس۔ لقب بہادر بھٹ                                             مکارانہ ہنسی عیاں ہے 

Saturday, September 17, 2011

٭ صرف 7 ووٹوں کی دوری پر ہے فلسطینی ریاست ٭

 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: جنرل اسمبلی/ ریاست/ سلامتی کونسل/ ترکی/ عرب لیگ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
جنرل اسمبلی میں فلسطین کو ریاست کا درجہ حاصل کرنے کیلئے 129 ووٹوں کی ضرورت ہوگی جبکہ 122 ملکوں نے فلسطین کو  ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا ہوا ہے۔ اب صرف 7 ووٹوں کی کمی رہ جاتی ہے قوی امید ہے کہ وہ مل جائیں گے ۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل نہیں چاہتے ہیں کہ فلسطین والے اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کیلئے کوئی درخواست داخل کریں ۔ اسکے لیے وہ ہر طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں مثلاً  قرارداد کو سلامتی کونسل میں وی ٹو کردیں گے ، آپ کی امداد بند کردیں گے ، یہ خوف بھی بٹھایا جارہا ہے کہ لابنگ ہوگئی ہے کہ قرار داد منظور نہیں ہوسکی گی ۔
ترکی فلسطین والوں کی خوب پیٹھ تھپ تھپا رہا ہے کہ گھبراؤ نہیں ادھر عرب لیگ نے بھی اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے ۔ عرب حکمرانوں کو حالیہ عوامی لہر کا بھی اندازہ ہے ۔ اس لیے کچھ یقین سا ہے کہ 129 سے بھی زیادہ ووٹوں سے قرار داد منظور ہوگی ۔
یقیناً امریکہ سلامتی کونسل میں اس قرار داد کو وی ٹو کردے گا لیکن پھر بھی فلسطین کو اقوام متحدہ میں نان ووٹنگ ممبر ریاست کی حیثیت تو حاصل ہوجائے گی ۔ یعنی فلسطینی ریاست اقوام متحدہ  کی ممبر تو بن جائے گی لیکن کسی قرار داد کی ووٹنگ میں حصّہ نہیں لے سکے گی ۔ ابتدا میں اسرائیل کی بھی ایسی ہی حیثیت تھی بعد میں سلامتی کونسل سے منظوری کے بعد ووٹنگ ممبر بنا ۔ 
فلسطینی تو یہ چاہتے تھے کے پہلے بات چیت کے زریعے اس مسئلہ کو حل کر لیں لیکن اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور امریکہ بہادر کی کمزوری کی وجہ سے یہ ساری صورت حال پیدا ہوئی ورنہ بات چیت کے زریعے مسئلہ حل کرلیتے تو اس وقت امریکہ، اسرائیل اور فلسطین  دنیا  بھرکی شاباشیاں سمیٹ رہے ہوتے  خاص کر امریکہ کی شبیہہ دنیا میں بہت بہتر ہوجاتی ۔۔۔ شُکریہ ۔( ایم ۔ڈی)۔ 

Friday, September 16, 2011

٭ چھو ٹی موٹی خبروں کے تراشے ٭

 فکرستان سے پیش ہے ۔ چھوٹی موٹی خبروں کے تراشے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
٭ فرانس نے روڈوں پر نماز پڑھنے پر پابندی لگادی۔( اسلام فوبیا) ۔ ٭ ڈی آئی جی امرتسر نے کہا ہے کہ پاکستانی کبوتر لاہور سے انڈیا آکر انڈیا کے چار پانچ سو روپئے لے جاتے ہیں۔ ٭ اٹلی  کے74 سالہ وزیر اعظم سے جوانی سنبھالی نہیں جارہی ہے   ٭علیحدگی کی تصدیق ہوگئی ہے٭ نہ جانے کس نے متنا زع باب والدہ  صاحبہ کی کتاب میں شامل کرا دیا ۔ وغیرہ وغیرہ ٭   مجھے دیں اجازت آپ پڑھیں چھوٹی موٹی خبریں ۔۔۔ذیل کی تصویر بی بی سی سے اُٹھائی ہے۔ 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جنگ اخبار سے لی گئیں خبریں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





         
                  
 ایکسپریس اخبار سے لی گئی خبریں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر ۔۔ ۔ ۔ ۔۔کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Thursday, September 15, 2011

٭ سماجی انسان کو / وحشی انسان / کون بناتا ہے ؟؟؟ ٭

 فکرستان سےپوسٹ ٹیگز:حصولِ مقصد/ جارحیت/مغالطے/حقیقت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیر جمعرات کونماز جنازہ کے دوران خودکش حملہ 45 ہلاک 76 زخمی جبکہ منگل کو اسکول بس پر چاروں طرف سے فائرنگ کرکے معصوم بچوں کو خون میں نہلادیا۔ سماجی انسان کو اس قدر وحشی انسان کس نے بنا یا ؟؟ فتوے دینے وا لوں نے۔۔جو کہتے ہیں/حصولِ مقصد کیلئےکسی حد تک بھی جانا جائز ہے/فتوے دینے والوں میں سیاسی رہنما بھی شامل ہیں  جو کہتے ہیں" جارحیت " ہی بہترین دفاع ہے۔۔اسکی حالیہ مثا ل عراق،افغانستان ہیں۔۔۔۔
 اس کُرہِ ارض پریہی دو طاقتور گروپ ہیں۔ ایک مذہبی گروپ دوسرا سیاسی گُروپ۔ یہی  وہ دوگُروپ ہیں جوسماجی انسان کو وحشی انسان بنا دیتے ہیں / چاہے وہ  ٹوئن ٹاور کو خون میں نہلانے کا  واقعہ ہو کہ عراق، افغانستان اور پاکستان کو لہولہان کرنے کا/ داتا دربار ہوکہ مساجد بم دھماکے/ امام بارگاہ ہوکہ  اسکول کو بموں سے تباہ کرنا / پہلی جنگ عظیم ہوکہ دوسری / ویتنام جنگ ہوکہ صلیبی جنگیں  ان سب کے پیچھے یہی انسان دشمن گروپ ملیں گے ۔ ۔ ۔ یہی وہ  انسان دشمن گروپ ہیں کہ جنہوں نے اس کُرہِ ارض کو جہنم بنایا ہُوا ہے ۔ ایک گروپ کے پاس فتوے دینے کیلئے آخرت کی زندگی ، جنّت ،خُدا کی خوشنودی اور مخالفین پر غلبہ پانا  جیسے الفاظ ہیں جبکہ دوسرے گروپ کے پاس  فتوے دینے کیلئے امن ، سلامتی ، حب الوطنی ، وطن کا دِفاع اور فتح پانا جیسے الفاظ ہیں کہ جن کے سہارے ایک فطری سماجی انسان کو/ اتِنا غیر فطری وحشی انسان بنا دیا جاتا کہ وہ اپنے ہی جیسے انسانوں کوبلا وجہ جان سے مارنے  کو تیار ہوجاتا ہے ۔۔۔۔ورنہ انسان کی فطرت تو یہ ہے کہ ایک پاکستانی پائلٹ مغالطے پر ایک انسان ( انڈین پائلٹ) کو مارنے پر 40 سال تک اپنے آپکو ملامت کرتا رہا بالآخر پائلٹ کی بیٹی سے معافی مانگ کر اور بیٹی کے معاف کرنے پرسکون پایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ ہے حقیقی  سماجی انسانی  فطرت ۔ ۔ ۔(اسکی تفصیل لنک پر ہے جسکا   عنوان بڑا ہی معنی خیز  ہے۔
" جنگیں اچھے انسانوں سے بھی  کیسے کام کروا دیتی  ہے" ) شُکریہ۔
 تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔(ایم ۔ ڈی )
    
  

Monday, September 12, 2011

آئن سٹائن کے خط سے اقتباس

فکرستان سے پوسٹ ٹیگز: خط/ آئن سٹائن/سگمنڈفرائیڈ /نفرت و تشدد
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ خط 30 جولائی 1932 کو آئن سٹائن نے ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائیڈ کو لکھا تھا اس میں آئن سٹائن نے سیاست دانوں ، دانشوروں اور انسانی نفسیات کا جو تجزیہ پیش کیا  ہے  ایسا لگتا ہے کہ یہ تجزیہ کسی ماہر طبعیات کا نہیں بلکہ کسی ماہر نفسیات کا تجزیہ ہے اُنکا  یہ تجزیہ آج کے انسان ،آج کی دُنیا ،آج کے پاکستان اور( خاص کر کراچی کے حالات  پر)  پوری طرح سے فٹ بیٹھتا ہے ۔۔۔اسی لیے یہ اقتباس پیش ہے ۔ ۔ ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گزشتہ عشرے کے دوران ہونے والی ایسی تمام کوششیں رائیگاں گئیں جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ کوئی طاقتور نفسیاتی عامل ان کے خلاف متحرک ہے جو ان تمام مساعی کو ناکام بنا رہا ہے/ ایسے کچھ عوامل کی نشاندہی کرنا مشکل بھی نہیں/ حکمران طبقات کی ہوس جاہ و طاقت ہر اس کوشش کا خاتمہ کر دیتی ہے جسکی مدد سے قومی خودمختاری میں کمی ممکن ہو/ ایک طرف سیاسی اقتدار کے بھوکے جتھے سرگرم عمل ہیں تو دوسری طرف وہ افراد مصروف کار ہیں جن کے معاشی و اقتصادی مفادات امن سے متصادم ہیں/ ہر ملک میں ایسے افراد ہیں جو اگرچہ تعداد میں کم ہیں لیکن اثرنفوذ کے اعتبار بے حد مظبوط ہیں ۔ یہ افراد اسلحہ ، گولہ بارود اور مہلک ہتھیار بناتے اور بیچتے ہیں انکی زندگی ،مفادات اوربقا ء دوسروں کی ہلاکت ،موت اور تباہی میں مضمر ہیں ۔۔۔
 آخر انسانوں کو اتنی آسانی سے کیسے اُکسایا جا سکتا ہے کہ وہ عقل و خرد کھو بیٹھیں اور اپنی زندگی تک کو داؤ پر لگانے سے گُریز نہ کریں ؟ اسکا جواب غالباً یہی ہے کہ ہر انسان کے اندر تخریب اور نفرت کے شدید جذبات موجود ہوتے ہیں جو زمانہ امن میں حالت خوابیدگی میں رہتے ہیں اور صرف غیر معمولی حالات میں بیدار ہوتے ہیں ۔ لیکن انکو اُبھارنا اور بروئے کار لانا زیادہ مشکل نہیں ہوتا یہ بُہت جلد سرگرم عمل ہوکر اجتماعی پاگل پن کی صورت اختیار کرلیتے ہیں ۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کا حل میرے پاس نہیں  ۔ ۔۔ اب میں اپنے آخری سوال کی طرف آتا ہوں ۔ کیا انسان کے ذہن کو اس طرح سے کنٹرول کرنا ممکن ہے کہ اس کے اندر سے نفرت و تشدد کے جذبات نکالیں جاسکیں ۔ یہاں پر میں  صرف ان پڑھ اور غیر تربیت یافتہ عوام کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرا اشارہ اس نام نہاد دانشور طبقے کی طرف بھی ہے جو خود بھی ان جذبات کا نہایت آسانی سے شکار ہوجاتا ہے ۔۔۔اب تک میں صرف قوموں کے درمیان جنگوں کی بات کرتا رہاہوں جو کہ بین الاقوامی ٹکراؤ کے زمرے میں آتی ہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ تشدد کے جذبات دیگر لبادوں میں بھی فعال رہتے ہیں مثلاً خانہ جنگیاں ،نسلی تصادم،اور فرقہ وارانہ فسادات وغیرہ ۔ ۔ ۔ شُکریہ ۔
حوالہ کتاب : ٹوٹم اینڈ ٹیبو/ پبلشرنگارشات
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ( ایم ۔ڈی )

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...