منجانب فکرستان پیش ہے : بشکریہ تبصرہ نگار محمد عامر کا فراہم کردہ ڈاکٹر غلام سرور کا وڈیو لنک ۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب سونے ،تانبے اور کوئلے کے ذخیرہ کی خوشخبریوں سے پاکستان کے مستقبل کے سُنہری خواب بنُنے لگا تھا کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے دو تین کالم ایسے پڑھنے کو ملے کہ سُنہری خواب
بن گئے،گو عمران خان سے بھی مستقبل کیلئے اچّھی آس لگائے بیٹھے ہیں ۔۔۔لیکن آج کے اخبار میں پھر ایک ایسی خبر چھپی کہ "دل" اُس خبر کو "انقلاب" کانام دینے کیلئے پرُ جوش ہورہا ہے ۔۔۔لیکن ذہن کہہ رہا سوچ لو ! 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب سونے ،تانبے اور کوئلے کے ذخیرہ کی خوشخبریوں سے پاکستان کے مستقبل کے سُنہری خواب بنُنے لگا تھا کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے دو تین کالم ایسے پڑھنے کو ملے کہ سُنہری خواب
وجہ اسکی یہ ہے کہ کثرت استعمال سے لفظ "انقلاب" کے معنی کو نقصان پہنچا ہے ، اب یہ معمولی معمول تبدلیوں میں بھی استعمال ہونے لگا ہے ۔ لیکن میں جس انقلاب کا ذکر کر رہا ہوں وہ واقعی ایک انقلاب ہےاس لیے کہ دُنیا بھر میں اسکے اثرات مرتب ہونگے۔۔۔اب آپ ذرا تصور میں لائیں کہ ۔۔۔اگر گاڑیاں تیل کے بجائے پانی پانے سے چلنے لگیں ۔۔ کاربن کے بجائے آکسیجن خارج کرنے لگیں تو ۔۔دُنیا۔۔ کیا سے کیا ہوجائے گی؟؟؟ کیا یہ انقلاب نہ ہوگا ؟؟؟
جب میں پاکستان کے اِس جینئس شہری جناب ڈاکٹر غلام سرور سے مُتاثر ہوکر یہ پوسٹ لکھ رہا تھا تو ذہن میں جینئس "ارفع کریم" کا چہرہ بھی گُھوم گیا ، دُعا گو ہوں کہ" ربِ کریم " ارفع( جینئس) کریم" کو جنّت میں ارفع واعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین)اب آپ ذیل کا کاپی پیسٹ تراشہ پڑھیں ، وڈیو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ میں نے لفظ "انقلاب " صحیح استعمال کیا ہے نا / یا میں نےاس لفظ کو نقصان پہنچایا ہے
۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ ڈی)
23 جنوری 2012