Monday, December 6, 2010

لا محدود کو محدود۔۔۔۔(۔چوتھا آخری حصہ)۔۔۔

فکرستان سے" ایم ۔ ڈی" کا آداب قُبول فرمائیں سابقہ حصوں میں آپکویہودیت،عیسایت 

اوراسلام کے بُنیادی عقائد کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں ۔اب  ہم  سلسلہ  وہیں

سے جوڑتے ہیں ۔ بے دین سائنسداں نے اپنے خطاب میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلے میں فکرستان والوں کا  شُکریہ ادا  کرتا ہوں  کہ  اُنہوں  نے مذاہب کو 

سمجھنے کا ایک اچھا موقع  فراہم کیا ۔۔۔اصل میں  فکرستان والوں  نے مجھ  بے دین 

شخص کو ایک  ٹاسک  دیا  تھا کہ  میں اپنے ساتھیوں اور ساتھیوں کے ساتھیوں میں 

سے ایسے بے دین  سائنسدانوں کواس سیمینار میں شرکت کے لیے آمادہ  کروں۔ تاکہ  

ان سائنسدانوں  میں سے اگر کوئی کسی دین سے مُتاثر ہو تو وُہ اُس دین کو اپنا لے ۔
  
 چائے کے وقفہ کے دوران ان سب نے اپنی اپنی رائے لکھ  کر مُجھے دے دی ہے  

 جسے میں آخر میں  پیش کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

 ۔ پہلے میں مذہب کے بارے میں کچھ  باتیں  کروں گا ۔ پھر سائنسدانوں  کی   باتیں 

ہونگیں ۔۔ تینوں مذہب کے ہرعالم نے یہ دعویٰ  کیا  ہے کہ خُدا صرف اُنکے مذہب 

کے ماننے والوں کے گُناہ معاف کرے گا اور صرف اُسی مذہب کے ماننے والے 

جنت میں جاسکیں گے۔اگرآپکا تعلق دوسرے مذہب سے ہے تو چاہے آپ  کتنے ہی 

حقوق العباد کے پاس دار، عبادت گُذار، ہمدرد، نیک اورفلاہی کام کرنے والے کیوں 

نہ ہوں  آپکی بخشش نہیں ہوگی ،آپ جنت میں نہیں جاسکیں گے۔۔۔۔۔۔ 

 کیااسطرح خُدا  لامحدود کو محدود کرنے کےمترادف نہیں ہے ؟ 

 اب فرض کریں خُدا کی بخشش اور جنت پانے کیلئے میں کسی مذہب میں  شامل 

ہوجاتا ہوں مگر یہ کیا ؟ یہاں تو مُجھے ہر طرف فرقے ہی فرقے نظر آرہے ہیں اور 

ہر فرقہ یہ کہتا ہے کہ اس مذہب کی اصل تعلیمات پر ہم عمل پیرا ہیں اسلئے خُدا کی 

بخشش اور جنت کے صرف ہم ہی حقدار ہیں باقی تمام فرقے بددتی ،شرک  والے ، 

کافر دوزخی ہیں ۔۔۔ ہر فرقہ کا یہ دعویٰ ۔۔۔ میرے لیے سوالیہ نشان ہے ؟ یہاں ان 

فرقوں نے خُدا لامحدود کو اور بھی محدود کردیا ۔۔

یہ فرقے کیا ہیں ،ہر مذہب کے بانی کے اُٹھ جانے کے بعد اصل مذہب کی تحریف 

(تبدیل ) شُدہ شکلیں ہیں اسکی بہترین مثال گوتم بُدھ بُدھا کی ہے جسکی  تعلیم ہے کہ 

کسی قسم کا بت نہ بنا نا لیکن  بُدھا  کے مرتے ہی مذہبی رہنماؤں نے بُدھا کے اتنے 

بڑے  بڑے بُت بنائے کہ دُنیا حیران رہ گئی۔۔۔اسی سے آپ اندازہ لگائیں کہ بُدھا کی  

تعلیم کیا تھی کیا بن گئی۔۔۔

۔ با نی مذہب کے اُٹھ جا نے کے بعد ہر مذ ہب کا یہی حال ہُوتا ہے۔۔۔ اُس مذہب  کے 

مختلف الخیال مذہبی رہنما اپنیاپنی اجارہ داری کیلئے اس مذہب پرقبضہ کرلیتے ہیں 

اسطرح ایک مذہب مختلف  فرقوں میں بٹ جاتا ہے  ۔ بانی مذہب کی اصل تعلیم پس 

پشت چلی جاتی ہے۔ تحریف( تبدیل )شدہ مذہبی فرقوں کی تعلیمات سامنے آجاتی ہیں۔

آخری پیغمبر نے اسی خدشہ کے پیش نظر آخری حج کے خطبہ میں فرمایا تھا کہ 

دیکھو دین میں تبدیلیاں کرکے فرقے نہ بنانا کہ تم سے پہلی قومیں بھی اسی وجہ سے 

تباہ ہوگئیں تھیں اور ایسانہ ہو کے میرے بعد تم بھی آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں 

کاٹ نے لگو لیکن ہُوا وہی کہ جسکا خدشہ ظاہر کیآ گیا تھا۔۔۔ اور آج تک بھی ہورہا۔ 

نوجوان نسل ان فرقوں سے کافی پریشان ہوتی ہے  اور طرح طرح کے الجھنوں میں 

گرفتارہوجاتی ہے  اب میں اُنکے خدشات دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔خُدا ایک 

اُسکا پیغام ایک ، تمام پیغمبر۔۔۔ خُدا کا ایک ہی پیغام لائے ہیں ۔ جوکہ یہ ہے ۔ "حقوق 

العباد کی پاسداری کروکہ آخرت میں سب سے پہلے اسی کی پوچھ ہوگی ۔۔۔ خُدا واحد 

کی عبادت کرو۔۔۔ اور یوم آخرت  میں اعمال کی بُنیاد پر جزا اور سزاپر یقین رکھوا

سارے پیغمبر خُدا کا یہی پیغام لائے ہیں سارے آسمانی  مذا ہب والے اس پیغام کی 

حقانیت کومانتے ہیں باقی رہےفرقے تو ۔ یہ سب پادری،ربی،مولوی نے اپنی اپنی 

اجارہ داری کیلے بنائے ہوئے ہیں۔ ۔ خُدا نے کسی فرقے کو گُناہوں سے بخشش اور 

جنت  کا ٹھیکا نہیں دیا ہے۔۔۔ 

۔ میں نے اسلام کو سمجھنے کیلئے قُرآن کابھی مُطالعہ کیا ہے اب آپ دیکھیں  اپنے 

آخری پیغیمبر کے زریعے بھی خُدا نے اپنا وہی آفاقی پیغام دوہرایا ہے قُران کی  آیات 

2۔62اور5۔59  میں  صاف لفظوں میں خُدا کا آفاقی پیغام لکھا ہے قُرآن کے الفاظ۔( 

مسلمان ہوں یا یہودی ،عیسائی ہوں یا ستارہ پرست یا جوکوئی بھی  نیک عمل کرے گا 

یوم آخرت کی جزا و سزا پر یقین رکھے گا وہ کسی خوف میں مبتلا نہ ہوں اُنہیں پورا 

پورا اجر ملے گا )  یعنی کسی مذہب یا کسی فرقے کی کوئی اجارہ داری نہیں ہے ۔ ان 

آیات کے مُطابق طرز عبادت کی بھی کوئی شرط نہیں  اصل چیز دل سے عبادت ہے 

طرز عبادت  نہیں۔

حضرت محمد ص نے آخری حج کے خطبہ میں بھی خُدا کا  آفاقی پیغام دوہرایا تھا  کہ 

تمام انسان آدم کی اولاد ہیں تم میں کوئی اعلیٰ یا ادنیٰ نہیں ہے اعلیٰ وہی ہے جس نے 

خُدا کے پیغام پر عمل کیا۔۔۔آپ ص نے فرمایا اے لوگو ایسا نہ ہو کہ یوم آخرت میں  

میری اُمت کی گردنیں  دنیا وی بوجھ سے جُھکی جارہی ہوں جبکہ دوسری اُمتیں 

سامان آخرت لیکر پُہنچیں ایسی صورت میں، میں  تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ ہر 

شخص اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہوگا ۔۔۔
     
میں مسلمانوں کی عبادت  دیکھنے خانہ کعبہ بھی گیا تھا وہاں میں نے دیکھا کہ   

مختلف لوگ مختلف طریقہ سے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ کوئی ہاتھ باندھ کر پڑھ رہا ہے تو 

کوئی ہاتھ کُھلے رکھ کر پڑھ رہا ہے، کوئی کسی طرح پڑھرہا ہے تو کوئی کسی طرح  

لیکن ان  میں کوئی بھی اپنے کوصحیح ظاہر کرا نے کیلئے کسی دوسرے کی  نماز 

پراعتراض نہیں کرتا ہے نہ کوئی کسی کو کا فر کہتا ہے نہ ہی نفرت کرتا ہے  سب 

اعتقاد سے بھائیوں کی طرح  اپنی اپنی عبادت نماز پڑھتے ہیں ۔ طرز عبادت کیساہی 

کیوں نہ ہو دل سے عبادت ہو نی چاہیئے۔۔۔نوجوان نسل سے مُجھے یہی کہنا ہے کہ 

آپکا تعلق کسی مذہب کے کسی فرقے سےکیوں نہ ہو آپ اُسی میں رہیں

صرف  پیغام خُدا کی پاسداری کا خیال رکھیں۔۔ دل سے عبادت کریں پھر کسی خوف 

اوراندیشہ  میں مبتلا نہ ہوں ۔۔۔۔ویسے آپکی مرضی۔۔۔۔آپ سوچ رہے ہونگےکہ میں 

اسلام کے بارے میں بُہت کچھ جانتا ہوں تو عرض ہے کہ میرا یقین ہے کہ اس دین پر 

سے فرقہ پرست اپنا قبضہ ہٹالیں اسکو بانی دین کی اصل تعلیمات پر رہنے دیںتو یہ 

دین پہلے کی طرح بُہت تیزی سے دُنیا پر چھا جائے گا ۔چونکہ یہ عقل کے بُہت قریب 

ہے۔۔۔       

اب میں کچھ بےدین لوگوں کی بات کروں گا سب سے پہلے میں نوبیل انعام یافتہ چینی     

ادیب گاؤژینگیان کے احساسات کا ذکر کروں گا کہ اس بے دین شخص نے خُدا کی 

جو ڈیفینیشن ( تعریف) کی ہے ۔اتنی اچھی تعریف میں نے کسی فرقہ پرست مذہبی 

رہنما سے کبھی نہیں سُنی جو کہ اُنہوں نے نوبیل انعام ملنے پر اپنے خطاب میں کی 

تھی اُنکے الفاظ یہ ہیں" باوجود بے دین ہونے کے میں نےہمیشہ ایک ناقابل تعارف 

وجود کا احترام کیا ہے " کیا ہم ایسے شخص کو بے دین کہیں گے جو خُدا سے اتنے 

گہرے طور پر وابستہ ہے کہ خُدااُسکے احساس میں رچا /بسا ہُوا ہے۔۔ یہی حال اکثر 

سائنسدانوں کا ہے جو بے دین کہلاتے ہیں ۔۔بعض سائنسداں ہوتے  تو پکے  مذہب 

پرست ہیں مگراپنے آپ کو بے دین ظاہر کرتے ہیں جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جونہ 

صرف کھلم کھلا اپنے مذہب کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اپنے مذہبی عبادات بھی دلجمی 

سے ادا کرتے ہیں۔جیسے یہودی سائنسداں  رابرٹ ونسٹن یا  نوبیل انعام یافتہ 

سائنسداں ڈاکٹر عبدالالسلام کہ جن کا نوبیل خطاب ایک سائنسداں کے بجائے ایک 

مذہبی رہنما کا خطاب لگتا ہےاب آپ خود اندازہ لگائیں۔ایسے پکے دیندار شخص کو 

بھی بے دین /کافر کہہ کراُسکا گھر جلادیا گیا اُسکو مارنے کے درپہ ہوگئے۔ صرف 

اسلیئے کہ وہ ہماری طرح کا عقیدہ نہیں رکھتا ہے ۔تو یہ ہیں فرقہ پرست کہ جنہوں 

نے دُنیا  کو جہنم بنایا ہُوا ہے ۔

جب ایک سائنسداں انسانی سیل میں موجود چھوٹی کائنات کو دیکھتا ہے پھر بڑی 

کائنات  کو دیکھتا ہے پھر ان سب میں موجود مربوط توازن ،انرجی،  اور قوانین کو 

دیکھتا ہے تو اسکے دل میں  لامحدود ذات ، لامحدود طاقت اور لامحدود ذہانت کا 

تصورابھرتا ہے ۔ آسٹریلوی بے دین سائینسداں / پروفیسر پال ڈیویز نے کتاب مائنڈ 

آف گوڈ لکھی ہے جس میں اُنہوں نے لکھا ہے کہ سائینس کے مختلف میدانوں 

میں مصروف کاربے دین سائنسدان بھی عمیق معنوں میں دیندار ہیں وہ لامحدودخُدا کو 

مانتے ہیں یہاں تک کہ سخت سے سخت قسم کے دہریے سائنسدان بھی بعض دفعہ ایک لامحدود 

ہستی کو ماننے پر مجبور پائے گئے ہیں۔ پھر سائنسدان/ پروفیسرصاحب نے اپنی ذاتی 

رائے ان الفاظوں میں ظاہر کی " اب تک کی سائنسی تحقیقات کے باعث میں اس ایقان 

تک پُہنچا ہوں کہ تمام طبیعی کائنات اس طور پر مربوط ہےکہ اسے محض بے معنی 

اتفاق نہیں کہا جاسکتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ وضاحت کی کسی گہری سطح پر کوئی 

عمیق معنویت موجود ہے مزید یہ کہ میرے اخذ کردہ نتائج کے مُطابق ذہن بھی مادہ 

کی حادثاتی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ کسی ایک حقیقت کا نہایت بنیادی پہلوہے"دیکھا 

آپ نے عام معنی میں یہ بے دین سائنسدان بھی ۔۔عمیق معنی میں  کتنے دیندار نکلے 

۔ انہیں سہولیات حاصل تھیں اسلیے خُدا کی قدرت کودیکھ کر لامحدود ہستی پر ایمان 

لانے پر مجبورہوئے ۔ لیکن عام انسان کو یہ سہولت حاصل نہیں اسلئے پیغمبروں کا 

آنا ضروری تھا۔ رسوماتی عبادات  کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے کہ  جس سے کوئی 

بھی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ اس سے روح کو طمانیت حاصل ہوتی ہے سائنسدان 

جسکو لامحدود ہستی کہتے ہیں اُسی کو مذہب والے  برہما،یہووا،خُدا ،بھگوان 

،گوڈ،اللہ جیسے ناموں سے پُکارتے ہیں ۔یہ سب اسم معرفہ ہیں اور اسم معرفہ محدود 

کے معنی میں بولا جاتا ہے ۔ اسلیئے میں اُسکوعموما"خالق کائنات یا رب جیسے 

صفاتی نام سے یاد کرتا ہوں لیکن یہ ضروری نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے آپکا تصوراتنا 

وسیع ہوکہ جس میں سارے  صفاتی نام بھی شامل  ہوجاتے ہوں ۔اصل آپکا تصورہے 

نام چاہے کچھ بھی ہو۔۔اُسکو۔۔احساس میں۔۔ روح سے۔۔ محسوس کرو۔۔ بیشک کوئی نام 

نہ دو۔ 

اب میں اپنے ساتھیوں کی رائے آپ لوگوں پر ظاہر کر رہاہوں کہ اُنہیں کسی مذہب 

نے بھی مُتاثر نہیں کیا ہے ۔ 

میری فرقہ پرست مذہبی رہنماؤں سے گُذارش ہے کہ مخلوق خُدا پر رحم فرمائیں ۔ 

نوجوانوں کے ذہنوں کو پرا گندہ نہ کریں ۔ لامحدود خُدا کو اپنے فرقہ تک محدود نہ 

رکھیں ۔کفر، بددت، شرک،جیسے خُدائی فیصلے خود نہ کریں ،آخرت میں خُدا کو 

کرنے کیلئے بھی تو کچھ فیصلے چھوڑیں ۔ اسلیئے کہ آپ دلوں کے حال نہیں جانتے 

ہیں ۔

مُجھے یہ دُعا بُہت پسند ہے جسے میں اکثر سُنتا ہوں ۔کیوں سُنتا ہوں ؟ شاید اسکے 

بول متاثر کن ہیں یا شاید ماحول متاثر کن ہے( چونکہ سامنے جنازہ رکھا ہے) یا 

موسیقی متاثرکن ہے یا پھر یہ سب کچھ ملکر ہی مُتاثر کن ہے ۔میں بھی آپ کے ساتھ 

سُنتا ہوں جہاں مُجھے اتنا برداشت کیا ہے تین منٹ اور سہی۔الوداع






Wednesday, November 24, 2010

لا محدود کو محدود۔۔۔۔۔( تیسرا حصہ )۔

فکرستان سے " ایم ۔ ڈی " آپ سے مُخاطب ہے۔ پہلے حصے میں  آپکو یہودیت جبکہ دوسرے میں عیسایت سے آگاہی  ہوئی ۔ اب ہم وہیں سے سلسلہ جوڑتے ہیں    
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعلیٰ کی طرف سے جتنے بھی پیغام برآئے سب کا پیغام ایک ہی ہے ۔جیسے جیسے گردش زمانہ ذہن کو ترقی دیتا رہا ۔اس دور کی ذہنی نسبت سے اللہ تعلیٰ اپنا پیغام پیغمبروں کے زریعے بھیجتے رہے ، جس قوم نے جتنی ذہنی ترقی کی اُسی  کی نسبت سے اُس قوم کے لیئے ایک پیغمبر آیا ۔آج سے 14سوسال پہلے جب انسان کی ذہنی بلوغت مکمل ہوئی تو دنُیا کی تمام قوموں کےلیئے ایک آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ تشریف لائے اور دین کو مکمل کردیا ۔۔۔۔۔
 جیساکہ ابھی میں نے کہا  کہ سب کا پیغام ایک ہی ہے ۔وہُ ہے" صراط مستقیم " یعنی انسان کی فلاح کا راستہ اور شیطان کے شر سے محفوظ رہنے کا طریقہ ۔ سارے پیغمبراللہ تعلیٰ کا یہی پیغام لائے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہرنماز میں صراط مستقیم کو پڑھتے ہیں،اورصراط مستقیم پرچلنے کی دُعا مانگتے ہیں 
۔ جیساکہ ابھی کہا دُنیا میں جتنے پیغمبر آئے اللہ کا یہی پیغام لائے تھے ۔ لیکن جیسے ہی پیغمبر کا وصال ہوتا مفاد پرست دین میں تحریف کر ڈالتے تھے اسی لئے قُران کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعلیٰ نے لی ہے۔ اب میں اسلام میں اخلاقی تعلیمات کاذکر کرتاہوں۔
 اسلام کے معنی امن اور سلامتی کے ہیں جبکہ مسلم کے معنی صراط مستقیم یعنی سیدھے راستے پر چلنے کے ہیں یعنی وُہ راستہ کہ جسکواللہ تعلیٰ نے مُقررکیا کہ جس پر چلنے سے امن 
ہی امن اور سلامتی ہی سلامتی ہے  ۔۔۔۔
آپ ﷺ نےفرمایاعربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر 
 ،  آقا کو غُلام پر غلام کو آقا پر، سفید کو سیاہ پرسیاہ کو سفید پر کوئی برتری نہیں ،برتر صرف وہی ہے جوصراط مستقیم پر ہے ، غُلاموں کو وہی کھلاؤ جو خُود کھاتے ہو، وہی پہناؤ جو خُود پہنتے ہو،پڑوسیوں سے اچھا سلوک رکھو، ہمارے مذہب میں بلا وجہ ایک انسان کا قتل اتنا بڑا جُرم ہے گویا یہ تمام انسانوں کے قتل کے مترادف ہے ، ہمیں یتیموں اور بیواؤں  سے اچھا سلوک روا رکھنے کا حُکم ہے ، قربانی کے گوشت میں غریبوں کا حصہ مُقرر ہے ،زکٰواۃ کے زریعے غریبوں کی مالی فائدہ پہنچانے کا نظام ہے  ، عالمگیریت کوفروغ دینے کیلئے حُکم ہے کہ وُہ شخص مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ دیگراقوام کے نبیوں  پر بھی ایمان نہ لائے ۔۔۔اسلام کے بُنیادی ارکان میں ۔اللہ اور رسولﷺکا اقرار کرنا ، نمازپڑھنا ،زکٰوۃ دینا ،روزہ رکھنا اورحج کرنا ہیں ۔۔۔ اسکے علاوہ فرشتوں،آسمانی کتابوں ،رسولوں ،قیامت اور روز جزا سزا پریقین و ایمان رکھنا ضروری ہے  ۔اللہ کے نزدیک صرف وہی شخص بخشش اور جنت کاحقدار بن سکتا ہے کہ جو ان باتوں پر ایمان و یقین رکھتا ہو۔یعنی صرف وہی انسان اللہ کی رحمت سے مستفیض ہوگا جوکہ مسلمان ہوگا اور جو مُسلمان نہ ہوگا اُسکی بخشش بھی نہیں ہوگی  ۔وہ ہمیشہ کیلئے دوزخ میں ہی رہے گا ، جبکہ مسلمان کے گُناہ کا پلڑا بھاری ہونے کی صورت میں گُناہوں کی مُناسبت سے سزا جھیل  کر جنت میں داخل ہونے کا حقدارہوگا ۔ اسلام کے بارے میں منفی پروپگنڈہ  سے مُتاثر ہوکر دیگر مذاہب والے یہ دیکھنے کے لیے اسلام کا مُطالعہ  کرتے ہیں کہ آخر دیکھیں یہ دین کس حد تک خراب ہے ۔ لیکن جب مُطالعہ کرتے ہیں تو اُنہیں اسلام  میں  باپ ، بیٹے ، روح القدس جیسے غیر عقلی عقیدوں سے واسطہ نہیں پڑھتا ، نہ ہی یہودیوں کی طرح کے خُدا سے کُشتی والے عقیدہ سے اور نہ ہی بُتوں کو پوجنے جیسے عقیدوں سے پالا پڑتا ہے ،چونکہ  یہ غیر عقلی عقیدے اُنہیں  ہمیشہ شک اور تذبذب میں مبتلا کئے ہوئے رہتے ہیں ، اس لیے اسلام کے مُطالعہ سے جب حقیقی دین پاجاتے ہیں تو مُسلمان ہوجاتے ہیں ، یہ عقلی دور ہے ، اسلئے اب یہ تحریف شُدہ بے عقلی دور کے مذاہب  زیادہ دن نہیں چل سکیں گے۔ میں یہ بات دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کسی بھی مذہب کا پکا  راسخ العقیدہ شخص بھی جب اسلام کا مطالعہ کرے گا اور اپنے مذہب سے مُوازنہ کرے گا توسچائی کی گواہی پروہ مسلمان ہو جائے گا۔ اس وقت دُنیا میں جتنے مذاہب ہیں ان میں اسلام ہی وُہ واحد مذہب ہے جو عقل کے عین مُطابق ہے یہی وجہ ہے کہ جب تعلیم یافتہ لوگ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو حقیقی دین کو پاجاتے ہیں اسطرح سے لوگ مسلمان ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ اسی لیے میں یہاں پرموجود تمام نان مسلم کودعوت دیتا ہوں کہ وُہ بھی    
 دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں تاکہ اللہ کی رحمت ،بخشش،اور جنت کو پاسکیں اور دوزخ اُن سے دُور ہوجائے ۔والسلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مُسلمان عالم کے بعد سائنسدانوں کے نمائندہ کودعوت دی گئی کہ وُہ اپنے خیالات کا اظہار کرے ۔"باقی آئندہ آخری حصہ میں"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Monday, November 15, 2010

لا محدود کو محدود۔۔۔۔۔۔(۔دوسرا حصہ۔)۔

فکرستان سے " ایم ۔ ڈی" آپ سے مُخاطب ہے ۔پہلے حصے میں آپکو  غیر تبلیغی  مذہب یہودیت کے بارے میں کافی نئی  معلومات حاصل ہوئی  ہونگی ۔ اب ہم وہیں سے سلسلہ جوڑتے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                   
                    
اُسکی رحمت ہمارے ساتھ ہو گئی  ۔وہُ ہمارے درمیان آگیا نہ صرفسیدھا ،سچا        راستہ 
       
دکھا نے بلکہ ہمیں اُس ازلی گُناہ سے نجات دلانے ۔جو کہ بی بی حوا اور آدم  نے کیا تھا ۔

یہ پہلا گُناہ ایسا گُناہوں کا بیج تھا کہ جو انسان کے سرشت میں داخل ہوگیا تھا کہ جس سے

 سارے قسم کے گُناہ وجود میں آگئے تھے ۔اس سے نجات کیلئے کُفارہ ضروری تھا۔ مگر یہ 

کُفارہ انسان ادا نہیں کرسکتا تھا ،چونکہ انسان تو خوُد گُناہگار ہے یہ کُفارہ تو وہی ادا کرسکتا تھا 

جوخود اس ازلی گُناہ سے پاک  ہو۔

شیطان خوش تھا کہ اس ازلی گُناہ سے انسان کبھی نجات نہیں پاسکے گا اور وہ کبھی   جنت 

میں داخل نہیں ہو سکے گا۔مگر اسُ روح القدس کے قُربان جائیے کہ انسان کی نجات کیلئے
  
اپنے کلام کومسیح کی انسانی صورت عطا کی "یوحنا ؛1،14،2،1 "  جو کنواری مریم کے زریعے

 اس دنُیا  میں آئی ۔ یہ انسانی صورت اُس ازلی گُناہ سے پاک تھی یہ صورت اسلئے دنُیا   میں 

آئی  تا کہ انسان کے ازلی گُناہ کا کُفارہ ادا ہو  سکے اور انسان  کواُس ازلی گُناہ سے نجات مل
 سکے ۔
 یسوع نے مصلوب ہوکر کفارہ ادا کیا اور انسان کو اُس ازلی گُناہ سے نجات دلائی تاکہ انسان

نیک عمل کرکے جنت میں داخل ہوجائے ۔
    
اگر کفارہ ادا نہ ہوتا توانسان کتنےہی نیک عمل   کرتا ،وہُ پھر بھی گُناہگار کا گُناہگار ہی    رہتا

بپتسمہ:۔ اب انسان صرف بپتسمہ کی سادی سی رسم یعنی رسمی غُسل شیطانی عمل  سےدست

برداری کااقرار، باپ ،بیتے اور روح القدس پر اعتقاد سے اسکے سرشت میں داخل ازلی گُناہ سے

 اسکو نجات مل جاتی ہے  ۔۔گویا یہ  ایک نئی پیدائش ہوتی ہے ۔۔پہلی پیدائش ازلی گُناہ سے

آلودہ تھی ۔ ۔۔ بپتسمہ لینے کے بعد دوُسری پیدائش گُناہ سے پاک  پاکیزہ پیدائش بن جاتی ہے ۔ 

عشاء ربانی   ؛۔ گرفتاری سے ایک دن قبل حواریوں کے ساتھ کھاناکھاتے ہوئے یسوع نے اپنی 

روٹی کے ٹکڑے کرکے شاگردوں کو دیئے اور کہا کھاؤ یہ میرا بدن ہےاوراپنے پیالے میں سے

 شاگردوں کو پینے دیا اور کہا پیو یہ میرا وہ مقدس خون ہے جو ازلی گُناہ کے کفارہ کےطور بہا یا 

جائے گا ۔ یہ کہتے ہوئے عیسائی عالم کےآنسو نکل پڑے ۔پھر آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے 

کہا۔ اس رسم کو جاری رکھنے کا حُکم ہے اسلئے ہر اتوار کو چرچ میں اس رسم کی ادائیگی ہوتی ہے ۔

 ہمارا عقیدہ ہے کہ رسم کے لئے لائی گئی روٹی اورشراب پر دُعا کرتے ہی روٹی یسوع کےبدن 

اور شراب یسوع کے خون میں تبدیل ہوجاتا ہے۔یہ پاک چیزیں ہم کھاتے ہیں تاکہ ہمارے

 جسم  میں پاکیزگی آجائے ۔۔۔ یہ رسم گُناہوں سے نجات کا  شُکرانہ بھی ہے اور کفارہ کی عظیم

 قُربانی کی یاد کو  بھی تازہ  کرتی  ہے ۔۔۔  

اب میں اپنے مذہب کیحقانیت کے وہُ ثبوت بیان کرتا ہوں جو عقل والوں کیلئے ہیں کنواری 

مریم کے پیٹ سے پیدا ہونا،مرُدوں کو زندہ کرنا،بیماروں کو اچھا کرنا ،کم کھانے کو زیادہ کردینا،

دریا پر پیدل چلنا ،تیسرے دن زندہ ہوجانا۔غرض ایسے کئی خرق عادات واقعات  ۔خُدا یسوع  

مسیح ہونے کے ثبوت ہیں ۔

تعلیمات ؛ یسوع کی تعلیم مُحبت کی تعلیم  ہے ۔ہرایک سے محبت،غریبوں سے محبت بیماروں سے 

محبت،پڑوسیوں سےمحبتیہاں تک کے دشمنوں سےبھی محبت،ایک گال پر کوئی تھپڑ مارے تو 

دوسرا گال پیش کرنے کی تعلیم صرف یسوع کی تعلیم ہے ۔دوسروں کیلئے وہی پسندکرو جو اپنے 

لیئےچاہتے ہو ۔ساری اخلاقیات ان جملوں پر ختم ہوجاتی ہے ۔اس سے بہتر اخلاقیات کا درس 

ممکن ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنُیا کی تعلیم یافتہ لوگوں کی اکثریت عیسائی مذہب  سے

تعلق  رکھتی ہے اور دنُیا میں سب سے زیادہ اسی مذہب کے ماننے والے پائے جاتے ہیں۔کیا یہ

 سارے ثبوت اس مذہب کی حقانیت کو ظاہر نہیں کرتے ہیں ۔

ہم یہودیوں کی طرح یہ نہیں کہتے ہیں کہ ہم منتخب قوم ہیں اور جنت میں ہم ہی جائیں گے ۔ 

ہمارا فیصلہ تو عمل اور اعتقاد  پر ہے  ۔البتہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ جس انسان نے بھی بپتسمہ 

نہیں لیاوہ خُدا کی بادشاہی یعنی جنت میں داخل نہ ہوسکے گا۔

اسلیئے میں یہاں پر موجود تمام خواتین وحضرات کو دعوت دیتا ہوں کہ ۔بپتسمہ لیکر عیسائی 

مذہب میں داخل ہوجائیں۔ اور ازلی گُناہ سے نجات پائیں ۔۔ بُہت شُکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔    
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیسائی کے بعد مسلمان  عالم کو دعوت دی گئی ۔مسلمان عالم نے بھی دُعائیہ کلمات ادا کئے اور

سلام کرنے کے بعد مُخاطب ہوئے کہ ہم مُسلمان نہ تو یہ دعویٰ  کرتے ہیں کہ  ہم اللہ تعلیٰ کی

 منتخب قوم ہیں اور نہ ہی یہ کہتے ہیں  صرف ہمارے  رسولؐ کو مانیں ۔ ہم تمام پیغمبروں کو مانتے

 ہیں ،ہم موسٰؑے کو بھی مانتے ہیں ، عیسےٰؑ  کوبھی مانتے ہیں ،ہم ابراہیمؑ کو بھی مانتے ہیں ، ،محمدؐ کو 

بھی مانتے ہیں چونکہ ابراہیمؑ تامُحمدؐسب اللہ   کے پیغام بر تھے ۔ اب میں اسلام کے بارے میں  

سائنسدانوں کو سائنسی قانون ارتقا کے مُطابق سمجھا نے کی  کوشش کروں گا۔۔( باقی حصہ
   
سوئم میں)۔۔۔۔

Saturday, November 6, 2010

لا محدود کو محدود۔۔۔۔۔۔۔


فکرستان سے " ایم ۔ڈی " آپ سے مخاطب ہے۔ آج اُسسیمینارکی رپورٹ پیش کروں گاکہ

جس پر دنیا بھرکی نظریں لگی ہوئی تھیں کہ ان 27 سائنسدانوں میں سے کون ۔کس مذہب کو

اپنا تا ہے ۔ ۔۔۔۔ہال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا ۔ تمام مذہبیرہنما فل تیاری کر کے آئے ہوئے تھے ۔

سب سے پہلے یہودی عالم کو دعوتدی گئی ۔ اُسنے اپنے لباس کے اوپر اپنا مذہبی چوکونی لباس پہنا

ہوا تھا کہ جس پر جھا لریں لگی ہوئی تھیں سرپرچھوٹی ٹوپی اسلئےتھی کہ عقیدہ کے مطابق خُدا کی

تعظیم ہو ۔اُسنے پہلے آسمان کی طرف دیکھا پھر حاظرین کے لئےدُعا کی اور کہا ہما را مذہبتبلیغ کی

اجازت نہیں دیتا ہے ۔کیونکہ ہم خدا کی ایک منتخب قوم ہیں ۔ ہم غیر منتخب قوم کوکیسے اپنے میں

شامل کرسکتے ہیں ۔۔۔ میں صرف یہ کہنےنے آیا ہوں کہ آپ لوگ اس حقیقت کو مانیں اور

ہم سے محبتکریں کہ ہم خُدا کی منتخب قوم ہیں ۔۔۔ یہ ہمارے ہی آباؤاجدادتھے کہ جنہوں نے

دنُیا کو خُدائے واحد کا پیغام دیا ۔۔ ہماری قوم کے ہر گھر کے بیرونی دروازے پر آپکو تعویز نما

ایک ڈبیا لگی ہوئی ملے گی ، اس ڈبیا میں چمڑے کےجھلی کاٹکڑا ہوتا ہے جس پر لکھا ہوتاہے کہ"

ہمارا خُدا ایک ہے "اور اس کے پشت پر لکھا ہوتا ہے کہ وہ "قادرمطلق" ہے۔۔۔ہم روز صبح

جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو پہلے اس پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ یعنی یہ اقرار کہ خُدا ایک ہےاور وہ

قادرمطلق ہے ۔آپ ہمارے اس عمل سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کس قدر واحد پرست

ہیں ۔ ختنہ کا حکم اسلئے آیا کہ ہم دوسروں سے الگ منتخب قوم ہیں ۔ جب حضرت ابراہیؑم کی

عمر 99سال اورحضرت اسماعیؑل کی عمر 13 سال تھی تو دونوں کی ختنہ ایک ہی دن ہوئی اسکی

تفصیل دیکھیں کتاب پیدائش"باب 17آیات 24،25،26 "۔ ۔ ہم اسرائیلی کیوں کہلاتے ہیں ۔

اسکی وجہ ہمارے پیغمبر حضرت یعقوبؑ کی خُدا سے کُشتی ہے ، رات بھر کی کُشتی ۔۔ جب صُبح

ہونے لگی تو خُدا نے کہا اب مُجھے چھوڑ دو اور جانے دو۔۔۔ہمارے پیغمبر نے کہا پہلے مُجھے برکت

دو پھر جانے دُونگا ، پھر خُدا نے برکت دی کہ آج سے تم اسرائیل ہو( عبرانیزبان میں اسرائیل

کے معنی ہیں خدا پر غالب آنے والا ) "( تفصیل کتابپیدائش باب 23 آیات 23تا 32") یہ

لقب ہماری قوم کے لیئے قابل فخر اعزاز ہے۔ ۔اسکے علاوہ جتنے نبی آئےوہ سب کے سب ہماری

قوم کے تھے ۔۔۔ من سلویٰ صرف ہم پر اترا تھا ، خُدا نے ہم سے ہی سب سے پیاریچیز کی

قربانی مانگی تھی ، ابراہیم نے اپنے پیارے بیتے اسحاق کو قربانی کے لیئے اُسی جگہ لے گئے جہاں

ہیکل کو تعمیرہونا تھا جبکہ مسلمانوں نے تحریف کرکے اسحاق کی جگہ اسماعیل کردیا ، اب ہم نے

اُس وقت تک کیلئے قربانی کوموقر کردیا ہے کہ جب تک ہمارا مسیحا آکر ہیکل کو تعمیر نہ کردے

۔اب ہم قربانی کے بدلے میں نماز کی ادائیگیکرتے ہیں ۔ ہم دن میں تین نمازیں ادا کرتے ہیں

جس کے تین جزُ ہیں خُدا کی تعریف،اپنے لیئے دُعا اورشُکراداکرنا لیکن ہمارے مذہب میں عبادت

سے زیادہ حقوق العباد کو ترجیح حاصل ہے تفصیل آپ احکامات عشرہ ، تورات اورتالمود میں دیکھ سکتے

ہیں۔خُدا نے ہمیں اپنی صفات پر پیدا کیا ہے مثلا"ایک یہودی میں رحم ،مہربانی ،سچائی،درگزرکرنے

والی صفات ہوتیں۔ ہیں یاد رہے خُدا کبھی نہیں چاہے گا کہ اُسکی منتخب کردہ قوم دوزخ میں جائے۔

ہمیں جنت میں ہی جاناہے ، یہی وجہ ہے کہ ہم میں عقیدہ آخرت نہیں ہے۔۔ خُدا کے دوتخت

ہیں ایک عدل کادوسرا درگزر کا یہودیوں کے فیصلے وہ درگزر کے تخت سے کرتا ہے ۔۔۔ہمارے

مذہب میں امن اورسلامتی کوبنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ہم جب ایکدوسرے سے ملتے تو ،السلام

علیکم کہتے ہیں جواب میں واعلیکم السلام کہتے ہیں ۔ ہم سورکاگوشت نہیں کھاتے ہیں ،بغیر ذبح

گوشت کھانا منع ہے۔۔ ۔ خدا نے ہمیں بچا کر ،فرعونی قوم کو دریا بُرد کیا تھا، دیگر قوموں نے

ہمیں کتنا لُوٹا ، ہمارا کتنا قتل عام کیا ، ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششیں کیں، اسکے باوجود

ہم آج بھی دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ورقوم ہیں ۔ہماری قوم میں حجت کرنے کی عادت

ہے ، مثلا"پیغمبر نے کہا خُدا کا حکم ہے کہ گائے کی قربانی دی جائے ، ہم ایکدم گائے کی قربانی

دینے تیار نہیں ہونگے ، ہمموسےٰؑ کو بار بار خُدا کے پاس بھیجیں گے کبھی گائے کا رنگ پوچھنے ،

کبھی گائے کی عمر وغیرہ پوچھنے ، اسی طرح کئیبار ہمارے پیغمبر نے خُدا سے بحث کر کے ہماری

بات منوائی ۔ایک مثال اور معراج میں مسلما نوں پر 50 نمازیں فرض کیگئیں تھیںلیکن ہمارے

پیغمبر موسےٰ ؑ نے محمدؐ کو بار بار خُدا کے پاس بھیج کر 5نمازیں کرائیں یا پھر خُدا کو دیکھنے کی ضدکرنا

غرض حجت کرنے کی یہی عادت ہے کہ سب سے زیادہ اور اہم سائینسداں ہماری قوم میں سے ہیں

خُدا نے اپنےہاتھ سے دو تختیوں پر دس احکام لکھ کر ہمارے پیغمبر موسےٰعلیہ السلام کو دی تھیں۔

۔کیا یہ سارے ثبوت۔۔ دلائلنہیں ہیں کہ ہم خدا کی منتخب قوم ہیں ۔ اسلئے دنیا کو ہم سے

محبت کرنی چاہئیے تاکہ خدا وند آپ لوگوں سے خوشہو ۔ بہت شکریہ ۔۔ ۔

اب عیسائی عالم کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں بتائیں ۔ ۔ ۔ ۔

عیسائی عالم نے بھی دُعایہ کلمات کے بعد کہا ۔۔۔صحیح معنی میں خُدا کی پسندیدہ قوم ہونے کا

شرف ہمیں حاصلہے۔خُدا نے جو مہربانیاں ہماری قوم پر کی ہیں ،کسی اور پر نہیں کیں ہیں

، جسکا ثبوت یہ ہے کہ ۔۔( باقی حصہدوئم )۔۔

Thursday, October 14, 2010

کاغذ کے بے جان ٹُکڑے (افسانہ

فکرستاں چینل سے میں ہوں آپکا ساتھی آپکا دوست "ایم ۔ ڈی " آج میں آپکی ملاقات ایک نئے افسانہ نگار سے کرارہا ہوں وہ اپنی پہلی تخلیق لیکر آئے ہیں یعنی پہلا نشہ اور پہلا خمار والی بات ہے ۔ جی جناب تو سنائے اپنا لکھا ہوا افسانہ ۔۔۔ذرا جھجک محسوس ہورہی ہے ۔۔۔شروع شروع میں ایساہی ہوتا ہے ،چلئے سنائے ۔۔۔ شمسہ نفسیات کی پروفیسرتھیں ،تھیں تو وہ 46 سال کی لیکن لگتیں 35/36کی تھیں خوبصورت ہونے کی وجہ سے پروانے منڈلاتے تھے لیکن کوئی پروانہ اُنہیں متاثر نہ کرسکا ، انکے مقالات اہم جریدوں میں شائع ہوتے تھے ،انکے مقالات کا موضوع ہمیشہ کوانٹم تھیوری اور تصووف کو مدغم کرنے کی کوشش ہو تی تھی , یعنی سائنس اور مذہب کو یکجا کرنے کی کوشش،جس پر اُنہیں سخت تنقید سہنی پڑتی تھی - مگر وہ اپنے آپ کو یہ کہکر مطمین کر لیتیں کہ دُنیا میں کوئی ایک شخص بھی تو ایسا نہیں ہے کہ جس پر تنقید نہ ہو تی ہو - مگر تنقید کرنے والوں کے سخت سوالات کے اُنہیں مدلل جواب دینے پڑتے تھے - رات وہ کافی دیر تک ذہن کو کوانٹم تصووف پرفکس کر کے جاگتی رہی ہے ،جسکا نتیجہ اُسے اپنے نظریہ کی حمایت میں کافی ٹھوس دلائل مل گئے تھے،وہ کافی خوش تھی - اسنے جلدی میں ناشتہ کیا اے/سی خراب ہونے کی وجہ سے کار کے شیشے کھلے ہی رہنے دیئے ، کار چل رہی تھی لیکن وہ توکوانٹم تصووف میں گم تھی گیئر بھی نجانے کون بدل رہا تھا، جیسے ہی کار سگنل پر رُکی ، عورت کی آواز نے اُسے چونکا دیا ، مجھ بد نصیب کی کچھ مدد کر دو ، اسنے دیکھا ایک بچہ عورت کے گود میں ، ایک پیٹ میں اور ایک انگلی میں ہے ، اسنے اتنی زور سے چیخ کر کہا "معاف ..کرو" کہ عورت بیچاری ڈر کر پیچھے ہٹ گئی ،اتنے میں سگنل کُھل گیا - وہ خود اپنے آپ سے شرمندہ ہوگئی کہ یہ اس سے کیا حرکت سر زد ہو گئی ،پڑھا نے میں بھی اُسے مزا نہیں آیا ، اب ذہن میں کوانٹم تصووف کی جگہ - بھکارن کے الفاظ اور اسکے بچوں نے لے لی تھی ، اُسنے واپسی میں گھر جانے کیلئے دوسرا راستہ اختیار کیا کہ کہیں دوبارہ بھکارن کا سامنا نہ کر نا پڑ جائے ۔۔۔گھر پہنچ کر اپنی امی سے باتوں میں مصروف توہو گئی ،لیکن لاشعوری طور پر ایک انجانے خوف اور بیچینی میں مبتلا تھی، وہ اپنی اس کیفیت کو سمجھ نہیں پارہی تھی ، رات کو بیڈ پر لیٹے لیٹے، وہ مختلف زاویوں سے اپنی اس کیفیت کا بطور ایک نفسیات داں تجزیہ کر رہی تھی کہ ایک ایسا خیال اسکے ذہن میں آیا کہ وہ چونک پڑی اور وہ ایک بار پھراُسی طرح زور سے چیخ پڑی " نہیں " لیکن یہ لاشعوری چیخ اس بات کی گوا ہی دے رہی تھی کہ یہ ہی سچ ہے ، چور پکڑا گیا تھا ، چیخ کی آواز سن کر امی بھی آگئیں ، وہ امی سے لپٹ پڑی ، کیا کوئی خواب دیکھا ، نہیں امی سوئی کہاں تھی میں تو جاگ رہی تھی ، امی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنی لگی ، امی آپ مجھے بتائیں ، خالق کائنات نے ہر ایک کو اسکا وصف عطا کیا ہے نا اور اگر کوئی اپنی ہٹ دھرمی سے اس میں کوتاہی کرتا ہے تو کیا اُسے سزا ملے گی ؟ یہ کہتے ہوئے وہ رو پڑی ، امی کو حیرت ہوئی ، شمسہ تم اور یہ آنسو، تم تو چٹان کیطرح مظبوط اور فولاد کی طرح سخت تھیں آج تمہیں یہ کیا ہو گیا ہے کہ اسطرح بہے جارہی ہو ، تم نے آج تک شادی اسلئے نہیں کی کہ میں اتنا زیادہ کما رہی ہوں ،مرد کی غلامی میں کیوں جاؤں حالانکہ کوئی کسی کی غلامی میں نہیں جاتا یہ صرف سوچ کا پھیر ہے ،خالق نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے بنایا ہے ، اسی طرح تم نے 46سال گُزار دیئے لیکن آج میں یہ کیا دیکھ رہی ہوں کہ اتنی ٹھوس چٹاں یوں ریزہ ریزہ ہورہی ، امی یہی خیال نے تو مجھے ایک طرح کے احساس گناہ جیسے احساس میں مبتلہ کردیا ہے - امی آپ میرے لئے دعا کریں وہ رو رہی تھی یہ میں نے کیا کیا اپنے میں موجود مامتا کو میں نے خود ہی مار دیا ، کیا میں گناہ گار ہوں ، وہ مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔نہیں میرے بچے ، تمہارے آنسؤں سے تو میں پگھل گئی ہوں ، جبکہ میں تو صرف تمہیں وجود میں لانے کا ایک زریعہ ہو ں ،اصل تمہارا خالق تمہیں کیوں نہیں معاف کرے گا میرے پاس تو اسکی مامتا کا عشیروں کا عشیر بھی نہیں ہے ۔۔۔۔امی میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بچی کو گود لے لونگی ، اور شادی بھی کروں گی ۔۔۔میرے بچے کتنے اچھے اچھے رشتے آئے تھے تمہارے لئے ،لیکن تم نےکسی کی کم تنخواہ کا بہانہ بنایا تو کسی کی کم تعلیم کا ، کسی کی مونچھیں تمہیں نہ بھائیں تو کوئی قد میں چھوٹانکلا غرض تمہارے معیار پر کوئی پورا نہ اُترا ، بہر حال صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اُسے بھولا نہیں کہتے ،مگر میں حیران ہوں کہ یہ چٹان پگھلی کیسے۔۔۔امی یہ بالکل سچ ہے کہ میری انا بہت موٹی ہوگئی تھی ،لیکن ایک بھکارن کی چوٹ نے میرے اندرکے لاوے کو باہر نکال دیا ، کل میں اس سے ملوں گی ۔۔۔میرے بچے یہ تم نے بہت اچھا سوچا ہے ،میں خود بہت پریشان رہتی تھی کہ میرے بعد تم بالکل اکیلی ہوجاؤگی ۔۔ صبح ناشتے کے بعد شمسہ نے امی سے کہا دُعا کریں کہ وہ عورت پھر اُسے مل جائے ، آج اسنے اے/سی ٹھیک ہونے کے باوجود کار کے شیشے کھلے رکھے ہوئے تھے ، اس مخصوص سگنل سے زرا پہلے کار کی رفتار کو اسنے اسطرح سے اڈجسٹ کیا کہ سگنل اُسے بند ملے - وہ کامیاب رہی ، وہ عورت کار کے قریب آکر صدا لگائی مجھ بد نصیب کی کچھ مدد کردو ،لیکن شمسہ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگی - شمسہ نے آواز دےکر اسے اپنے پاس بلایا اور کہا تم اپنے آپ کو بدنصیب کہتی ہو جبکہ تم خوش نصیب ہو کہ تمہارے پاس تو یہ زندہ بولتے ہوئے ہیرے ہیں ، تم تو تخلیق کار ہو، تم نے خالق کی منشا پوری کردی ہے ، تم مکمل عورت ہو ، میں تو ادھوری عورت ہوں ، تم مجھے خوش نصیب سمجھتی ہو( یہ کہتے ہوئے اُسکی آواز بھرا گئی) جبکہ میرے پاس اسنے نوٹوں کی گڈی اسکو دکھاتے ہوئے بولی "یہ بےجان کاغذ کے ٹکڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ،یہ کہتے ہوئے وہ روپڑی ،اور پھر روتے ہوئے بولی اب بولو کون بد نصیب ہے ؟ اتنے میں سگنل کھل گیا اسنے وہ نوٹوں کی گڈی عورت کے حو الے کردی - اور اپنے دل میں ٹھان لیا کہ آئندہ وہ اس راستہ سے کبھی نہیں گزرے گی -بہت شکریہ

Saturday, October 2, 2010

کیا نماز برائیوںسے روکتی ہے ؟

قرآن کا فرمان تو یہی ہے کہ نماز برائیوں سے روکتی ہے - اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نماز روزے کے اتنے پابند ہونے کے باوجود اتنی زیادہ برائیوں میں کیوں ملوث ہیں -غور کرنے پر جو بات میرے سمجھ میں آئی وہ میں آپ لوگوں سے شیرز کرنا چاہتاہوں -ہم اللہ کے گھر میں بیٹھ کر اللہ سے صراط مستقیم پر چلنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن جیسے ہی نماز ختم ہوتی ہے -ہم صراط مستقیم کو مسجد میں ہی چھوڑ دیتے ہیں -مسجد سے باہر نکل کر منشیات فروش منشیات بیچتاہے ،حاجی صاحب اپنی جعلی دواؤں کی فیکٹری چلے جاتے ہیں ،ٹریفک پولیس والا رشوت لینے کھڑا ہوجاتا ہے ، دودھ والا دودھ میں ملاوٹ کرتا ہے ، اسمبلی والا جعلی ڈگری پر جعلی حلف اُٹھاتاہے ، امراء ٹیکس نہیں دیتے قرضے معاف کرواتے ہیں ، صاحب آفس کی اسٹیشنری گھر میں استعمال کرتا ہے جعلی ٹینڈروں پر کمیشن لیتا ہے ،آفس کی کار بمع پیٹرول گھر میں استعمال ہوتی ہے ، فلم سٹار ریما کہتی ہے میں تہجد گزار ہوں ، ایسا کیوں ہےجبکہ یہ سب نمازی ہیں -ہُوا یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام نے نماز کی پابندی کی تاکید جس شدومد سےکی اس شدومد سے نماز کے مقصد کو اجاگر نہیں کیا ، آج بھی مدرسوں میں یہی کچھ ہورہا ہے - جبکہ قرآن نے تو نماز کے مقصد کو واضع کردیا کہ نماز برائیوں سے روکتی ہے، اب یہ علمائے کرام کا کام تھا کہ بتاتے کہ نماز برائیوں سے کیسے روکتی ہے ، بتاتے کہ دن میں پانچ بار نماز کی ادائیگی میں کیا حکمت ہے؟ سورہ فاتحہ میں ایسا کیا فلسفہ ہے کہ اسکے بغیر نماز نہیں ہوسکتی ، اور بتاتے کہ سورہ فاتحہ میں سیدھی راہ اور صراط مستقیم جیسے الفاظوں کی کیا اہمیت ہے ؟ غرض کہ علمائے کرام نے نماز کے مقصد پر زور نہیں رکھا ،نمازکی ادائیگی پر زور دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نماز ایک معاشرتی رسم بن کر رہ گئی ہے کہ معاشرے میں نمازی کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے - اب آپ خود غور کریں ، دن میں پانچ بار اللہ کے گھر میں بیٹھ کر صراط مستقیم پر چلنے کی بات کرتے ہیں اُن لوگوں راہ پر چلنے کی بات کرتے ہیں جن لوگوں نے فلاح پائی اوراُس راہ سے بچنا چاہتےہیں جو بھٹکے ہوؤں کی ہے کہ جن پر غضب نازل ہوا -لیکن راہ وہی اپنائے ہوئے ہیں جو بھٹکےہوؤں کی ہے کہ جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا دیکھ لیں آج پوری دنیا میں رسوا ہورہے ہیں کہ نہیں ساری آفتیں ہم پہ آرہی ہیں کہ نہیں آج ہم عذاب زدہ قوم ہیں کہ نہیں - آج آپ مسجد سے باہرنکلنے والے کسی نمازی سے پوچھیں کہ بھائی نماز سے کیا حاصل کیا - وہ آپکو بے وقوف اور جاہل سمجھے گا اور کہے گا نماز سے فا ئدہ کی بات کرتا ہے؟ وہ کہے گا آپکو نہیں معلوم یہ اللہ تعلیٰ کی طرف سے بندوں پر فرض عبادت ہے، میں نے فرض کی ادائیگی کردی ہے - اب میں آفس جارہا ہوں انکم ٹیکس آفس میں ہوں کام پڑے تو آجانا -والدین بچوں کو نماز سکھا تے ہیں کہ یہ پڑھنا ہے اور اسطرح کرنا ہے - نماز کے مقاصد کوئی نہیں بتاتا صرف نماز پڑھنا سکھایا جاتا ہے - نتیجہ بچے بھی والدین کی طرح نماز کی ادائیگی کرتے رہتے ہیں اور پھر اسی طرح سے وہ نماز کو اگلی نسل میں منتقل کردیتے ہیں - اسلام صراط مستقیم ہے انسان کی فلاح صراط مستقیم میں ہے- آج دنیا میں دیکھ لیں جو معاشرہ جتنا صراط مستقیم پر قائم ہے وہ اُتنا ہی ترقی یافتہ اور فلاحی معاشرہ ہے - ہم بھی فلاحی معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں اور ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صراط مستقیم کو اپنانا ہوگا - ہمیں بے مقصد رسمی نماز کو چھوڑکر اُس با مقصد نماز کو اپنانا ہوگا جو برائیوں سے روکتی ہے - ہمیں اپنی عملی زندگی کو اس راہ پر ڈالنا ہوگا کہ جس پر چلنے کے لئے مسجد میں بیٹھ کر خدا سے مددکی دُعا مانگی جاتی ہے - ورنہ مسجد میں جاکر اللہ تعلیٰ سے بار بار دُعا مانگنے کا کیا حاصل ہے یہی نہ کہ یہ دُعا ہماری عملی زندگیوں میں مضبوطی سے جڑ پکڑ لے تاکہ ہم بُرائیوں سے بچے رہیں جو کہ نماز کا مقصد ہے - بہت شکریہ

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...