Thursday, July 26, 2012

یہ کیا معمہ ہے ؟؟؟

منجانب فکرستان:  کیا کسی کے پاس اِن سوالات کے جوابات ہیں ؟ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
برمی مسلمانوں کا ہزاروں کی تعدادمیں قتلِ عام کا  کالم (لنک پر) پڑھ کرحیرت زدہ سوالات ذہن میں گردش کرنے لگے کہ اس قتلِ عام کو انٹر نیشنل میڈیا اور انٹرنیشنل انسانی حقوق کی تنظیمیں دُنیا کے سامنے ہائی لاٹ کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ پاکستان سمیت مسلم دنیا کیوں خاموش ہے؟ اقوام متحدہ میں قتلِ عام کو رکوانے کیلئے  کسی  ملک/مسلم ملک نے قرار داد پیش کیوں نہیں کی ؟
 حیرت اس بات پر بھی ہے کہ ایسے موقعوں پر عوامی لیڈروں  کی  لیڈری کام آتی ہے  جو ایک پُر امن راستہ نکالتی ہے۔ لیکن انسانیت کے علمبردار دلائی لاما اور آنگ سان سوچی اس وحشیانہ قتل عام کو کیوں نہیں رکوا رہے ہیں؟۔۔۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ آسام فسادات 41 ہلاکتوں کو انٹر نیشنل میڈیا کوریج دے رہا ہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں  وحشیانہ انداز کی ہلاکتوں پر پاکستان سمیت دنیا بھر کا میڈیا  خا موش کیوں ہے ؟؟؟ 
یہ کیا معمہ ہے ؟؟؟ 
نوٹ: اگر کسی قاری کے پاس درج بالا سوالات کے جوابات ہیں تو برائے مہر بانی میری معلومات میں اضافہ فرمائیں (صرف جوابات پبلش ہونگے)۔ لنک پر موجود کالم سے متاثر ہوکر یہ پوسٹ لکھی ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔
آپ کا بُہت شُکریہ۔( ایم۔ ڈی)

Tuesday, July 24, 2012

" ٹی وی چینل ماریہ کا۔۔۔۔اثر یقینی "

منجانب فکرستان:- ماریہ ٹی وی/ سعودی عرب/ امریکی/ مغربی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس طرح دو سعودی خواتین اتھلیٹس کا اولمپک میں حصّہ لینا دُنیا کیلئے ایک بڑی  حیران کن خبر تھی، اسی طرح خواتین کے حوالے سے مصر کا "ماریہ ٹی وی چینل" بھی دُنیا والوں کیلئے کوئی چھوٹی خبر نہیں ہے، چونکہ اس چینل کو چلانے والی خُواتین نہ صرف برقعہ پوش ہیں بلکہ نقاب بھی لگا تی ہیں اور نقاب لگا کر پروگرام پیش کر تی ہیں اس ٹی وی چینل کے مقاصد یہ بتائے جا رہے ہیں کہ برقعہ پوش خواتین کو موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ برقعے/ نقاب میں رہتے  ہوئے اپنی صلاحیتوں  کا بھر پور طریقے سے اظہار کر سکیں گی ۔۔۔۔
ماریہ چینل کا اثر نہ صرف عرب دنیا بلکہ مسلمانوں کی اکثریت رکھنے والے ممالک پر بھی پڑے گا۔ممکن ہے کہ ہمیں جلد ہی یہ خبر سننے کو ملے کہ سعودی عرب میں بھی ماریہ طرز کے چینل نے اپنی نشریات کا آغاز کردیا ہے۔۔۔سعودی عرب کے بعد کے ممالک۔؟۔؟۔؟۔؟۔؟ اور پھر پاکستان۔۔ :grin::grin:
امریکی اور مغربی تھنک ٹینکس کے بھی کان کھڑے ہوگئے ہونگے اور سوچ میں پڑ گئے ہونگے کہ خُدا جانے یہ نقاب پوش چینل کیا گل کھِلائے گا؟؟؟:grin::grin:
 ماریہ ٹی وی کی جھلک لنک پر ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم۔ڈی) 

Monday, July 23, 2012

" دُعاؤں میں یاد رکھنا "

منجانب فکرستان:کسی شخص پر دُعاؤں میں یاد رکھنے کی ذمہ داری ڈالنا کہاں تک صحیح ہے؟؟؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بُہت سے الفاظ یا جملے جب عام بول چال میں کثرت سے استعمال ہو نے لگتے ہیں، تو ان کے معنوں میں فرق آجا تا ہے۔" دُعاؤں میں یاد رکھنا " ایک ایسا ہی جملہ ہے جو آجکل کثرت سے بولے جا نے والا جملہ ہے،اس جملے کے معنی میں اتنا زیادہ فرق آگیا ہے کہ ایک طرح سے یہ بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔شروع شروع میں اس "جملے" کو کسی خاص مسئلے مثلاً بیماری سے صحت یابی،  ،کاروبار ،نوکری وغیرہ کیلئے  قریبی رشتے دار یا خاص الخاص دوست ایک دوسرے سے نماز میں خصوصی دُعا کیلئے کہتے تھے، اور جس سے کہا جاتا تھا وہ اپنے پر فرض سمجھ کر اُسے ادا کرتا تھا  یعنی اُس شخص کا نام لیکر اُس مسئلے کے حل کیلئے دُعا کرتا تھا ،پھر یہ جملہ عام رواج پا گیا تواب یہاں پر آکر اس جملے  میں سے اسکی اصلی خصوصیت یعنی خصوصی مسئلے کیلئے دُعا والا تصور نکل گیا ۔۔۔
بازار سے کوئی چیز خریدی دُکاندار کہہ رہا ہے دُعاؤں میں یاد رکھنا یا خریدار دُکاندار سے کہہ رہا ہے دُعاؤں میں یاد رکھنا ،کسی سے ملاقات ہوئی ختم ہونے پر خُدا حافظ یا اللہ حافظ کہنے کی بجائے دُعاؤں میں یاد رکھنا کہنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے، جواباً لوگاثبات میں سر ہلاتے ہیں یعنی ہاں یاد رکھیں گے۔ اس  طرح آپ ذمہ داری  لے لیتے ہیں کہ آپ اُس شخص کو یاد رکھ کر اُس کیلئے دُعا کریں گے ۔۔ دن بھر میں نہ جانے کتنے لوگوں سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کئی لوگوں کا تو یہ تکیہ کلام بن گیا  ہے،آپ کس کس کو یاد رکھیں گے؟؟ نتیجاً یہ جملہ رسمی اور بے معنی ہوگیا ہے۔ اس لیے۔۔کسی شخص پر دُعاؤں میں یاد رکھنے کی ذمہ داری ڈالنا کہاں تک صحیح ہے ؟؟؟
درج بالا خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اب اجازت دیں ۔آپکا بُہت شُکریہ ۔(ایم-ڈی)  

Sunday, July 22, 2012

"گن کلچر "

منجانب فکرستان:"پروپیگنڈہ" بمعنی بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لگتا ایسا ہے کہ دہشت گردی ، دہشت گردی کی راگنی اتنی زیادہ الاپی گئی کہ اسکا اثر امریکی اورمغربی نوجوانوں میں بھی سرائیت کرگیا، جس کی انتہائی وحشیانہ مثال امریکی سینما میں 14 ہلاکتیں 70 زخمی/ناروے کی دہشت گردی بھی ایسی ہی سفاکانہ تھی،  امریکہ اور یورپ اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے خبط میں لاشعوری طور پر اپنے  آپکو  غیرمحفوظ بنا لے رہے ہیں۔۔ چونکہ پروپیگنڈہ راگنی کے تنائج حسبِ منشا نکلنے کے بجائے اس کے بر خلاف نکل رہے ہیں۔۔۔
 اگردہشت گردی پروپیگنڈہ راگنی بند نہ ہُوئی تو یہ راگنی دُنیا بھر کے نوجوانوں میں سرایت کرجائے گی چونکہ دُنیا بھر کے نوجوانوں میں ویسے بھی معاشی بحران کے حوالے سے سخت فرسٹریشن پایا جاتا ہے، جس نے ان نوجوانوں کی سوچ کو مفلوج کیا ہُوا ہے،یہ راگنی بند نہ ہوا تو ان نوجوانوں کو دہشت گردی کی راہ دکھائے گی(ان فرسٹریشن زدہ نوجوانوں نے اپنےفرسٹریشن کی جھلک وال اسٹریٹ قبضہ تحریک میں بھی دُنیا کے دکھادی ہے) امریکی اوریورپی تھنک ٹینکس سر جوڑ کر بیٹھیں اور غیر جانبدارانہ بلا تعصبی حساب لگائیں کہ دہشت گردی پروپیگنڈہ پالیسی نے دُنیا میں خوف،دہشت اور گن کلچر کو بڑھاوا دیا  ہے یا کہ اس میں کمی کی ہے۔ جواب آسانی سے مل جائے گا۔ 
لنک پر کچھ اخبارات کی ہیڈ لائنز ہیں۔ اب اجازت دیں ۔ آپکا بُہت شُکریہ۔(ایم۔ڈی)

Friday, July 20, 2012

مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟؟؟

منجانب فکرستان: کہیں یہ" مُک مُکا" کا مسئلہ تو نہیں ہے؟ خبر کیا کہتی ہے ؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بیچارے بچے کہیں "انا" اور ضد کی وجہ سے  پولیو میں مبتلا نہ ہوجا ئیں شمالی وزیرستان کے ایک لاکھ 61 ہزار بچّوں کا کیا قصور ہے کہ جنہیں پولیو کے قطرے نہیں پلائے جارہے ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ شمالی وزیرستان نے پولیو مہم کی بحالی کے لیے میران شاہ اتمان زئی قبیلے کا جرگہ طلب کیا، جرگہ میں پولیٹیکل ایجنٹ نے بتایا کہ حکومت نے تمام ترقیاتی فنڈ اس لیے  روک لیے ہیں کہ پولیو قطرے پلانے کی مہم شروع نہیں کی گئی، جواباً اتمان زئی جرگہ کے عمائدین نے پولیٹیکل ایجنٹ پر واضع کیا کہ جب تک ڈرون حملے بند نہیں ہو تے تب تک پولیو مہم کا بائیکاٹ جاری رہے گا ۔۔۔ڈر یہ ہے کہ کہیں اس بائیکاٹی ضد کی وجہ سے بیچارے بچے پولیو میں مبتلا ہوکر اپائج  نہ ہوجائیں ۔بے شک ڈرون حملے ظلم ہیں لیکن / کیا اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ہم اپنے ہی بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلاکر زندگی بھر کیلئے معزور بنا ڈالیں ؟؟؟ 
 خبر کیلئے لنک پر جائیں، اور مجھے دیں اجازت۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ۔۔ (ایم۔ڈی)    

Thursday, July 19, 2012

* ٹرائینگلی محنت کی سول ٹچ تخلیق *

منجانب فکرستان: راجیش کھنہ پر پکچرائز ایسا گانا ، جس میں فلسفہ زیادہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جنہیں ہم جانتے ہیں چاہے وہ کسی حوالے سے ہو اُن میں سے کوئی اس دُنیا سے چلا جاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارا کوئی چلا گیا ہے راجیش کھنہ کے چلے جانے کا احساس بھی ایسا ہی ہے۔اُن پر پکچرائز ایک ایسا پُر اثر گا نا جس میں فلسفہ زیادہ ہے۔اس گانے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اِسکو لکھنے والے آنند بخشی ،میوزک دینے والے آر۔ڈی برہمن اور آواز دینے والے کشور کمار تینوں اس دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن اپنی ٹرائینگلی محنت کا ثمر روح کو چھو لینے والا یہ پُر اثر نغمہ ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں۔۔ آئیں کچھ دیر کیلئے اپنا وقت انکی تخلیق کے دائرہ اثر  میں گُذاریں۔
نوٹ :- اگر نیٹ کی اسپیڈ کم ہے تو وڈیو کی اسپیڈ 240 کرلیں شکریہ ۔ (ایم۔ڈی) 

Monday, July 16, 2012

" نا دیدہ مخلوق "

منجانب فکرستان:جن،بھوت،پری وغیرہ کے بارے میں"آئس لینڈی" باشندوں کی دلچسپ مختصر لوک کہانی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک بارخُدا  نے"ایڈم اور ایو " سے ملاقات کی، اُنکا گھر دیکھا ، اُن کے بچوں کو دیکھا، پھر خُدا  نے ایو سے پوچھا "باقی بچّے کہاں ہیں ؟" ایو نے کہا" بس یہ ہی ہیں" وہ اس  بات  پر شرمندہ تھیں کہ باقی بچوں کو خُدا کے سامنے اس وجہ سے نہ لا سکیں کہ وہ نہائے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔اس پرخُدا نے کہا " جو لوگ خُدا  سے چھپتے ہیں خُدا  بھی اُنہیں باقی لوگوں سے چُھپا دیتا ہے "اس طرح یہ بچّے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پوشیدہ ہوگئے۔۔۔جن،بھوت، پری،بونے، وغیرہ انہیں پوشیدہ بچوں کی اولادیں ہیں اور جو بچے خُدا کے سامنے صاف ستھرے آئے تھے ، ہم انسان، اُنکی نسلیں  ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ تاویلی لوک کہانی 15 جولائی کے سنڈے ایکسپریس میگزین میں چھپی، مُجھے دلچسپ لگی اس لیے اپنے اُن دوستوں کیلئے بلاگ پر سجائی ہے کہ جن کی نظروں سے یہ کہانی نہیں گُذری۔۔/اب اجازت دیں۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
 (ایم۔ڈی)


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...