Saturday, October 8, 2011

بنیادی مسائل پر احتجاج نہ ہونے کی وجہ !!!۔

فکرستان سے پوسٹ ٹیگز: وال سٹریٹ/ انڈیا/ممتاز قادری/سپریم کورٹ فیصلہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 پاکستانی قوم جتنی صابراور قوتِ برداشت کی حامل قوم دنیا میں شاید ہی کوئی اور ہو وہ یوں کہ یہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادیوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتی ہے ۔ مہنگائی ،بےروزگاری اور حد سے زیادہ بڑی ہوئی معاشی نا انصافیوں کو خاموشی سے برداشت کررہی ہے ۔  یہاں نہ "تحریر اسکوائر"جیسا احتجاج نظر آتا ہے اور نہ ہی" وال اسٹریٹ " جیسا دھرنا معاشی نہ ہمواری پرعرب ممالک میں اٹھنی  والی گرما گرم لہر نےبھی ہمارے ٹھنڈے  پڑےجسم کو کوئی حرات نہ پہنچا سکی جبکہ ہمارے وزیر  نے تو بڑے اعتماد سے یہ تک کہہ دیا کہ پاکستان میں مردے نہلانے میں بھی کرپشن پائی جاتی ہے  ۔یہ سن کر بھی قوم کے صبرِاستقلال میں کوئی جنبش پیدا نہیں ہوئی  یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی طرح کی کرپشن کے خلاف  ہمارے یہاں کوئی تحریک نہیں پائی جاتی ۔۔۔اسکی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟؟؟
  میں سوچتا ہوں کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہمارے مذہبی جماعتوں کے رہنما میڈیا میں "اِن " رہنے کیلئے کسی  بھی بات کو مذہبی اشو  بناکر جمعہ کے جمعہ مذہبی احتجاج کا جو سلسلہ پاکستان میں  شروع کر رکھا ہے (جیسے کل ممتاز قادری کے عدالتی فیصلے پر احتجاج تھا ) ان مذہبی احتجاجوں نے بے روزگاری ، معاشی نہ ہمواری اور کرپشن جیسےبنیادی ایشو کو پسِ پشت ڈال دیا ہو ۔ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ اتنی بےروزگاری،  اتنی معاشی نہ ہمواری، اور کرپشن ان ملکوں میں نہیں پائی جاتی جہاں پر کہ ان پر احتجاج ہو رہا ہے ۔۔۔
سپریم کورٹ نے کراچی بد امنی کیس کے فیصلے  میں سیاسی ،لسانی اور  مذہبی جماعتوں کا صحیح اصلی حقیقی چہرہ دکھا دیا ہے۔۔۔ بُہت شُکریہ ۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے ۔  (ایم ۔ڈی)

Tuesday, October 4, 2011

" ہیلتھ میسیج "

 منجانب فکرستان پیش ہے : " ہیلتھ میسیج  "
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
احتیاط ہی بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرات کو کم کرتی ہے ۔ اسی کے پیشِ نظر کینیڈا کے محکمہ صحت نے موبائل صارفین اور خاص کربچّوں کیلئے درج ذیل چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔۔۔ہیلتھ کینیڈا نے صارفین کو یہ مشورہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں دیا ہے ۔۔۔
 (خاص کر عورتیں خوب احتیاط کریں چونکہ عورتیں کھانے پکانے ،شادی بیاہ  سے لیکر بچوں کی پیدائش کے سارے مرحلے موبائل فون پر ہی طے کر تی ہیں ۔ شُکریہ( ایم ۔ڈی)۔
اوٹاوا: ہیلتھ کینیڈا نے موبائل فون صارفین کیلئے کینسر سے بچاؤ کیلئے ہدایات جاری کر دیں۔ محکمہ صحت نے صارفین کو کہا ہے کہ وہ کم دورانیے کی  فون کالز کریں اور فون پر بات چیت کیلئے ایئر پیس استعمال کریں یا تحریری پیغام رسانی (ٹیکسٹ میسیجنگ) کا سہارا لیں۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل کم سے کم استعمال کرنے کی اجازت دیں۔ بچوں پر اس سلسلے میں خصوصی توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ بچے بالغ افراد کی نسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے یہ ہدایات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی کینسر سے متعلق مئی میں جاری کردہ رپورٹ کے بعد جاری کی گئی ہیں۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق موبائل سے نکلنے والی ریڈیو فریکوئنسی اور بننے والا مقناطیسی میدان لوگوں میں کینسر کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے دماغی کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔( تصویر/ رپورٹ: بشکریہ اردو ٹائمز)


Monday, October 3, 2011

" سنڈے میگزین ایکسپریس سے منتخب اقتباسات "


منجانب فکرستان پیش ہے:عمران خان کی کتاب سے چند اقتباسات شائع شُدہ ایکسپریس سنڈے میگزین۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
عمران خان کی کتاب سے چند اقتباسات ایکسپریس اخبار نے اپنے سنڈے میگزین 25 ستمبر 2011  کی اشاعت میں شائع کئے تھے ۔میں نےان اقتباسات میں سے چند منتخب اقتباسات اپنے قارئین کرام کیلئے منتخب کئے ہیں ۔ تا ہم انکی زندگی کی تفصیل جاننے کے لیے اصل کتاب کا مطالعہ کرنا ہوگا۔۔۔ بشُکریہ اخبار ایکسپریس ۔( ایم۔ڈی) 
 
دل چا ہے تو یہ پاور فل سونگ سنُئے( ایم ۔ڈی)                             




Wednesday, September 28, 2011

" THE GOD PARTICLE "

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: پارٹیکل/امیج /سائنس/ مذاہب / ماورائی
__________________________________________________
لگتا ہےسرن( cern)  کےسائنسدان بھی سائنس کے عشق میں مبتلا ہوکر  کُچھ جذباتی ہو گئے ہیں  کہ  ہیگز بوزون "ذرہ" کو" خُدا" کا درجہ دینے لگے ہیں۔۔۔ جبکہ سائنسدان تو خود  اچھی  طرح جانتے ہیں کہ سائنسی نظریات تو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔۔۔ ایسے میں  ہیگز بوزون کو" گاڈ" پارٹیکل کہنا کہاں کی عقل مندی ہے ۔۔۔  یہ سائنس کو بند گلی میں لے جانے والی جیسی بات  ہے ۔۔۔ کل کلاں کو  ہیگز بوزون سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ذرہ کی نشان دہی ہوتی ہے تو پھر آپ کیا کریں گے ؟؟؟چلیں مان لیتے ہیں کہ ہیگز بوزون ذرہ دریافت ہو بھی جاتا ہے مگر اسکو " گاڈ "پارٹیکلکون مانے گا مذاہب نے  انسانی ذہن میں "گاڈ" کا جو امیج بنایا ہے وہ ماورائی ہے ۔۔۔ اس سے دُنیاوی کوئی چیز میل نہیں کھا سکتی ہے۔۔۔ 
جس کمپیوٹر نے ذہانت میں انسان کو شکست دی ۔۔۔یقیناً وہ بہت ذہین  ہے مستقبل قریب میں  اس سے بھی زیادہ ذہین ترین کمپیوٹرز بنیں گے لیکن کیا  یہ ذہانت سے معمور کمپیوٹرز اپنے بنانے والے کو جان سکتے ہیں ؟؟؟ یہ ذہانت میں انسان سے چاہے کتنے ہی زیادہ ذہین کیوں نہ ہوجائیں پھر بھی یہ اپنے بنانے والےکو نہیں جان سکتے ہیں ۔ یہی حال انسان کا ہے کہ وہ چاہے کتنی ہی بڑی لیب کیوں نہ بنالیں وہ اپنے خالق کو کبھی نہیں جان سکتا ۔ ۔۔ شُکریہ۔۔۔
 میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے ۔
( ایم ۔ ڈی)

Monday, September 26, 2011

٭٭ زرداری سیاست ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ ٭٭

فکرستان سےپوسٹ ٹیگز:/میاں صاحب /عمران خان/ٹارگٹ کلنگ/سیاسی بصیرت/ذوالفقار مرزا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ماؤزے تنگ نے اپنی تمام زندگی کا فلسفہ لال کتاب میں لکھ دیا ہے جبکہ ہمارے صدر جناب آصف علی زرداری صاحب نے اپنی تمام زندگی کا فلسفہ اپنی اورل کتاب کتابِ مفاہمت میں سمودیا ہے ، وہ یہ کتاب سیاسی رہنماؤں کو پڑھواتے ہیں ، میاں صاحب تو 3 سال تک اس کتاب کے سحر میں ڈوبے رہے ۔انہیں یہ  بھی ہوش نہیں  رہاکہ عوامی ووٹ سے نتھی  کُچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں ؟؟؟اسی طرح یہ کتاب ایم کیو ایم ، اے این پی اور جے یو آئی (ف)نے بھی پڑھی اب چوھدری برادران بھی پڑھ رہے ہیں اس کے بعد میدان بالکل صاف ہوگیا عوام کی مشکلات کو زبان دینے والا کوئی نہیں رہا ، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہیں ۔۔۔ مفاہمت جاری رہی ۔۔۔ ریلوے کا دھڑام تختہ ہوگیا ۔۔۔مفاہمت جاری ہے۔۔۔ دنیا کی جمہوریتوں میںاپوزیشنوں کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ لیکن زرداری کی کتابِ مفاہمت میں اپوزیشن کا تصورنہیں پایا جاتا ۔۔ ۔ ۔ عوام اور میڈیا میاں صاحب کو اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کیلئے مفاہمت کے سحر سے جگانے کی کوشش کرتے رہے ۔۔۔ وہ نہ جاگے ۔۔۔۔فطرت کو خلا پسند نہیں اپوزیشن کا خلا پیدا ہوگیا تھا  ایسے میں عمران خان کے جلسوں کو پزیرائی ملنے لگی تو میاں صاحب جاگ گئے ۔ ۔ ۔  ہائیں یہ کیا ہورہا ہے ؟؟؟ لیکن لگتا ہے کہ ابھی پوری طرح نہیں جاگے ہیں ممکن ہے کہ انرجی کو آنے والے الیکشن کیلئے بچا کے رکھنا چاہتے ہوں ۔۔۔
بڑے بڑے سیاسی ماہرجو یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے تھے کہ زرداری کی حکومت سال ڈیڑھ  کی مہمان ہے۔۔۔ کوئی  بھی سیاسی پنڈت دوسال دینے کیلئے تیارنہیں ہو تا تھا کہ زرداری میں  سیاست کو درکار بصیرت نہیں ہے ۔۔۔لیکن صدر صاحب نےمفاہمتی سیاست کی ایسی بصیرت نکالی کہ اپوزیشن کو چت کر کےرکھ دیا ۔۔۔ وہی سیاسی پنڈت جو ڈیڑھ دو سال دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے اب پورے ٹرم کی بات کر رہے ہیں ۔ اب وہ زرداری صاحب کو ماہر سیاست داں سمجھنے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ ذوالفقار مرازا کی گھن گرج کے پیچھے بھی زرداری  کی سیاست کو تلاش کر رہے ہیں ۔ ۔۔۔قدرت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں جس مفاہمتی پالیسی کے زریعے زرداری صاحب نے تمام اپوزیشنوں کو چت کیا اُسی مفاہمتی پالیسی پر پارٹی میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔۔۔۔اب  دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے الیکشن میں زرداری صاحب اپنی پٹاری میں سے کیا نکالتے ہیں ۔۔ ۔ ویسے زرداری پٹاری میں سےصوبوں نے تو ابھی سے جھانکنا شروع کردیا  ہے۔۔۔ شُکریہ۔۔ تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔
(ایم ۔ ڈی )  

Monday, September 19, 2011

٭ نریندر مودی شو اور پُر تاثر نظم ٭

منجانب فکرستان پیش ہے:سنجیوبھٹ کےخط کی تاثراتی نظم "بہتر ہوگا کہ ہم جنگ شروع کریں "۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 مذہبی نیتا  ہوں کہ سیاسی نیتا یہی وہ دو نیتا ہیں جو اپنی چرب زبانی کے زریعے  بڑے پیمانے پر انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔حالیہ مثال نریندرمودی شو ہے جو 3 گھنٹے شو کی جگہ تین دن کا برت شو ہے اس شوکے زریعے وہ اپنے انسان خونی جسم پر ،انسان دوستی کا لیبل لگوانا چاہتے ہیں لیکن انٹیلی جنس انچارج سنجیو بھٹ ( لقب بہادربھٹ ) نے  کھلے خط میں لکھا ہے مودی کچھ بھی کرلے وہ گمراہ نہیں کر سکے گا۔خط میں پرتاثرنظم بھی ہے جسکا ترجمہ انقلاب انڈیا نے چھاپا ہے۔قارئین کیلئےنقل پیش ہے۔۔۔ گُزارش ہے کہ نظم سلو موشن میں پڑھیں شُکریہ۔۔۔۔
میرے پاس اصول ہیں ،لیکن طاقت نہیں ۔۔۔تمہارے پاس طاقت ہے ،لیکن اصول نہیں ۔۔۔ تم چونکہ تم ہو۔۔۔ اور میں چونکہ میں ہوں ۔۔۔ اس لیے مجھ میں اور تم میں سمجھوتا ممکن نہیں ہے ۔۔۔بہتر ہوگا کہ ہم جنگ شروع کریں۔۔۔میرے پاس سچائی ہے ،لیکن فوج نہیں ۔۔۔ تمہارے پاس فوج ہے ،لیکن سچائی نہیں ۔۔۔اس لیے مجھ میں اور تم میں سمجھوتا ممکن نہیں ہے ۔۔۔ بہتر ہوگا کہ ہم جنگ شروع کریں ۔۔۔تم میری گردن مروڑ سکتے ہو ۔۔۔ میں مزاحمت کروں گا ۔۔۔تم میری ہڈیاں توڑ سکتے ہو ۔۔۔ میں مزاحمت کروں گا ۔۔۔ تم مجھے زندہ دفن کرسکتے ہو ۔۔۔ میں پھر بھی مزاحمت کروں گا۔۔۔ سچائی میری شریانوں میں دوڑتی پھرے گی ۔۔۔اور میں لڑوں گا ۔۔۔مجھ میں جب تک طاقت ہے ۔۔۔میں لڑوں گا ۔۔۔ آخری سانس تک لڑتا رہوں گا۔۔۔لڑتا ہی رہوں گا تب تک۔۔۔جب تک تمہارے جھوٹ کا محل منہدم نہ ہوجائے ۔۔۔اور جھوٹ کے جس دیوتا کی تم پوجا کرتے ہو۔۔۔میرے سچائی کے فرشتے کے قدموں میں اوندھے منہ گر نہ پڑے۔۔۔۔۔شُکریہ۔ تصاویربشکریہ ( بی بی سی) نظم ترجمہ اردو بشکریہ( روزنامہ انقلاب)۔( ایم ۔ ڈی)
                                                                                 
                       




     
    فرض شناس۔ لقب بہادر بھٹ                                             مکارانہ ہنسی عیاں ہے 

Saturday, September 17, 2011

٭ صرف 7 ووٹوں کی دوری پر ہے فلسطینی ریاست ٭

 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: جنرل اسمبلی/ ریاست/ سلامتی کونسل/ ترکی/ عرب لیگ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
جنرل اسمبلی میں فلسطین کو ریاست کا درجہ حاصل کرنے کیلئے 129 ووٹوں کی ضرورت ہوگی جبکہ 122 ملکوں نے فلسطین کو  ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا ہوا ہے۔ اب صرف 7 ووٹوں کی کمی رہ جاتی ہے قوی امید ہے کہ وہ مل جائیں گے ۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل نہیں چاہتے ہیں کہ فلسطین والے اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کیلئے کوئی درخواست داخل کریں ۔ اسکے لیے وہ ہر طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں مثلاً  قرارداد کو سلامتی کونسل میں وی ٹو کردیں گے ، آپ کی امداد بند کردیں گے ، یہ خوف بھی بٹھایا جارہا ہے کہ لابنگ ہوگئی ہے کہ قرار داد منظور نہیں ہوسکی گی ۔
ترکی فلسطین والوں کی خوب پیٹھ تھپ تھپا رہا ہے کہ گھبراؤ نہیں ادھر عرب لیگ نے بھی اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے ۔ عرب حکمرانوں کو حالیہ عوامی لہر کا بھی اندازہ ہے ۔ اس لیے کچھ یقین سا ہے کہ 129 سے بھی زیادہ ووٹوں سے قرار داد منظور ہوگی ۔
یقیناً امریکہ سلامتی کونسل میں اس قرار داد کو وی ٹو کردے گا لیکن پھر بھی فلسطین کو اقوام متحدہ میں نان ووٹنگ ممبر ریاست کی حیثیت تو حاصل ہوجائے گی ۔ یعنی فلسطینی ریاست اقوام متحدہ  کی ممبر تو بن جائے گی لیکن کسی قرار داد کی ووٹنگ میں حصّہ نہیں لے سکے گی ۔ ابتدا میں اسرائیل کی بھی ایسی ہی حیثیت تھی بعد میں سلامتی کونسل سے منظوری کے بعد ووٹنگ ممبر بنا ۔ 
فلسطینی تو یہ چاہتے تھے کے پہلے بات چیت کے زریعے اس مسئلہ کو حل کر لیں لیکن اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور امریکہ بہادر کی کمزوری کی وجہ سے یہ ساری صورت حال پیدا ہوئی ورنہ بات چیت کے زریعے مسئلہ حل کرلیتے تو اس وقت امریکہ، اسرائیل اور فلسطین  دنیا  بھرکی شاباشیاں سمیٹ رہے ہوتے  خاص کر امریکہ کی شبیہہ دنیا میں بہت بہتر ہوجاتی ۔۔۔ شُکریہ ۔( ایم ۔ڈی)۔ 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...