Monday, July 18, 2011

انسانی سوچیں /شمالی سوچ/ جنوبی سوچ/ قہقہہ سوچ

  
فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز : نیپا چورنگی/ کے ای ایس سی / غریب / قہقہہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 رات کےتقریباً 9 بجے تھے ۔ہماری بس نیپا  چورنگی پُل سے گُزر رہی تھی۔ پُل سے ملحق کچّی  بستی آباد ہے ۔جس میں حال ہی میں ریڈش مرکری اسٹریٹ لائٹ لگی ہیں جس  سے بستی جگ مگ کرنے لگی ہے۔ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے مجھ سے ذرا غصّہ بھرے تیز لہجہ میں کہا ۔۔۔ دیکھو یہ بستی والے کُنڈا لائٹ ( غیر قانونی لائٹ) استعمال کرتے ہیں  کے ای ایس سی والے اندھے ہیں کیا اُنہیں نظر نہیں آرہا ہے کہ ساری بستی غیر قانونی لائٹ استعمال کر رہی ہے یہاں تک کہ ایسی بستیوں میں گیس بھی نہیں ہوتی اس لیے کھانا پکانے کا کام بھی  یہ ہِٹر پر کرتے ہیں ۔ بجائے انکی بجلی کاٹنے اور  چوری کو روکنے کے ہم   بل دینے والوں کے ہی ریٹ بڑھائے جارہے ہیں ۔میں جواب دینے ہی والا تھا کہ اُن صاحب کے ساتھ بیٹھے ہو ئے صاحب  نےمسکراتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔ ارے بھئی  آپ یہ کیوں نہیں سوچتے  کہ   ان بیچارے غریبوں کا بھی تو حق ہے کہ یہ بجلی استعمال کریں ، یہ بھی کام دھندوں سے تھک  کرآئیں تو ٹی وی دیکھیں یا یہ صرف پیسہ والوں کا ہی حق ہے ۔ اُن صاحب کا لہجہ اتنا پُر اثر تھا کہ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے صاحب  کو ایسی چُپ سی لگ گئی  کہ جیسے ایکدم بولنا بھول گئے ہوں ۔اور اُنکے سپاٹ ہوتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مُجھے ہنسی آنے لگی لیکن میں نے اپنی ہنسی کو ضبط کیا اور اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا مبادا اتنا سپاٹ چہرہ دیکھ کر ضبط شُدہ ہنسی قہقہہ میں نہ تبدیل ہوجائے ۔۔شُکریہ۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔ ( ایم ۔ ڈی )

Saturday, July 16, 2011

٭ وزیر داخلہ سندھ منظور وساں ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ﷽
فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز : کشف / جماعت اسلامی / ایم کیو ایم / ریٹنگ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 کراچی روزانہ ڈھائی ارب روپئے ریونیو کماکے دینے والا شہر  ہے ۔۔ اس  پونے دو کروڑ آبادی والے شہر میں لوگ بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔۔ سابقہ وزیر داخلہ اتنے اہل اور صاحب کشف تھے کراچی کو لگی ہر بیماری کا علاج موٹر سائیکل ڈبل سواری پابندی کو سمجھتے تھے  ۔۔ ڈبل سواری پابندی کے خلاف سب سے زیادہ آواز جماعت اسلامی نے اُٹھائی/ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب سابقہ وزیر داخلہ کو ہٹا دیا گیا تو امیر جماعت اسلامی نے اُنہیں واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا ۔۔ یہ تو امیر جماعت اسلامی ہی جانتے ہیں کہ اُن میں ایسی کونسی خوبی دیکھی ہے ؟۔۔ منظور وساں آتے ہی ڈبل سواری پابندی ختم کردی یقیناً   مڈل لوئیر طبقہ کے لیےانکا یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ ۔  اسی کوتو کہتے ہیں عوام کے مسائل کو محسوس کرکے حل کرنا۔۔ اس  سے پارٹی ریٹنگ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جس طرح ایم کیو ایم کے میئر نے کراچی میں رکارڈ کام کراکے پارٹی ریٹنگ میں اچھا خاصا اضافہ کیا تھا ۔ جس میں موجودہ احتجاجی طریقہ سے کمی واقع ہوئی ہے ۔ اس پوسٹ  کا بنیادی مقصد منظور وساں کے مثبت فیصلہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔ ۔۔شُکریہ ۔
نوٹ :  پبلشنگ سسٹم صحیح ہوگیا ہے/ لیکن تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔
( ایم ۔ ڈی )  

Friday, July 15, 2011

پی پی پی ۔ ذوالفقار مرزا ۔ ایم کیو ایم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: طاقت کانشہ/ احتجاج/ جماعتیں / امن کی داعی
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ذوالفقار مرزا کی مزاجی شخصیت سے اب تو ہر کوئی واقف ہوگیا ہے ۔۔۔لیکن شاید پی پی پی کی ہائی کمان ابھی تک واقف نہیں ہوئی ہے ۔۔۔ یا شاید زرداری دوستی ہر بات پر بھاری  پڑگئی ۔۔۔ جو اُنہیں وزیر بنا دیا گیا ،وزارت ایک طاقت ہے طاقت میں قوت کا نشہ ہوتا ہے۔۔۔ بعض طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ طاقتی نشہ میں بہک جاتیں ہیں۔ ۔۔پی پی پی والوں نے وزارت کی صورت میں ذوالفقار مرزا کو طاقت کا نشہ فراہم کیا جس سے انکی طبعیت بہک گئی اور طاقتی نشہ میں وہ کچھ کہہ دیا جو نہیں کہنا چاہیئے تھا ۔ میڈیا نے باربار دکھا کر جذبات بھڑ کائے۔۔۔ ردِ عمل میں  ایم کیو ایم نے بھی  بالکل  اسی طرح  کی اپنی طاقتی نشہ میں بہکنے کا مظاہرہ  کیا ۔۔۔جس سے کراچی والوں کو کافی جانی ومالی نقصان اُٹھانا پڑا ۔ ۔۔الیکٹرانک میڈیا کی طرح ان واقعیات  پر لکھنے والوں نے بھی اپنا تعصبی کردار نبھایا۔۔ جنہیں ذوالفقار مرزا پسند نہیں انہوں نے اپنی ذاتی سوچ  کی بنا پر ہنگامہ آرائی کا سارا ملبہ ذوالفقار مرزا پر ڈالنے کی کوشش کی ۔۔۔اسی طرح جنہیں ایم کیو ایم ناپسند ہے اُنہوں نے ہنگامہ آرائی  کا سارا ملبہ ایم کیو ایم پر ڈالنے کی کوشش کی۔۔۔ یعنی دونوں طرف کے لکھنے والوں نے بھی جی بھرکے اپنی دل کی بھڑاس  نکال لی/ جسکا دونوں فریقوں نے موقع فراہم کیا۔۔ وہ اس طرح کہ ذوالفقار مرزا کا طرز عمل بھی انتہائی غیر مہذب تھا تو ایم کیو ایم کا احتجاجی طریقہ بھی انتہائی غیر مہذب تھا ۔ 
 کراچی تقریباً پونے دو کروڑ آبادی والا شہر ہے۔۔ اب اس شہر میں اتنی سکت نہیں ہے کہ جو ہڑتالیں اور احتجاج برداشت کرسکے ۔۔اس لیے کراچی میں سیاست کرنے والی جماعتوں کو یہ  بات یاد رکھنی ہوگی ۔۔ کراچی کے عوام صرف اُسی جماعت کو پسند کریں گے جو جلسے، جلوس ،ہڑتال اور احتجاج سے دور ہوگی اور امن و امان کی داعی ہوگی ۔۔ چونکہ یہ پونے دو کروڑ کا کاروباری شہر ہے ۔۔ایک ہڑتال یا احتجاج سے پونے دوکروڑ انسان متاثر ہوتے ہیں ۔ شُکریہ۔
 (ایم ۔ ڈی )
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Wednesday, July 13, 2011

اے ۔ این ۔ پی ۔ کے بارے میں

  
فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: پنجاب لیگ/ ٹار گٹ کلنگ/معاشی مفادات / لازم وملزوم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
طالبان اور طالبان کے خلاف طاقت کے استعمال کی وجہ سے خیبر پختون خوا کے لوگوں کو کافی مشکلات جھیلنا پڑی لیکن اے این پی ثابت قدم رہی طالبان کے دباؤ میں نہیں آئی  میں سمجھتا ہوں کہ ا ے این پی کی یہ ثابت قدمی اُسے آئندہ الکشن میں اچھی سیٹیں دلادے گی ،  طالبان کی وجہ سے بہت سے لوگ  پختون خوا سے کراچی منتقل ہوئے ہیں اس لیے کراچی میں بھی ایک دو سیٹیں لے سکتی ہے اور بلوچستان سے بھی سیٹ لے سکتی ہے ۔  اس طرح یہ جماعت تین صوبوں میں نمائندگی حاصل کرلے گی۔ جبکہ خدشہ ہے کہ نواز لیگ پنجاب لیگ بن کے نہ رہ جائے ۔ایسا ہُوا تو وہ ایک صوبے تک محدود ہوجائے گی۔
 کراچی ٹارگیٹ کِلنگ سے بھی اے این پی کو فائدہ ہورہا ہے چونکہ پٹھان جتنا عدم تحفظ کا شکار ہوگا وہ اتنا اے این پی کی طرف جائے گا اور ووٹ  ڈالنے نکلے گا لیکن اُسکے دل میں ایک خدشہ بھی ہے کہ اے این پی طاقت میں آکر ایسا نہ ہو کہ ایم کیو ایم سے لڑتی رہے اور کاروبار ٹھپ ہوجائے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قومیتوں میں ٹکراؤ کی وجہ ہمیشہ معاشی مفادات ہوتے ہیںاردو اسپیکنگ والوں اور پشتو اسپیکنگ والوں کے معاشی مفادات  الگ الگ  ہیں ،  دونوں کی معاشی سرگرمیاں الگ الگ شعبوں میں ہے ۔ چونکہ معاشی سرگرمیاں الگ الگ شعبوں میں ہے اس لیے ان میں ٹکراؤ  بھی نہیں ہے  مشرف/ ایم کیو ایم  دور میں کراچی کا پٹھان بہت خوش تھا چونکہ امن امان کی صورت حال اچھی تھی اسکا کاروبار ترقی کررہاتھا ۔پٹھانوں کا تقریباً کاروبار اردو اسپیکنگ والوں کے ساتھ ہے ۔ اس لیے وہ اردو اسپیکنگ والوں کے ساتھ جھگڑا نہیں چاہتے ۔ یوں سمجھیں کہ کراچی میں یہ دونوں قومیتوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چُکی ہیں ۔
نوٹ: تبصروں کا پبلشنگ سسٹم خراب ہے اس لیے سابقہ پوسٹوں پر جن حضرات  کے تبصرے آئے۔ محترم جناب افتخار اجمل بھوپالی صاحب ۔، جناب عمران اقبال صاحب ، جناب نور محمد بشیر صاحب ، جناب  جاویداقبال صاحب ، حوصلہ افزائی پر آپ حضرات  کاشُکریہ ۔ محترم جناب عبدلہادی احمد صاحب  آپ نے اپنے نقطہ نظر سے نوازا اس کے لیے آپکا بھی شُکریہ ۔

Monday, July 11, 2011

٭ تصویر نے دیئے درج ذیل احساسات ٭


 فکرستان سےپیش ہے پوسٹ ٹیگز: تصویر/ عورت / حُسن / مقدس فریضہ/ نئی دُنیا 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
انسان کے دیکھنے کے زاویےبھی بڑے عجیب و غریب ہیں ۔ میں نے جب اس تصویر کو وائس آف امریکہ کی سائٹ پر دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا مجھے اس تصویر میں ایک ملکوتی حُسن نظر آیا خاتون کے چہرہ سے ایسا محسوس  ہوتا ہے کہ جیسے اُس نے کوئی مقدس فریضہ انجام دیا ہو ، جیسے اُسنےدُنیا  میں اپنے ہونے کا مقصد حاصل کر لیا ہو ۔ اور چہرے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مقدس مقصد  حاصل ہو جانے پر وہ  نیند میں پُرسکون اور اطمینان بھری وادیوں کی سیر کر رہی ہو ۔۔۔ ۔
 بچّہ کی تصویر کو بھی ذرا غور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اُسنے بھی کوئی  نئی دُنیا کو فتح کرنے جیسا معرکہ سر  انجام دینے کے بعد اطمینان بھری آغوش میں پر سکون نیند کی وادی  میں سیر کر رہا ہے ۔۔۔۔ تصویر کو چند سیکنڈ ذرا غور سے دیکھ کر فیصلہ کریں کہ کیا اس تصویر میں واقعی ایک ملکوتی حُسن ہے یا یہ میرے ذہن کی کرشمہ سازی  ہے کہ جس نے میرے دل میں اس قسم کے احساسات بھر دیے ؟؟؟ 
۔۔۔شُکریہ۔۔۔
(ایم ۔ ڈی )

Tuesday, June 28, 2011

راسخ عقیدہ کی ایک جھلک / اعترافِ گُناہ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فکرستان سے پوسٹ ٹیگز: لیو ٹالسٹائی/ پادری/اعترافِ گُناہ/ مغرب میں قبول اسلام شرح 62٪ ہوگئی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عیسائیوں میں یہ عقیدہ ہے کہ پادری کے سامنے اعتراف گُناہ کرنے سے گُناہ دُھل جاتے ہیں اور روح پاکیزہ ہوجاتی ہے  ۔۔۔پادری نے لیو ٹالسٹائی خاندان کے افراد کے سامنے جو اہم باتیں کیں اُن میں سے  سب سے اہم بات یہ تھی کہ اعتراف گُناہ کرتے وقت کسی گُناہ کو  چھُپا یا نہجائے ۔۔۔ چُھپانے سے گُناہ کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔ سب سے پہلے ٹالسٹائی کے والد صاحب اعترافِ گُناہ کے کمرہ میں داخل ہوئے ۔ ۔۔ اعترافِ گُناہ کے بعد ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ باہر آئے اور پھر ہنستے ہوئے شرارتی انداز  میں اپنی بیٹی  لیو بو چکا  سے  کہا دیکھو تم نے بُہت گُناہ کئے ہیں ،سارے گُناہوں کا اعتراف کرنا کوئی چھوٹ نہ جائے ۔۔۔لیو بوچکا نے اپنے گُناہوں کی فہرست پر  ایک نگاہ ڈالی اور پھر اعترافِ گُناہوں کے کمرہ میں داخل ہوگئی ۔۔۔ جب وہ  اپنے گُناہوں کا اعتراف کرکے کمرہ سے نکل رہی تھی تو وہ زاروقطار رو رہی تھی ۔۔۔یقیناً یہ خوشی کے آنسوں تھے کہ وہ گُناہوں سے پاک ہوگئی تھی ۔۔۔۔ اب لیو ٹالسٹائی کی باری تھی اعترافِ گُناہ کے کمرے میں جانے کی۔۔۔ ٹالسٹائی نے بھی اعترافِ گُناہ کے بعد اپنے آپ کو انتہائی ہلکا پھلکا محسوس کیا اور خوشی خوشی کمرہ سے باہر آگیا ۔۔۔انتہائی مُسرت اور پاکیزگی کے جذبات اُسکے چہرہ سے عیاں تھے ۔۔۔ جہاں بہن نے  پاگیزگی کے ان جذبات کو آنسوؤں سے ظاہر کیا  تواسی طرح کے جزبات کو ٹالسٹائی نے اپنی خوشی اورمُسرت سے ظاہر کیا لیو کا پورا دن ایک انجانی خوشی اور مسرت سے لبریز گُزرا۔۔۔ رات بستر پر لیٹا نیند میں جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک اُسے اپنا ایک گُناہ یاد آگیا اور وہ بے چین ہوگیا، اُسکے نس نس میں بھری خوشی اور مُسرت اُس سے چھنِ گئی اور اسکی جگہ افسردگی اور خوف نے لے لی۔۔۔ اسکے دماغ میں  پادری کے الفاظ بار بار گونجنے لگے کہ نہ بتانے سے گُناہ اور بڑھ جاتا۔۔۔ اُسنے سوچا کہ گرجا گھر جاکر پادری سے معافی کی درخواست کرے اور اپنے گُناہ کا اعتراف کرے لیکن رات کافی ہوچُکی تھی ۔۔۔ پھر اُسنے سوچاکہ صُبح سویرے ہی یہ کام  سرانجام دیا جائے بہر حال ٹالسٹائی نے یہ رات خوف ،افسسردگی اور نیند میں گُزاری صُبح سویرے ہی ٹالسٹائی گرجا گھر پُہنچ کر پادری سے معافی چاہی اور اپنے گُناہ کا اعترا ف کیا ۔ اعتراف کے بعد وہ مُسکرانے لگا ، دوبارہ اُسکے انگ انگ سے خوشی اور مُسرت پھوٹنے لگی اور اُسکا دل چاہ رہا تھاکہ اپنی اس مسرت اور خوشی کو کسی کے ساتھ شئیر کرے لیکن وہ تو۔۔۔ ٹا نگہ میں اکیلا تھا مگر دل خوشی کو شئیر کرنے کیلئے بے تاب ہورہا تھا آخر اُس سے رہا نہ گیا اُسنے کوچوان سے ہی اپنے خوشی کا اظہار کردیا ۔۔۔
 لیو ٹالسٹائی کی آپ بیتی سے ماخوذ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عقیدہ کی یہ جھلک اٹھارویں صدی کی ہے ۔ کیا اب بھی اِس رسم میں اُتنی حرارت باقی ہے ؟ میرے خیال  میں شعور کے ارتقائی عمل سے عیسائی عقیدوں کی حرارت میں  مسلسل  کمی واقع ہورہی ہے ۔ جِسکا ثبوت ذیل کی تازہ تحقیق ہے ۔

مغرب میں قبول اسلام کابڑھتارجحان

ایک تازہ تحقیق کے مطابق نائن الیون کے بعد اسلام کے منفی تاثر کے باوجود اسلامی کتب اور قبول اسلام کی شرح باسٹھ فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ نعیمہ احمد مہجور کی خصوصی رپورٹ ۔( بی بی سی)۔
                                  تبصروں کی پبلشنگ بند ہے(ایم ۔ ڈی )    

میڈیا پلئیر






Saturday, June 25, 2011

جوش کی شاعری / خُدا کے بارے میں ٭٭٭٭

نہ جا  اِن  کُفر  کی باتوں پہ میری ٭ یہ حق کے گیت ہیں جو گارہا ہوں
 جسے یوں کھو رہا ہوں ہر قدم پر ٭ اُسی  کو  ہر نفس  میں  پا  رہا   ہوں 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جوش صاحب کے ذہن سے نکلے خُدا سے متعلق احساسات سے منتخب کُچھ اشعار۔    جن لوگوں کے دل و دماغ میں مذہبی روایات راسخ ہوکرپختہ یقین کا درجہ حاصل کر لیتی ہیں، اُنکے دل و دماغ میںخُدا ،کائنات ، انسان اور مذہب سے متعلق شک بھرے سوالات نہیں آتے ہیں۔ اس بارے میں مذہب نے جو جوابات فراہام کردیے ہیں اُن پر اُنکا پکا یقین ہوتا ہے اِسطرح ایسے لوگ  اپنے مخصوص مذہبی دائرہ میں بڑے اطمینان سے اپنی زندگی کا سفر طے کر لیتے ہیں ۔
لیکن جن لوگوں کے ذہن منطقی ہو تے ہیں وہ عقل کی کسوٹی لیکر بیٹھ جاتے ہیں انسان ، مذہب ،کائنات اور خُدا کے بارے میں سوالات کو عقل کی کسوٹی پر گِھسنے لگتے  ہیں ۔ نتیجہ برآمد نہ ہو نے پر الجھنوں میں گرفتار  ہوجاتے ہیں  ۔ کُچھ اسی طرح کے سوالات کو لیکر جوش صاحب کے منطقی ذہن  نے اُنکو زندگی بھر پریشان کئے رکھا ۔ اسکے علاوہ جن لوگوں نے یادوں کی بارات پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ جوش صاحب کو" پلان چٹ"  کے زریعے مرے ہوئے لوگوں کی روحوں سے باتیں کرنا بھی اُنکا مشغلہ رہا ہے اُنکا منطقی ذہن روحوں سے باتیں کرنے کی  اِس گُتھی کو بھی سُلجھانے کی الجھن میں گرفتار رہا ہے  ۔جبکہ صنفِ نازک بیچاریاں تو اُن سےآخر عُمر تک اپنی دوستیاں نبھاتی رہیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں کترینہ نے بڑی عجیب بات کہی ہے کہ ڈھلتی عمر کے لوگ جب ہاتھ ملاتے ہیں تو   ہاتھ کو ذرا    زور سے دبا دیتے ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نہ جا  اِن  کُفر  کی باتوں پہ میری ٭ یہ حق کے گیت ہیں جو گارہا ہوں
 جسے یوں کھو رہا ہوں ہر قدم پر٭ اُسی  کو  ہر نفس  میں  پا  رہا   ہوں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

جس وقت جھلکتی ہے مناظر کی جبیں  ٭ راسخ  ہوتا  ہے  ذات باری  کا   یقیں 
کرتا ہوں جب انساں کی تباہی پہ نظر ٭ دل پوچھنے لگتا ہے خُدا ہے کہ نہیں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 خوں  خوار   کو  پروان چڑھانے والے ٭ کم  زور  کو خاک میں ملانے والے
شاہین بھی ہے کیا تیری ہی ایجادِ لطیف ٭  معصوم   کبوتر   کو   بنانے     والے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بدخوا     پیمبر       نہ   کہیں   ہو  جاؤں   ٭ ہاں منکر   داور کہیں   نہ   ہو  جاؤں 
انساں    کی   تباہی     کا    تماشا     کر کے ٭ ڈرتا ہوں کہ  کافر  نہ کہیں ہوجاؤں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عامی   نے     حجابات   سے  تعبیر   کیا    ٭   عالم نے  نشانات   سے  تعبیر  کیا 
اس ارض وسما کے ذرے ذرے کو مگر ٭ عارف نے فقط ذات سے تعبیر کیا 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نو   میدی    نظارہ    انوار  بھی    جہل    ٭ امیدِ  شہود و  شوقِ دیداربھی جہل
اک قادر مطلق کا جہاں تک ہے سوال ٭ انکار بھی جہل ہے اقرار بھی جہل  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اے   خالقِ  امر خیر  اے  صانع  شر ٭ تجھ پر ہی تو ہے مدار افعالِ شر
ہر ہجو کے تیر کا ہدف ہے تیری ذات ٭ ہرمدح کی تان ٹوٹتی ہے تجھ پر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ  کُفر  کی   تکرار   کیے   جاتا   ہے ٭ یہ   دین   پہ   اصرار   کیے جاتا ہے 
اک عُمر سے انکار پہ مائل ہے دماغ ٭ اور دل  ہے کہ اقرار کئے جاتا ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
کس نقش میں رنگ حی  و قیوم  نہیں ٭ موہوم ہے اس طرح  کہ موہوم نہیں 
پردے میں ہے اک قوتِ اعلیٰ تو ضرور٭ اس کے اوصاف کیا ہیں معلوم نہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے
(ایم ۔ ڈی )

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...