Thursday, March 15, 2012

'' فوجی ایسا کیوں کرتے ہیں ؟؟ ایک جائزہ ''

منجاب فکرستان پیش ہے:افغانی ہمارے ملکوں پر حملہ آور نہیں ہوئے،پھر ہم افغانیوں سے کیوں لڑرہے ہیں؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکی فوجی نے بلا وجہ9 بچوں، خواتین سمیت 16افراد کو ہلاک کردیا ،اس سے پہلے قُرآن جلانےاورلاشوں پر پیشاب کرنے کے واقعے پیش آچُکے ہیں۔فوجی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ میرے خیال میں اسکی وجہ یہ ہے کہ نیٹو، امریکی فوجیوں کی دل میں یہ خیال آرہا ہو کہ سیاست دانوں نے ہمیں بلاوجہ/ بے مقصد کی جنگ میں جھونک دیا ہے۔ افغانیوں سے ہماری کیا دشمنی ہے ؟ افغانی ہمارے ملکوں پر حملہ آور نہیں ہوئے ہیں ،پھر ہم افغانیوں سے کیوں لڑرہے ہیں ؟؟؟ افغانیوں سے لڑنے کا کیا جواز ہے ؟؟؟ ہم  بلا وجہ،  بے مقصد،  اور  لاحاصل جنگ کیوں لڑرہے ہیں/ہم کیوں اپنے ملک سے، خاندان سے دور ہیں ، ہم کیوں خوف کے سائے میں اذیت ناک زندگی گذار رہے ہیں۔۔۔۔  اس طرح کی سوچ سخت فرسٹریشن پیدا کرتی ہے، نتیجہ سیاست دانوں کا غصہ وہ معصوم بچوں ، عورتوں اور نہتے لوگوں کو مار کر/ قُرآنی نسخے جلاکر/لاشوں کی بے حرمتی کرکے اُتارتے ہیں۔۔۔امریکہ اور نیٹو ممالک کے سیاست دانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ ایسی بلاوجہ/ بے جواز جنگوں سے اُنکے فوجی ہمیشہ فرسٹریشن میں مبتلا ہونگے۔۔۔ چونکہ ایسی بلا جواز جنگوں میں لڑنے والے فوجیوں میں لڑنے کیلئے جن جذبات کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔ وہ جذبات  جنگ کے جواز اور مقصد سے نتھی ہوتے ہیں ۔۔۔ جہاں جنگ کا جواز اور مقصد ہی نہ ہو وہاں فوجیوں میں جنگی جذبات کی جگہ فرسٹریشن ہوگا ۔۔۔اور فرسٹریشن میں مبتلا فوجیوں سے کچھ بھی حرکت سرزد ہوسکتی ہے ،جوشرمندگی کا باعث ہوتی ہے ۔ بلا جواز جنگی جذبات سے عاری جنگیں چھیڑنے والوں کو شکست کا منہ  بھی دیکھنا پڑتا ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
میرے خیالات سےمتفق ہونا ضروری نہیں ہے، میں تو اپنے خیالات آپ سے شئیر کر رہا ہوں(ایم۔ ڈی)  

Saturday, March 10, 2012

'' کراچی وال چاکنگ ''

منجانب فکرستان پیش ہے : کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے ؟؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محترم جناب افتخار اجمل بھوپالی صاحب نے پوسٹ '' محبت'' پر تبصرہ میں اپنی والدہ ماجدہ کی محبت کا تذکرہ کیا ، اُسے شائع ہونا چاہئیے تھا، لیکن پبلشنگ کی بندش کی وجہ سے شائع نہ ہوسکا،ایسے تبصروں کی اشاعت کیلئے گنجائش نکالنی ہوگی۔۔۔کراچی میں مہاجر صوبے کیلئے نہ صرف وال چاکنگ ہوئی ہے بلکہ پوسٹر بھی لگائے گئے ہیں، جس پر سندھ اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد منظور ہوئی ہے جس میں وال چاکنگ کی مذمت کی گئی ہے اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس عمل کے پسِ پشت عناصر کو بے نقاب کیا جائے ۔۔۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی کے تمام علاقوں میں وال چاکنگ ہوگئی، پوسٹر لگ گئے، اتنا سب کچھ ہوگیا لیکن حکومتِ وقت کو یہ تک معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کن لوگوں کی کارستانی ہے ؟یہاں تک کہ اسمبلی  میں حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے ؟؟؟
 نوٹ : بحث کی راہ دکھانے والے تبصرے شائع نہیں ہونگے ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ ڈی)

Friday, March 9, 2012

'' محبت ''

منجانب فکرستان پیش ہے: ڈاکٹر جاوید اقبال کے مقالہ سے ماخوز پوسٹ " محبت0-heartbeat.gif"   
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈاکٹر جاوید اقبال  کہتے ہیں کہ '' کئی بار خیال آیا کہ میں اپنے والدین  کا حقیقی بیٹا نہیں ہوں، بلکہ انہوں نے مجھے کسی سے لے کر پالا ہے  ''اسطرح کی  سوچ پیدا ہونے کی وجہ کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ'' علامہ نے کبھی ایسا موقع نہیں دیا جس سے میں انکی شفقت ،الفت یا محبت کا اندازہ لگا سکوں ،والدین اپنے بچوں کو اکثر پیار سے بھینچا کرتے ہیں ،اُنہیں گلے لگاتے ہیں ،اُنہیں چومتے ہیں، مگر مجھے انکے خدوخال سےکبھی اس قسم کی شفقت پدری کی موجودگی کا احساس نہیں ہُوا  ( علامہ نے میری پیدائش کیلئے حضرت مجدد کی درگاہ میں حاضر ہوکر اللہ سے بیٹے کی عطا کی دُعا مانگی تھی )،ان باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اُنہیں مجھ سے محبت نہیں تھی سرا سر غلط ہے ۔انکی محبت کے اظہار میں ایک قسم کا ضبط محبت تھا ، گہری خاموشی تھی، اس محبت کی نوعیت فکری یا تخیلی تھی جس تک میرا ذہن نارسا پہنچنے کی اہلیت اُس عُمر میں نہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔ 
یہ پوسٹ مقالہ "اقبال ایک باپ کی حیثیت سے " سے ماخوذ ہے۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دنیا میں ایسے بُہت سے والد ہیں جو علامہ کی طرح اپنے بچوں سے دل میں محبت رکھتے ہیں مگر جس کا وہ اظہار نہیں کرتے ممکن ایسے مفکر قسم کے لوگوں کو اظہار محبت کرنے میں عامیانہ پن محسوس ہوتا ہو۔1-think.gif
میری رائے سے آپکا متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم ۔ ڈی )
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔۔۔

Thursday, March 8, 2012

" خبروں پر تبصرے "

منجانب فکرستان پیش ہے: ایم۔ڈی کے تبصرے ٭کتنے اچّھےgud.gif کتنے بُرے 1-think.gif   ؟؟؟؟؟
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1#: واشنگٹن ریپبلیکن صدارتی امید وار رون پائول نے دُنیا پر حُکمرانی کی امریکی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے  امریکی حکمرانوں سے کہا ہے کہ  اگر تم توقع کرتے ہوکہ دُنیا پر اپنی حکمرانی جاری رکھ سکو گے تو یاد رکھو کہ ایسا نہیں کر پاؤ گے ۔۔۔ امریکی عوام ایران یا شام پر جنگ مسلط کرنے کے متحمل نہیں ہیں ۔۔۔ امریکی عوام کے مسائل کی اصل وجہ فوجی اخراجات ہیں ۔۔۔ وہ اقتدار میں آکر فوجی اخراجات میں کمی کریں گے۔۔۔امن اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے تو جنگ کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا ۔۔۔ تبصرہ: پائول بھائی آپ کے منہ میں گھی شکر۔۔۔ کاش آپ کی طرح دُنیا کے تمام حُکمراں  فوجی اخراجات میں کمی کرنے کا سوچ لیں تو دُنیا کے انسان بھوک، جہالت اور بیماریوں پر قابو پا سکتے ہے ۔۔۔  #2: افغانستان میں 6 برطانوی فوجیوں کی ہلاکت پر وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا آج کا دن انتہائی افسوس ناک ہے۔۔۔ تبصرہ: ڈیوڈ کیمرون صاحب آپکے فوجیوں نے بیشمار بے گناہ انسانوں کو مار دیا۔۔ایک انسان ہونے کے ناتے کیا کبھی اس پر بھی افسوس ہُوا ؟؟؟   نواز شریف نے شمولیت پریس کانفرس میں ماروی میمن کا 15 بار شکریہ ادا کیا ۔۔۔تبصرہ: بھائی کاؤنٹر  15 بار کا اندازہ ایسے ہی ٹھوک دیا  ہے یا ہاتھ میں کاؤنٹر بھی تھا   ویسے قوم اچھی طرح جاتنی ہے کہ ماروی میمن نے  ن لیگ میں شمولیت کا فیصلہ خالصتاً قومی مفاد میں کیا ہے۔قومی مفاد زندہ باد  #3:  وحیدہ شاہ 2 سال کیلئے نا اہل تبصرہ: میرے خیال میں میڈیا نے تھپڑ کو بار بار دِکھا کر وحیدہ شاہ کو جو رسوائی دی وہ ایسی سزا ہے جو ہمیشہ انکے ساتھ رہے گی،  ۔۔۔تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔۔۔
میرے تبصروں سے آپکا متفق ہونا ضروری تو نہیں ۔۔۔ بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ڈی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Friday, March 2, 2012

کیا آپ بدھ مذہب کے پیروکار ہیں ؟؟؟

منجانب فکرستان پیش ہے پوسٹ ٹیگ: قادیانی/اے این پی/حضرت علی/شیعہ/ٹیبل ٹاک۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 پوسٹ "عبدالماجددریابادی" پر تبصرہ آیا، کیا آپ بدھ مذہب کے پیروکار ہیں؟ وجہ اسکی یہ ہے کہ یہ پوسٹ "انسانی سوچ" کے حوالے سے لکھی گئی ہے۔ اس پوسٹ میں حالیہ گلگت واقعہ اور بامیان میں بُدھا مجسمہ کی تباہی کے واقعہ کو ایک ہی سوچ کا شاخسانہ لکھا تھا ، اسی طرح ایک پوسٹ میں حوالے کیلئے ڈاکٹر عبدالسلام کا نام لکھا تو تبصرہ آیا تھاکہ کیا آپ قادیانی ہیں ؟ اسی سے جُڑا ہُوا ایک سیاسی واقعہ بھی یاد آگیا ہے کراچی میں اردو بولنے والوں اور پشتو بولنے والوں کے درمیان جھگڑے ہورہے تھے خون بہنا شروع ہوگیا تھا کہ پشاور سے اے این پی کے سربراہ ولی خان آگئے پٹھانوں کے علاقے قائدآباد میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جھگڑوں کا حل ایکدوسرے خون بہانا نہیں اسکا حل ٹیبل ٹاک ہے۔۔۔ میں نے اپنے حلقہ احباب میں ولی خان کے بیان کی تعریف کی تو مجھ سے کہا گیا ۔۔کیا آپ اے این پی میں شامل ہوگئے ہیں ؟؟ جبکہ حضرت علی کا قول ہے کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے۔۔ بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے ۔۔۔مگر یہ کیا میرے کان میں تو ابھی سے یہ آواز آنا شروع ہوگئی ہے ۔۔۔ کیا آپ شیعہ ہوگئے ہیں ؟؟؟۔۔۔۔افسوس ہم کتنے تنگ نظر ہیں کہ کسی کی کہی ہوئی اچھی بات کی تعریف بھی نہیں کرسکتے ہیں ۔۔۔محترم اس پوسٹ سے آپ کو اپنے تبصرہ کا جواب بھی مل گیا ہوگا۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ( ایم ۔ڈی) 
نوٹ : تبصروں کی پبلشنگ بند ہے     

'' انسانی ذہن کی اثر پزیری صفت''

منجانب فکرستان پیش ہے:بات ہے یہ انسانی ذہن کی آپ بیتی عبدالماجددریابادی کی !!! 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک وضاحت اس پوسٹ کے بارے میں یہ ہے کہ عبدالماجد دریابادی  کی آپ بیتی کو اپنی بات کہنے کیلئے بطور حوالہ استعمال کیا ہوں ، باقی ساری خیال آرائی میرے ذہن کی پیداوار ہے۔جبکہ مکمل آپ بیتی کی تلخیص خاتون بلاگر قسط وار پیش کر رہی ہیں  اُنہوں نے  کتاب کا لنک بھی فراہم کیا ہے ،جس سے فائدہ اُٹھا کر عبدالماجد کی آپ بیتی پڑھ ڈالی، جسکا حا صل یہ  نِکلا کہ انسانی ذہن میں حد درجہاثر پزیری  کی صفت پائی جاتی ہے جس کی جسکی وجہ سے برسوں سے ذہن میں موجودمقدس عقیدوں کی ٹوٹ پھوٹ ہو جاتی ہے ۔۔۔  
عبدالماجددریابادی کی پیدائش مذہبی گھرانے میں ہوئی اور تربیت دینی موحول میں  گھر میں والدین بھائی بہن سب پابند صوم وصلوٰۃ تھے خود بھی باجماعت نماز کے پابند تھے   مطالعہ میں مذہبی کتابیں تھیں، مسیحوں اور نیچریوں کے خلاف مضامین بھی لکھتے تھے غرض کہ اسلام سے حد درجہ عقیدت تھی ۔۔۔پھر ہُوا یہ کہ ایک عزیز کے پاس  "ایلیمنٹس آف سوشل سائنس" نامی کتاب دیکھی پڑھنے کا چسکا تو تھا پوری کتاب پڑھ ڈالی یہ کتاب مذہبیات کی نہیں عقلیات پر تھی،پڑھنے کے بعد  انکے ذہن میں عقلیات اور مذہبی عقیدوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی  جس کے اثر کا نتیجہ خود انکی زبانی { مذہب کی حمایت ونصرت میں ابتک جوقوت جمع کی تھی وہ اتنی شدید بمباری کی تاب نہ لاسکی ۔۔۔ شک بدگمانی تخم ریزی مذہب و اخلاقیات کے خلاف خاصی ہوگئی ،لاحول ولا قوۃ اب تک کس دھوکے میں پڑے رہے، تقلیداً اب تک جن چیزوں کو جزوایمان بنائے ہوئے تھے۔ وہ عقل و تنقید کی روشنی میں کیسی بودی کمزور اور بے حقیقت نکلیں}۔۔۔
اسکے بعد مذہبی کتابوں کی جگہ بیکن،لاک، ہیوم، ہیگل، ڈارون اور مل کی کتابوں نے لے لیں انکے اثر کے طفیل ماجد صاحب اب پکے ملحد بن گئے ۔۔۔
ماجد صاحب پر 10سال تک الحاد کا رنگ چڑھا رہا پھر ہوسٹل کے پُرانے  ساتھی ڈاکٹر محمد حفیظ کے رغبت دلانے پر تصوف پر مبنی لٹریچر  کنفوشس ،بدھ مت،جین مت ، تھیا سوفی  ، اور ہندو تصوف  اوربھگوت گیتا  نے تو گویا انکو روحانیت میں ڈبودیا پھر رومی، جامی، عطار، وارث کے لٹریچر نے ماجد صاحب کو اسلامی تصوف کی جانب موڑ دیا،  ایک بار پھر ذہن میں مادیت اور روحانیت کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے اثر کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں  { مادیت، لاادریت و تشکیک کی جو سر بفلک عمارت برسوں میں تعمیر ہوئی تھی وہ دھڑام سے زمین پر آرہی}۔۔۔
 اب مادیت کی جگہ تصوف کا رنگ چڑھ گیا  پھر حیدرآباد دکن میں اُنہیں محمد علی لاہوری احمدی کیانگریزی میں لکھی قُرآن مجید کی تفسیر پڑھنے کو ملی جس کے اثر کے  بارے کہتے ہیں کہ {انگریزی قُرآن کو ختم کرکے دل کو ٹٹولا تو اپنے آپ کو مسلمان پایا ۔اور اب اپنے ضمیر کو دھوکہ دیے بغیر کلمہ شہادت بلا تامل پڑھ چُکا تھا }۔۔۔
ابھی ہم نے عبدالماجد دریابادی کی صورت میں ذہنِ انسانی کی اثر پزیریت کی صفت کو دیکھا کہ مورثی اعتقادات جسکی آبیاری 16/15سال تک مسلسل ہوتی رہی پھر انِ اعتقادات کو گھر کا ماحول ، خاندان،مسلم معاشرہ اور اسلامی لٹریچر برابر تقویت دیتا رہا لیکن  پھر بھی یہ اعتقادات عقلیات کی ایک کتاب "ایلیمنٹس آف سوشل سائنس" کے آگے ٹہر نہ سکے وجہ اسکی یہ ہے کہ  ماجدصاحب نے مذہبی اعتقادات کو عقل کی کسوٹی سےپرکھنے کی کوشش تھی۔۔۔
تمام مذاہب مذہبی عقیدوں پر استوار ہوتے ہیں اور یہ بے ضرر ہوتے ہیں،اِن میں رواری، اور بھائی چارہ ہوتا ہے ۔ مثال کیلئے کسی بھی مذہب  کےبانی  کی سیرت کو دیکھ لیں اس  میں رواداری اور بھائی چارہ ملے گا، اسلام سے مثال محمدﷺ کی سیرت ہے ۔۔۔
ہوتا یہ ہےکہ ان بے ضرر مذاہب میں مذہبی عالم اپنی عقل داخل کرتا ہے اور پھر اس میں سے اپنی عقل سے میچ کھاتا فرقہ برآمد کرتا ہے ، اس طرح مختلف مذاہب کے مذہبی عالم مذاہب سے اپنی اپنی عقل سے میچ کھاتے فرقے برآمد کرتے ہیں  چونکہ فرقے انسانی عقلی دلائل پر کھڑے ہوتے ہیں، اس لیے انِ میں انانیت، تنگ نظری،مذہبی تعصب، عدم برداشت، پایا جاتا ہے۔ ہر مذہب کے عُلما انسانی ذہن کی اثرپزیریت کی صفت کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ چرب زبان مذہبی عُلما اپنے پیرو کاروں کے ذہنوں یہ بات راسخ کرادیتے ہیں کہ صرف اُنکا فرقہ ہی حقانیت پر قائم ہے دوسرے تمام فرقے مذہب دشمن فرقے ہیں ۔اور یہ فرقے  مذہب میں گند پھیلا رہے ہیں اس لیے اِن کو مارنا ثواب ہے،یوں بے ضرر عقائد پر مبنی مذاہب میں عقلی دلیوں پر قائم فرقوں کے  ضرر کاری  داخل ہو جاتی ہے ۔جسکی مثال حالیہ گلگت کا واقعہ ہے۔یہ بس والا واقعہ تصور میں لائیں تو رونگتے کھڑے ہوجاتے ہیں ،ایسے واقعات سے مُجھے داتا دربار کی وہ وڈیوبھی یاد آجاتی ہے جس میں دو مولوی ثواب کمانے ،جنّت میں جانے کیلئے داتا دربار کو انسانی خون سے نہلادیا ۔۔۔   
گلگت کا واقعہ ہو یاکہ بامیان میں بدھا کا مجسمہ گرانے کا واقعہ ان سب میں انسان دشمن فرقہ پرست علما کا پھیلایا ہوا زہر ملے گا۔ چونکہ ہم نے عبدالماجددریابادی کی صورت میں انسانی ذہن کی اثرپزیریت کی صفت کو دیکھ چُکے ہیں کہ کس طرح ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ذہن کو انسانی تحریروں نےاس حد تک مُتاثر کیا  کہ برسوں کے قائم  مورثی  خاندانی مذہبی عقائد سب بے معنی ہوگئے۔۔۔
میں گاہے بہ گاہے فرقہ پرستی کے خلاف اس لیے بھی لکھتا ہوں کہ میری تحریر  سے کسی ایک فرقہ پرست انسان کے ذہن سے فرقہ پرستی کی لعنت  ( یعنی دوسرے فرقوں یا  مذاہب سے نفرت) ختم ہوجائے، تو شاید میری بخشش ہوجائے ۔۔۔اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم ۔ ڈی)
ایک اور وضاحت:میں چاہتا تھا کہ خاتون بلاگر اپنی قسطیں ختم کریں تو پھر میں یہ پوسٹ لکھوں ۔۔دریافت کرنے پر خاتون بلاگر نے کہا کہ آپ پوسٹ لکھیں اسی بہانے ممکن ہے کُچھ تبصرے آجائیں  ۔  
 نوٹ :ایک بار پھر مُجھے تبصروں کی پبلشنگ بند کرنی پڑ رہی وجہ اسکی یہ کہ ہمارے بلاگر ساتھی کا ایک تبصرہ شائع کردیا اور کہہ دیا کہ دیکھیں ایسا تبصرہ نہ کریں جس سے بحث کا پہلو نکلتا ہو چونکہ بحث سے سوائے رنجشوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا یہ میرا تجربہ ہے۔۔۔اسکے  جواب  میں اُنہوں نے دوسرا تبصرہ بھی بحث کی راہ دکھانے والا کیا جسے میں نے ڈلیٹ کردیا ساتھ میں ان سے معذرت  کی"انا" کوبھی آڑے آنے نہیں دیا ۔۔۔لیکن اسکے باوجود اُنہوں نے "مکالمہ"  کے عنوان سے میرے خلاف پوسٹ لکھ ڈالی افسوس کہ مجھے بھی وضاحت دینی پڑی لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں ہوئی ۔۔۔اب میں اپنے قارئین کو گواہ بناکر اُن سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ میرے بارے میں جو چاہیں لکھیں میں اُنکے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا ۔۔۔ 

Wednesday, February 22, 2012

٭ ضمنی اثرات کے بارے میں ٭

منجانب فکرستان پیش ہے:ایکسپریس سنڈے میگزین میں شائع شُدہ اسپیشل رپورٹ سے چیدہ چیدہ باتیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکہ میں ہر سال 20 تا 25 لاکھ افراد ضمنی اثرات کے زد میں آتے ہیں ،اِن میں سے کم وبیش ایک لاکھ مر جاتے ہیں ۔ مشہور گلوکار مائیکل جیکسن کو نیند کی شکایت تھی  ڈاکٹر " کونارڈ مرے" کی خدمات حاصل کیں لیکن" مرے "نے تو اُسے مار ہی دیا  ڈاکٹر مرے نیند کیلئے  "پروپوفل"  نامی دوا دینے لگا جبکہ مائیکل جیکسن ڈیپریشن کو بھگانے والی  دوا " لورازپام اور میڈازولم" بھی کھا رہا تھا۔۔۔ تینوں دواؤں کے ملاپ سے ایسا مضر صحت مواد پیدا ہُوا  کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنا اِس طرح لاکھوں افراد  کا محبوب فنکار اُن سے ہمیشہ کیلئے جُدا ہو گیا ۔۔۔
58 سالہ" لیری" لندن کا باسی پیٹ کی بیماری" باؤل سائنوڈریم" میں مبتلا ہُوا لندن کے  ڈاکٹر نے  سٹیلا زائن نامی دوا تجویز کی جبکہ پیٹ کی اس بیماری میں یہ دوا نہیں دی جاتی ہے ۔۔۔ اس دوا کے6 ماہ کے استعمال کے ضمنی اثرات سے لیری ایک نئے مرض   پارکنسونزم میں بھی مبتلا ہوگیا اس بیماری میں پٹھے اکڑ جاتے ہیں ،چلنے پھرنے، اُٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہے ، اناڑی  ڈاکٹر کو اس  نئی بیماری کی دوا معلوم تھی لہٰذا اس مرض کی دوا" لیووڈوپا "بھی دی جانے لگی  مزید6 ماہ گُذر گئے لیری کو آرام نہ آیا تو اُس نے ڈاکٹر بدلنے کافیصلہ کیا اور وہ مرض پارکنسونزم کے اسپشلسٹ کے پاس گیا یہ تجربہ کار ڈاکٹر تھا مریض کی ہسٹری لینے پر وہ سمجھ گیا کہ بیماری دوا سٹیلا زائن کے ضمنی اثرات کی پیداوار ہے۔چُناچہ اسنے فوراً  دوا سٹیلا زائن کو بند کرا دیا اور اگلے 6 ماہ میں آہستہ آہستہ لیووڈوپا بھی روک دی چونکہ لیری اب صحت یاب ہوچُکا تھا ۔۔۔
جب ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹروں کا یہ حال ہے تو ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کے ڈاکٹروں کیا حال ہوگا ؟؟؟۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔( ایم ۔ ڈی)
  





یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...