Friday, November 11, 2011

حکومتی اُمور " سوکنیں ثابت ہوتی ہیں !!!۔ "

منجانب فکرستان :"حکومتی اُمور" خاتون اوّل کیلئے سوکنیں ثابت ہوتی ہیں۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قارئین کرام آج ہم ، امریکہ ، کینیڈا ، اور اردن کی "خاتونِ اوّل"کی زندگیوں میں مختصراً جھانکیں گے۔۔ ۔ یہبات تو ہر شادی شُدہ شخص بخوبی جانتا ہے کہ ایک سمجھدار بیوی کی خواہش کیا ہوتی ہے ؟ یہی نا کہ اسکا شوہر بیوی کے سامنے ہمیشہ مُسکرا مُسکرا کے یہ گیت گُنگُناتا رہے : جو تم کو ہو پسند وہی بات کریں گے ٭تم دن کو اگر رات کہو رات  کہیں  گے ۔۔ 
یہ پوسٹ لکھنے کا خیال ایسے آیا کہ مشعل اوباما نے ایک اسکول کی تقریب سے خطاب  کرتے ہوئے اپنے دُکھ کا اظہار انِ الفاظ میں کیا کہ صدر کی بیوی ہونا آسان نہیں ۔   اوباما ہمیں اپنے ساتھ کھینچتے رہتے ہیں ۔۔اس طرح کی  زندگی  میں میںگُھٹنمحسوس کرتی ہوں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  جیسے میری آزادی چھنِ گئی ہو ۔ ۔۔
 قارئین  کرام مشعل اوباما کی باتیں سمجھنے کیلئے ہمیں کینیڈا کی سابقہ خاتون اوّل مارگریٹ ٹروڈو  کی زندگی میں جھانکنا ہوگا ۔ چونکہ اُنہوں نے اپنی آپ بیتی میں اس کیفیت کی اچّھی عکاسی کی ہے ۔۔۔وہ کہتیں ہیں: میں سارا دن ٹروڈو کا انتظار کرتی رہتی تھی ، بہترین میک اپ کرتی تھی اور خوبصورت لباس پہنتی تھی ۔۔۔ مگر جب وہ کام سے آتاتھا تو سوٹ اُتار کر رات کے کپڑے پہن لیتا تھا ۔ جب میں اُس سے کہتی کہ میں سارادن اکیلے بور ہوتی رہی ہوں۔۔ تو وہ کہتا تمہاری زندگی تو خوشگوار ہے۔۔۔مار گریٹ ہر وقت کی سیکورٹی سے بھی بُہت نالاں تھیں ایک کو ڈانٹنے پر اُسنے کہا آپ ہمیں کیوں ڈانٹتی ہیں، ہم تو آپکی حفاظت کیلئے ہیں ۔۔مارگریٹ نے کہا تم حفاظت نہیں ہماری نگرانی کرتے ہو۔۔۔( مطلب کہ جس طرح قیدیوں کی نگرانی ہوتی ہے ۔ایم ڈی )۔۔کتاب میں سرکاری رسومات کا جو نقشہ کھینچا وہ بھی زندگی کو روبوٹ بنادینے جیسا ہے۔مہمانوں سے کیسے ملنا ہے ، کیا گفتگو کرناہے، ترجمان کے زریعے کیسے بات کرنا ہے ،فلاں مہمان سے فلاں موضوع پر گفتگو کرنا ہے اور فلاں موضوع پر گفتگو نہیں کرنا ہے۔ کس  سےبے تکلف ہونا ہے کس سے  محتاط گفتگو کرنا ہے ۔ یہ سب کرنے میں انسان کی اپنی شخصیت کہاں باقی رہتی ہے۔ آخرِ کار مارگریٹ نے انِ سرکاری رسومات سے بغاوت کردی جسکا نتیجہ طلاق نکلا۔ 
کتاب میں اُردن شاہ حُسین کی بیوی ملکہ" عالیہ" کے خط کا اقتباس بھی شامل ہے۔ مارگریٹ اور عالیہ کی آپس میں اچّھی دوستی تھی ایک دوسرے کو اپنی بپتا سناتے تھے ۔ خط میں عالیہ نے مارگریٹ کو مشورہ دیا کہ اپنا فرسٹریشن کم کرنے کیلئے جب کوئی نہ ہو کمرہ بند کرکے خوب چِلاؤ ، شورمچاؤ، توڑ پھوڑ کرو چونکہ میں بھی ایساہی کرتی ہوں جس مجھے سکون ملتا ہے۔۔۔۔
 جبکہ شوہروں  کو حکومتی سیاست سے فرصت ہی نہیں ملتی کہ بیویوں کو ٹائم دے سکیں اور اُن کے دکھ کو سمجھ سکیں ۔یوں "حکومتیں" بیویوں کیلئے نئی سوکنیں ثابت ہوتی ہیں۔ جو شوہروں کو قابو کرلیتیں ہیں ۔۔۔ 
عمران خان کا بھی یہی کہنا ہے کہ سیاست میں آکر وہ بیوی کو مناسب ٹائم نہیں دے سکے تھے۔ 
_______________________________________________________________
قارئین کرام بہت فرسٹریشن محسوس ہورہی ہے چلو چلتے ہیں کسی خانہ بدوش کی بستی میں یہ میدان کے بیچ خیمہ زن ہیں ، چاروں طرف کھُلا میدان ہے   موسم بُہت سُہانا ہے، ہلکی سی ٹھنڈ پڑ رہی ہے، چاند کی چودھویں رات ہے اور رات کے 11بجے ہیں پوری بستی چاندنی میں نہا رہی ہے ۔سفید دُودھیا چاندنی ہلکے ٹھنڈے موسم نے دلوں میں رومانس جگادیا ہے۔۔۔ لیکن بچّے جاگ رہے ہیں ۔ بستی والے جا گ رہے ہیں۔ کوئی ریڈیو سُن رہا ہے تو کوئی ٹیپ ریکارڈ اور کوئی بیوی سے گپ شپ کر رہا ہے ۔۔۔کیونکہ کچھ دیر بعد دونوں نے بھر پور چاندنی  کا  بھر پورآنند لینا ہے ۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قارئین کرام پہلے ہم نے دنیا کے سب سے بڑے لوگوں کی زندگی پر ایک نظر ڈالی  پھر ہم نے دنیا کے سب سے چھوٹے لوگوں کی زندگی پر نظر ڈالی ۔۔۔۔۔ تفصیل کے خواہش مند لنک پر جائیں اور مجھے دیں اجازت آپ کا بُہت شُکریہ۔۔(ایم ۔ڈی)
1
 http://www.urdutimes.com/content/%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%DB%81%D9%84%DB%8C%DB%81-%D8%AE%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C-%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D8%BA%DB%8C%D8%B1-%D9%85%D8%B7%D9%85%D8%A6%D9%86
2
http://en.wikipedia.org/wiki/Margaret_Trudeau

Thursday, November 10, 2011

اقبال کے مقالات نے مجھے مسلمان بنادیا ۔ (سبرینا) ۔

 منجانب فکرستان پیش ہے:٭ پی ایچ ڈی اسکالر، فلسفی اور مصنفہ کا اسلام قبول کرنا ٭
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  
اِسلام اور مذہب کے حوالے سے علامہ اقبال  کی صحیح فکر جاننے کیلئے ہمارے پاس اُنکے وہ "مقالات "ہیں  جو کہ انگلش میں لکھے گئے ہیں، میں ان مقالات کے  دیباچہ سے مختصر اقتباس  پیش کروں گا جس سے اُنکی فکر کا کچھ اندازہ ہوسکے ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں: جدید انسان کی تعلیم و تہذیب اور اسکی نفسیات ماضی سے بُہت کُچھ مختلف ہوگئی ہے۔۔ ۔ قدیم انداز کا فکر و ذکر اس کیلئے  یقین آفرین اور دلنشین نہیں رہا ۔۔۔۔ اس لیے قدرتی طور پر یہ تقاضا پیدا ہوگیا ہے کہ علم دین کو سائنٹیفک یا حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے ۔۔۔۔ میں نے اس تقاضے  کو مقالا ت میں پورا کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔ میرا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کا مذہبی فلسفہ اس انداز میں پیش کیا جائے کہ اسلام کی فلسفیانہ روایات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے اور انسانی افکار کے جدید افکار سے بھی ثبوت مہیا کیا جائے ۔۔۔۔قدیم وجدید کے امتزاج سے فکر اسلامی ایک نئی شکل اختیار کرسکتا ہے ۔۔۔ 
 اِن مقالات سے متاثر ہوکر روم یونیورسٹی کی سبرینا مسلمان ہوگئیں جسکی تفصیل یکم نومبر 2011 جنگ میں آئی ہے پڑھنے کیلئےآخر میں تراشہ موجود ہے ۔۔عمران خان بھی ان مقالہ جات سے بہت متاثر ہیں۔۔۔۔۔۔جبکہ ان مقالات  کی اشاعت پر فرقہ پرست عُلماء نے کافی اُدھم مچایا تھا بُہت شُکریہ: اقتباس (فکرِ اقبال)
 تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔ (ایم ۔ڈی)


Monday, November 7, 2011

" قارئین کرام سے / بے تکلفانہ باتیں "

 منجانب فکرستان پیش ہیں پوسٹ ٹیگز: طالیس/ڈیلفی کا مندر/سقراط/آپشن/  ملاپ/ ریٹنگ/ربِ کریم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عزیز قارئین آج عید کا دن  ہے آپ سے  بے تکلفانہ باتیں کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔ ان باتوں  میں اپنی خامیوں کا اعتراف بھی شامل ہے ، چونکہ دُنیا  کے پہلے فلسفی سائنسدان جناب طالیس صاحب( یہ وہی صاحب ہیں کہ جنہوں نے کہا تھا کہ ہر شے پانی سے وجود میں آئی ہے)  سے کسی نے پوچھا کہ محترمآپ ذرا یہ  بتانا پسند فرمائیں گے کہ ۔ دنیا کا آسان ترین  کام کون سا ہے اور یہ بھی کہ دُنیا کا مشکل ترین کام کون سا ہے۔۔آپ نے جواب دیا ک دُنیا کا  آسان ترین کام دوسروں کو مشورہ دینا ہے اور دُنیا  کا  مشکل ترین کام اپنے آپ کو پہچان نا ہے ،یہ بات ایک اور حوالے سے سُقراط سے بھی منسوب ہے۔ وہ اس طرح کہ یونانیوں کے نزدیک سب سے زیادہ مقدس مندر ڈیلفی کا مندر تھا جو غیب کی باتیں بتاتا تھا ڈیلفی کے مندر کے دیوتا سے پوچھاگیا کہ بتاؤ سب سے زیادہ عقل مند کون ہے۔ دیوتا  نے بتادیا سقراط سب سے زیادہ عقل مند ہے ۔ جب سقراط تک یہ بات پہنچی تو سقراط نے کہا دیلفی کے دیوتا نے صحیح کہا ہے ۔ وہ اس طرح کہ میں اپنی جہالت سے واقف ہوں جبکہ لوگ اپنی جہالت سے واقف نہیں ہیں ۔ یہ بات آج بھی اتنی ہی صحیح  جتنی کہ سقراط کے دور میں صحیح  تھی ۔ آج بھی  مجھ سمیت کسی کو اپنی جہالت نظر نہیں آتی ہے۔ لیکن دوسرے کو جاہل کہنے میں بڑا مزا آتا ہے۔۔۔دنیا میں یہی کچھ تو ہورہا ہے ۔ ۔۔دوسرا جاہل ہے ۔ ۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ جب کوئی خبر/واقعہ متاثر کرتا ہے تو  وہ دماغ میں  پہلے سےموجود خیالات سے ملاپ کر کے ایک سوچ وضع کرتا ہے ۔ مثلاً اخبار میں جملہ پڑھا کہ ملک میں ہر طرف کرپشن کی آگ لگی ہوئی ہے ۔ لفظ آگ نے آگ بجھانے والی چڑیا کی یاد تازہ کردی اور یہ بات ٹیکسٹ میسیجیز سے نتھی ہوکر اس خیال میں ڈھل گئی کہ ٹیکسٹ میسیجیز  آگ بجھانے والی چڑیوں جیسا کام کرسکتی ہیں یعنی ٹیکسٹ میسیجیز کے زریعے پاکستان میں انقلاب لایا جاسکتا ہے ۔ (پاکستان کرپشن کی آگ میں جل رہا ہے۔ جملے نے ذہن میں موجود خیالات سے ملاپ کھا کر /بلینڈ ہوکر حل پیش کر رہا ہے) ۔۔۔ رب نے انسان میں اپنی روح پھونک کر انسان کو بڑی صلاحیتوں سے نواز دیا ہے ۔ انسان  میں ایسی صلاحیت ہے کہ اُسکے سامنے مسئلہ آتے ہی اُسکا ذہن مسئلہ کے حل کے آپشن دینے لگ پڑتا ہے  ۔ آج انسان کی ساری ترقی  کا دارومدار ربِ کریم کی  اسی عطا کردہ صلاحیت کی بدولت ہے ۔ ۔۔۔
یہ ساری تمہیداپنی خامیاں بتانے کیلئے  باندھی ہے کہ  خامیاں بتانا بُری بات نہیں ہے۔ اب میں آپ کو پوسٹ کے حوالے سے مجھ میں جو خامیاں ہیں یا جنہیں میں دریافت کر پایا ہوں وہ یہ ہیں کہ جب کوئی خبر ذہن/ دماغ میں بلینڈ ہوکر پوسٹ کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے تو اسکو جلدی جلدی  یک نشست میں مکمل کرتا ہوں کہ کہیں خیالات بھاگ نہ جائیں ، جسکا نتیجہ کبھی گرامر کی غلطیاں کرجاتا ہوں   تو کبھی اسپیلنگ میں غلطیاں  رہ جاتی ہیں ۔ جیسے سابقہ پوسٹ کے عنوان" ابراہیم" میں غلطی ہوگئی لیکن متن میں" ابراہیم "صحیح لکھا ہوا ہے ۔ کبھی کوئی لفظ لکھنا بھول جاتا ہوں ،  حالانکہ پریویو میں سب ٹھیک نظر آتا ہے بھولا ہوا لفظ بھی ایسے پڑھ جاتا ہوں کہ جیسے لکھا ہُوا ہے۔ لیکن جب پبلش کو کلک کرکے پڑھتا ہوں تو غلطیاں نظر آنے لگتی ہیں پھر جلدی جلدی ایڈیٹنگ کر نے لگتا ہوں اب دوسروں بلاگروں کو یہ مسائل پیش آتے ہیں کہ نہیں مجھے نہیں معلوم ۔۔۔۔ ایک بات اور بتا دوں کہ میں ریٹنگ   دوڑ کو اچھا نہیں سمجھتا ،  ریٹنگ کو مدِ نظر رکھنے سے بندہ پھر  پوسٹ کو عوامی زاویہ پہنانے لگتا ہے اس طرح  وہ اپنا ذاتی اور منفرد زاویہ پوسٹ کو نہیں دے پاتا ہے ۔۔۔میرا طریقہِ کار یہ ہے کہ  کسی خبر/ واقعہ سے ذہن/ دماغ میں جو زاویہ ابھرتا ہے۔۔۔ 
چاہے وہ زاویہ کتنا ہی نیا اور غیرعوامی کیوں نہ ہو اُسے ویسا ہی لکھ دیتا ہوں ۔۔ ۔۔ قارئینِ کرام آپ سے بہت ساری باتیں ہوگئیں اب اجازت دیں آپ کا بُہت بُہت شُکریہ۔۔۔( ایم ۔ڈی )

Sunday, November 6, 2011

" سب کو مبارک عید کی خوشیاں "

٭قارئین سیارہ ٭ انتظامیہ سیارہ ٭بلاگرز ساتھی٭
آپ سب کو" فکرستان "عید کی خوشیوں کی ٭پرُ خلوص مبارک باد پیش کرتا ہے 
آپ کا ساتھی ۔ ایم ۔ڈی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Friday, November 4, 2011

" یہودی اور سنتِ ابراہمی "

 منجانب فکرستان پیش ہے پوسٹ ٹیگز: سنتِ اِبراہمی/ یہودی / معلومات میں اضافہ/ وکی پیڈیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 سنتِ ابِراہمی قربانی کے حوالے سے میرے ساتھی بلاگرز نے کافی معلومات فراہم کی ہیں ۔۔۔مسلمان ہونے کے ناطے ان معلومات میں سے بہت سی معلومات وہ ہیں جو قربانی کے حوالے سے ہم  پہلے سے  جانتے ہیں ۔۔۔میں جو معلومات فراہم کر رہا ہوں اس سے بھی مسلمانوں کی ایک تعداد ضرور واقف ہوگی تاہم میرے خیال میں کچھ تعداد ایسی بھی  ضرور ہو گی  جن کیلئے یہ معلومات بالکل نئی ہونگیں ۔۔۔  وہ یہ ہیں کہ یہودی قربانی کے اس واقعہ کو  حضرت اسماعیلؑ کے بجائے حضرت ابراہیمؑ کی پہلی بیوی حضرت سارہ کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹے حضرت اسحاقؑ سے منسوب کرتے ہیں ۔۔ ۔
اس پوسٹ کا بنیادی مقصد جنہیں نہیں معلوم اُنکی معلومات میں اضافہ کرنا ہے ۔۔۔تفصیل کے خواہش مند لنک پر جائیں مُجھے دیں اجازت آپکا بُہت شُکریہ ۔ تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔ ( ایم ۔ ڈی ) 
http://en.wikipedia.org/wiki/Binding_of_Isaac



Monday, October 31, 2011

" عمران خان کا پریکٹیکل میسیج "

منجانب فکرستان پیش ہے : عمران خان نے  جلسہ میں دکھایا / اپنا میسیج/ بزریعہپریکٹیکل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عمران خان لاہور میں ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیا ب ہوگئے ہیں ، جلسہ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تحریکِ انصاف ایک عوامی طاقت بن کر ابھر رہی ہے ۔ جلسہ بتا رہا ہے کہ مستقبل کے الیکشن۔۔۔ ن لیگ کیلئے تر نوالہ ثابت نہیں ہونگے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جاگیردارانہ پٹواری نظام اورتھانہ کلچر عمران خان کو ناک چنے چبوائے گا ۔ ۔۔  
 ایک بڑے اخبار کے" لفافے باز" کالم نگار نواز شریف جلاوتنی دور میں آئے دن اپنے کالم میں نواز فیملی کی نماز روزہ پابندی  کا تذکرہ کّچھ اس انداز سے کرتے تھے جیسے دوسرے یہ پابندی نہ کرتے ہوں ۔۔۔۔
 عمران خان نے اسٹیج پر  نماز کی ادائیگی کے زریعے ایک طرف پریکٹیکلی یہ میسیج دیا ہے کہ وہ  نماز پابند مسلمان ہیں  تو  دوسری طرف شہزاد رائے  اور اسٹرنگز بینڈ کو اسٹیج پر پیش کرکے پریکٹیکلی یہ میسیج  بھی  دےدیا ہے کہ وہ انتہا پرست مسلمان نہیں ہیں۔ ۔۔۔( ایم ۔ ڈی)

Sunday, October 30, 2011

" حکومت گرانے کا خیال یا اُبال "

منجانب فکرستان  پوسٹ ٹیگز:  ریلیاں/ نفسیاتی دباؤ/ گراف بڑھنے کا خوف/مزاحمتی خوف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پاکستان اس وقت ریلیوں کی زد میں ہے ۔یہ ریلیاں عوامی مسائل پر نہیں ذاتی ایجنڈے  پر مبنی ہیں ۔اسلئیے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اگر یہی ریلیاں عوامی مسائل پر ہوتیں تو مسائل کے حل کیلئے حکومت پر یقیناً دباؤ پڑتا ۔ یہ حکومت اوّل دن سے ہی سخت نفسیاتی دباؤ میں تھی چونکہ حکومت بے نظیر شہادت  کی وجہ سے ملی تھی نہ تجربہ تھا نہ واضع اکثریت اسلیئے حکومت مزاحمت کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی یہ ہی وجہ تھی کی اس نے ہر جانب مفاہمت کی پالیسی کو اپنایا ، اے این پی ، ایم کیو ایم ، ق لیگ اور سب سے زیادہ جس پر ذمہ داری تھی ن لیگ بھی سب مفاہمتی لالی پاپ چوسنے لگے اسطرح حکومت نے ٹھاٹ کے ساتھ 4 سال گُذار لیے ۔ اگر یہ پارٹیاں عوامی/ قومی مفاد کی حامل پارٹیاں ہوتیں تو مفاہمتی لالی پاپ کو عوامی مسائل سے نتھی کرتیں اور حکومت پر شروع دن سے عوامی مسائل حل کیلئے دباؤ بنائے رکھتیں تو کمزور اور خوف زدہ حکومت  مزاحمتی خوف  کے زیر اثر  عوامی مسائل حل کرنے پر ضرور توجہ دیتی ۔ ۔۔۔
 ممکن ہے ن لیگ نے سوچا ہوکہ اگر پیپلز پارٹی نے عوامی مسائل حل کئے تو پیپلز پارٹی کا گراف بڑھ جائے گا شاید   اسی لیے چار سال تک مجرمانہ خاموشی اختیار  کئے رہے ۔ اب اچانک حکومت  گرانے  کا خیال ایسی اُبال کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے کہ زبان قابو سے باہر ہورہی ہے جواباً بھی ایسی ہی زبان استعمال ہورہی ہے کیا ان زبان درازیوں سے عوامی مسائل  فوکس ہونگے یا کہ پسِ پشت چلے جائیں گے۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بے نتیجہ اُبال ہے ۔ بُہت شُکریہ ۔تبصروں کی پبلشنگ بند ہے  ( ایم ۔ڈی )


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...