Wednesday, January 8, 2014

" نظریہ بھوت اور انتہا پسندی "

 منجانب فکرستان
نِظامِ کائنات خُدا کی صفتِ حکمتی کے تحت تناسبی قوانین (نیچر) پر ہے ۔۔۔جب تک انسان نے نیچر میں  
مداخلت نہیں کی تھی،لاکھوں سالوں سے لڑکیوں اورلڑکوں کا تناسب۔۔ففٹی ففٹی کا حیرت انگیز نظام چلا
 آرہا تھا۔۔ خُدا کے پیغمبر، دُنیاوی مفکرین، میانہ روی پر زور دیتے ہیں کہ یہ نیچر کا قانون ہے، جودُنیاوی 
معاملات میں بھی کام کرتا ہے مثلاً بچّوں پر انتہائی سختی یا انتہائی نرمی دونوں کے نتائج بُر ے ہیں۔۔ 
 جسمانی نظام بجلی سے چلتا ہے،جو انسانی جسم میں مسلسل بنتی اور خارج ہوتی رہتی ہے،پیرا سائیکولوجسٹ
  کے ماہرین مختلف قسم کی الیکٹرانک ڈیوائسز سے بُھوتوں کو ڈھونڈ تے ہیں، اُن سے ہم کلام ہوتے ہیں،  اِن ماہرین کا بُھوتوں کے بارے میں نظریہ ہے کہ: یہ ایسے افراد کی روحیں ہیں، جو کسی سے انتہائی محبت یا انتہائ انتقام لینے کی خواہش کو اپنے وجود میں پالتے ہیں، ایسے افراد جب مرنے لگتے ہیں، اُس وقت بھی وجود میں پلنے والا انتہائی محبت کا یا انتہائی انتقامی جذبہ ان پر حاوی رہتا ہے،جو ان کی روحوں  کو دوسرے عالم میں جانے سے روک دیتا ہے،یوں یہ روحیں  بُھوت بنکر اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے اِس دُنیا میں بھٹکتی رہتی ہیں۔۔۔بلکہ اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے وہ انسانوں کو استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں، لیکن کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتی ہیں۔۔
پیرا سائیکولوجسٹ اپنے اِس نظریے  کے دعوے میں  کوئی سائنٹیفک ثبوت فراہم تو نہیں کرتے۔۔۔تاہم امریکی پولیس بعض  مجرموں تک پہنچنے کیلئے اِن پیرا سائیکولوجسٹ  کے زریعے بُھوتوں کی خدمات حاصل کرتی ہے۔۔۔
 ( جودوست اِس بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے خواہش مند ہیں وہ لنک پر جائیں)
اب اپنے دوست کو اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Thursday, January 2, 2014

ضمیری سزا کی " شکل "۔

منجانب فکرستان  
کچھ مفکرین کا کہنا ہے کہ انسان میں ضمیر ودیعت شُدہ ہے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ انسان میں ضمیر
 سماج میں رائج خیروشر کے پیمانے سے اکتسابی ہے کہ جس سماج  میں وہ رہتا ہے،۔یہ تمہید اسلئیے
 باندھی ہے کہ:ہیدر لائن بوکو جوکہ ڈرون اُڑاتی تھیں، اخبار گارڈین میں ایک مضمون لکھ کر گویا 
اپنے ضمیر کا بوجھ کچھ ہلکا کیا اورضمیر کی سزا کا تذکرہ کیا:اس مضمون کا اردو ترجمہ بی بی سی نے کیا
 جس میں سے چند چیدہ چیدہ احساساتی باتیں اسطرح سے ہیں۔۔۔میرا دل چاہتا ہے سیاست دانوں
 سے چند سوالات پوچھوں :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلے میں ان سے پوچھوں گی کہ ’آپ نے ایک ہیل فائر میزائل سے کتنی خواتین اور ان کے بچوں کو زندہ جلتے ہوئے دیکھا ہے؟‘ پھر پوچھوں گی کہ ’آپ نے کتنے مردوں کو ٹانگیں کٹنے کے بعد لہولہان حالت میں ایک کھیت کو اپنے ہاتھوں پر چلتے ہوئے پار کرتے دیکھا ہے؟  
" مجھے معلوم ہے کہ جب آپ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے۔ لفظ بھیانک بھی اس کو پوری طرح سے ادا نہیں کر سکتا۔ اور جب آپ اسے بار بار دیکھتے ہیں جیسے کوئی چھوٹی سی ویڈیو آپ کے ذہن میں ہی کھب کر رہ گئی ہو اور بار بار چلتی جائے تو وہ ایسا نفسیاتی صدمہ پہنچاتی ہے جو میری دعا ہے کہ کسی کو نہ پہنچے۔"
ظاہر ہے کہ ہمیں تربیت دی جاتی ہے کہ ہم ایسے جذبات کو محسوس نہ کریں اور ہم ان جذبات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ فوج کی جانب سے فراہم کیے گئے ذہنی امراض کے ہسپتالوں میں جا کر مدد حاصل کرتے ہیں، لیکن ہم اپنے کام کی خفیہ نوعیت کے باعث بہت کم لوگوں سے اس سلسلے میں بات کر سکتے ہیں۔
 اس شعبے میں کام کرنے والوں کے بارے میں خودکشی کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے جاتے اور نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ ڈرون طیارے اڑانے والوں میں سے کتنے لوگوں کو بےخوابی، اضطراب اور افسردگی کے علاج کے لیے بہت زیادہ ادویات دی جاتی ہیں۔
حال ہی میں گارڈین نے برطانوی سیکریٹری آف سٹیٹ برائے دفاع کی ایک کمنٹری شائع کی۔ میری خواہش ہے کہ میں ان سے اپنے ان دو دوستوں کے بارے میں پوچھ سکوں جنہوں نے فوجی ملازمت چھوٹنے کے ایک سال کے اندر ہی خودکشی کر لی۔ ( مکمل تفصیل جاننے کیلئے لنک پر جائیں)
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
ایڈوارڈ سنوڈین بھی ضمیر کا بوجھ برداشت نہ کرسکا: ضمیر کا بوجھ اُتا را: اور بدلے میں ملک بدر ہوگیا : یہ طے شُدہ بات ہے کہ جس سماج کا اخلاقی نظام جِسقدر بُلند ہوگا وہاں کا انسانی ضمیر بھی اُنتا ہی بُلند ہوگا۔اور غلط کام پر کچوکے مارے گا۔۔۔
9/11 کی ڈھال کے باوجود:ہیدر لائن بوکو /ایڈوارڈ سنوڈین کی طرح امریکی عوام اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد امریکی پالیسیوں پر کڑی نقطہ چینی کرتے ہیں ۔۔۔
اب اپنے دوست کو اجازت دیں۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔   
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Saturday, December 28, 2013

" پھر کون مسلمان یا عیسائی بچے گا "

منجانب فکرستان:/محمدتقی عثمانی/فتح اللہ گولن/ جاوید احمد غامدی /پوپ فرانسس 
محترم افتخاراجمل بھائی نے سانحہ مشرقی پاکستان کی مسخ شُدہ تشریحات پربعنوان"دل کا داغ جومٹ نہ سکا"
 اور پھربعنوان "سانحہ مشرقی پاکستان کی بنیادی وجہ" لکھا۔۔صرف 4 دہائیوں میں سانحے سے متعلق ہونے
 والی مسخ شُدہ واقعاتی تشریح  کو دیکھ کر  خیال آتا ہے کہ۔۔صدیوں پُرانے مذاہب جو آج بھی رائج  ہیں
اُنکی صورت اصل سے کتنی مختلف ہوگئی ہوگی؟؟ 
قدامت پرست  عیسائی: پوپ فرانسس شانزدہم پر الزام لگا رہے کہ : ہم جنس پرستی ، اسقاطِ حملاور طلاق کے بارے میں حالیہ دنوں میں پوپ نے جو بیانات دئیے ہیں وہ عیسائی مذہب کے عقیدوںسے متصادم ہیں اسطرح  پوپ فرانسس عیسائی مذہب کا چہرہ بگاڑ رہے ہیں، اسی طرح فتح اللہ گولن: ذاکر نائیک: جاوید احمد غامدی وغیرہ پر بھی یہی الزام ہے کہ یہ لوگ اسلام کی تشریحات غلط انداز میں کر کے اسلام کو نقصان پہنچارہے ہیں ۔۔۔
اب ذرا وقت کے بارے میں غور فرمائیں : حضورﷺ کے دور  سے۔۔ آپﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر باقائدگی سے دن میں پانچ بار نماز متواتر تسلسل کے ساتھ پریکٹیکلی طور پر باجماعت دوہرائی جاتی رہی ہو کیا اُس میں فرق آسکتا ہے ؟؟ ۔ذہن اس بات کو قبول نہیں کرتا ہے۔۔بلکہ ناممکن کہتا ہے۔۔۔ لیکن عمرہ اور حج ادا کرنے والوں نے دیکھا کہ وہاں پر لوگ مختلف طریقوں سے نماز ادا کرتے ہیں۔۔گویا  "وقت " نے یہ سب کچھ ممکن کر دکھایا۔۔۔۔ سعودی حکام کسی کو یہ نہیں کہتے ہیں کہ آپ غلط طریقے سے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ ۔   سب کی نمازیں صحیح ہیں چونکہ سب کے دل و دماغ میں ایک ہی خیال ہوتا  ہے" عبادت "۔۔۔
قُرآن کی ذمہ داری رب نے لی ہوئی ہے اس لیے اُس میں تحریف نا ممکن ہے۔۔ لیکن قُرآن کی تشریح و تفسیر مختلف حضرات نے اپنی علمی اور ذہنی کاوش کے بل بوتے پر اپنے اپنے انداز سے کی ہے مثلاً :محمدتقی عثمانی/فتح اللہ گولن/ جاوید احمد غامدی / ڈا کٹر ذاکر نائک/ ڈاکٹر فضل الرحمٰان/ ڈاکٹر اسرار احمد/ مولانا مودودی/ علامہ اقبال غرض کہ انہیں کی طرح کے دیگر علماء/مفکرین حضرات نے کی ہے  کہ جنہوں نے  قُرآن وسُنت پر غور کیا اوراپنی علمی اور ذہنی کاوش کے بل بوتے پر  اپنے اپنے نقطہ نظر  کو پیش کیا۔۔۔اِنہوں نے جو کچھ پیش کیا ہے/یا  کررہے ہیں وہ اُنہوں نے اسلام سے محبت اور اسلام کی خدمت کی نیت سے کیا  ہے/ یا کررہے ہیں۔۔۔
  علماء ہم سے بہتر جانتے  ہیں کہ رب نیتوں کو جانتا ہے پھر کون ایسا  ہوگا جو اسلام کو نقصان پہنچانا چاہے گا؟؟ یعنی کون ایسا ہوگا جو جہنم میں جانا چاہے گا ؟؟  یقیناً کوئی ایک بھی نہیں چاہے گا کہ جہنم میں جائے۔۔۔چاہے اُسکا تعلق کسی فرقے یا مسلک سے ہو۔۔۔  
 14 سو سالوں میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چُکا ہے ۔۔۔ مسلمانوں میں بُہت سے فرقے پیدا ہوگئے ہیں ۔۔اب بہت سے مسلمان فخریہ اپنی شناخت فرقوں سے کرانے لگے ہیں ۔۔۔اور ساتھ ہی ان فرقوں کے مابین  انتہا پسندی اس درجہ پر پہنچی ہوئی کہ ایک دوسرے کو اسلام سے خارج کرتے جا رہے ہیں، جب سبھی مسلمان ایک دوسرے کو اسلام سے خارج کر دیں گے تو پھر کون مسلمان  بچا رہے گا ؟؟
 جہاں مسلمانوں  میں فرقہ واریت سب سے بڑا مسئلہ ہے تو  عیسایت میں ہم جنس پرستی، اسقاطِ حمل اور بکھرتے خاندان یعنی طلاق بڑے مسئلے بن کر اُبھرے ہیں۔۔۔یہ تینوں مسئلے اتنی بلندی پر پہنچ گئے ہیں کہ حکومتیں انکے آگے چھوٹی ہوگئیں ہیں اور ان مسئلوں سے  سمجھوتہ کرتے نظر آرہی ہیں ۔۔یہاں تک موجودہ پوپ بھی زور دے کر کہہ رہے ہیں اگر ان مسئلوں سے سمجھوتہ نہیں کروگے اور ہم جنس پرست ، اسقاطِ حمل یا طلاق والوں کو قبول نہ کروگے تو آپ کے پاس کچھ بھی بچا نہیں رہے گا۔۔ سب تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا ۔۔۔انہیں ہم ٹُھکرا دیں گے تو پھر چرچ میں آنے کو ۔۔ کون  بچا رہے گا ؟؟؟۔یہ ہے پوپ کا۔۔۔ نقطہِ نظر۔۔۔
کیا پوپ عیسایت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ؟؟ یا وہ کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟؟ یقیناً ایسا  نہیں ہے۔۔ وہ یہ سب عیسایت کی محبت اور نیک نیتی سے عیسایت کو زندہ رکھنے کیلئے اِن تینوں مسئلوں پر سمجھوتہ کرتے نظر آرہے ہیں۔۔۔خُدا کا لاکھ لاکھ شُکر ہے کہ اسلام کو ایسے مسئلے در پیش نہیں ہیں ۔۔لیکن فرقہ واریت کا ناسور اسلام کو بُری طرح نقصان پہنچا رہا ہے ۔۔۔
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
 ہمیں اپنی ہمیشگی  کی زندگی، جنت دوزخ  جیسے اہم مسئلے کیلئے  کسی کے نظریات اپنا نے کیلئے  ہمیں خود بھی سنجیدگی سے اسلام کا مطالعہ  کرنا چاہئیے ۔۔۔ اللہ نے ہمیں بھی ذہن سے نوازا ہے اس لیے:
یہ مت دیکھیں کہ کون کہہ رہا ہے: یہ دیکھیں کہ کیا کہہ رہا ہے ۔۔۔
اگر آپ کا ذہن کہتا ہے کہ فلاں عالم یا مفکر کی بات اسلام کے زیادہ قریب لگتی ہے اُسے اپنا لیں اور اُس پر عمل کریں ۔۔۔لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ کسی دوسرے کے نقطہ نظر کو۔۔ نقطہ نظر ہی کہیں ۔۔۔غلط نہ کہیں ۔۔۔ اس لیئے کہ کسی دوسرے ذہن کو۔۔  یہ دوسرا  والا نقطہ نظر اسلام کے زیادہ قریب لگتا ہے۔۔۔ اور وہ اُسے اپنائے ہوئے ہے ۔۔۔اُس پر اعتراض کرنا، اور کہنا کہ تم بھی میرے والا نقطہ نظر اپناؤ۔۔دومسلمانوں کے بیچ بگاڑ پیدا کردیتا ہے ۔۔یقیناً یہ کوئی اچّھی بات نہیں ۔۔۔ کون صحیح ہے کون غلط ہے کا فیصلہ خُدا نے کرنا ہے۔۔۔
 خالق نے ہر انسان کو ذہن جیسی دولت سے نواز کر عمل کیلئے خود مختار بنادیا ہے۔۔انسان کے اسی  ذہنی انفرادی خود مختاری کی بناپر اعمالِ گُناہ و ثواب پر اُسے جنت یا دوزخ کا حقدار ٹھہرایا جائے گا۔۔۔ہم کسی کو اپنے تکبر میں دوزخی یا جہنمی کیوں کہیں؟؟خُدا جانے اُسکا کونسا عمل خُدا کو بھاجائے اور جسے ہم جہنمی سمجھ رہے ہیں خُدا کے نزیک جنتی ٹھہر جائے ۔۔۔
اس لیے کہ ہم دلوں کے حال نہیں جانتے ہیں۔اور یہ بھی کہ: کیا معلوم  ہمارا تکبر ہمیں جہنم میں پہنچادے ۔۔۔ 
 اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Wednesday, December 18, 2013

" حسی کیفیت "

منجانب فکرستان
  محترم رضاعلی عابدی صاحب کا لکھا مضمون اور عنوان"میں کیا جانوں کیا جادو  ہے" گواہی دے رہا ہے
 کہ اُنہیں گانے سُننے کا صرف شوق ہی نہیں عشق ہے، مجھے بھی گانے اپنے "سحر" میں لے لیتے ہیں۔۔
 عابدی صاحب کو"انار کلی ڈسکو چلی "پسند نہیں : جبکہ میرے ساتھ ایسا مسئلہ نہیں : بیشک پرانے گانوں
کی دُھنیں پُر تاثر دُھنیں۔
جسطرح ہر"شے" کی محسوساتی کیفیت ہر شخص میں الگ ہوتی ہے یہی حال میوزِک کا  بھی ہے کہ: کس
 میں کتنی میوزک متاثرحس موجود ہے یا پھر سرے سے یہ حس موجود ہی نہیں ہے۔۔اسکو میں اپنی اور
اپنی بیوی کی مثال سے واضع کرتا ہوں۔
موڈ کے اعتبار سے منتخب گانے لگا کر  بیڈ پر لیٹ  کر آنکھیں بند کرلیتا ہوں، اسطرح گانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں ۔۔۔ جبکہ بیوی کو گانے سُننے سے ذراسی بھی دلچسپی نہیں  ہے یعنی اُس  میں "میوزک متاثر حس موجود ہی نہیں ہے"۔۔اُس کو تو نہ صرف پکوان چینلوں سے عشق ہے بلکہ پکوا نوں کے تجربے کرنے کا بھی شوق ہے ۔۔۔
 ہر سمجھدار شوہر بیوی کے ہاتھوں پکے ڈشوں کی تعریف کرتا ہے ۔۔اور مجھے بھی بے وقوف کہلانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔

اب اجازت دیں ۔۔۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔  
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }           

Tuesday, December 17, 2013

" نواز شریف مددت پوری کریں گے"

منجانب فکرستان
یہ اتفاق ہے یا کُچھ اور ؟؟ کل عمران خان کے صرف 4 حلقے تصدیق والے رٹے  کے بارے میں لکھا تھا۔۔
آج دُنیا ای پیپر کی سائٹ کھولی تو حیرت ہوئی کہ پُورا فرنٹ پیج اسی 4 حلقے رٹے کی کہانیاں سُنا رہا تھا۔۔
 کراچی صدر امپریس مارکیٹ روڈ پر چند خواتین ڈرائی فروٹ بیچتی ہیں، جب بہت دیر تک کوئی خریدار نہیں
آتا ہے تو کسی ایک فروٹ کے چند دانے لیکر سب پر وار کر حسد اور نظر اُتارتی ہیں، اسکے بعد کوئی نہ کوئی
 خریدار آجاتا ہے۔ عقیدہ پکا ہے،خریدار آجاتا ہے، یہ بات مجھے یوں معلوم ہوئی کہ روڈ سے گُذرتے ہوئے
 ہوئے ایک خاتون کو یہ عمل کرتے دیکھا تو اِس عمل کے بارے میں پوچھا ۔۔خاتون نے مُسکرا کے درج بالا
  عقیدےکے بارے میں بتا یا ۔۔
آغاخانی کمیونیٹی والے اپنی دُکانوں میں آغاخان کی تصویر لگاتے ہیں، تصویر لگانے کے پیچھے یہ عقیدہ ہے کہ تصویر لگانے سے کاروبار میں برکت ہوتی ہے ۔۔اس میں شک نہیں، ماشااللہ سے کراچی میں آغاخانیوں کا کاروبار ٹھیک ٹھاک چلتا ہے۔۔اسی طرح کے بُہت سے عقیدے خاص کر دُکاندار طبقوں میں رائج ہیں۔۔
مجھے تو یہ پڑھ کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ نہ صرف ترقی پزیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک والے بھی ہفتہ کیسا رہے گا یا آج کا دن کیسا رہے گا ۔۔۔ دیکھتے ہیں ،یقین رکھتے ہیں۔۔
دوستو آپ زرداری کے پیر کے بارے میں بھی جانتے ہونگے کہ جن کا دعویٰ ہے کہ اُنکی وجہ سے زرداری 5 سال نکال گئے اسی طرح اب" بیجن دارو والا "صاحب نے پیش گوئی کی ہے کہ نواز شریف 5سال نکال جائیں گے ۔ ہوتا یہ ہے کہ  کی گئی پیش گوئیوں( تُکوں) میں سے ایک دو نشانے پر بیٹھ جانے پر واہ واہ ہوجاتی ہے اور غلط کی گئی پیش گوئیاں صرفِ نظر ہوجاتی ہیں  ۔۔۔یوں پیش گوئی کرنے والے پر عقیدہ پختہ ہوتا جاتا ہے ۔۔اور وہ مشہور ہوجاتا/ہوجاتی ہے۔۔  
درج ذیل لنک پر دارووالا کی پیش گوئیاں دیکھیں ۔۔۔ اب جازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

   

Monday, December 16, 2013

" متھا خوری نہ کر"

منجانب فکرستان
عمران خان کی اِس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خُدا ۔مسکراتے ہوئے لگاتے ہیں ایک ہی رٹا :
 ہم صرف 4 حلقوں کی تصدیق چاہتے ہیں ۔۔ہم صرف 4 حلقوں کی تصدیق چاہتے ہیں۔۔جاؤ جاؤ
 کسیاور کو بیوقوف بناؤ دُنیا سبجانتی ہے : چاول کے چند دانے پورے دیگ  کی کیفیت بتا دیتے ہیں۔
محققین کے مطابق مرد عورت ذہنی سرکٹ الگ الگ اسیلئے مرد عورت کیلئے معمہ تو عورت مرد
 کیلئے معمہ: عورت کا  شکوہ ہے :میرا شوہر میری کوئی بات نہیں سمجھتا ہے وہ  مجھے سمجھ ہی نہیں
 سکتا ہے!کیسے سمجھے گا؟ اُس بیچارے کا  تو ذہنی سر کٹ ہی الگ ہے،اسی طرح عورت  بھی مرد کیلئے ایک معمہ ہے ۔۔مرد کا شکوہ ہے: میری بیوی میرے احساسات کو نہیں سمجھ رہی، میں کیسے اُسکو سمجھاؤں کہ میری ماں نے کتنی محبت سے مجھے پالا پوسا بڑا کیا اور یہ کہتی اپنی ماں کو الگ کرو یا پھر الگ مکان لیکر ماں سے الگ ہوجاؤ ۔۔۔ میں کیسے الگ ہوجاؤں، بے لوث محبت اور خدمت کا یہ صلہ دوں کہ والدین بہن بھائی وغیرہ  سے الگ ہوجاؤں ۔۔
میں بھی تو اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر آئی ہوں ۔۔لیکن ۔۔۔لیکن ویکن کچھ نہیں ۔۔۔
او۔۔بھائی۔۔ کیوں متھا خوری کررہا ہے۔۔۔ تیری بات وہ کیسے سمجھ سکے گی ۔اُس بیچاری کا تو ذہنی سرکٹ ہی الگ ہے۔۔۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

Sunday, December 15, 2013

یہ بات "جان کیری" بھی جانتے ہیں۔

منجانب فکرستان
کرزئی نے بھارت میں اخباری نمائندوں سے امریکہ کے بارے میں طنزیہ کہا: " دُعا دیتے ہیں جینے کی :
دوا دیتے  ہیں مرنے کیپھر کہا  اِسے یوں سمجھا جائے "دوا دیتے ہیں ٹھیک نہ ہونے کی" اِن جملوں پر
 حاضرین خوب ہنسے:مزید کہا :بیشک باہمی سلامتی معاہدہ افغانستان کے مفاد میں ہے اور افغان عوام نے
اسکی منظوری بھی دیدی ہے ۔۔۔تاہم وہ اس معاہدے پر اُس وقت تک دستخط نہیں کریں گے کہ جب
 تک افغانیوں کے مکانات کے تحفظ کی ٹھوسضمانت۔۔ اور طالبان کے ساتھ معطل شُدہ امن مساعی کی
 دوبارہ شروعات ۔۔قطعی طور پر یہ امور پیشگی شرائط میں سے ہیں ۔۔۔کرزئی نے  اپنی اِس  پریس کانفرس میں  خاص طور پر امریکی بمباری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔۔۔
شاید کرزئی کی درج بالا پریس کانفرس نے امریکیوں کو یہ باور کرا دیا  کہ معاہدہ میں کرزئی کی شرائط شامل کئے بغیر کرزئی دستخط نہیں کریں گے ۔۔۔اسی لیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پہلی بار یہ کہا  ہے کہ:" امریکہ اور افغانستان کے درمیان طے پانے والی سیکورٹی ڈیل پر صدر حامد کرزئی کا جانشین بھی دستخط کرسکتا ہے" ۔۔۔ 
جان کیری صاحب نے بڑی آسانی سے یہ بات کہہ گئے کہ کرزئی کا جانشین بھی دستخط کر سکتا ہے ۔۔لیکن کیا  جانشین باسی معاہدے پر اپنے تازہ دستخط کردے گا ؟؟ یہ بات جان کیری بھی  خوب جانتے ہیں۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

     

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...