Sunday, October 16, 2011

" جیلانی بانو کا خصوصی انٹر ویو "

 منجانب فکرستان پیش ہے :جیلانی بانو کا خصوصی انٹر ویو (بشکریہ ایکسپریس سنڈے میگزین)  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Oجیلانی بانو4 نومبر 1936بدایوں میں پیدا ہوئیں ، لیکن حیدرآباد دکن  کو  اپنا وطن  مانتی ہیں Oواجدہ تبسم کے افسانے اچّھے ہیں لیکن ان افسانوں کا حیدر آبادی کلچر سے کوئی تعلق نہیں  ہےOدکنی اردو اس وقت ٹیکساس یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے O اوم پوری نے کہا ، شیام بینیگل نے مُجھے فلم پر بات کرنے لیےآپ کے پاس بھیجا ہے   ۔۔۔۔ 
نوٹ: جنہیں نہیں معلوم اُنکے کیلئے عرض ہے کہ بہتر پڑھنے کیلئے بائیں جانب انگلش  لائن امیج فروم پر  پیج وائز کلک کریں ۔مُجھے دیں اجازت آپ کا بُہت شُکریہ۔
 ( ایم ۔ ڈی )   



Thursday, October 13, 2011

" ذرداری کے نام ہزار دستخطوں وا لا خط "

فکرستان سےپوسٹ ٹیگز:اعتدال پسند/علماء مشائخ/مذہبی انتہاپسندیپیش گوئی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1)ایسا لگتا ہے بھٹو دور کی طرح ایک بار پھر پیپلز پارٹی مذہبی ٹیسٹ دائرہ میں داخل ہورہی ہے ۔ بھٹو دور میں قادیانی کافر قرار دیئے جانے کا ٹیسٹ  کیس تھا  اب زرداری کے سامنے ممتاز قادری کیس ہے دنیا کینظریں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں ، پاکستان  کیلئے بھی یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ۔ بھٹو کے فیصلے سےاعتدال پسند ناراض ہوئے تھے اور کچھ نے تو پیش گوئی بھی کرڈالی تھی کہ اس فیصلے  سے مذہبی انتہا پسندی بڑھے گی۔ جو سچ ثابت ہوئی۔۔۔
سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمیں صاحبزادہ فضل کریم نے صدرِ مملکت آصف ذرداری کو 1000سے زائد علماء مشائخ  کے دستخطوں کے ساتھ تفصیلی خط ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر خصوصی صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ تبدیل کریں ۔۔۔ ٹرین مارچ ، دھرنا اور تحریک تیز کرنے کا اِندیا بھی دیا ہے ۔۔۔ تفصیل کے خواہش ذیل لنک پرجائیں مجھے دیں اجازت آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔(ایم ۔ ڈی)
http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101352718&Issue=NP_LHE&Date=20111013
   



Wednesday, October 12, 2011

" عورت کی ہمت کو سلام "

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: خُدائی کلکولیشن/ کائنات میں رنگ/ بیوقوف بنانا/ ماں کی تعریف کے الفاظ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کشمیر "سری نگر" میں لڑکیوں کے اسقاط کا سروے ہونے لگا تو وہاں کی عورتوں نے کہا " مسلمان لڑکیوں کا اسقاط نہیں کراتے ہیں" لیکن سروے رپورٹ نے حقیقت کھول دی بھارتی مسلمانوں میں بھی معمولی فرق کے  ساتھ یہ عمل جاری ہے بھارت میں صورت حال اب یہ ہوگئی ہے کہ 1000لڑکوں کے مقابلے میں صرف 914 لڑکیاں رہ گئی ہیں ۔یہ خُدائی معاملے میں انسانی مداخلت کا نتیجہ ہے ورنہ خُدائی کلکولیشن تو صدیوں سے ٹھیک طریقہ سے لڑکے لڑکیاں برابری کی بنیاد پر چل رہی تھی اسی کے تحت کہا جاتا تھا کہ جوڑے آسمان میں بنائے گئےہیں، الٹراساؤنڈ کی کارستانی سے جوڑوں کی جوڑی اسقاط کے نظر ہورہی ہے ۔ 
اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ ۔عورت کی ڈیزائننگ کوڈ( جنیوم) میں یہ بات شامل ہے کہ گھر ہوکہ ویرانہ اسکو وہ سجاتی ہے قابلِ دید بناتی ہے اپنے آپ کو بھی سجا کر قابلِ دید بناتی ہے ۔ رنگوں کا استعمال بھی خوب جانتیں ہیں ( شوہروں کو بیوقوف بنانا بھی خوب آتا ہے) ۔۔۔ماں کے روپ کے تو کیا کہنے الفاظوں میں وہ دم خم نہیں ہے جو ماں کے روپ کی تعریف کرسکیں عورت  کوخالق نے جسمانی لحاظ سے مرد سے کمزوربنایا ہے لیکن  یہ کمی عورت کو زیادہ   ہمت دے کر پوری کردی ہے ۔ وہ جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتے ہوئے بھی ہر طرح کی    تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتی ہے بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ مردوں سے بھی آگے رہتی ہے ۔  
عورت میں موجود ہمت کی ایک جھلک اس خاتون نے دِکھادی ہے ۔ پورے دنوں کی حاملہ ہوتے ہوئے بھی 42 کلومیٹر میراتھن ریس میں حصّہ لیا ( عورت ہر معاملہ میں    اسی طرح سے فعال ہے/سوائے ایک معاملے کے) یہ فاصلہ سوا 6 گھنٹوں میں مکمل کیا پھر ہاسپیٹل جاکر بچیّ کو جنم دیا ۔۔۔"عورت کی ہمت کو سلام ہے" ۔۔۔۔
 نوٹ ؛ اس پوسٹ پرکئے گئے تبصرے  پبلش ہونگے ۔(ایم ۔ڈی )

Tuesday, October 11, 2011

عمران خان کیلئے ووٹ کیوں ؟؟؟

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: محور/مذہبی اسکالر/طالبان/امریکہ/ نواز شریف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــجیسا کہ عمران خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ علامہ اقبال ، محمد اسداور ڈاکٹر فضل الرحمان کے مذہبی خیالات سے متاثر ہیں ۔ یہ لوگ کسی  مذہبی درسگاہ کے  پڑھے ہوئے نہیں ہیں  ، جہاں مخصوص فرقہ کی تعلیم دی جاتی ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ انکا محور قُرآنی آیات ہیں ۔ دینی درس گاہوں سے نکلے عالم انہیں مذہبی اسکالر نہیں مانتے ۔بعض تو اِنکے خیالات پر  کُفر کا فتویٰ بھی لگا دیتے ہیں ۔۔۔
ہمارے مذہبی رہنما میڈیا میں "اِن " رہنے کیلئے  جمعہ کے جمعہ  کسی نہ کسی مسئلہ کو "مذہبی اشو "بناکے احتجاجی ریلیاں نکالتے ہیں  ۔۔۔ یہ مذہبی ہڑتالیں اور ریلیاں،  ایک طرف بے روزگاری ، حد سے زیا دہ بڑی ہوئی  مہنگائی ،معاشی نا انصا فی اور کرپشن جیسے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دیتیں ہیں  تو دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی کو بھی فروغ دیتی ہیں ۔۔ ۔
 عرب دنیا ، اسرائیل ،انڈیا ، یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے لوگ بڑے ہوئے انسانی مسائل   پر ریلیاں نکال رہے ہیں۔۔ ۔ جب کے ہم ان انسانی مسائل میں پورے کے پورے دھنسے ہوئے ہیں ۔اسکے باوجود ہم ان مسائل پر احتجاج نہیں کر رہے ہیں ۔ اسی سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے  کہ ہمارا ملک کس  انتہا پسندی  کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔۔۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں  اپنا رول صحیح ادا نہیں کر سکیں مثلاً شریف برادران ساڑے 3سال  تک سوتے رہے اس خلا کو کسی  سیاسی جماعت نے بھی فلِ نہیں کیا جسکا نتیجہ مذہبی رہنماؤں کو اسپیس مل گیا اور وہ جمعہ کے جمعہ مذہبی دُکان چمکانے لگے۔ ایسے میں عمران خان ہی پاکستانیوں کےمسائل پر  آواز اُٹھاتے ہیں ۔ وہ مذہب کے معاملے میں بھی فرقہ پرست یا انتہا پرست سوچ کے حامل نہیں ہیں اسکے علاوہ  ہمارے سامنے اور کوئی متبادل بھی تو نہیں ہے سارے آزمائے ہوئے ہیں  ایسے میں عمران خان کی صورت میں ہی ملک کیلئے کُچھ بہتری کی امید نظر آتی ہے کہ شاید وہ مُلک کی بہتری کیلئے جراَتمندانہ انقلابی فیصلے کرکے مُلک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکیں  چونکہ مُلک کو انقلابی فیصلوں کی ضرورت ہے نہ کہ مصلحتوں کی۔۔۔اب اجازت دیں   ۔۔بہت شُکریہ ۔۔۔(تبصروں کی پبلشنگ بند ہے )۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے ۔(ایم ۔ڈی)


Saturday, October 8, 2011

بنیادی مسائل پر احتجاج نہ ہونے کی وجہ !!!۔

فکرستان سے پوسٹ ٹیگز: وال سٹریٹ/ انڈیا/ممتاز قادری/سپریم کورٹ فیصلہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 پاکستانی قوم جتنی صابراور قوتِ برداشت کی حامل قوم دنیا میں شاید ہی کوئی اور ہو وہ یوں کہ یہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادیوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتی ہے ۔ مہنگائی ،بےروزگاری اور حد سے زیادہ بڑی ہوئی معاشی نا انصافیوں کو خاموشی سے برداشت کررہی ہے ۔  یہاں نہ "تحریر اسکوائر"جیسا احتجاج نظر آتا ہے اور نہ ہی" وال اسٹریٹ " جیسا دھرنا معاشی نہ ہمواری پرعرب ممالک میں اٹھنی  والی گرما گرم لہر نےبھی ہمارے ٹھنڈے  پڑےجسم کو کوئی حرات نہ پہنچا سکی جبکہ ہمارے وزیر  نے تو بڑے اعتماد سے یہ تک کہہ دیا کہ پاکستان میں مردے نہلانے میں بھی کرپشن پائی جاتی ہے  ۔یہ سن کر بھی قوم کے صبرِاستقلال میں کوئی جنبش پیدا نہیں ہوئی  یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی طرح کی کرپشن کے خلاف  ہمارے یہاں کوئی تحریک نہیں پائی جاتی ۔۔۔اسکی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟؟؟
  میں سوچتا ہوں کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہمارے مذہبی جماعتوں کے رہنما میڈیا میں "اِن " رہنے کیلئے کسی  بھی بات کو مذہبی اشو  بناکر جمعہ کے جمعہ مذہبی احتجاج کا جو سلسلہ پاکستان میں  شروع کر رکھا ہے (جیسے کل ممتاز قادری کے عدالتی فیصلے پر احتجاج تھا ) ان مذہبی احتجاجوں نے بے روزگاری ، معاشی نہ ہمواری اور کرپشن جیسےبنیادی ایشو کو پسِ پشت ڈال دیا ہو ۔ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ اتنی بےروزگاری،  اتنی معاشی نہ ہمواری، اور کرپشن ان ملکوں میں نہیں پائی جاتی جہاں پر کہ ان پر احتجاج ہو رہا ہے ۔۔۔
سپریم کورٹ نے کراچی بد امنی کیس کے فیصلے  میں سیاسی ،لسانی اور  مذہبی جماعتوں کا صحیح اصلی حقیقی چہرہ دکھا دیا ہے۔۔۔ بُہت شُکریہ ۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے ۔  (ایم ۔ڈی)

Tuesday, October 4, 2011

" ہیلتھ میسیج "

 منجانب فکرستان پیش ہے : " ہیلتھ میسیج  "
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
احتیاط ہی بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرات کو کم کرتی ہے ۔ اسی کے پیشِ نظر کینیڈا کے محکمہ صحت نے موبائل صارفین اور خاص کربچّوں کیلئے درج ذیل چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔۔۔ہیلتھ کینیڈا نے صارفین کو یہ مشورہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں دیا ہے ۔۔۔
 (خاص کر عورتیں خوب احتیاط کریں چونکہ عورتیں کھانے پکانے ،شادی بیاہ  سے لیکر بچوں کی پیدائش کے سارے مرحلے موبائل فون پر ہی طے کر تی ہیں ۔ شُکریہ( ایم ۔ڈی)۔
اوٹاوا: ہیلتھ کینیڈا نے موبائل فون صارفین کیلئے کینسر سے بچاؤ کیلئے ہدایات جاری کر دیں۔ محکمہ صحت نے صارفین کو کہا ہے کہ وہ کم دورانیے کی  فون کالز کریں اور فون پر بات چیت کیلئے ایئر پیس استعمال کریں یا تحریری پیغام رسانی (ٹیکسٹ میسیجنگ) کا سہارا لیں۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل کم سے کم استعمال کرنے کی اجازت دیں۔ بچوں پر اس سلسلے میں خصوصی توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ بچے بالغ افراد کی نسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے یہ ہدایات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی کینسر سے متعلق مئی میں جاری کردہ رپورٹ کے بعد جاری کی گئی ہیں۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق موبائل سے نکلنے والی ریڈیو فریکوئنسی اور بننے والا مقناطیسی میدان لوگوں میں کینسر کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے دماغی کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔( تصویر/ رپورٹ: بشکریہ اردو ٹائمز)


Monday, October 3, 2011

" سنڈے میگزین ایکسپریس سے منتخب اقتباسات "


منجانب فکرستان پیش ہے:عمران خان کی کتاب سے چند اقتباسات شائع شُدہ ایکسپریس سنڈے میگزین۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
عمران خان کی کتاب سے چند اقتباسات ایکسپریس اخبار نے اپنے سنڈے میگزین 25 ستمبر 2011  کی اشاعت میں شائع کئے تھے ۔میں نےان اقتباسات میں سے چند منتخب اقتباسات اپنے قارئین کرام کیلئے منتخب کئے ہیں ۔ تا ہم انکی زندگی کی تفصیل جاننے کے لیے اصل کتاب کا مطالعہ کرنا ہوگا۔۔۔ بشُکریہ اخبار ایکسپریس ۔( ایم۔ڈی) 
 
دل چا ہے تو یہ پاور فل سونگ سنُئے( ایم ۔ڈی)                             




یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...