Monday, September 5, 2011

٭ کامیابی کا ملنا / نتائج کا نہ ملنا " رب " کی گواہی ہے ٭

 فکرستان سے پوسٹ ٹیگز: کمیونزم/سرمایا دارانہ نظام/اسلام فوبیا/9/11
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 مثال  کے طور پر 20ویں صدی وسط میں کمیونیزم بُہت تیزیپھیل رہا تھا،  برصغیر کے ادیبوں میں بھی کمیونیزم سرایت کرگیا تھا ۔فلم انڈسٹری میں بھی فلم کی کہانیاں ہوں کہ گانے سب کمیونیزم کے زیر اثر آگئے تھے ۔ایشیا سُرخ ہے کے نعرے بُلند ہورہے تھے۔ یہ غریب محنت کشوں کے خوابوں کی تحریک تھی اسی لیے اسکے سِمبل درانتی اور ہتھوڑا ہیں سرمایا دار اور مذہبی رہنما جوکہ بغیر محنت کئے دوسروں کی محنت  پر عیش کرنے والے اس تحریک سے گھبراگئے  چونکہ یہ تحریک ایک طرف  تومغربی ممالک اور امریکہ کے فروغ پاتے سرمایا دارانہ نظام کیلئے خطرہ تھی تو دوسری طرف چرچ کیلئے بھی بُہت بڑا خطرہ تھی اس لیے اس تحریک کو کُچلنے کیلئے مذہبی رہنماؤں نے مذہبی جواز فراہم کئے تو سرمایا داروں نے  حکومتوں کو سرمایا فراہم کیا کہ کسی طرح بھی بن پڑے اس تحریک کو کُچلا جائے ۔۔۔
 اس تحریک کو پھیلنے سے روکنے اور کُچلنے کیلئے مغربی ممالک ،امریکہ اور چرچ صلیبی جنگوں کو بُھلا کر اسلامی جہاد کے پرموٹر بن گئے.۔ القائدہ اور  مدرسوں کو پھلنے پھولنے دیا۔۔۔ یہاں تک کہ پاکستان کے ایٹمی صلاحیت بننے کے بارے میں اپنی آنکھیں بند رکھیں  کہ پاکستان تو ہماری کالونی ہے اِس بم کو روس پر چلوا دیں گے ۔۔۔ ۔ ۔غرض کہ مغربی،امریکی اور چرچی ٹرائی اینگل کمیونیزم کو کُچلنے اور روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ ۔ ۔
لیکن اسی  کامیابی سے 9/11  تولد ہُوا جس جہاد کو ٹرائی اینگل نے پرموٹ کیا تھا اب وہ پرموٹروں کونِگلنے کے درپے ہے۔۔۔ارکانِ  ٹرائی اینگل سوشلسٹ فوبیا سے نکل کر اب اسلام فوبیا میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔۔ فوبیا اپنی جگہ موجود ہے صرف نام تبدیل ہُوا ہے ۔۔۔۔
انسان سمجھتا ہے کہ مسئلہ کا حل اُسنے  جیسا سوچاہے ایسا ہوجائے تو  مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ ۔ ۔ مگر انسان بے خبر ہے  جسکو وہ حل سمجھ رہا ہے اُس "حل" میں نئے مسائل کی جہتیں پوشیدہ ہوتی ہیں  جو نظر نہیں آتی ہیں ۔۔۔ مثلاً جیسے ٹرائی اینگل ارکان اپنے ارادوں میں تو کامیاب ہوگئے لیکن اس کامیابی سے 9/11  برآمد ہوگا یہ اُنکے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔۔۔  سمجھ رہے تھے کہ اِرادوں کی کامیابی ہی فتح کا نشان ہے ۔ ۔ ۔ ایسا نہیں ہے ۔۔۔ایساہوجائے تو انسان خُدائی دعویٰ کرنے لگے۔ ۔۔توجناب:" کامیابی کے باوجود نتائج کا نہ ملنا" رب "کی گوائی ہے"۔۔۔اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔
( ایم ۔ ڈی)  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  
ذیل کے خوبصورت نغمہ کا ہر بول/ کمیونزم خواب کی عکاسی کر رہا ہے۔  

Wednesday, August 31, 2011

٭ منٹو کے خط سے مُختصر اقتباس ٭

منجاب فکرستان:قارئین کرام،اردو سیارہ کی انتظامیہاور بلاگرزساتھی 
٭عیدکی مُبارکباد قبول فرمائیں٭

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سعادت حسن منٹو کے وہ فرضی خطوط جو کہ" چچا سام" کے نام لکھے گئے اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔انہیں خطوط میں سے ایک خط میں منٹو ایک نیک کام کی تکمیل کیلئے امریکہ سے مدد کی درخواست کرتے ہیں۔دو دن پہلے یعنی رمضان میں مُجھےاُسی خط  کا کردار  نظر آیا تو یہ اقتباس  بھی یاد آگیا۔۔۔
ایک چھوٹا سا ننّھا منا ایٹم بم تو میں آپ سے ضرور لونگا۔ میرے دل میں مدت سے یہ خواہش دبی پڑی ہے کہ میں اپنی زندگی میں ایک نیک کام کروں۔ آپ پوچھیں گے یہ نیک کام کیا ہے ؟۔۔۔آپ نے خیر کئی نیک کام کئے ہیں۔اور بدستور کئے جارہے ہیں ۔آپ نے ہیرو شیما کو صفحہ ہستی سے نابود کیا ۔ ناگا ساکی کو دُھویں اور گرد و غبار میں تبدیل کردیا۔ اسکے ساتھ ساتھ آپ نے جاپان میں لاکھوں امریکی بچّے پیدا کئے ۔ فکر ہر کس بقدرِ ہمت اوست ۔۔۔ میں ایک ڈرائی کلین کرنے والے کو مارنا چاہتا ہوں ۔ ۔۔ہمارے یہاں بعض مولوی قسم کے حضرات پیشاب کرتے ہیں تو ڈھیلا لگاتے ہیں ۔۔۔ مگر آپ کیا سمجھیں گے ۔۔۔ بہر حال معاملہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد وہ صفائی کی خاطر کوئی ڈھیلا اُٹھاتے ہیں اور شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر سر بازار ڈرائی کلین کرتے چلتے پھرتے ہیں ۔۔۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ جونہی مُجھے کوئی ایسا آدمی نظر آئے ۔۔۔جیب سے آپکا دیا ہُوا سنی ایچر ایٹم بم نکالوں اور اُس پر دے ماروں تاکہ وہ ڈھیلے سمیت دُھواں بن کر اُڑ جائے ۔۔۔۔   
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کاش مُجھے بھی ایک عدد بم مل جائے تو میں بھی ۔ تمام مکار سیاست دانوں اور تمام انا پرست اور فرقہ پرست عُلماء کو دُھواں بنادوں۔ ۔ ۔آپکا بُہت شُکریہ ۔ 
۔( ایم ۔ڈی)۔



٭ ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس میں ہنگامہ آرائی ٭

حیدر آباد میں ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس میں ہنگامہ آرائی جس کے نتیجہ میں ایک صحافی شدید زخمی ہوگیا ۔۔۔۔  
Close

Friday, August 26, 2011

٭ خوبصورت تصویر / دلچسپ خبر ٭

 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: دلچسپ/ 22سال /11ماہ/ماں بننا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ما ہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ حواس خمسہ کے زریعے اچّھے یا بُرے جو بھی تاثرات انسانی دماغ کو پُہنچتے ہیں وہ پورے انسانی جسم کو مُتاثر کرتے  ہیں ۔امریکی علاقہ  ٹینسی کی نہ صرف یہ خوبصورت" تصویر" بلکہ یہ" خبر"بھی کُچھ ایسی ہی انوکھی اور دلچسپ ہے کہ کُچھ دیر کے لیے آپ کے اندر مسرت کے احساس کو جنم دیگی۔۔۔
خاص طور پر سب سے آخر میں کھڑی بچّی کو دیکھیں جیسے وہ اپنے وجود کا احساس دِلا رہی  ہو اور کہہ رہی ہو کہ میں بھی اس دُنیا میں آئی ہوئی ہوں ۔ مُجھے بھی اس تصویر میں ہونا ہے۔ اب آپ یہ ہنستی مسکراتی خوبصورت  تصویر دیکھیں اور ہنستی مسکراتی خبر پڑھیں ۔اور مُجھے دیں اجازت  ۔۔۔ آپکے خلوص کا طالب ۔(ایم ڈی)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خبراورتصویرشمالی امریکہ کےاخباراردو ٹائمزسےکاپی پیسٹ ہے (بچّوں کے چہرے ضرور دیکھیں )۔
   ٹینسی: مو جودہ دور میں جہاں اکثر جوڑے کم بچے خوشحال گھرانے پر یقین رکھنے ہیں وہیں ایک امریکی جوڑا ٹھارہ بچوں کے بعد بھی مزید دو بچوں کا خواہشمند ہے۔ امریکی ریاست ٹینسی کے رہائشی گل اور کیلی کل اٹھارہ بچوں کے والدین ہیں جن کے سب سے بڑے بچے کی عمر بائیس اور سب سے چھوٹا صرف گیارہ ماہ کا ہے۔ چوالیس سالہ کیلی کا کہنا ہے کہ اسے ماں بننے کا عمل بے حد اچھا لگتا ہے اور وہ مزید دو لڑکوں کی خواہشمند ہے۔ جس سے ان کے لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد دس، دس ہو جائے گی۔ گل اور کیلی کے چار ہزار اسکوائر فٹ پر پھیلے ہوئے گھر میں ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ موجود نہیں اور فارغ وقت میں پورا خاندن ایک ساتھ موسیقی سے لطف و اندوز ہوتا ہے۔
آئیں ہم بھی موسیقی سے لطف اندوز ہوں / کافی دن گُزرگئے کہ میں نے اپنی پوسٹ پر کوئی وڈیو نہیں لگائی ۔وڈیو/آڈیو حاضر ہے دل چاہے تو سُنئے۔

Wednesday, August 24, 2011

برمودا ٹرائی اینگل اور کراچی

فکرستان سےپیش ہےپوسٹ ٹیگز:انائیں/ کمزور پڑتی گرفت/فردوس عاشق اعوان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 کراچی کے مکینوں نے کراچی کے مسائل کے حل کیلئے  ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے نمائندوں کو ووٹ دیکر کامیاب کرایا جب تینوں پارٹیوں کے بڑوں نے اتحاد کا فیصلہ کیا تو کراچی کے مکین خوش ہوئے کہ اس اتحاد سے کراچی کے مسائل کے حل کو ایک موثر آواز مل جائے گی ۔لیکن یہ اتحاد تو کراچی کے مکینوں کیلئے برمودا ٹرائی اینگل ثابت ہورہا ہے جو کراچی کے شہریوں کو ہی نِگل رہا ہے ۔ اس صورت حال کو کُچھ دانشور بیرونی سازش قراردے رہے ہیں تو کُچھ اندرونی سازش  قرار دے رہے ہیں ۔ لیکن میرے نزیک کراچی کو اس صورت حال میں مبتلا کرنے  میں ٹرائینگلی اناؤں کا دخل ہے۔ ہر اینگل اور اُسکے کارندے  یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بُہت بڑی طاقت ہیں ۔ اور اپنی طاقت کا مظاہرہ چاہتے ہیں، مظا ہرہ کر رہے ہیں ۔
  میرے خیال میں اسکی ایک بڑی وجہ پارٹی سربراہوں کی  اپنی پارٹی پر کمزور پڑتی گرفت  بھی نظر آرہی ہے ۔اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کیلئے بُہت نقصان دہ بات ہے۔ چونکہ بقول محترمہ فردوس عاشق اعوان کراچی کے حالات سے ملک کو یومیہ 3 ارب کا نقصان پہنچ رہا ہے ۔۔
بُہت شُکریہ۔ 
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میرے اِس تجزیہ کوصحیح سمجھیں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میرا تجزیہ یہ ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ ڈی )۔     

Sunday, August 21, 2011

شیخ رشید صاحب انا ہزارے کیوں نہیں بن سکتے ؟؟؟

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز:اناہزارے/ عمران خان / عدالتیں/شیخ رشید   
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
ضرورت ہے۔۔ضرورت ہے۔ ۔ ۔ سخت ضرورت ہے ۔۔۔ ارے بھئی کس کی ضرورت ہے ۔ ۔؟ضرورت ہے۔ ایک عدد انا ہزارے کی۔۔۔کیوں کیوں۔۔۔کیوں ؟اس لیے کہ ہمارے ملک میں بھی کرپشن ہے ؟ کرپشن  ہے تو پھر انا ہزارے کیوں نہیں ہے ؟   چونکہ کرپشن اور اناہزارے کا ساتھ چولی دامن والا ساتھ ہے۔  کہا  یہ جاتا ہے کہ پاکستان میں انڈیا سے زیادہ کرپشن ہے ۔ تو پھر  کسی اناہزارے کو یہاں بھی ہونا چاہئیے ۔۔۔گو ہماری عدالتیں کرپشن کو روکنے کی تمام تر کوششیں کر رہی ۔۔۔ عمران خان اور نواز  شریف  نے بھی حکومت پر اپنا دباؤ رکھا ہُوا ہے۔ لیکن یہ دباؤ انا ہزارے جیسا دباؤ نہیں ہے ۔ کہتے ہیں کہ محلے پڑوس کے اثرات پڑوسیوں پر پڑتے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انا ہزارے کے اثرات پاکستان پر کب پڑتے ہیں اور پاکستان میں کون انا ہزارے بنتا ہے ؟؟؟ ۔ ویسے میری نظر شیخ رشید کی طرف اُٹھ رہی ہے۔  وہ اس لیے کہ اناہزارے اور شیخ رشید میں ایک  بات مشترک پائی جاتی ہے  وہ یہ کہ  دونوں  نے ہی شادی جیسے بکھیڑوں میں پڑ کرعقل سے فارغ نہیں ہوئے ہیں ۔دونوں ہی کورے اور کنوارے ہیں ۔  شیخ صاحب کیلئے اناہزارے بننے کا یہ شاندار موقع ہے۔
 آپکا بُہت شُکریہ
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ڈی )۔  

Friday, August 19, 2011

جدید سائنسی تحقیق کا کہنا ہے دماغ روزہ نہیں رکھتا ہے ۔

فکرستان سےپیش ہےپوسٹ ٹیگز:/جدیدتحقیق/سحر/ دودھ جلیبی/افطار
_____________________________________________________________
زاویہ والے دانشور اشفاق احمد صاحب کہتے تھے کہ اُنہوں نے بُہت سی حکمت کی باتیں غیر مکتبی علم والے بڑے بوڑھوں سے سیکھی ہیں ۔ سائنس کی جدید تحقیق نے بھی کُچھ ایسی بات کہی ہے کہ مُجھے بھی اپنے بڑے بوڑھے یاد آگئے ۔ہمارے بڑے بزرگ کہتے تھے کہ سحر میں دودھ جلیبی کھانا چاہئیے لیکن وہ یہ نہیں جاتے تھے کہ اس میں کیا حکمت ہے ۔ بڑے بوڑھوں  کی باتیں جب سائنس پُروف کرتی ہے تو حیرت ہونے لگتی ہے ۔ جدیدسائنسی تحقیق   کہتی ہے کہ اگر دماغ کو اُسکی غِذا گلوکوز نہ ملے تو وہ اپنے ہی خلیے کھانے لگتا ہے ۔ اس لئے سحر میں دودھ جلیبی کھانے سے ممکن ہے اُسکو افطار تک غِذا ملتی رہے اور ممکن ہے اس طرح اسکو اپنے ہی خلیئے کھانے کی باری نہ آنے پائے۔ جو قاری اس تحقیق کی  زیادہ تفصیل چاہتے ہیں وہ ذیل لنک پر جائیں۔ آپکا بُہت شُکریہ ۔ 
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔ ۔ ( ایم ۔ ڈی )۔ 
       

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...