منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: خُدائی کلکولیشن/ کائنات میں رنگ/ بیوقوف بنانا/ ماں کی تعریف کے الفاظ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کشمیر "سری نگر" میں لڑکیوں کے اسقاط کا سروے ہونے لگا تو وہاں کی عورتوں نے کہا " مسلمان لڑکیوں کا اسقاط نہیں کراتے ہیں" لیکن سروے رپورٹ نے حقیقت کھول دی بھارتی مسلمانوں میں بھی معمولی فرق کے ساتھ یہ عمل جاری ہے بھارت میں صورت حال اب یہ ہوگئی ہے کہ 1000لڑکوں کے مقابلے میں صرف 914 لڑکیاں رہ گئی ہیں ۔یہ خُدائی معاملے میں انسانی مداخلت کا نتیجہ ہے ورنہ خُدائی کلکولیشن تو صدیوں سے ٹھیک طریقہ سے لڑکے لڑکیاں برابری کی بنیاد پر چل رہی تھی اسی کے تحت کہا جاتا تھا کہ جوڑے آسمان میں بنائے گئےہیں، الٹراساؤنڈ کی کارستانی سے جوڑوں کی جوڑی اسقاط کے نظر ہورہی ہے ۔
اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ ۔عورت کی ڈیزائننگ کوڈ( جنیوم) میں یہ بات شامل ہے کہ گھر ہوکہ ویرانہ اسکو وہ سجاتی ہے قابلِ دید بناتی ہے اپنے آپ کو بھی سجا کر قابلِ دید بناتی ہے ۔ رنگوں کا استعمال بھی خوب جانتیں ہیں ( شوہروں کو بیوقوف بنانا بھی خوب آتا ہے) ۔۔۔ماں کے روپ کے تو کیا کہنے الفاظوں میں وہ دم خم نہیں ہے جو ماں کے روپ کی تعریف کرسکیں عورت کوخالق نے جسمانی لحاظ سے مرد سے کمزوربنایا ہے لیکن یہ کمی عورت کو زیادہ ہمت دے کر پوری کردی ہے ۔ وہ جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتے ہوئے بھی ہر طرح کی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتی ہے بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ مردوں سے بھی آگے رہتی ہے ۔
عورت میں موجود ہمت کی ایک جھلک اس خاتون نے دِکھادی ہے ۔ پورے دنوں کی حاملہ ہوتے ہوئے بھی 42 کلومیٹر میراتھن ریس میں حصّہ لیا ( عورت ہر معاملہ میں اسی طرح سے فعال ہے/سوائے ایک معاملے کے) یہ فاصلہ سوا 6 گھنٹوں میں مکمل کیا پھر ہاسپیٹل جاکر بچیّ کو جنم دیا ۔۔۔"عورت کی ہمت کو سلام ہے" ۔۔۔۔
نوٹ ؛ اس پوسٹ پرکئے گئے تبصرے پبلش ہونگے ۔(ایم ۔ڈی )


