Friday, August 5, 2011

کراچی کے مکینوں کا بلڈ پریشر

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: شعلہ شبنم/اسم بامسمیّٰ /قائم علی شاہ/ رحمان ملک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
صوبہ سندھ اور خاص کر کراچی کے لوگوں کے بلڈ پریشر کا تعین ذوالفقار مرزا  اور الطاف حُسین اپنے بیانات کے زریعے طے کرتے ہیں ۔ جیسا کہ بلڈ پریشر کا قانون ہے کہ یہ ہمیشہ یکساں حالت میں نہیں رہتا ہے ۔بالکل اُسی طرح سے یہ حضرات اس بات کا مکمل خیال رکھتے ہیں کہ بیانات میں یکسانیت نہ آنے پائے کبھی شعلہ کبھی شبنم جیسے بیانات دیتے رہتے ہیں ، جس سے کراچی کے مکینوں کے بلڈ پریشر کبھی ہائی تو کبھی نارمل ہوتے رہتے ہیں۔  ہمارے وزیر اعلیٰ  جناب قائم علی شاہ صاحب ما شااللہ سے  مکمل اسم بامسمیّٰ ہیں وہ اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے ہمیشہ قائم پوزیشن میں رہتے ہیں ۔ کراچی میں کُچھ بھی ہوتا رہے ،وہ ہلتے جلتے نہیں اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں جس بنا رحمان ملک  صاحب آکر اُنکے کرنے کے کام کر جاتے ہیں ۔ یوں یہ وزارتِ اعلیٰ قائم دائم ہے ۔  
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم - ڈی )۔

یہ انسانی جذبات ہیں یا کہ سیاست ؟ ؟؟

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: سیاست / انسانی جذبہ/ شک / ذمہ دار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ہیلری کلنٹن نے بیان دیا ہے کہ شام کے صدر اسد دو ہزار افراد کے قتل کے ذمہ دار ہیں ،خاص طور پر ایک سالہ بچّہ کی ہلاکت پر اپنے رنج اور غُصّہ کا اظہار کیا ہے ۔ ہم ہیلری کے اس جذبہ کی قدر کرتے ہیں ، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِس انسانی جذبہ میں صداقت کی کتنی حرارت ہے؟
 اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صداقت کو سیاست نے ہائی جیک کیا ہُوا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انسانی جذبہ عراق میں کیوں نظر نہ آیا جہاں صرف شک کی بنیاد پر دو ہزار نہیں لاکھوں جانیں تلف  کی  گئیں  اور کئی معصوم بچّے بھی مارے گئے ، اسی طرح افغانستان اور پاکستان میں بھی مار ے جانے والے بے گُناہ انسانوں اور معصوم بچّوں کی روحیں سوال کرتی ہیں کہ تب یہ انسانی اور مامتا بھرا جذبہ کہاں تھا ؟؟؟  آپ کا کہنا ہے کہ اسد دو ہزار افراد کے قتل کے ذمہ دار ہیں تو پھر کیا آپ  عراق ، افغانستان اور پاکستان کے کتنے ہی بے گُناہ اور معصوم جانوں کے قتل کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟؟؟
تفصیل کیلئے لنک پر جائیں شُکریہ ۔(ایم ۔ ڈی )۔

Wednesday, July 27, 2011

٭ جاوید چوہدری کا انتہا پسندانہ ادھورا کالم ٭

 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: مغربی معاشرہ/عبادات / معاملات / توازن/اسلامی معاشرہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
جاوید چوہدری صاحب کا  کہنا ہے کہ اُنکا بس چلے تو وہ  یورپ ،امریکہ اور جاپان سمیت پوری ترقی یافتہ دُنیا کو اسلامی معا شرہ قرار دے دیں ۔۔۔ کیونکہ ان معاشروں نے صفائی سے لیکر ایمانداری تک کے وہ تمام  اصول اپنائے ہوئے ہیں جو کہ اسلامی ہیں ۔ لیکن جب ہم اسلامی معاشروں میں جھانکتے ہیں تو ہمیں اِن معاشروں میں  مسجدیں ،ذکر، اور اہل ایمان کی تقاریر تو بہت ملتی ہیں لیکن ان معاشروں میں  صفائی سے لیکر ایمانداری تک  میں اسلام کا کوئی اصول دکھائی نہیں دیتا اور چوھدری صاحب کا کہنا ہے کہ یورپ ، امریکہ یا مشرقی بعید کےترقی یافتہ ممالک کا دورہ کرکے دیکھ لیں وہاں پورا پورا اسلام ملے گا/ سوائے کلمہ کے۔ جبکہ ہمارے پاس کلمہ وافر مقدار میں موجود ہے/ لیکن ہمارے پاس اسلام نہیں ہے ۔
جاوید چوھدری صاحب کا مغربی معاشروں کے بارے میں یہ کہنا کہ کلمہ کے علاوہ   باقی سب کُچھ اسلامی ہے ۔ انتہا پسندانہ دلیل ہے مثلاً مسلم معاشرہ یکساں جنس کے درمیان شادی کی اجازت نہیں دیتا ہے اور نہ ہی بالغوں کی  بغیر نکاح ازدواجی تعلقات    قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے  وغیرہ وغیرہ اس لیے چوھدری صاحب کامغربیمعاشروں کو مکمل اسلامی قرار دینا انتہا پسندانہ بات  ہے۔۔۔
 اس کے علاوہ جاوید چوھدری صاحب  نے  اپنے کالم میں مسلمانوں میں پائی جانے والی بُرائیاں تو گنوا دیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ  مسلما نوں میں یہ بُرائیاں  کیونکر پیدا ہوئیں یوں اُنکا یہ کالم ادھورا کالم ہے ۔  میرے خیال میں اسلامی معا شروں  میں پائی جانے والے ان بُرائیوں  کی مکمل ذمہ داری علمائے کرام پر ہی عائد ہوتی ہے/ چونکہ اسلام کی ٹھیکیداری سوائے علماء  کےکسی اور کے پاس نہیں ہے مسلمانوں میں یہ بُرائیاں یوں  پیدا ہوئیں کہ علمائے کرام کو عبادات اور دُنیاوی معاملات (وسیع معنیٰ میں) میں جوتوازن برقرار رکھنا چاہئیے تھا وہ نہ رکھ سکے/ عُلمائے کرام نے اپنا سارا زور عبادات  پر رکھا اور معاملات کو پسِ پشت ڈالدیا / جسکا نتیجہ توازن بگڑ گیا مثلاً نماز کی پابندی پر تو بہت زور رہا لیکن قُرآن کی معاملات والی اس آیت کو نظر انداز کردیا گیا کہ نماز بُرائی کو روکتی ہے ۔ اسی طرح علمائے کرام نے  عبادت کے حوالے سے احادیث میں سے ایسی چھوٹی چھوٹی حدیثیں منتخب کرکے مسلمانوں کو دے  دیں  کہ یہ اتنی بار پڑھو اتنے گُناہ معاف   ہو جائیں گے اس سے مسلمان معاشروں میں یہ ہُوا کہ صحیح معاملات کی  عملی ادائیگی کی بجائے اُنکے ہاتھوں میں تسبیح اور کاؤنٹر آگئے ۔اس طرح عبادات اور معاملات کے درمیان توازن بگڑ گیا ۔( توازن کائنات کا ذرہ ذرہ جسکا مظہر ہے ) توازن بگڑ جائے تو اوزون میں سوراخ ہوجاتا ہے ،گلیشئیر پگھل جاتے ہیں ، گھر اُجڑ جاتے ہیں جبکہ مذاہب عبادات فرقہ واریت اور عدم برداشت تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں ۔۔۔
    یہ ایک حقیقت ہے کہ علمائے کرام کی مہر بانی سے پوری دُنیا میں مسلمانوں  سے زیادہ عبادت گُذار کوئی نہیں ہے،ماشا اللہ عبادات پر بہٹ زور ہے/ لیکن یہ بھی اپنی جگہ ایک ایسی ہی حقیقت ہے کہ ان ہی علمائے کرام کی مہربانی سے معاملات( وسیع معنیٰ میں ) میں مسلمان ٹھیک اتنے ہی بُرے ہیں جتنے کہ  جاوید چوھدری نے اپنے کالم" کلمہ ہے لیکن اسلام نہیں " میں دکھایا ہے ۔۔۔
مکمل کالم ذیل لنک پر  ہے۔( تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ) ۔
۔ ( ایم ۔ ڈی )۔


Wednesday, July 20, 2011

٭ بیویوں کا شوہروں پر تشدد کرنا ٭

 
   فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: بہشتی زیور /شوہر بیچارے/ چچا غالب / ماموں سُقراط
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 مُجھے جس خبر نے چونکا دیا وہ ہے مسلمان بیویوں کا شوہروں پر تشدد کرنا  وہ بھی  عرب اسلامی ملک  کےصرف ایک شہر میں/ مہینہ بھر میں اوسطاً  145 بیویاں اپنے شوہروں پر تشدد کرتی ہیں ۔۔۔ اور خبر یہ  بھی کہ اس تناسب میں  اضافہ ہورہا ہے۔۔۔  اس بات میں شک کرنے کی کوئی گُنجاش نہیں ہے کہ ہر شریف آدمی اپنی بیوی سے ڈرتا ہے۔۔۔ میرا تو یہاں تک کہنا ہے کہ بدماش  قسم کےآدمیوں کی بھی ایک بڑی تعداد اپنی بیویوں سے ڈرتی ہو گی۔۔۔لیکن بیویوں کا تشدد پر اُتر آنا یہ تو بڑی خطر ناک صورت حال پیدا ہورہی، اللہ رحم کرے۔۔۔
 میرا خیال ہے کہ بیویوں نے بہشتی زیور پڑھنا چھوڑ دیا ہے ۔۔ورنہ ایسی صورت حال نہ  پیدا ہوتی ۔۔۔ بہشتی زیور پڑھی ہوئی بیوی تو روٹی پکاتے میں شوہر کی آواز پر شوہر کی ضرورت پوری کرنے حاضر ہوجاتی تھی ۔۔۔ میرے خیال  میں یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں جو بیویاں شو ہروں کو مار رہی ہیں ۔ ۔۔اور شوہر بیچارے  مار کھا رہے ہیں ۔ یہ بھی اچھا ہُوا کہ چچا غالب اور ماموں سُقراط یہ دن دیکھنے سے پہلے ہی اُٹھ گئے ورنہ اُنکی تو/ خُوب کُٹائی ہوتی ۔۔ شُکریہ۔ (اس خبر کی تفصیل ذیل لنک پر ہے۔ سعودی عرب والے ضرور پڑھیں )۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ ڈی )

Tuesday, July 19, 2011

کیا دلوں کو جوڑ نے والی / ہم سے جُدا ہو رہی ہے ؟؟؟

 ﷽ 
  فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز : دوستیاں/ کاروبار/love افئیر/رشتے/ثقافت/ بھیانک خبر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میں سمجھتا ہوں کہ میری طرح کئی ایسے لوگ ہونگے کہ جن کی ٹرین کے سفر سے جذباتی وابسگی ہوگی ۔۔ میرے نزدیک ٹرین کا سفر انتہائی دلچسپ اور پُر لطف سفر ہے ۔۔لوگوں کو ٹرین میں تاش کھیلنے میں بڑا لطف آتا ہے ۔۔ اس سفر کے دوران کئی لوگوں کی پائیدار دوستیاں قائم ہوجاتی ہیں ،  کئی لوگوں نے دو شہروں کے درمیان اپنے کاروبار سیٹ کئے ہیں ۔۔سفر کے دوران کئی love افئیر بھی  چل جاتے ہیں ، جبکہ کئی بزرگوں نے اپنے بچّوں کے رشتے بھی طے کئے ہیں ، ۔ غرض کہ ٹرین کے سفر نے بے شمار دلوں کو جوڑا ہے ۔۔ اسکے علاوہ  ۔جب یہ دیہاتوں کے درمیان سبک رفتاری سے گُزرتے ہوئے اپنے جھکولوں اورآواز سے جو ردِم بناتی ہے وہ کسی نشہ سے کم نہیں ہوتا  ۔۔۔کئی لوگوں کے لیے یہ ردِم ماں کی لوری کی طرح ہوتا ہے ۔ اور وہ ماں کی آغوش کی طرح ٹرین کی آغوش میں نہایت پر سکون بے فکری کی نیند سوجاتے ہیں ۔۔
 یہ پاکستان کی مختلف ثقافتوں کی جھلک دکھاتی ہے۔ ۔ حیدرآباد پہنچنے پر ربڑی اور چوڑیاں فروخت کرنے والے آجاتے ہیں ۔ آپکو اسٹیشن کا نام نہ بھی معلوم ہو کھویا فروشوں کی آواز بتا دیگی کہ گاڑی خانپور اسٹیشن پر کھڑی ہے ۔ ملتان پہنچنے پر ملتانی حلوہ کی آواز آجاتی ہے ۔ غرض کہ یہ جہاں جہاں سے گُزرتی ہے وہاں کی ثقافتی جھلک دکھاتی جاتی ہے ۔ کیا یہ ساری باتیں اب خواب ہوجائیں گی ؟؟؟ یہ احساسات درج ذیل لنک کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ وزیر ریلوے اپنے ادارہ کے بارے میں اتنی بھیانک خبر سُناکر بمع فیملی امریکہ چلے گئے ہیں ۔ مکمل تفصیل  لنک پر  موجود ہے ۔۔۔  شکریہ ۔۔۔۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ ڈی )

Monday, July 18, 2011

انسانی سوچیں /شمالی سوچ/ جنوبی سوچ/ قہقہہ سوچ

  
فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز : نیپا چورنگی/ کے ای ایس سی / غریب / قہقہہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 رات کےتقریباً 9 بجے تھے ۔ہماری بس نیپا  چورنگی پُل سے گُزر رہی تھی۔ پُل سے ملحق کچّی  بستی آباد ہے ۔جس میں حال ہی میں ریڈش مرکری اسٹریٹ لائٹ لگی ہیں جس  سے بستی جگ مگ کرنے لگی ہے۔ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے مجھ سے ذرا غصّہ بھرے تیز لہجہ میں کہا ۔۔۔ دیکھو یہ بستی والے کُنڈا لائٹ ( غیر قانونی لائٹ) استعمال کرتے ہیں  کے ای ایس سی والے اندھے ہیں کیا اُنہیں نظر نہیں آرہا ہے کہ ساری بستی غیر قانونی لائٹ استعمال کر رہی ہے یہاں تک کہ ایسی بستیوں میں گیس بھی نہیں ہوتی اس لیے کھانا پکانے کا کام بھی  یہ ہِٹر پر کرتے ہیں ۔ بجائے انکی بجلی کاٹنے اور  چوری کو روکنے کے ہم   بل دینے والوں کے ہی ریٹ بڑھائے جارہے ہیں ۔میں جواب دینے ہی والا تھا کہ اُن صاحب کے ساتھ بیٹھے ہو ئے صاحب  نےمسکراتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔ ارے بھئی  آپ یہ کیوں نہیں سوچتے  کہ   ان بیچارے غریبوں کا بھی تو حق ہے کہ یہ بجلی استعمال کریں ، یہ بھی کام دھندوں سے تھک  کرآئیں تو ٹی وی دیکھیں یا یہ صرف پیسہ والوں کا ہی حق ہے ۔ اُن صاحب کا لہجہ اتنا پُر اثر تھا کہ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے صاحب  کو ایسی چُپ سی لگ گئی  کہ جیسے ایکدم بولنا بھول گئے ہوں ۔اور اُنکے سپاٹ ہوتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مُجھے ہنسی آنے لگی لیکن میں نے اپنی ہنسی کو ضبط کیا اور اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا مبادا اتنا سپاٹ چہرہ دیکھ کر ضبط شُدہ ہنسی قہقہہ میں نہ تبدیل ہوجائے ۔۔شُکریہ۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔ ( ایم ۔ ڈی )

Saturday, July 16, 2011

٭ وزیر داخلہ سندھ منظور وساں ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ﷽
فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز : کشف / جماعت اسلامی / ایم کیو ایم / ریٹنگ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 کراچی روزانہ ڈھائی ارب روپئے ریونیو کماکے دینے والا شہر  ہے ۔۔ اس  پونے دو کروڑ آبادی والے شہر میں لوگ بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔۔ سابقہ وزیر داخلہ اتنے اہل اور صاحب کشف تھے کراچی کو لگی ہر بیماری کا علاج موٹر سائیکل ڈبل سواری پابندی کو سمجھتے تھے  ۔۔ ڈبل سواری پابندی کے خلاف سب سے زیادہ آواز جماعت اسلامی نے اُٹھائی/ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب سابقہ وزیر داخلہ کو ہٹا دیا گیا تو امیر جماعت اسلامی نے اُنہیں واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا ۔۔ یہ تو امیر جماعت اسلامی ہی جانتے ہیں کہ اُن میں ایسی کونسی خوبی دیکھی ہے ؟۔۔ منظور وساں آتے ہی ڈبل سواری پابندی ختم کردی یقیناً   مڈل لوئیر طبقہ کے لیےانکا یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ ۔  اسی کوتو کہتے ہیں عوام کے مسائل کو محسوس کرکے حل کرنا۔۔ اس  سے پارٹی ریٹنگ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جس طرح ایم کیو ایم کے میئر نے کراچی میں رکارڈ کام کراکے پارٹی ریٹنگ میں اچھا خاصا اضافہ کیا تھا ۔ جس میں موجودہ احتجاجی طریقہ سے کمی واقع ہوئی ہے ۔ اس پوسٹ  کا بنیادی مقصد منظور وساں کے مثبت فیصلہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔ ۔۔شُکریہ ۔
نوٹ :  پبلشنگ سسٹم صحیح ہوگیا ہے/ لیکن تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔
( ایم ۔ ڈی )  

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...