Tuesday, June 21, 2022

کہیں دیر نہ ہوجائے!۔۔۔

 منجانب فکرستان: غوروفکر کے لئے

ڈپریشن کا مرض :دنیا بھر میں بڑی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔  
 ،14جون 2022 کےاخباروں میں ماں کے قاتل(جو کہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے قتل کامنصوبہ رکھتا تھا) کی تفصیل شائع ہوئی،بلاگ لکھنے کا مقصد یہ ہےکہ  کسی ذہن میں ملزم کے جیسے خیالات آتے ہوں تو اپنی  اصلاح کی جانب رجوع ہو ، کہیں دیر نہ ہوجائے ، بعد میں ملزم کی طرح پچھتا ناپڑ جاہے، یہ کیس ڈیپریس ذہن کی اچھی تشریح ہے  ۔
ملزم نہیں چاہتا کہ اُس کی ماں اُس کا چہرہ ،ایک قاتل کے روپ میں نہ دیکھ پائے، اس کے لیے ملزم نے باقاعدہ خوب ریہرسل کی۔
 ماں پیانو بجا رہی تھی کہ ملزم نے پیچھے سے قریب آکر گولی اس طرح ماری کہ وہ فوراً دم توڑ گئی۔
 ماں کے قتل کے بعد وہ جسٹن ٹروڈو کو قتل کرنے کی غرض سے ٹروڈو کی رہائشگاہ کی جانب روانہ ہوا، تھوڑی دور جانے کے بعد کچھ سوچ کر رک گیا ، اب وہ نیورسٹی کی جانب روانہ ہوا کہ وہاں بڑے پیمانے پر تشدد اور قتل کی کارروائی کر سکے تاہم ذہنی انتشار میں کچھ کمی آنے پر وہ پولیس ہیڈ کوارٹر پہنچ گیا ،اپنی ماں کےقتل کااعتراف کر نے کے لئے ۔

دیکھیں 👇 ملزم کا  انٹرویو،ماں کی تصویر وغیرہ

https://bc.ctvnews.ca/former-b-c-actor-who-killed-mother-tells-court-victim-did-nothing-to-deserve-shooting-1.5949230
۔اب اجازت۔
۔رب مہربان رہے۔



Thursday, June 16, 2022

محبت کی ایک عجیب جہت !۔۔۔

منجانب فکرستان: غوروفکر کے لئے

میڈیا میں ان دِنوں (دعازہرا اور ظہیر احمد) کی محبت کا خوب چرچا رہا،ہر ایک نے اپنے اپنے نقطہ نظر کی بات کی،  میں نے بھی اپنی ٹیوٹر پوسٹ میں لکھا تھا کہ "محبت ہے کیا چیز؟ سائنس بھی ۔۔۔یہ نہیں جانتی ؟ اپنی اسِ بات کی سپورٹ میں برصغیر کی مشہور اداکارہ ثریا کی داستانِ محبت غور و فکر کیلئے آپ سے شیئر کرتا ہوں ۔
                                  
۔ 15 جون، برصغیر کی مشہور اداکارہ ثریا کی پیدائش کی تاریخ ہے ۔

ثریا کی محبت کی بھی عجیب داستان ہے، وہ ہالی وڈ اداکار گریگوری پیک کی

فین تھیں، جب امریکہ گئیں تو اپنی تصویر اور اپنا بمبئی ایڈریس گریگوری

پیک کو بھجوایا،اس دور میں جانے کتنی لڑکیوں نے گریگوری کو اپنی تصاویر

بھیجی ہونگیں۔ 

انڈین اداکار دیوانند کا ہیئر اسٹائل اور اداکاری کا اسٹائل بھی کچھ حد تک
 
 گریگوری پیک جیسا تھا یوں ثریا دیوانند کی جانب جھک گئیں، محبت پروان

 چڑھانے لگی دیوآنند

نے اپنی محبت کی نشانی میں ہیرے کی انگوٹی ثریا کو دی تاہم مذہبی اختلاف

 کے علاوہ بھی دیوآنند ثریا کے  گھر والوں کو نہ بھایا یوں بیل  منڈھے نہ

چڑھ پائی۔

ایک رات تقریباً بارہ بجے ثریا کے مکان کی کال بیل بجی ،گھر والوں

نے دیکھا کہ دروازہ پر ایک گورا انگریز کھڑا ہے،'میں گریگوری پیک ہوں

مجھے ثریا سے ملنا ہے' اُس دن ثریا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ۔

ثریا کی زندگی میں کئے خوبرو ہستیوں نے داخل ہونے کی کوشش تاہم

 والدہ کے انتقال کے باوجود تنہا پوری زندگی گزاردی  ۔

کیا ثریا کو صرف گریگوری پیک کے اسٹائل محبت تھی ،جب دیوآنند میں یہ

اسٹائل یہ نظر آیا تو وہ دیوآنند محبت کر نے لگیں ، جب وہ نہ ملا تو پوری

زندگی تنہا  گزاردی۔

پوسٹ کی تیاری میں سائیٹ ریڈیو vividh bharati لی ہے۔


۔اب جازت۔
۔ رب مہربان رہے۔
   

Thursday, April 8, 2021

بازگشت

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے 
 دو  دسمبر 2011 کو  لکھی پوسٹ جس پر سینئر بلاگر( محترم جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب کا تبصرہ بھی موجود ہے) اس کے علاوہ اسی پوسٹ پر عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کی ہوئی پیش گوئی کا لنک بھی شامل ہے ۔ 
درج بالا لنک  پوسٹ کی بازگشت  جہانگیر ترین کی بینکنگ
 کورٹ میں پیشی کے موقع پر سُنائی دی ۔ تجزیہ کار سلمان غنی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ" جہانگیر ترین کے ساتھ جتنے ممبران عدالت کے باہر موجود تھے، پی ٹی آئی کے اندر اس سے کہیں زیادہ ممبران کی حمایت انھیں حاصل ہے"۔ جہانگیر ترین  کیس، عمران خان کے لئے ٹیسٹ کیس بھی ہے کہ  اس کیس کو  نہ صرف  پاکستان کی سیاسی جماعتیں بغور دیکھ رہی بلکہ  عوام بھی دیکھ رہی ہے کہ یہ کیس، کس کروٹ بیٹھے گا۔
۔اب اجازت۔
۔ رب مہربان رہے۔

https://www.bbc.com/urdu/pakistan-56668785

 

Thursday, February 11, 2021

پیش گوئی میں : جھلکتا مطالعے کا عکس

 منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے 

٭ مائک پو مپیو نے کہا ٭ بل گیٹس نے کہا ٭ 
بی بی سی میں لکھنے والے ہوں کہ ڈی ڈبلیو میں لکھنے والے ،عنوانات کےطرز بدل گئے ہیں ۔ سچ ہے کہ
 ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں  
  بل گیٹس کے والد صاحب  کا کہنا تھا کہ اُن کا بیٹا بہت زیادہ پڑھاکو ہے۔ ذہن کا حال پیٹ جیسا ہے، پُر خوری سے خُمار طاری ہوجاتا ہے، زیادہ پڑھنا ذہن کی پُر خوری ہے۔ 
 جس قسم کے مطالعے شوق، ذہن پر اُسی قسم کا خمار طاری ہوگا۔
  مائک پومپیو اور بل گیٹس کے مطالعے کے شوق جُدا گانہ ہیں ۔
سابقہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی تعلیمات کا نتیجہ کہ وہ انتظامیہ کے انتہائی مذہبی ممبروں میں شامل رہے ہیں ، یہاں تک کہ کابینہ کے دیگر ممبروں کے ساتھ بائبل اسٹڈی گروپ میں بھی شریک رہے ہیں۔
پومپیو سمجھتے ہیں کہ خدا نے ٹرمپ کو اسرائیل کو ایران سے بچانے کے لئے بھیجا، وہ یہ بھی سمجھتے کہ مسٹر ٹرمپ کے اُٹھا نے والے اقدامات کے پیچھے خدائی مرضی شامل ہیں۔۔ 
بل گیٹس کی پڑھنے کی پُر خوری  کا خمار موصوف پر ایسا چڑھا کہ  2015 میں  یہ پیش گوئی کر بیٹھے کہ" انسانیت کو سب سے بڑا خطرہ جوہری جنگ سے نہیں بلکہ کسی وبائی وائرس سے لاحق ہے جو کروڑوں افراد کے لیے جان لیوا بن سکتا ہے"۔
 کرنا ایسا ہُوا کہ جنوری 2020 میں چین کے شہر 'ووہان' سے شروع ہونے والا ' کورونا وائرس ' عالمی وبا ' بنا تو لوگوں کو بل گیٹس کی پیش گوئی یاد آگئی  تاہم بعض نے اُن کی پیش گوئی کو  منفی معنی پہنائے، جس کا اظہار   اُنہوں  نے بڑے دُکھ کے ساتھ رائٹرز کو دئیے اپنے انٹرویو میں کیا۔
 بل گیٹس نے خود پر لگے الزام سازشی اور شیطان قرار دینے جانے پر حیرت کرتے ہوئے کہا کہ 'مگر کیا لوگ واقعی اس پر یقین رکھتے ہیں؟'
 انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں آئندہ برس کے لیے خود کو تعلیم یافتہ بنانا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ لوگوں کا طرز عمل کیسے بدلا جاتا ہے۔۔ 
اب اجازت ۔
 پوسٹ کی تیاری میں درج ذیل سائٹس سے مدد لی گئی ہے
https://www.bbc.com/news/world-us-canada-47670717 
https://www.reuters.com/article/us-health-coronavirus-gates-conspiracies-idUSKBN29W0Q3
 

 

Monday, November 9, 2020

۔9 نومبر۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے 
٭ آج9 نومبر علامہ محمد اقبال کی پیدائش کی تاریخ ہے ٭
سچّی بات یہ ہے کہ علامہ اقبال کی  فکر نے میری بصیرت میں اتنا اضافہ نہیں کیا  کہ جتنا کہ اضافہ  اُنکی ہمہ جہت فکر کے بارے میں  لکھے مضامین نے کیا،اِسکا بنیادی سبب  یہ ہے کہ دانشورانہ فکر کے بارے میں رائے بھی وہی  شخص دے سکتا ہے کہ جو کہ صاحبِ بصیرت ہو۔یہ مضامین چاہے علامہ کی فکر کی موافقت میں  ہوں میں کہ مُخالفت میں، پڑھنے والوں کو اِن میں بصیرت ملتی ہے کیونکہ یہ مضامین علامہ کی شاعری و خُطبات میں موجود  جہتوں کو حوالہ  بنا کر  لکھے گئے ہیں، اِن مضامین میں میرے خیال کے موجب دانشوروں نے گویا علم و بصیرت کے دریا  بہائے ہیں ۔۔۔ اِس بہتے  دریا میں سے میں نے بھی  جہاں تک ممکن ہوسکا اپنی علم کی پیاس بجھائی ہے۔۔
دانشوروں نے علامہ کی ہمہ جہت فکر  کے حوالے سے اِس قدر کہ زیادہ مضامین لکھے گئے  ہیں کہ شاید اسکی  مثال  برصغیر  میں ملنا مشکل ہے ۔
نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا / نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔
۔ اب اجازت ۔
رب   مہربان  رہے  }
 


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...