Sunday, July 19, 2015

" سورۃ التكوير "

منجانبفکرستان
سائنس دانوں کا خوشی کا اظہار 
حقیقی جذبات کا عکس
" ناسا "والوں کو اُس وقت غیریقینی  جیسی صورت حال سے گُرنا پڑا کہ جب خلائی گاڑی " نیو ہورائزنز"نےسگنل بھیجنے بند کر دئیے۔ گھنٹوں پر گھنٹے گزنے کے باجودسگنل نہیں آئے تو مشن سے متعلق ذہنوں میں خدشات جنم لینے لگے یہ سوال  بامعنی سا لگنے لگا کہ کہیں سالوں پر محیط یہ محنت اکارت تو نہیں ہو جائیگی ۔۔۔
 بس اتنی سی تو ہے انسان کی اصل حقیقت۔۔کہ وہ بے بس ہے۔۔اور انسان کی یہی  بے بسی  خُدا  کی پہچان ہے ۔۔۔
تاہم ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ(  سوره التكوير آیت 1 اور 2  کی مطابق)  جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں ۔
بہرحال 13  گھنٹے بعد" نیو ہورائزنز" نے زمین والوں کو سگنل بھیجنے شروع کیئے تو سب کے مُرجھائے ہوئے چہرے خوشی سے کھلِ گئے اور  انسانی عظمت کا ایک اور  نشان " پلوٹو"فتح کا بگلِ بج گیا۔۔۔
مضمون کی تیاری میں مددگار سائیٹ:
 http://www.urduvoa.com/content/us-space-pluto/2863214.html   
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق / اختلاف کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Saturday, July 18, 2015

منجانب فکرستان


قارئین کرام ،بلاگرز ساتھی اور اردو سیارہ  کی انتظامیہ کو
  فکرستان کی جانب سے
 دلی


    قبول ہو

Tuesday, June 30, 2015

سوچ کا ٪ تناسب ۔۔

منجانبفکرستان : فطرت مخالف فیصلے کرنے پر
 فطرتی قوانین  چھوڑتے نہیں، سزا دیتے ہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آنکھ  جو کچُھ  دیکھتی  ہے،لب پہ آ سکتا  نہیں
 محوحیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی!!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
ایک جانب تو انسان اوِج ثُریا کو چُھونے کی کوشش کر رہا ہے، تو دُوسری جانب اپنے آپ کو  کیچڑ میں لتھڑ رہا ہے۔۔۔
 دُنیا کی سب سے زیادہ تعلیم یافت کہلانے والی امریکی قوم کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کے درمیان شادی کو قانونی حیثیت  دیدی گویا اب امریکا کی تمام ریاستوں میں ہم جنس پرستوں کے درمیان شادی کو قانونی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ 
صدر اوباما نے  سپریم کورٹ کے  اس فیصلے کو سرہاتے ہوے اسے مساوات کی جانب ایک تاریخی فتح قرار دیا ۔۔
  جبکہ آئرلینڈ میں ہم جنسوں کے مابین شادی کا فیصلہ بجائے  عدالت کے عوامی ریفرنڈم  کے زریعے کیا گیا، جسکے نتائج حیرت انگیز چونکا نے والے نکلےِ یعنی  ہم جنس پرستوں کی  شادی کے حق میں 62 فیصد جبکہ مخالفت میں صرف 38 فیصد ووٹ پڑے۔۔
آنکھ  جو کچُھ  دیکھتی  ہے،لب پہ آ سکتا  نہیں
 محوحیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی!!

پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق / اختلاف کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }




 

Saturday, June 27, 2015

" برائے آگہی اور غوروفکر کیلئے"

 منجانب فکرستان: روزنامہ  "دنُیا " میں شائع محترم جناب خورشیدندیم
کے کالم کی شئیر نگ: برائے آگہی اور غوروفکر کیلئے۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"           کلچر اور مذہب"
 سیاستِ دوراں سے گریز مشکل ہے لیکن ماہِ رمضان کا مطالبہ ہے کہ موضوعات بدل جائیں، جیسے کلچر اور مذہب۔      
مشاہدہ ہے کہ جمعہ کے روز لوگ شلوار قمیض پہنتے ہیں۔ اس کا تعلق نماز جمعہ سے نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ نمازیوںکی بڑی تعداد ہفت روزہ نماز کی قائل ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نمازِجمعہ کا اہتمام کرتی ہے، اگر چہ وہ روزانہ کی نماز سے غافل رہتی ہے۔ شلوار قمیض کا مگر جمعہ کے ساتھ خصوصی تعلق ہے، نمازِ جمعہ کے ساتھ نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
جمعہ اہلِ اسلام کا دن ہے، جیسے سنیچر یہود کا اور اتوار مسیحیوں کا۔ ہمارے تحت الشعور میں یہ رچ بس گیا ہے کہ شلوار قمیض اسلام کا لباس ہے۔ مذہبی تقریبات میں اور اجتماعات میں ہم بالخصوص اس کا خیال رکھتے ہیں کہ ہمارا پہناوا شلوار قمیض ہو۔ لوگ جنازہ پڑھنے جاتے ہیں تو ترجیح یہی ہوتی ہے۔ عید پر تو خیر یہی لباس پہنا جاتا ہے۔ اس تصور کا ایک حصہ یہ ہے کہ پتلون کو مذہبی تقریبات سے متصادم خیال کیا جاتا ہے۔ لوگ اس کو پسند نہیںکرتے بلکہ کسی دوسرے کو بھی اس لباس میں دیکھ لیں توانہیں ناگوار گزرتا ہے۔ پتلون ہمارے ہاں ماڈرن ہونے کی علامت ہے۔ ماضی میں یہ احساس بہت گہرا تھا لیکن اب اس میں کمی آ گئی ہے؛ تاہم جمعہ تو بدستور شلوار قمیض کا دن ہے۔
میں اس تحقیق میں نہیں پڑتا کہ پتلون کب ایجاد ہوئی اور کس نے کی۔ سپین کے مسلمانوں نے یا فرنگیوں نے؟ میں بات کو لباس کے تہذیبی اور سماجی پہلو تک محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ معلوم ہے کہ شلوار قمیض یہاںکا مقامی لباس ہے۔ اگر اسلامی لباس وہ ہوتا ہے جو اﷲ کے آخری رسولﷺ نے پہنا تو سب جانتے ہیں کہ یہ آپ کا لباس نہیں تھا۔ یہ تو اس خطے میں پہنا جاتا ہے جہاں ہم رہتے ہیں۔ یہاں آباد لوگ مذہبی امتیاز سے ماورا، یہی لباس پہنتے ہیں۔ خواتین کا ایک لباس ہے اور اسی طرح مردوں کا بھی۔ یہی معاملہ پگڑی، ٹوپی اور دوپٹے وغیرہ کا بھی ہے۔ برصغیر کی خواتین دوپٹہ اوڑھتی ہیں۔ یہاں کی ہندو خاتون بھی یہی کرتی ہے اور مسلمان بھی۔ شائستگی یا حیا ، ایک قدر ہے جو سب مذاہب کے نظامِ اقدار کا ناگزیر جز ہے۔ باحیا خاتون اپنے لباس کے بارے میں حساس ہوتی ہے۔ اس کا اہتمام وہ اپنے مقامی کلچر کے مطابق کرتی ہے۔ اس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔
اس امر واقعہ کے باوجود لوگ خیال کرتے ہیںکہ مذہب کا بھی کوئی لباس ہوتا ہے۔ ایک دور میں یہ موقف بڑے شد ومد کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا کہ عرب لباس ، اسلام کا لباس ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ برسوں پہلے، اس موضوع پر امام ابن تیمیہ کی ایک کتاب کا اردو ترجمہ پڑھا تھا جس میںانہوں نے اصرار کیا کہ عرب تہذیب ہی اسلامی تہذیب ہے۔ تاہم علمی سطح پر یہ مقدمہ اپنی جگہ نہیں بنا سکا۔ برصغیرہی میں دیکھ لیجیے۔ ہمارے مذہبی راہنما‘ جو ان مظاہر کے بارے میں بہت حساس ہیں، وہ بھی مقامی لباس پہنتے ہیں۔ یہی معاملہ دیگر علاقوں کا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں چلے جائیں۔ انڈونیشیا جیسا ملک جو آبادی کے اعتبار سے مسلمانوںکا سب سے بڑا ملک ہے، وہاں کے علماء مقامی لباس پہنتے ہیں۔ دیگر خطوں میںتو یہ معاملہ صرف لباس تک محدود نہیں ، اس کا دائرہ دیگر مظاہر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے کسی خاص لباس یا بود و باش پر اصرار عملاً ممکن نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس کا اطلاق دوسرے تہذیبی مظاہر پر بھی کیا جانا چاہیے۔
کلچرکی تشکیل میں بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک مذہب ہے۔ مذہب جز ہے کل نہیں۔ ہم جسے اسلامی نظام معاشرت کہتے ہیں، اس کی اساس چند اقدار پر ہے۔ ان اقدار پر ہر خطے کے مقامی حالات کے مطابق عمل کیا جاتا ہے۔ ہم بعض اوقات اس بات کا ادراک نہیں کرتے۔ یوں بعض ایسی باتوں کو بھی دین کا حصہ مان لیا جاتا ہے جو اصلاً مقامی تہذیبی ضروریات سے پھوٹتی ہیں ، جیسے کثرتِ ازدواج ہے۔ عرب معاشرے میں یہ پہلے سے موجود رواج تھا ؛ تاہم اس کی عملی صورت ایسی تھی جس سے خاتون کا شرفِ انسانیت اور حقوق دونوںمتاثر ہو رہے تھے۔ یہ بات اسلام کی بنیادی
اقدار سے متصادم ہے جو مرد و زن کی ذمہ داریوں میں توفرق کو پیش ِ نظر رکھتا ہے، سماجی مقام اور رتبے میں نہیں۔ یوں اسلام نے اس مقامی رسم کی اصلاح کرتے ہوئے، اسے اپنے نظام اقدار سے ہم آہنگ بنا دیا۔
برصغیر کا معاشرہ بالکل دوسرا ہے۔ یہاں تعددِ ازدواج کا رواج نہیں ، لوگ بالعموم ایک وقت میں ایک ہی نکاح کرتے ہیں۔ اس لیے جب ہم یہاں سماجی بہتری کا کوئی قانون بنائیں گے تو مقامی حالات کی رعایت کریں گے۔ یوں دوسری شادی کے معاملے میں، ریاست یہ حق رکھتی ہے کہ وہ مرد پر کوئی قدغن لگا دے۔ اب تو خیر عرب کے ممالک شام، مصر وغیرہ میں بھی مرد کے اس حق کو غیر مشروط نہیں رکھا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج عرب معاشرہ بھی وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ ناگزیر ہو گیا ہے کہ جدید دور میں قوانین بناتے وقت، اس تبدیلی کو ملحوظ رکھا جائے۔
ہمارے ہاں لوگ جب تعددِ ازدواج کو اس سماجی پس منظر سے اٹھا دیتے ہیں تو اسے قرآن مجید کے ایک حکم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید حالانکہ اسے ایک بالکل مختلف تناظر میںدیکھ رہا ہے۔ سماج میں جب یتیموں کی کفالت کا مسئلہ پیدا ہوا تو اسلام نے یہ اجازت دی کہ اس کے لیے عرب معاشرے میں موجود تعددِ ازدواج کے رواج سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؛ تاہم اس رواج میں ترمیم کرتے
ہوئے ، اسلام نے خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جو عام طور پر ایسے معاملات میں نظر انداز ہوتا ہے۔ ہم کلچراور مذہب کے اس باہمی تعلق کو اکثر نظر انداز کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر مذہبی مباحث کی اساس یہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ اگر اس پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوگوں کے سامنے دین کو پیش کرے تو مذہب کے ساتھ اختلاف کے امکانات بہت کم ہو جائیں گے۔
میرا احساس یہ بھی ہے کہ ہمارے سیکولر یا لبرل طبقے کے اکثر اعتراضات کا تعلق دین کے بنیادی مقدمات سے نہیں، اس کے ان مظاہر سے ہے، جو اصلاً مقامی ہیں اور ہم انہیں دینی اقدار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ طالبان پر اعتراضات کی اگر ہم فہرست بنائیں تو نوے فیصد معاملات وہ ہیں جنہیں طالبان نے مقامی تہذیبی اقدار کے تحت اختیار کیا لیکن انہیں یوں پیش کیا جیسے وہ دینی احکام ہیں، جیسے بامیان میں بت شکنی یا بچیوںکی تعلیم کا مسئلہ۔ اگر ہم لبرل طبقے کے اعتراضات کو اس کی نفسیاتی ساخت اور اس کے سوالات کی بنیاد کو سمجھتے ہوئے مخاطب بنائیں تو مجھے پورا یقین ہے کہ نظریاتی تقسیم بہت مدھم ہو جائے اور مشترکہ کلمات کی تعداد بڑھ جائے۔
کل جب میں نمازِ جمعہ کے لیے نکلا تو میں نے دیکھا کہ سب نے شلوار قمیض پہن رکھی ہے اور اکثر سر پر ٹوپی بھی لیے ہوئے ہیں۔ میں سوچتا رہا کہ کلچر جب مذہب بن جاتا ہے تو مذہب کی روح کیسے پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ مذہب کلچر بن جائے تو اس کا بھی نقصان ہوتا ہے، پھر مظاہر اہم ہو جاتے ہیں اور تزکیہ نفس کا تصور نگاہوں سے اوجھل ہو جا تا ہے
۔

Friday, May 22, 2015

نّنھے پرندے کا دعو تِ" حمد"۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

منجانب  فکرستانبرائےآگہی اور غوروفکر کیلئے      
ساتھ میں  خوبصورت ۔   "  حمد"   ۔وڈیو لنک

انسانی عقل کہتی ہے: میں نہ مانوں
۔۔۔۔میں نہیں مان سکتی !! 
خُدائ حکمت کہتی ہے: نہیں مان تی ہے ، تو جا پھر جا کے خود ہی اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ تقریبًا 10 سے 12 گرام وزن کا حامل نّنھا سا پرندہ "بلیک  پول واربلر" جسکے پروں کا سائز تقریبًا 
 6۔cm6 ہے اسکے باؤجود یہ نّنھا سا ہجرتی پرندہ اپنے ہجرت کا سفر بِنا کہیں رُکے  (Non-stop)۔۔۔ دنِ ہو کہ رات لگاتار محو پرواز رہتے ہوئے 2770 کلو میٹر کا ہجرتی فاصلہ80تا85 گھنٹوں  میں طے کر لیتا ہے۔۔۔
اور نۓ مُقام پر پہنچ کر اپنی میٹھی سُریلی آواز میں اُن لوگوں کوحمد "  سُنا تا ہے جو کہ اللہ  کی  نشانیوں پر  غور کیا  کرتے       ہیں۔۔۔۔۔۔  
   وڈیو لنک: https://www.youtube.com/watch?v=5Ddv4LUAslE 
-----------------------------------------------------------------------------------------------
گوگل لنک: https://www.google.com.pk/search?q=blackpoll+warblers&oq=blackpoll+warblers&aqs=chrome..69i57j69i59l3&sourceid=chrome&es_sm=93&ie=UTF-8

{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }






















Tuesday, April 14, 2015

Saturday, March 7, 2015

" وراۓ عقل ہے ۔۔۔۔ تیری خدائ "

فکرستان  کی شیئرنگ : برائےغوروفکر کیلئے باقی مادہ کہاں چلا گیا؟؟ 

بِگ بینگ کے بعد باقی مادہ کہاں گیا؟
جوں جوں ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ کو مرمت کے بعد دوبارہ سٹارٹ کرنے کا وقت قریب آ رہا ہے اور دنیا کی اس سب سے بڑی میشن سے ذرّاتی سائنس کی تاریخ میں تیز ترین رفتار سے نکلنے جا رہے ہیں، ماہرین طبیعات کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کی خواہش ہے کہ اس مرتبہ کائنات کی تخلیق کے بنیادی ذرّے اتنی تیزی سے ایک دوسرے سے ٹکرائیں کہ اس سے خود طبیعات کی بنیادیں ہِل جائیں۔
یونیورسٹی آف لوِر پول کے شعبۂ ذرّاتی طبیعات سے منسک ماہر تارا شیئرز کہتی ہیں کہ ’میں میشن کے دوبارہ چلنے کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہوں۔ ہم جنوری 2013 سے اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب اس مشین سے پروٹون کی شعاع دوبارہ نکلے گی۔‘
فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی درمیانی سرحد پر واقع اس تجربہ گاہ میں آپ کو جابجا بڑی بڑی تعیمراتی مشینیں دکھائی دیتی ہیں اور ہر تھوڑی دیر بعد ان کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس کے ساتھ ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ یا ’ایل ایچ سی‘ کی چلنے کی آواز بھی گونجتی رہتی ہے۔
ایل ایچ سی کا محیط 27 کلومیٹر بڑا ہے۔
منصوبے کے مطابق مارچ کے وسط میں اس مشین سے پروٹون کی دو شعاعیں فائر کی جائیں گی جو ایل ایچ سی کے طویل سرکٹ میں سے گزریں گی اور اگر یہ پروٹون کسی مسئلے کے بغیر پورا چکر کاٹ لیتے ہیں تو پھر مئی میں دو مختلف سمتوں سے آنے والی نہایت تیز رفتار پروٹونز کی شعاعوں کو آپس میں ٹکرایا جائے گا اور ماہرین ٹکراؤ کے نتائج کا مشاہد کریں گے۔
پروفیسر تارا شیئرز نے مجھے بتایا کہ ان پروٹونز کی رفتار اس قدر زیادہ ہوگی کہ جو فاصلہ ہم کار پر 10 سے بیس منٹ میں طے کرتے ہیں، پروٹونز ایک سکینڈ کے دس ہزارویں حصے میں طے کر لیں گے۔
انھوں نے مجھے مزید بتایا کہ جب اس قدر تیز رفتار پروٹونز آپس میں ٹکرائیں گے تو ایل ایچ سی کے اندر درجہ حرارت تاریخی حد تک زیادہ ہو جائے گا۔
’ہم اس مشین میں وہ درجہ حرارت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ’بِگ بینگ‘ کے بعد صفر اعشارہ ایک ارب سکینڈ میں پیدا ہوا تھا۔ یہ درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ جہاں مادہ ٹوٹ کر ایٹموں میں اور ایٹم ٹوٹ کر نیوکلیس اور نیوٹرونز میں تقسم ہو جاتے ہیں۔
’یوں ہر مادہ اپنے بنیادی ذرات میں تقسیم ہو جاتا ہے اور یہی وہ ذرات ہیں جن کا مطالعہ ہم پارٹیکل فزکس میں کرتے ہیں۔
دو سال قبل ایل ایچ سی میں آخری بڑے تجربے کے بعد زیادہ تر وقت کولائیڈر کی مرمت ہوتی رہی اور ماہرین اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے
پروفیسر تارا شیئرز کے بقول اس دوران اس کے اندر لگے ہوئے بڑے بڑے مقناطیسوں کا جائزہ لیا گیا، ان مقناطیسوں کے درمیان کنکشنوں کو مضبوط بنایا گیا اور اس کے علاوہ مشین کے اندر لگے ہوئے تمام الیکٹریکل آلات کا جائزہ لے کر انھیں مزید بہر بنایا گیا ہے۔‘
’اس کام میں دس سے بیس لاکھ گھنٹوں کے برابر کام کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ایل ایچ سی اتنی توانائی کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئی ہے جس کی توقع اسے ڈیزائن کرتے وقت کی جا رہی تھی
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان ابھی تک کُل کائنات کے صرف پانچ فیصد سے ہی واقف ہے، تاہم اس پانچ فیصد میں ہمیں توازن کی شدید کمی دکھائی دیتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب کائنات کی تخلیق کے وقت ’بِگ بینگ‘ ہوا تو اس دوران مادے کے ذرات کی دونوں اقسام پیدا ہوئیں، یعنی مادہ اور ’مادہ مخالف‘ مواد برابر مقدار میں پیدا ہوا۔
ماہرین طبعیات کہتے ہیں کہ جب یہ دو قسم کے ذرات آپس میں ٹکراتے ہیں تو وہ ’اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔‘ اور ہمیں کائنات میں جو کچھ بھی دکھائی دے رہا وہ زیادہ تر ایسے ٹکراؤ کے بعد بچ جانے والا کچرا یا ٹکڑے ہیں۔
لیکن یہ سوال بہت حیران کن ہے کہ پیچھے بچ جانے والا یہ سارا مواد ’مادہ‘ ہے اور ہمیں کائنات میں اینٹی میٹر یا ’مادہ مخالف‘ مواد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
پروفیسر شیئرز کے بقول ’ آپ کو کائنات میں مادہ مخالف مواد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ایسا صرف سائنس فکشن فلموں میں ہوتا ہے یا مادے کے تباہ ہونے کی صورت میں یہ آپ کو تابکاری کے شکل میں دکھائی دیتا ہے
’کائنات میں مادہ مخالف مواد کا موجود نہ ہونا، سب سے بڑا معمہ ہے، اور آئندہ ایل ایچ سی میں جو تجربات کیے جائیں گے ان کا بنیادی مقصد اسی بات کا کھوج لگانا ہے کہ
تخلیق کائنات کے وقت پیدا ہونے والا مادہ مخالف مواد آخر گیا کہاں؟

پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...