Thursday, March 24, 2011

انسانی سوچ کا تضّاد ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز:  بفیلو/ 9/11/ مذاہب /بریجز / روح/25سال  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
راحیل اور ارم کے خیالات میں ہم آہنگی تھی اسلئے دونوں میں دوستی تھی اُنہوں نے سوچا اس خیالاتی دوستی کو مزید استحکام پہنچانے کیلئے جسمانی دوستی کرائی جائے والدین کی مُخالفت کے باوجود  اُنہوں نے کورٹ میں جاکر شادی رچالی لیکن کچھ ہی عرصہ بعد یہ جسمانی دوستی روحوں کی د شمن بن گئی  جو ایک دوسرے کو اپنی زندگی کہتے نہیں تھکتے تھے ایک دوسرے کی صورت سے نفرت کرنے لگے آخر کار گھریلو معمولی جھگڑے نے ارم کی جان لے لی راحیل نے ارم کا گلا دبادیا خود تھانے پُہنچ کر گرفتاری دے دی اقبالِ جرم کرلیا ۔ جج نے عُمر قید کی سزا سُنادی ۔ انسانی سوچ کا یہ کیسا تضّاد ہے کہ جانیں جاناں ہی جاں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ اِس طرح کے کئی حقیقی واقعوں میں سے یہ ایک فرضی واقعہ ہے ۔ انسانی سوچ کے تضّاد کا حقیقی واقعہ درج ذیل ہے۔
  انسانی سوچ کے تضّاد کا یہ واقعہ ریاست نیو یارک کےشہر بفیلو میں پیش آیا یہ خوشحال لوگوں کا شہر ہے۔ یہاں پر ایک ایسا  پاکستانی نژاد جوڑا جن کے دو بچّے بھی تھے قیام پزیر تھا کہ جو 9/11 کے واقعہ کے بعد مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بڑھی ہوئی تلخی پر دُکھی تھا اور اس تلخی کو کم کرانے کا عزم رکھتا تھا مسلم اور عیسائی کمیونٹی کے درمیان پُل باندھنا چاہتا تھا ،دونوں مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتا تھا اس مقصد کو حاصل کرنے  کیلئے جوڑے نے  Bridges.T.V کے نام سے اپنا چینل قائم کیا مزمل چیف ایگزیکٹیو اور بیوی آسیہ مینیجر کے طور پر اِس چینل کو چَلارہے تھے لیکن  میاں بیوی تنازعات نے ایسا رُخ اختیار کیا کہ بیوی نے طلاق لینا چاہا جبکہ مزمل نے تو آسیہ کے جسم سے اُسکی روح کو نکال باہر کیا ۔ اورخود ہی پولیس کو گرفتاری دےدی  موقف اپنایا کہ اگر میں آسیہ کوہلاک نہ کرتا تو وہ مُجھے مار دیتی ۔ مزمل کا آسیہ کے سر کو تن سے جُدا کرنا شدید نفرت  کو ظاہر کرتا ہے ۔
مزمل حسن نے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کیا تھا    مزمل اور آسیہ  مذاہب میں ہم آہنگی کے خواہاں تھے
مزمل اور آسیہ مذاہب میں ہم آہنگی کے خواہاں تھے

عدالت نے مزمل کو 25 سال قید کی سزا سُنائی ہے ۔ انسانی سوچ کا یہ تضّاد سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ جنہوں نے ۔ 9/11 کے واقعہ کے بعد امریکی  مسلمانوں اور غیر مسلم کے درمیان خلیج کو کم کرانے اور ہم آہنگی پیدا کرانے کیلئے Bridges جیسا ٹی۔وی اسٹیشن قائم کرنے والے جوڑے نے اپنی گھریلو زندگی کا پُل کیوں توڑ دیا۔ دوسروں میں سمجھوتہ کرانے والوں نے اپنی زندگی میں سمجھوتہ کو کیوںشامل نہیں کیا ؟  ۔ انسانی سوچ کا یہ  کیسا تضّاد ہے ؟
 ۔  معاون سائٹ۔  
  
ذیل کی وڈیو میں بھی انسانی سوچ کا تضّاد سُنایا جا رہا ہے ۔ 
  *آپ کے خلوص کا طالب * ( ایم ۔ ڈی )۔

Monday, March 21, 2011

حمد ٭ حمد ٭ حمد ٭ بیانُ الحمد ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز :/اسقاطی قتل/سرمایادارانہ نظام/ مذاہب/جنّت/ حمدیہ ڈوئٹ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خالق کی حکمت ذرہ سے لیکر پوری کائنات میں نظر آتی ہے ۔ ذراسا بھی فرق کائنات کو بِکھرانے  کیلئے کافی ہے۔ لیکن انسانی ذہن کو بھی یہ خاصیت عطا کی گئی ہے کہ وہ اس کائنات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا رہے۔ایسی ہی چھیڑ چھاڑ الٹرا ساؤنڈ کے زریعے  وجود میں آئی ہے۔ابھی پچھلے دنوں سماجی کار کن اور اداکارہ محترمہ شبانہ اعظمی نے اپنے  ایک انٹرویو میں فرمایا ہے کہ ۔بھارت میں ایک بُہت بڑی تعداد میں  لڑکیوں کا اسقاطی قتل ہورہا ہے ۔ جسکی وجہ سے ابھی سے یہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ لڑکوں کو رشتے نہیں مل رہے ہیں ۔خاص کر انڈین پنجاب کے علاقوں میں۔
اسی طرح کا حال میں نے چین کے بارے میں بھی پڑا تھا ۔بچّہ ایک ہو تو پھر لڑکا ہی ہو۔  اسقاطی قتل کا یہ رُحجان دُنیا بھر کے لوگوں میں بھی تیزی سے فروغ پارہاہے ۔  میرے خیال میں اسکی دو بڑی وجوہات ہیں پہلی بے لگام سرمایا دارانہ نظام دوسری مذاہب کی گرفت کا ڈھیلا پڑنا ۔ حالانکہ پاکستان میں ہمیں مذہب کی گرفت نظر آتی ہے اسکے باوجود یہ سوچ پاکستان میں بھی پھیل رہی ہے یقیناً اسکی بڑی وجہ غربت ہے۔
  خالق نے آدم اور حوّا کو جنّت سے نکال نے کے بعد کائنات کی ہر چیز میں موجود کلکولیشن کی طرح مرد و زن میں بھی پیدائشی  کلکولیشن رکھی ہوئی ہے۔یہ پیدائشی کلکو  لیشن  پوری دُنیا میں برابری کے حساب سے اسطرح پر ٹھیک ٹھیک چل رہی ہے کہ خالق کی گواہی دے رہی ہے 50٪/50٪ میں کچھ فرق پڑھ رہا ہے تو یہ بھی انسان نے جنگیں لڑ کر پیدا کرلیا ہے ورنہ خُدائی کلکولیشن تو اپنی جگہ پر اٹل ہے۔
  خالق نے اپنی روح میں سے انسان میں جو کچھ پُھونکا ہے ۔اُس سے انسان نے الٹرا ساؤنڈ کو بناکر خالق کی خُدائی میں مداخلت کر رہا ہے ۔ دُنیا میں لڑکیوں کا اسقاطی قتل کا رحجان بُہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔یہ رحجان تو لڑکوں کیلئے کسی سونامی سے کم نہیں۔اور اگر ہم خُدائی کلکو لیشن  کو اسی طرح خراب کرتے رہے تو اسکی پنیشمنٹ کا تصّور کریں کہ کیا ہوگا ؟ ذیل کی حمدیہ ڈوئٹ میں کُچھ ایسی ہی باتیں ہورہی ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وڈیو کے حمدیہ بول ڈوئٹ انداز میں ملاحظہ فرمائیں ٭ کچھ دیر کیلئے خُدا کے قریب ہوجائیں ٭ مجھے دیں اجازت۔                              آپکے خلوص کا طالب۔( ایم ۔ ڈی )۔
           

Saturday, March 5, 2011

شاہد آفریدی کا اسٹائل ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

                                                            
منجانب فکرستان پیش ہے ۔ شاہد آفریدی کے اسٹائل کے بارے میں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کینیڈا کے کپتان نے کہاہے کہ صرف ایک کھلاڑی شاہدآفریدی ہماری ٹیم کیلئے بھاری پڑگیا۔شاہد آفریدی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
کھیل میں اُنکا جوش وجذبہ دیکھنے کے لائق ہوتاہے  ۔اُنہیں یہ ہوش ہی نہیں رہتا ہے کہ گراؤنڈ میں وہ کتنا چلتے پھرتے ہیں ۔مسلسل آگے پیچھے دائیں بائیں  گھومتے  رہتے ہیں ۔اگر کوئی سروے کرے تو میرے خیال میں شاہد آفریدی  کا نام گینیز بک  میں آسکتا ہے ۔یہ وُہ کھلاڑی ہے ۔جو گراؤنڈ میں ایک پل کیلئے بھی نِچلا نہیں بیٹھتا ہے مسلسل چلتھ پھرتھ کرتا رہتا ہے ۔اور جب وُہ کسی کھلاڑی کو آؤٹ کر کےاپنے ہپنا ٹائیزڈ اسٹائل پر کھَڑے ہوجاتے ہیں تو اُسکے چاہنے والوں کے جسم کے اندر سےایسی خوشی اور مُسرّت  پھوٹ پڑتی ہےکہ بیان سے باہر ہے ۔اُسکے اِ س سٹائل پر اپنی عُمر کی  مناسبت سے کوئی مُسکراتا ہے توکوئی خوشی سے بے اختیار قہقہے لگاتا ہے ، کسی کی زبان  بوم بوم آفریدی پُکارنے لگتی ہے  تو کوئی بیخودی میں اپنی سیٹ سے اُٹھ کر رقص کرنے لگتا ہے  ۔  میں نے ہپنا ٹائیزڈ اسٹا ئل اسلیئے لکھا ہے کہ شاہدآفریدی نے جتنی باربھی آؤٹ کرنے پر یہ اسٹائل بنایا وہ ایک جیسا ہے  آپکواِس میں کہیں فرق نہیں ملے گا ۔ جیسے وہ پتھر کا مجسمہ ہو ۔ایسا محسوس ہوتا ہے ۔شاہد آفریدی جب کسی کھلاڑی کو آؤٹ کرتا ہے تو شاہد آفریدی میں سے وہ اسٹائلش مُجسمہ نِکل کر کُچھ دیر کیلئے آفریدی کی جگہ آ کَھڑا ہوتا ہے اورکُچھ سیکنڈوں کیلئے آفریدی وہاں سے غائب ہوجاتا ہے۔جب کوئی کھلاڑی اُسے مُبارک باد دیتے ہوئے اُس سے لپٹ جاتا ہے تو پھر وہ مجسمہ غائب ہوجاتا ہے اور شاہد آفریدی حاضر ہوجا تا ہے ۔ آفریدی کے اس اسٹائل کو سری لنکن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکے حالانکہ یہ رویہ قومی جذبہ کے خلاف ہے ۔ لیکن شاہد آفریدی کا اسٹائل اُس جزبہ پر حاوی ہوگیا ۔
اسی طرح سے جب آفریدی کی بے چین روح وجد میں آکے چوکے چھکے لگانے پر اُتر آتی ہے تو اُسکےچوکے چھکے شائقین کے پورے جسم میں خوشی اور مُسّرت کی  لہر دوڑا  دیتے ہیں۔یہ لہر جسم میں موجود ہرسیل کو خوشی اور مُسّرت سے اتنا لبریز کردیتے ہیں کہ فرد خوشی سے ناچنے لگتا ہے ،چیخنے لگتا ہے ،بُوم بُوم آفریدی  کرنے لگتا ہے۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سابقہ پوسٹ کا رزلٹ:-( ناممکن۔ 50٪)۔(ممکن۔0٪)۔( شاید۔50٪)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پول کیلئے سوال
دیکھا  گیا ہے کہ کھیل بھی ایک طرح کی وجدانی  سی کیفیت لئے ہوئے  ہوتے ہیں ۔ کیا آپ میری اِس رائے سے متفق ہیں ؟ 
نوٹ:- قارئین کرام دوستوں سے  گُذارش ہے کہ پول  کِلک کریں۔آپکا شُکریہ ۔
                                               ۔(خلوص کا طالب ایم ۔ڈی)۔

Wednesday, March 2, 2011

ریمنڈ کی حالاتِ زنگی پر ایک نظر۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


                                                              
         منجانب فکرستان ۔۔۔ پیش ہے۔۔۔ ریمنڈکی حالاتِ زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ریمنڈ کی حالاتِ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں کہ وہ اس مُقام تک کیسے پہنچے ۔ ریمنڈ کے  بیمار والد 55 سال کی عمر میں انتقال کرگئے نتیجہ میں ریمنڈ کو بھی ذیا بیطس ٹائپ 2 ہوگئی تھی لیکن علاج کے زریعے اُسنے اس بیماری سے نجات حاصل کرلی ۔ 
 ریمنڈ 12 فروری 1948 نیویارک کے علاقے کوئنز میں پیدا ہوئے ۔ادارہ ایم آئی ٹی سےکمپیوٹرسائنس اور ادب میں گریجویشن کیا ۔وہ نظریہ لامتناہیت کے پُر جوش  حامی ہیں  ،یہ 15 جنوری 1965کی بات ہے۔کہ ریمنڈ نے ایک کوئیز گیم شو  "I,have gota secret"میں حصّہ لیا تھا۔جس میں اُسنے پیانو پر ایک انوکھی دُھن بجائی  تھی جسے مہمانوں نےبُوجھنا تھا۔ مہمانوں نے بوجھ لیا کہ یہ دُھن کمپیوٹر سے کمپوز شُدہ ہے۔ یہ کمپیوٹر ریمنڈ نے خود بنایا تھا ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  کمپیوٹر سے اُسکا عشق روز بہ روز  بڑھتاہی چلا گیا ۔ وہ اب کمپیوٹر کی روز افزوں بڑھتی ہوئی  طاقت اور ذہن انسانی کا موازنہ کرنے لگا ۔   nasa نے تین سال قبل  سینگولیریٹی یونیورسٹی قائم کی (جس کے بانی اسپانسروں میں گوگل شامل ہے)  ریمنڈ نے سان فرانسسکو میں بھی سنگولیرٹی (درجہ لا متناہیت)  انسٹیٹیوٹ فار آرٹیفیشل
 انٹیلجنس قائم کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی اس طرح کےادارہ بنائے ہیں جہاں سنگولیریٹی سے متعلق تعلیم دی جا تی ہے۔ ایسے سائنسداں ، دانشور و دیگر جو سنگولیریٹی پر یقین رکھتے ہیں singularian کہلاتے ہیں ۔
ریمنڈ مستقبل کا دریچہ اسطرح سے کھُولتے  ہیں وہ کہتے ہیں ۔ حال ہی میں امریکہ میں  سُپر کمپیوٹر  "واٹسن" نے   کوئز  پروگرام "جیو پر ڈی" میں دو انسانوں کو شکست دےدی ہے جبکہ واٹسن کی کی میموری 1ٹیرا بائٹ ہے اور انسان کی 1اعشاریہ25 گویا واٹسن انسانی دماغ کا 80 ٪  ہے پھر بھی اُسنےانسان کو شکست دےدی۔ اُنکا کہنا ہے کہ 2020 تک انسان مصنوعی ذہن بنالے گا جو 2025 تک  ترقی کرکے انسانی ذہنی سطح تک پُہنچ جائے گا اور 2045 تک یہ ذہن درجہ لامتناہیت کو پالے گا جو انسانی ذہانت سے ایک ارب گُنا زیادہ ہوگی ۔ تب تک نینوٹیکنالوجی  بھی اتنی ترقی کرجائے گی کہ بُڑھاپے ودیگر پیچیدہ بیماریوں کو ختم کردے گی اسطرح انسان ہمیشہ جوان رہے گا   اوروہ لافانی ہوجائے گا اور  اگر چاہے تو اپنے شعور کو اسکین کراکے کمپیوٹر کے ذہن میں منتقل کرالے یا پھر اپنے شعور کو اِسکین کراکے سافٹ ویئرکے طور پر کمپیوٹر میں چلا جائے اسطرح  سے ورچوئلی طور پر انسان ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی پاجائے گا۔ سائینسدانوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہیں کہ جسطرح سے کمپیوٹر ودیگر ٹیکنالوجی اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہیں ہیں اس سے لگتا ہےکہ 2045 کے آس پاس درج بالا خواب کی سی باتیں حقیقت کاروپ دھار لیں گی ۔ اُنکا کہنا ہے ایسا  ہوکے رہے گا ۔ 
ریمنڈ ابھی 62 سال کے ہیں ۔ وہ مرنا نہیں چاہتے ہیں  وہ2045 تک زندہ رہ کر کمپیوٹر میں داخل ہوکر پہلے لافانی انسان بننا چاہتے ہیں ۔ وہ اپنی صحت کو قائم رکھنے کیلئے روزانہ150 گولیاں مختلف قسم کی  کھاتے ہیں ۔وہ 39 پیٹنٹ  ایجادات کے مالک ہیں 19 اعزازی داکٹریٹ رکھتے ہیں ۔ ریمنڈنے بیسٹ سیلر کتاب   "لا متناہیت قریب ہے" لکھی ہے ۔اسکے علاوہ ایک کتاب روحانی مشینوں کا دور بھی لکھی ہے۔اُنہیں بل کلنٹن نے قومی تمغہ برائے ٹیکنالوجی کے اعزاز سے نوازا جبکہ بل گیٹس نے ریمنڈ کے بارے میں کہا کہ مصنوی ذہا نت کے متعلق پیش گوئیاں کرنے والا بہترین دانشور ہے ۔
اور ہاں میں نے ریمنڈ نام کی مناسبت سے ذرا سسپنس پیدا کرنے کی کوشش کی ہے چونکہ ماہرین ذہن کہتے ہیں کہ سسپنس ذہن کی ورزش ہے ۔ تاہم جن لوگوں کی طبعیت پر میرا یہ انداز گراں گُزا ہو اُن سے میں معزرت خُواں ہوں  ۔(اس پوسٹ کا مواد ایکسپریس نیوز میگزین سے ماخوذ ہے) ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سائنسدانوں کا کہنا ہے ایسا ہوکے رہے گا۔ اِس طلسم ہوشربا کو پڑھ کر آپکے ذہن میں جس قسم کے بھی خیالات آئیں پڑھنے والوں کے ساتھ شئیر کریں۔ یا اوپر دائیں جانب پول کلک کردیں ۔ آپکا بُہت شُکریہ۔ (خلوص کا طالب ۔ایم۔ڈی)۔

Saturday, February 26, 2011

کیا عورت اور مرد کا اِختلاف مالٹے موسمبی( موسمی) جیسا ہے ؟٭٭٭٭٭

                                                                
                   منجانب فکرستان۔۔۔کیا مشِل اور  اوباما کی یہ کہانی گھر گھر کی کہانی ہے ؟ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ واقعہ میرے کزن نے مُجھے شادی کی تقریب میں سُنایا تھاباقی منظر کشی میرے دماغ نے کی ہے چونکہ میں بھی ایسے حادثہ سے گُذرچُکا ہوں۔۔۔  ہُوا ہوں کہ خاندان میں شادی کی ایک تقریب طے پاگئی تھی جس کیلئے ہمارے کزن نے آفس کے دوستوں اور اپنی پسند مشترکہ سے تقریب کیلئے کپڑے خریدے ۔خوشی خوشی بیوی کو دکھا یا ۔بیوی نے آنکھیں دِکھا تے ہُوئے ذرا تیز لہجہ میں کہا ۔۔تقریب میں یہ کپڑے پہنو گے؟ میاں کی ساری خوشی ہرن ہوگئی۔۔ اور چہرہ لٹک گیا۔۔بیوی کو احساس ہوجاتا ہے کہ میاں کو بُرا لگ گیا ہے ۔۔ مُسکراتے ہوئے بولیں میں کل خود مارکیٹ جاکرآپ کیلئے  کپڑے خرید لاؤنگی ۔۔ میاں صاحب چُپ ہوکر چَھت کو دیکھنے لگتے ہیں ۔کزن نے تقریب والے دن چاہا کہ اپنی پسند کے کپڑے پہنے ،لیکن بیوی نے منُہ کو پھُلاتے ہُوے غُصّہ  سےکہا ۔۔تُم مُجھے سمجھ ہی نہیں سکتے ۔ یہاں اس جملے کا کیا محل  ؟ لیکن  صاحب اس جملے نے ایسا اثر دکھایا  کہ کزن صاحب ساری ہیکڑی بھول گئے ۔یہاں پر  میرے ذہن میں عرب مُلک کی  ایک ملکہ کے وُہ الفاظ یاد آگئے  جو اُسنے اپنی دوست کینیڈا کی سابقہ خاتون اوّل کو دیئے تھے کہ چھوٹا مُطالبہ منوانے کیلئے میں ایک بار شوہر کے سامنے روتی ہوں ، بڑا مُطالبہ منوانے کیلئے مُجھے دو بار رونا پڑتا ہے ۔اسطرح میں اپنا ہر مُطالبہ منوا لیتی ہوں ۔ 
تقریب میں کزن نے ہنستے ہوئے دکھایا کہ دیکھو ہماری بیگم کس فتح مندی سے اِٹھلاتی پھر رہی ہیں کہ ہم اُنکی پسند کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں ۔   
اب آپ درج ذیل ایکسپریس نیوز میں شائع شُدہ تراشہ پڑھیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اوباما نے اپنی پسند کی چھ ٹائیاں خریدیں خرید تے وقت یقیناً مِشل کی پسند کو بھی یقیناً مدنظر رکھا ہوگا ۔ سابقہ تجربہ کی بنا  پر رد  کئے جانے کے خدشے  نے بھی سر اٹھایا ہوگا جسکے  پیش نظر ہی تو چھ ٹائیاں خریدیں ہونگی ۔ لیکن مِشل کو ایک بھی پسند نہ آئی۔ اور اپنی پسند کی اُدھار ٹائی بھی چلے گی۔۔
دیکھا آپنےمرد کی پسند چھ بار ضرب کھانے پر بھی عورت کی پسند کو نہیں پکڑ سکی۔
دونوں کے خیالات  میں فرق ۔
A۔دونوں کی سائیکی الگ الگ ہے دونوں میں مالٹے، مو سمی جیسا فرق ہے ۔C۔دونوں ایکدوسرے کی ضرورت ہیں ۔D۔ دونوں ایکدُوسرے کی محبت  ہیں ۔ 
نوٹ:- خُواتین و حضرات پول ووٹنگ میں ضرور حصّہ لیں مگر اپنے تجربات کو مدنظر رکھ کر ووٹ دیجئے۔  اِنشااللہ4/ مارچ کو فائنل رزلٹ دیکھیں گے۔اور اگر کوئی اپنا تجربہ / خیال شیئر کرنا چاہے ۔ اُسکو ویلکم ہے۔۔۔۔۔۔۔
                                                   ۔(خلوص کا طالب۔ایم۔ڈی)۔ 

Thursday, February 24, 2011

پاکستان میں کیتھولک چینل۔کی نشریات کا باقاعدہ آغاز٭٭٭٭٭٭٭٭٭

                                                          
منجانب فکرستان/  کیتھولک ٹی وی چینل گُڈ نیوز نے پاکستان میں اپنی باقاعدہ نشریات کا آغاز کردیا ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یوں تو پاکستان میں انڈیا کے کئی چینل دکھائے جاتے ہیں ۔ان چینلوں سے ہندو مذہب کے بارے میں بھی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں ۔  خاص طور پر  ڈراموں میں ہندوانہ کلچر پیش کیا جاتا ہے ۔شادی بیاہ کی ہندوانہ رسمیں دکھائی جاتی ہیں،کلچر کاتعلق مذہب سے جُڑا ہوتا ہے ۔
 ان ڈراموں کا اثر پاکستانی  ثقافت پر پڑتا ہے  یہ  اثر پاکستانی شادیوں میں صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے  ۔اب یہ حقیقت ہے کہ فسانہ کہا یہ جارہاہے کہ شادی کی تقریبات میں بچے  اپنی ماؤں سے یہ پوچھنے لگیں ہیں کہ مما  پھیرے کب ہونگے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کیلئے یہ ایک دلچسپ رسم ہے ۔
  اس بارے میں آپکے ذہن میں کوئی تبصرہ ہے ؟ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
درج ذیل تراشہ ڈوئچے ویلے سے لیا گیا ہے ۔


پاکستان میں پہلے کیتھولک ٹی وی چینل " گڈ نیوز ٹی وی" کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہو گیا ہے۔ اردو زبان میں چوبیس گھنٹے کی روزانہ نشریات پیش کرنے والا یہ ٹی وی چینل پاکستان میں کیتھولک چرچوں کے مرکزی بورڈ کی ملکیت ہے۔                           (خلوص کا طالب۔ایم۔ڈی)                   

Wednesday, February 23, 2011

مُسلمان پیچھے کیوں رہ گئے/ تحقیق کی ضرورت ہے۔

 منجانب فکرستان ۔۔۔بھارتی براڈکاسٹر،شاعر اور ڈائریکٹرماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹربھارت کے جناب عُبیدصدیقی کے خیالات پر مشتمل آرٹیکل ایکسپریس نیوز میں شائع ہُوا تھا اسی سے اقتباس پیش ہے ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
اگر آپنے بھارتی چینل ۔ای۔ٹی۔وی، اُردو پر "ہمارے مسائل" نامی پروگرام دیکھا ہے تو پروگرام کے  کمپئیر جناب عبید صدیقی کی صورت سے ضرور واقف ہونگے۔ اب ہم اُنکے خیالات سے بھی واقفیت حاصل کرتے ہیں ۔
چونکہ آپ تقریباً دس سال تک بی بی سی سے منسلک رہے ہیں ۔اسلیئے فرماتے ہیں کہ بی بی سی میں  خبر کی صحت پر بڑا دھیان دیا جاتا ہے  ، معاملات کو معروضی انداز میں بیان کیا جاتا ہے ۔ لیکن بی بی سی جو چیزپیش کرتا  ہے وہ مغربی نقطہ نظر کے تابع ہوتی ہے ۔ 
 تعلیمی مسائل  صرف برصغیر ہی نہیں بلکہ سارے دُنیا کے مسلمانوں کو در پیش ہیں  ۔آپنے کہا دنیا بھر کے مسلمان اس وقت ترقی یافتہ قوموں سے کم سے کم سو سال پیچھے ہیں ، بعض لوگ اسکی وجہ مذہب کو ٹھراتے ہیں میں اس سے متفق نہیں ہوں کیونکہ یہ اتنا سیدھا سادا معاملہ نہیں ہے ۔ تحقیق کرنےکی ضرورت ہے ۔
مسلمانوں میں انتہا پسندی نے اسلئے جنم لیا کہ مسلمان دوسری قوموں سے بچھڑ گیا ہے ۔دنیاکے ساتھ استدلال سے بات کرنے کی قوت ہمارے اندر ختم ہوگئی ہے ۔اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے منطق کے قائل نہیں رہے ۔نتیجہ میں بزور طاقت دنیا کو زیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔
میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کا حال ایک جیسا ہے ۔زیادہ تر پروگراموں میں کِھلواڑ ہوتا ہے ۔بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ پروگرام مقبول کتنا ہے ۔کیونکہ میڈیا بنیادی طور پر کنزیومر پروڈکٹ ہے ،اسلئے لوگ ہی اسکی سمت درست کرسکتے ہیں ۔
اخبارات میں ایڈیٹر کا کردا ر ختم ہوگیا ہے ،مارکِٹنگ والے بتا تے ہیں کہ کیا شائع ہونا چاہیے ۔یہ بزنس ہے جو اتنا پیسہ لگائے گا وہ بزنس ہی کرے گا۔
انکے خیال میں کہ آدمی مسلسل سوچتا رہتا ہے اور غور کرتا رہتا ہے جس سے اسکے خیالات میں تبدیلی آتی ہے ۔اسکی مثال وہ اسطرح دیتے ہیں ۔اگر کوئی شخص آج جیمز جوائس کو پسند کرتا ہے تو ہوسکتا ہے کل وہ اشرف علی تھانوی کی تقلید کرنے لگے ۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...