Sunday, December 25, 2011

" ہاشمی شمولیت پر مختلف لوگوں کی رائے "

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: جِلا/رانا ثناء اللہ/مورثیت/ فاروق عادل/ رسول بخش رئیس/جاوید راٹھور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی پوسٹ میں سُنیں گے کہ جاوید ہاشمی کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بارے میں کون کیا کہہ رہا ہے  مختلف لوگوں کی مختلف باتیں ہمارے دماغ/ذہن کو جِلا بخشیں گیں ۔ ۔۔ تو سب سے پہلے خود جاوید ہاشمی کی سُنیں  گےکہ شمولیت کے بارے میں BBC سے انٹرویومیں کیا  کہتے ہیں ؟ وہ کہتے ہیں کہ ن لیگ وڈیروں اور جاگیر داروں کی آماجگہ ہے ،جو تبدیلی کے خواں نہیں ہیں۔۔ اس طرح  ملک میں تبدیلی لانے کامیرا مشن جمود کا شکار ہورہاتھا ۔۔ پی ٹی آئی تبدیلی کی بات کرتی ہے۔۔ اسی لیے  اس میں شمولیت اختیارکی ہے۔۔۔
اب ن لیگ والوں کی سنتے ہیں ، تہمینہ دولتانہ نے کہا جاوید ہاشمی نے پارٹی کیلئےجوقربانیاں دیں ہیں اُسکی مناسبت سے اُنکو پارٹی میں صحیح مقام ملنا چاہئے تھا ، صدیق الفاروق نے کہا ہاشمی انا پرست ہیں۔۔ جبکہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے جاوید ہاشمی کو اسٹیبلشمنٹ نے اغوا کیا ہُوا ہے ، پی ٹی آئی میں شمولیت ہاشمی کا پاگل پن ہے ۔۔۔
اب تجزیہ نگاروں کی سُنیں کہ وہ کیا کہتے ہیں تجزیہ نگار صحافی فاروق عادل نے VOAسے اپنے تجزیہ میں کہا کہ ہاشمی کی شمولیت سے اُس پروپگنڈہ اثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی کہ پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے چونکہ ہاشمی ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف رہے ہیں ، تجزیہ نگار رسول بخش رئیس نے  کہا ہاشمی کی شمولیت" فرد " کی نہیں  "سوچ "کی شمولیت ہے ،امریکہ میں پیپلز پارٹی کے نائب صدر بینظیر کے قریبی ساتھی جاوید راٹھور نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ ہاشمی شمولیت واضع پیغام ہے اُن سیاسی جماعتوں کیلئے جو پارٹی میں مورثیت کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں اور اپنی پارٹی میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیتی ہیں ۔۔۔  اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔(ایم ۔ڈی) 

Saturday, December 24, 2011

" محترم حامد میر صاحب کے انکشافات اور پیش گوئی "

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: اسکین کاپی/آسان طریقہ/ پاؤں پڑنا/سیٹیں چھیننا/گھٹنوں کےبل چلنا/ایوارڈ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ترکی کے پروفیسر محترم جناب خلیل طوقار صاحب کا انٹرویو ایکسپریس سنڈے میگزین میں شائع ہوا تھا میری خواہش تھی کہ یہ انٹر ویو اپنے اُن قارئین کیلئے کہ جن کی نظر سے یہ انٹرویو نہ گُذرا ہو اسکین کاپی اپنے بلاگ پر لگاؤں لیکن بلاگ پر "زوم" سسٹم کام نہیں کر رہا ہے نہ پریویو پر نہ  پبلش پر البتہ  پبلش پر ایک بار جھلک دکھایا تھا اطمینان کے لیے دوبارہ دیکھا تو غائب ہوگیا جبکہ" سیارہ " پر ٹھیک کام کر رہا ہے۔۔ ۔انٹرویو کا  ابھی  آدھا حصّہ باقی ہے ۔ کوئی بلاگر ساتھی یا قارئین میں  سےکوئی اسکین کاپی کا کوئی آسان سا طریقہ بتائے/سائز کیا رکھا جائے وغیرہ ۔۔۔احسان مند رہوں گا۔
سینئر تجزیہ نگار ،صحافی،اوراینکر پرسن جناب حامد میر صاحب نے خواجہ رفیق شہید کی برسی پر سیمینار سے اپنے خطاب میں فرمایا کہ"عمران خان ماروی میمن کے پاؤں پڑ گئے تھے کہ میری پارٹی میں آجاؤ انقلاب لانا ہے جس پر ماروی میمن نے کہا چل جھوٹا میں نہیں آتی ۔۔۔ یہ بھی انکشاف کیا کہ صرف لاہور سے ن لیگ کی 10 سیٹیں چھیننے کا منصوبہ بنایا گیا۔ ۔۔ اسکے علاوہ یہ پیش گوئی بھی کی ہے کہ سونامی بُہت جلدگھُٹنوں کے بل چل کر نواز شریف کے پاس جائیگی اور کہے گی اتحاد کرلو۔۔۔پاکستان کے انِ معروف تجزیہ نگار کو انِ اِنکشافات اور پیش گوئی پر داد دینا ہم پر واجب ہے چونکہ ایک طرف تو وہ کہتے ہیں کی صرف لاہور سے 10 سیٹیں چھین لی  جائیں گی تو دوسری طرف کہتے ہیں سونامی گھُٹنوں کے بل چل کر نواز شریف کے پاس جائیگی ۔۔۔واہ صاحب مان گئے کہ آپ واقعی پاکستان کے اعلیٰ ترین تجزیہ نگار ہیں ۔۔ بلکہ اس تجزیہ پر تو سال 2011 کا بہترین تجزیہ کا ایوارڈ آپکو ملنا چاہئیے ۔  ۔۔۔ تجزیہ کیمزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں۔۔اور مجھے دیں اجازت آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم ۔ڈی)

" وضاحت "

منجانب فکرستان: قارئین کرام سے عرض ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آگیا کہ اسکین کاپی چیک کرنے کے لیے پبلشنگ کا بٹن کلک کر کے اسکین کاپی دیکھ رہا تھا کہ ایک بج گیا اور لائٹ آف ہوگئی اس طرح  ڈرافٹ میں موجود سب کچھ سیارہ پر پبلش ہوگیا ہے ۔ اسکے لیے" ایم ۔ڈی" کی معزرت قبول فرمائیں ۔ آپ کا بُہت شُکریہ۔۔۔(ایم ۔ ڈی )۔   

Thursday, December 22, 2011

" کُچھ تحریکِ انصاف کے بارے میں "

منجانب فکرستان پیش ہے پوسٹ ٹیگز:  ہیروز/پیٹرن/روپڑنا/ وزیرخزانہ/ذخائر/مکّار/ اچّھا ذائقہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شاید میں نے اپنی ہی خواہش  کےمعنی تحریکِ انصاف کو پہنا دیے تھے کہ کپتان صاحب اپنی ٹیم اچّھی شُہرت کے حامل عدلیہ، وکلاء برادری ،دانشوروں، این جی اوز ،ٹی وی اینکرز اداکا روں، کالم نگاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں سےتشکیل دیں گے، اگر کپتان صاحب تھوڑا سا صبر سے کام لیتے تو مُجھے یقین ہے کہ اُنہیں  عدلیہ، وکلاء برادری ،دانشوروں، این جی اوز ،ٹی وی اینکرز اداکا روں، کالم نگاروں، گلوکاروں ، کھلاڑیوں  سے حسینہ معین اور ابرار الحق جیسےمخلص افراد مل جاتے جو تحریک کو عوام میں مزید جاندار بناتے ۔۔۔چونکہ کیبل ٹی وی نے عوام کو عدلیہ،  دانشوروں، این جی اوز ،ٹی وی اینکرز اداکا روں، کالم نگاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں سے اچّھی طرح سے متعارف کرایا ہُوا ہے۔۔۔یہ سب عوام کے  جانے پہچانے چہرے ہوتے ، یہ مڈل کلاس ہوتے، یہعوام   سے ہوتے ، یہ عوامی ہیروز ہیں اس لیے عوام کا اِن کیلئے پرُجوش ہوجا نا یقینی ہوتا  اسطرح "الیکشن" عوام کی ذاتی دلچسپی کا باعث بن جاتا اور پھر اس عوامی انقلابی تحریک کو کوئی نہیں روک سکتا تھا۔۔۔ بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ یہ" پیٹرن "دنیا بھر کے عوام دشمن آمروں اور مکّار سیاستدانوں کے خلاف عوامی انقلاب کا ایک "رول ماڈل" بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔۔لیکن۔۔۔
 اے بسائے آرزو کہ خاک شُد ۔۔۔۔۔
 (مزید تفصیل کیلئے" پوسٹ" شاہ محمود قریشی شمولیت فائدہ نقصا ن دیکھیں/ یاد رہے کہ لاہورکا کامیاب جلسہ قریشی  شمولیت سے پہلے کا واقعہ ہے۔اور عرب ممالک کی عوامی لہر سے بھی واقف تھے  پھر بھی عمران خان کی بے صبری سمجھ سے باہر ہے )
 بہر حال میں پھر بھی یہ  ہی کہوں گا کہ آزمائے ہوئے ان باری والوں   کو اور نہیں آزمانا چائیے ۔۔۔ کیونکہ ان لوگوں کی وجہ سے ہی  ہم دنیا میں پیچھے ۔۔بہت پیچھے۔۔۔بُہت پیچھے ہوگئے ہیں اتنے پیچھے کہ جب حساس پاکستانی غور کرتے ہیں تو رو پڑتے ہیں ۔۔۔۔چونکہ اللہ تعلیٰ نے پاکستان کو اپنی نعمتوں سے بہت نوازا ہُوا ہے ، سمندر، دریا، نہری نظام، بہترین زمین، معدنیات، گیس کے ذخائر، کوئلے کے ذخائر سونے کے ذخائر، وغیرہ ہونے کے باوجود پاکستان کو اتنی پستی کی طرف کس نے دھکیلا ہے؟؟ انہیں باری والوں نے ، انہیں باری والوں نے پاکستان کو دُنیا کا وہ واحد مُلک بنادیا کہ جہاں دولت مند ٹیکس نہیں دیتے ، چونکہ یہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں یا باری کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔۔۔ وزیر خزانہ نے تو ہر فورم پر انہیں احساس دلانے کی کوشش کہ ٹیکس کے بغیر حکومتی ادارے کیسے چل سکتے ہیں  مڈل اور غریب طبقہ کو  کتنا نچوڑا جائے؟؟ مجال ہے جو انکے کان پہ جوں رینگی ہو ۔۔۔  بس مڈل اور غریب طبقہ کو نچوڑ کر ادارے چلائے جارہے ہیں  ان اداروں میں بھی باری والوں نے میرٹ کے بجائے اپنے ہی  ناہل لوگوں کو لگاوایا ہوا ہے جو انِ اداروں کو  کرپشن  کے زریعے تباہی سے ہمکنار کر رہے ہیں اسطرح یہ پاکستان کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔۔۔
 ممکن  ہےکپتان صاحب اپنی کپتانی میں ٹیم میں شامل ہونے والےموقع پرستوں  سے بھی اچّھی اننگ کروانے میں کامیاب ہوجائیں ۔۔۔جیسے انضمام الحق نے اپنے  اثر سے" یوسف یوحنا" کو" محمد یوسف "بنادیا ۔۔۔بلکہ کرکٹ کے ایک تجزیہ کارنے  ٹی وی  پر انضمام کی کپتانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انضمام دور میں کھلاڑی  کرکٹ پریکٹس  سے زیادہ نماز کی پابندی کرتے تھے ۔۔۔ اس لیے ہمیں بھی کپتان عمران خان سے تبدیلی کی اُمیدرکھنا چاہئیے کہ وہ پاکستان کی بہتری کیلئے اچّھے ثابت ہونگے۔۔۔۔گوکہتحریکِ انصاف دن بہ دن مکس پلیٹ یا بارہ مصال�Dہ چاٹ بنتی جارہی ہے۔۔۔ تاہم ہمیں امید رکھنا چاہئیے کہ یہ مکس پلیٹ یا بارہ مصالحہ چاٹ پاکستانی عوام کیلئے ایک اچّھا ذائقہ فراہم کرے گی۔۔۔انشااللہ۔۔اب اجازت دیں آپ  کا بُہت شُکریہ ۔
 میں یہ تو نہیں کہتا میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے (ایم ۔ ڈی)

Monday, December 19, 2011

" سمجھ میں نہ آنے والی بات "

منجانب فکرستان پیش ہے پوسٹ ٹیگز:ممالیہ/ فطری جذبہ/ 14بچّے/13بچّیاں/سانس کا رشتہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ماں میں موجود مامتا کوفطرت کا جبلی تقاضہ  کہا جاتا ہے ، یہ جبلی تقاضہ انسانوں اور جانوروں دونوں میں پایا جاتا ہے،خاص کر "ممالیہ" میں فطرت نے یہ تقاضہ نہایت اعلیٰ پیمانہ میں ودیعت کیا ہُوا ہے ، ممالیہ میں  سےبھی انسان میں یہ فطری جذبہ اپنی معراج پر ہے اسکی فطری وجہ یہ ہے کہ انسان کا بچّہ بہ نسبت دوسرے ممالیہ کے زیادہ عرصہ تک ماں کے دودھ پر پلتا ہے اس لیے فطرت نے انسانی ماں میں مامتا کا جذبہ کوٹ کوٹ  کربھرا ہے ، لیکن نیپال سے خبر ہے  کہ  وہاں پر کچّھ مائیں اپنے ہی بچّوں کو مار دیتی ہیں ،ایسا تو کوئی نچلے درجہ والے جانور کی ماں بھی نہیں کرتی ۔۔۔ پھر یہ اشرف المخلوقات  کہلانے والی  ماں ایسا  کیسے  کرپاتی ہے؟؟؟۔ ذرا تصّور کریں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ انسان اپنے ہی بچّوں کو ہلاک کردے یہ  تصور سے بعید نظر آتا ہے ۔۔۔لیکن نیپال میں ایسا ہورہا ہے صرف 15 مہینوں میں 14 بچّے اور 13 نومولود بچیاں اپنے ہی والدین کے ہاتھوں قتل کردیے گئے ۔۔۔ ممکن ہے دیگر علاقوں میں بھی ایسا ہی کُچھ ہورہا ہو جسکی رپورٹنگ نہ ہوپاتی ہو۔۔۔ 
ایسا تو کوئی جانور بھی نہیں کرتا  کہ شکار نہ ملنے پر وہ اپنے بچّوں کو اس غرض سے ہلاک کردے  کہ ہم کھائیں یا کہ بچّوں کو کھلائیں ؟؟ بے چین ماں شکار کی تگودو میں لگی رہتی جیسے ہی شکار ملتا ہے وہ بچّوں کے آگے ڈال دیتی ہے اور خود صرف اتنا سا لیتی ہے کہ سانس کا رشتہ باقی رہے۔۔۔ انسان کو خالق نے صاحبِ تدبیر بنایا ہے پھر بھی ایسی مایوسی کہ اپنے ہی نومود بچّوں کو اپنے ہی ہاتھوں قتل کرنا سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے ۔۔۔یا انسانی سوچ اِس حد تک مادی ہوگئی ہے، جو ایک ماں سے مامتا کا اور ایک باپ سے باپتا کا فطری جذبہ بھی چھین رہی ہے !!!!! یہ پوسٹ درج ذیل لنک سے مُتاثر ہوکر لکھی گئی ہے ۔۔۔اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔( ایم ۔ ڈی )
نیپال میں گزشتہ پندرہ مہینوں کے دوران نوزائیدہ بچوں کو ہلاک کرنے کے ستائیس واقعات رونما ہوئے

Thursday, December 15, 2011

میاں بیوی میں ہم آہنگی کا فقدان۔"۔"

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: حیاتیاتی تقاضہ/اَسرار/شادی/ جسمانی خدوخال/ذہنی فکر و خیال 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  
تقریباً ہر گھر میں میاں بیوی کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ،یہ دُھواں وہاں بھی پایا جاتا ہے کہ جہاں پر تُمہارے بغیر زندہ نہ رہنے کی قسمیں کھائی گئیں تھیں ، ایسا کیوں  ہوتا ہے ؟؟ حال ہی میں کی گئی ایک سائنسی تحقیق کہتی ہے کہ دو اجنبی اپنی بات ایک دوسرے کوجتنی اچّھی طرح سمجھا پاتے ہیں اُسی بات کو میاں بیوی  اُتنی  اچّھی طرح  سےسمجھا نہیں پاتے ہیں ۔۔۔۔ ہے نا کتنی عجیب بات ؟؟؟؟(تفصیل لنک پر)
حیاتیاتی تقاضوں نے رومانوی شاعری کو جنم دیا ،اور ٹنوں کے حساب سے کاغذ کو نیلا پیلا کرڈالا نتیجہ میں جوانوں کے جذبات کو بڑھاوا  مِلا  اور شادی کر بیٹھے سارا اَسرار ختم ہُوا ،کہاں تو جینے مرنے قسمیں کھائی جارہی تھیں اب بات بے بات شکایت پیدا ہورہی ہے ۔ شکایت کا پیدا ہونا یقینی امر ہے چونکہ دونوں جنسوں کے درمیان نہ صرف جسمانی خدوخال میں فرق ہے بلکہ یقینی طور پر ذہنی فکروخیال میں بھی فرق  پایا جاتا ہےیہ ہی وجہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو اپنی بات سمجھا نہیں پاتے ہیں اسی لیے دونوں کو ایک دوسرے  سے شکایت رہتی ہے۔۔۔
زمین پر زندگی کے بارے میں ایک خیال یہ بھی  پایا جاتا ہے کہ اِس پر زندگی کا مواد کسی دوسرے سیارہ سے آیا ہے ،ہوسکتا ہے یہ مواد ایک کے بجائے دو سیاروں  سےآیا ہو اور اِن میں سے ایک کی خصوصیات میل والی ہو جبکہ دوسرے کی فیمیل والی ہو ، شاید یہ ہی وجہ ہو کہ فیمیل اپنی سہیلیوں میں خوشی محسوس کرتی ہیںcheerleader.gifcheerleader.gif جبکہ میل دوستوں میں خوش رہتے ہیںyippie.gifyippie.gif،یعنی اپنے اپنے سیارہ کی مخلوق میں ۔۔۔ یہ پوسٹ 27 جنوری 2011 کی تدوین شُدہ ہے۔۔۔۔
اب مُجھے اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔ (ایم ۔ڈی)
 http://www.voanews.com/urdu/news/Your-Wife-Does-Not-Understand-You-24Jan11-114485789.html

Monday, December 12, 2011

'' ماحولیات اور عمران خان "

منجانب فکرستان پیش ہے پوسٹ ٹیگز: دہشت گردی/بےضمیر/اقوام متحدہ /مشہور گروپعمران خان 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی دُنیا جن مسائل میں گھری ہوئی ہے ان مسائل میں سب بڑا مسئلہ نہ تو دہشت گردی ہے نہ ہی سرمایا دارانہ نظام بلکہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دن بہ دن بگڑتی ہوئی  ماحولیات  کی صورتِ حال  ہے۔۔۔ یہ ماحولیاتی" جن" دُنیا کو فنا کرنے پر تُلا بیٹھا ہے ۔۔ لیکن دنیا کے ممالک کا فوکس دہشت گردی پر ہے اسطرح  ماحولیات پر جتنی توجہ دینی چاہئیے تھی اُتنی توجہ نہیں دی جارہی ہے یا اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے صنعتی ترقی یافتہ ممالک ترقی کے نشہ میں اس مسئلہ سے جان بوجھ کر  آنکھیں چُرا رہے ہیں ، اس مسئلہ کو اُتنی سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں جتنے کا مسئلہ متقاضی ہے،اپنی ترقی کے نشہ میں،ماحول خراب کرنا یاخراب ماحول کا سدباب نہ کرنا، کیا ریاستی دہشت گردی نہیں ہے ؟؟؟؟۔
اس سلسلے میں بے دست و پا بیچاری اقوام متحدہ ان بے ضمیر ممالک کا ضمیر بیدار کرنے اور مسئلہ کی سنگینی کا احساس دلانے کیلئے کانفرنسیں کرواتی رہتی ہے ۔ لیکن بڑے صنعتی ممالک، اپنا اثر استعمال کرکے ان کانفرنسوں  میں ایسی بے وقعت قرار دادیں پاس کرواتے ہیں  کہ جن کو نتائج نہیں ملتے۔۔۔
ہمارے ملک میں جوکہ مسائلستان کا جنگل ہےاس مسئلہ کی  کوئی اہمیت  ہی نہیں ہے  جبکہ ماحولیاتی اثرات نے لیہ، چولستان ، بدین اور ٹھٹھہ کی کھڑی فصلوں کو پانی میں ڈبو دیا، لیکن کسی فورم پرہماری آوازنہیں سُنائی دی اور نہ ہی ماحولیاتی سنگینی کا عوامی شعور بیداری کا کوئی حکومتی منصوبہ نظر آتا ہے ۔ ایسے میں عمران خان کا کراچی کے ایک مشہورماحولیاتی گروپ سے ماحولیات پر ایک دستاویز بنانے میں مدد طلب کرنا ۔۔۔عمران خان کا ماحولیات کے بارے میں اِدراکی شعور کا عکاس نظر آتا ہے ۔۔۔۔جبکہ "باری" والوں نے چار سال  تک جس شعور کا مظاہرہ کیا وہ عوام کے سامنے ہے کہ کس طرح اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کی بنا پر عدلیہ نے از خود نوٹس لیے ہیں ۔۔۔ ملک کو موجودہ حالت  میں پہنچانے میں کیا اپوزیشن برابر  کی شریک نہیں ہے ؟؟ اس لیے کہ جمہوریت میں اپوزیشن پر بُہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ابباری والوں نے پھر عوام کو لُبھانے کا کام شروع کردیا  ہے ۔ ایسی سیاست کو کیا نام دیا جائے ؟؟؟؟؟
اب مُجھے اجازت دیں آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔( عمران خان حوالہ کیلئے لنک پر جائیں)
میں یہ تو نہیں کہتا میری سوچ سے متفق ہوں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے ۔(ایم ۔ ڈی)

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...