Friday, April 1, 2011

تسبیحیں اور کاؤنٹرز ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فکرستان سے پوسٹ ٹیگز: نان مسلم دُنیا/قُرآن/دُعا/علت ومعلول/اچُھوت/نئی نسل/عُلما
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کرکٹ میچ نےقوم میں موجود سارے تعصبات، ساری فرقہ بندیاں ، ایک دن کے لیے ختم کردیے ،یہاں تک کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گُذارنے والے کروڑوں لوگوں نے بھی ایک دن کے لیے اپنے دُکھوں کو بُھلادیا غرض کہ پوری قوم نے ایک دن کے لیے اپنے سارے مسائل سے فراریت حاصل کی ۔  سب کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ "پا کستان جیت جائے"  نہ صرف نماز میں جیت کے لیے دُعائیں مانگیں گئیں بلکہ جیت کے لیے خصوصی دُعاؤں کا اہتمام بھی کیا گیا یہاں تک کہ ٹی وی چینلز نے بھی دُعاؤں کے اسپشلسٹوں کو بُلاکر پوری قوم سے اجتماعی دُعائیں کرائیں ۔  بعض چینلز ایسے الفاظ بھی مُہیا  کر رہے تھے کہ جس کے ورد  سے ٹیم فتح سے ہمکنار ہوگی۔قوم نے تسبیحیں ، کاؤنٹرز سنبھال لیے ۔
عُلما نے مسلمان قوم کودُعاؤں کےسحر میں مبتلا کرکے ناکارہ بنادیا ہے ۔نان مسلم دُنیا  قُرانی آیات  پر عمل کرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنا لوجی  کے ماہر پیدا کر رہی ہے اِدھر ہم عُلما کی مہربانی سے دُعاؤں اور نعتوں کے اسپشلسٹ پیدا کررہے ہیں اور اِسکول پر اِسکول تباہ کر رہے ہیں۔
 ہر جگہ نان مسلم مسلمانوں کو مار رہے ہیں عراق میں  مسلمانوں کو مارا ہے  ،افغانستان میں مسلمانوں کو مار رہے ہیں، پاکستان میں مُسلمانوں کو مار رہے ہیں، فلسطین میں مسلمانوں کو مار رہے ہیں، کشمیر میں مسلمانوں کو مار رہے ہیں ۔ لیبیا میں مسلمانوں کو مار رہے ہیں ۔ بحرین میں بالواسطہ مسلمانوں کو مار رہے ہیں ۔  اور ہم پر دہشت گرد کا لیبل بھی چپکا دیا گیا ہے۔آج دُنیا کی قومیں ہم سے اچُھوتوں جیسا سلوک کر رہی ہیں ،علما نہیں جانتے کہ اقلیت میں موجود ممالک میں مسلمانوں کی  نئی نسل کس عذاب سے گُذر رہی ہے ۔ ائیرپورٹوں پر ہماری ہماری خصوصی تلاشی ہوتی ہے، اسطرح ہم پوری دُنیا میں اتنے ذلیل خُوار ہو گئے ہیں  کہ  رُونے کو جی چاہتا ہے۔
 ہم اس حال میں عُلما کے طُفیل پہُنچے ہیں اِنہوں نےہماری ذہنی صلاحیت کو دوسری جانب فوکس کردیاہے یعنی داڑھی اتنی بڑی ، اتنی چھوٹی رکھنا ہے،  پانی ایسے پینا ہے، غُسل ایسے کرنا ہے ،وضو ایسے کرنا ہے  ۔ باہر سے آؤ تو گھر میں پہلے کونسا پاؤں داخل کرنا ہے ، ان باریکیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ اُمّت نیرو مائنڈ بن گئی اسکے علاوہ یہ اتنی بار پڑھو ٹیم جیت جائے گی،یہ اتنی بار پڑھو نوکری مل جائے گی ،۔یہ اتنی بار پڑھو امتحان میں کامیابی مل جائے گی۔ کاروبار نہ چل رہا ہوتو یہ ورد  گھر میں ختم کراؤ   کاروبار چل پڑے گا۔غرض کہ اِس درس نے امّت  کی ذہنی صلاحیت  کو  کافی نقصان پہنچا یا۔ کاش اِن چکروں میں پڑنے کے بجائے اصل کتاب قُرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتے ۔
 قُران کے مُطابق اللہ نے تمام کائنات میں علت و معلول کا قانون رکھ دیا ہے قُرآن کا دعویٰ ہے کہ پوری کائنات میں گھوم پھر کے کے دیکھ لو اس قانون میں کہیں فرق نہ پاؤ گے تسبیحوں اور کاؤنٹر کے زریعے قانون قُدرت نہیں بدلے جاسکتے ہیں۔ 
 آپﷺ نے اِسلام کو پھیلانے میں کیسی کیسی تکلیفیں اُٹھائیں ہیں یہ سب جانتے ہیں ، آپ ﷺ چاہتے تو دُعاؤں کے زریعے سب کے قُلوب تبدیل ہوجاتے ، مگر آپﷺ نے اُمّت کو بتانا تھا کہ مقصد کو حاصل کرنے  کاقانون یہ ہے کہ ایسی جدوجہد کرو جیسی  میں کررہا ہوں آج بھی آپ ﷺ کی اِس یکسو محنت اور جدوجہد کو نان مسلم بھی  مانتے  ہیں۔لیکن ہمارے عُلما نے اُمّت  کو سُنتِ محمؐدی کی محنت و جدوجہد کا درس دینے کے بجائے امّت  کے ہاتھ میں تسبیحیں اور کاؤنٹرز دے دیئے ۔کہ یہ اتنی بار پڑھو اتنے گُناہ معاف، یہ اتنی بار پڑھو اتنا ثواب ۔ اس مسئلہ کیلئے یہ اتنی بار پڑھو مسئلہ حل ہوجائے گا، یہ ورد کرو ٹیم جیت جائے گی غرض کہ ہر مسئلہ کیلئے کوئی نہ کوئی ورد یا دُعا موجود ہے۔
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نوٹ: میں دُعاؤں کا مُخالف نہیں  ہوں میں اُن تصورات کا مُخالف ہوں جو کہ عُلما ئے کرام نے دُعاؤں کے ساتھ وابستہ کردیے ہیں۔ جس سے مسلم اُمّہ نیرو مائنڈ ہوگئی ہے۔ اس پوسٹ میں یہی بات کہنے کی کوشش  کی ہے ۔ چونکہ آج بھی ایسی کھیپ کی کھیپ تیار ہورہی ہے کہ جو مسجدوں میں آکر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی مذہب کے نام پر اپنا چشمہ چڑھا رہی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خلوص کا طالب( ایم ۔ ڈی) ۔

Saturday, March 26, 2011

اس لڑکی کا مستقبل ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

فکرستان سے پوسٹ ٹیگز:- /راشن/اسلحہ/آخری پُونجی/مستقبل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ تو غریب تھے لیکن سیلاب نے تو اُس غریبی میں سے بھی اپنا حصّہ مانگ لیا تو وہ بالکل ہی قلاش ہوگئے اب اُنکے پاس  کچھ بھی باقی نہیں بچا تھا  ۔ایسے میں کُچھ خواتین اُنکے پاس آئیں اور کہا کہ سیلاب زدگان کیلئے امداد تقسیم کی جارہی ہے ۔چلو ہمارے ساتھ اپنے حصّہ کا راشن لے لو چونکہ وہ خواتین تھیں اسلئے اُنہوں نے اُن پر اعتماد کیا اور اپنی 19 سالہ بیٹی کو راشن لینے کیلئے اُنکے ساتھ کردیا اِن خواتین نے لڑکی کو لے جا کردو مردوں کے حوالے کردیا اِن مردوں نے اسلحہ کے زور پر اِن لُٹے پِٹے لوگوں  کی آخری پُونجی کو بھی لُوٹ لیا  ۔( لڑکی سے  کہا یہ ہم نے تمہارے والد کو سزا دی ہے)۔ یہ کیسی سزا ؟؟؟ مخاصمت باپ سے ہو سزا بیٹی کو دی جائے! !سوال تو یہ بھی ہے کہ خود خواتین ہوتے ہوئے بھی ایک لڑکی کو مردوں کے حوالے کرتے ہوئے اُنکی روح کیوں نہیں کانپی ، اُنکے ضمیر نے کچوکے کیوں نہیں مارے ؟ ؟ ؟    اب اس لڑکی کا مستقبل  ؟ ؟ ؟ 
 اِس حقیقی واقعہ کی مزید تفصیل درج ذیل لنک پر ۔
خلوص کا طالب۔( ایم ۔ ڈی )۔ 

Friday, March 25, 2011

ٹیم کی کامیابی میں اہم رول ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: کرکٹ/فارمولا/وقفہ وقفہ/ٹی۔وی/حد
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پاکستان کو کرکٹ کے اِس مُقام تک پہُنچانے میں ایک گھرانے نے بُہت اہم رول ادا کیا ہے ۔پاکستان کے پہلے میچ سے ہی اِس گھرانے نے کامیابی کا ایک فارمولا اپنایا ہُوا ہے ۔پاکستان کے پہلے میچ میں جب پاکستانی کھلاڑی آؤٹ ہورہے تھے تو خاتون نے کہا:- ہم دیکھ رہے ہیں اسلئے یہ آؤٹ ہورہے ہیں  کُچھ دیر کیلئے ٹی وی بند کردیں پاکستانیوں  کاآؤٹ ہونا رکُ جائے گا ۔ محترم صاحب کے دل میں بھی کُچھ ایساہی بات تھی اسلئے اُنھوں نے فوراً ٹی وی بند کردیا اور فارمولا یہ بنایا کہ وقفہ وقفہ سے میچ دیکھا جائے اور وقفہ کے بعد ٹی وی کھولنے اور رزلٹ دیکھنے سے پہلے دل کی دھڑکن کو قابو رکھنے کیلئے کوئی آیت پڑھی جائے۔
 ماشااللہ سے اُنکا یہ فارمولا ابھی تک تو بڑا ہی کار گر ثابت ہُوا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اُنکے اس  فارمولے کی حد کہاں تک کی ہے ۔ ہماری تو یہ دُعا ہے کہ اِس گھرانے کے فارمولے کی حد فائنل کِراس کرجائے ۔آمین ۔
 ویسے میرے دماغ میں یہ سوچ گردش کررہی ہے کہ کیا یہ واحد گھرانہ ہے جو اِس طرح کی سوچ کا حامل ہے یاکہ دُنیا کے تقریباً لوگوں کی سوچ اسی طرح کی سی ہے ۔ آپ دیکھیں یہ وڈیو اور مُجھے دیں اجازت ۔
آپکے خلوص کا طالب ۔(ایم ۔ڈی ۔)

Thursday, March 24, 2011

انسانی سوچ کا تضّاد ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز:  بفیلو/ 9/11/ مذاہب /بریجز / روح/25سال  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
راحیل اور ارم کے خیالات میں ہم آہنگی تھی اسلئے دونوں میں دوستی تھی اُنہوں نے سوچا اس خیالاتی دوستی کو مزید استحکام پہنچانے کیلئے جسمانی دوستی کرائی جائے والدین کی مُخالفت کے باوجود  اُنہوں نے کورٹ میں جاکر شادی رچالی لیکن کچھ ہی عرصہ بعد یہ جسمانی دوستی روحوں کی د شمن بن گئی  جو ایک دوسرے کو اپنی زندگی کہتے نہیں تھکتے تھے ایک دوسرے کی صورت سے نفرت کرنے لگے آخر کار گھریلو معمولی جھگڑے نے ارم کی جان لے لی راحیل نے ارم کا گلا دبادیا خود تھانے پُہنچ کر گرفتاری دے دی اقبالِ جرم کرلیا ۔ جج نے عُمر قید کی سزا سُنادی ۔ انسانی سوچ کا یہ کیسا تضّاد ہے کہ جانیں جاناں ہی جاں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ اِس طرح کے کئی حقیقی واقعوں میں سے یہ ایک فرضی واقعہ ہے ۔ انسانی سوچ کے تضّاد کا حقیقی واقعہ درج ذیل ہے۔
  انسانی سوچ کے تضّاد کا یہ واقعہ ریاست نیو یارک کےشہر بفیلو میں پیش آیا یہ خوشحال لوگوں کا شہر ہے۔ یہاں پر ایک ایسا  پاکستانی نژاد جوڑا جن کے دو بچّے بھی تھے قیام پزیر تھا کہ جو 9/11 کے واقعہ کے بعد مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بڑھی ہوئی تلخی پر دُکھی تھا اور اس تلخی کو کم کرانے کا عزم رکھتا تھا مسلم اور عیسائی کمیونٹی کے درمیان پُل باندھنا چاہتا تھا ،دونوں مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتا تھا اس مقصد کو حاصل کرنے  کیلئے جوڑے نے  Bridges.T.V کے نام سے اپنا چینل قائم کیا مزمل چیف ایگزیکٹیو اور بیوی آسیہ مینیجر کے طور پر اِس چینل کو چَلارہے تھے لیکن  میاں بیوی تنازعات نے ایسا رُخ اختیار کیا کہ بیوی نے طلاق لینا چاہا جبکہ مزمل نے تو آسیہ کے جسم سے اُسکی روح کو نکال باہر کیا ۔ اورخود ہی پولیس کو گرفتاری دےدی  موقف اپنایا کہ اگر میں آسیہ کوہلاک نہ کرتا تو وہ مُجھے مار دیتی ۔ مزمل کا آسیہ کے سر کو تن سے جُدا کرنا شدید نفرت  کو ظاہر کرتا ہے ۔
مزمل حسن نے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کیا تھا    مزمل اور آسیہ  مذاہب میں ہم آہنگی کے خواہاں تھے
مزمل اور آسیہ مذاہب میں ہم آہنگی کے خواہاں تھے

عدالت نے مزمل کو 25 سال قید کی سزا سُنائی ہے ۔ انسانی سوچ کا یہ تضّاد سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ جنہوں نے ۔ 9/11 کے واقعہ کے بعد امریکی  مسلمانوں اور غیر مسلم کے درمیان خلیج کو کم کرانے اور ہم آہنگی پیدا کرانے کیلئے Bridges جیسا ٹی۔وی اسٹیشن قائم کرنے والے جوڑے نے اپنی گھریلو زندگی کا پُل کیوں توڑ دیا۔ دوسروں میں سمجھوتہ کرانے والوں نے اپنی زندگی میں سمجھوتہ کو کیوںشامل نہیں کیا ؟  ۔ انسانی سوچ کا یہ  کیسا تضّاد ہے ؟
 ۔  معاون سائٹ۔  
  
ذیل کی وڈیو میں بھی انسانی سوچ کا تضّاد سُنایا جا رہا ہے ۔ 
  *آپ کے خلوص کا طالب * ( ایم ۔ ڈی )۔

Monday, March 21, 2011

حمد ٭ حمد ٭ حمد ٭ بیانُ الحمد ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز :/اسقاطی قتل/سرمایادارانہ نظام/ مذاہب/جنّت/ حمدیہ ڈوئٹ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خالق کی حکمت ذرہ سے لیکر پوری کائنات میں نظر آتی ہے ۔ ذراسا بھی فرق کائنات کو بِکھرانے  کیلئے کافی ہے۔ لیکن انسانی ذہن کو بھی یہ خاصیت عطا کی گئی ہے کہ وہ اس کائنات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا رہے۔ایسی ہی چھیڑ چھاڑ الٹرا ساؤنڈ کے زریعے  وجود میں آئی ہے۔ابھی پچھلے دنوں سماجی کار کن اور اداکارہ محترمہ شبانہ اعظمی نے اپنے  ایک انٹرویو میں فرمایا ہے کہ ۔بھارت میں ایک بُہت بڑی تعداد میں  لڑکیوں کا اسقاطی قتل ہورہا ہے ۔ جسکی وجہ سے ابھی سے یہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ لڑکوں کو رشتے نہیں مل رہے ہیں ۔خاص کر انڈین پنجاب کے علاقوں میں۔
اسی طرح کا حال میں نے چین کے بارے میں بھی پڑا تھا ۔بچّہ ایک ہو تو پھر لڑکا ہی ہو۔  اسقاطی قتل کا یہ رُحجان دُنیا بھر کے لوگوں میں بھی تیزی سے فروغ پارہاہے ۔  میرے خیال میں اسکی دو بڑی وجوہات ہیں پہلی بے لگام سرمایا دارانہ نظام دوسری مذاہب کی گرفت کا ڈھیلا پڑنا ۔ حالانکہ پاکستان میں ہمیں مذہب کی گرفت نظر آتی ہے اسکے باوجود یہ سوچ پاکستان میں بھی پھیل رہی ہے یقیناً اسکی بڑی وجہ غربت ہے۔
  خالق نے آدم اور حوّا کو جنّت سے نکال نے کے بعد کائنات کی ہر چیز میں موجود کلکولیشن کی طرح مرد و زن میں بھی پیدائشی  کلکولیشن رکھی ہوئی ہے۔یہ پیدائشی کلکو  لیشن  پوری دُنیا میں برابری کے حساب سے اسطرح پر ٹھیک ٹھیک چل رہی ہے کہ خالق کی گواہی دے رہی ہے 50٪/50٪ میں کچھ فرق پڑھ رہا ہے تو یہ بھی انسان نے جنگیں لڑ کر پیدا کرلیا ہے ورنہ خُدائی کلکولیشن تو اپنی جگہ پر اٹل ہے۔
  خالق نے اپنی روح میں سے انسان میں جو کچھ پُھونکا ہے ۔اُس سے انسان نے الٹرا ساؤنڈ کو بناکر خالق کی خُدائی میں مداخلت کر رہا ہے ۔ دُنیا میں لڑکیوں کا اسقاطی قتل کا رحجان بُہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔یہ رحجان تو لڑکوں کیلئے کسی سونامی سے کم نہیں۔اور اگر ہم خُدائی کلکو لیشن  کو اسی طرح خراب کرتے رہے تو اسکی پنیشمنٹ کا تصّور کریں کہ کیا ہوگا ؟ ذیل کی حمدیہ ڈوئٹ میں کُچھ ایسی ہی باتیں ہورہی ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وڈیو کے حمدیہ بول ڈوئٹ انداز میں ملاحظہ فرمائیں ٭ کچھ دیر کیلئے خُدا کے قریب ہوجائیں ٭ مجھے دیں اجازت۔                              آپکے خلوص کا طالب۔( ایم ۔ ڈی )۔
           

Saturday, March 5, 2011

شاہد آفریدی کا اسٹائل ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

                                                            
منجانب فکرستان پیش ہے ۔ شاہد آفریدی کے اسٹائل کے بارے میں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کینیڈا کے کپتان نے کہاہے کہ صرف ایک کھلاڑی شاہدآفریدی ہماری ٹیم کیلئے بھاری پڑگیا۔شاہد آفریدی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
کھیل میں اُنکا جوش وجذبہ دیکھنے کے لائق ہوتاہے  ۔اُنہیں یہ ہوش ہی نہیں رہتا ہے کہ گراؤنڈ میں وہ کتنا چلتے پھرتے ہیں ۔مسلسل آگے پیچھے دائیں بائیں  گھومتے  رہتے ہیں ۔اگر کوئی سروے کرے تو میرے خیال میں شاہد آفریدی  کا نام گینیز بک  میں آسکتا ہے ۔یہ وُہ کھلاڑی ہے ۔جو گراؤنڈ میں ایک پل کیلئے بھی نِچلا نہیں بیٹھتا ہے مسلسل چلتھ پھرتھ کرتا رہتا ہے ۔اور جب وُہ کسی کھلاڑی کو آؤٹ کر کےاپنے ہپنا ٹائیزڈ اسٹائل پر کھَڑے ہوجاتے ہیں تو اُسکے چاہنے والوں کے جسم کے اندر سےایسی خوشی اور مُسرّت  پھوٹ پڑتی ہےکہ بیان سے باہر ہے ۔اُسکے اِ س سٹائل پر اپنی عُمر کی  مناسبت سے کوئی مُسکراتا ہے توکوئی خوشی سے بے اختیار قہقہے لگاتا ہے ، کسی کی زبان  بوم بوم آفریدی پُکارنے لگتی ہے  تو کوئی بیخودی میں اپنی سیٹ سے اُٹھ کر رقص کرنے لگتا ہے  ۔  میں نے ہپنا ٹائیزڈ اسٹا ئل اسلیئے لکھا ہے کہ شاہدآفریدی نے جتنی باربھی آؤٹ کرنے پر یہ اسٹائل بنایا وہ ایک جیسا ہے  آپکواِس میں کہیں فرق نہیں ملے گا ۔ جیسے وہ پتھر کا مجسمہ ہو ۔ایسا محسوس ہوتا ہے ۔شاہد آفریدی جب کسی کھلاڑی کو آؤٹ کرتا ہے تو شاہد آفریدی میں سے وہ اسٹائلش مُجسمہ نِکل کر کُچھ دیر کیلئے آفریدی کی جگہ آ کَھڑا ہوتا ہے اورکُچھ سیکنڈوں کیلئے آفریدی وہاں سے غائب ہوجاتا ہے۔جب کوئی کھلاڑی اُسے مُبارک باد دیتے ہوئے اُس سے لپٹ جاتا ہے تو پھر وہ مجسمہ غائب ہوجاتا ہے اور شاہد آفریدی حاضر ہوجا تا ہے ۔ آفریدی کے اس اسٹائل کو سری لنکن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکے حالانکہ یہ رویہ قومی جذبہ کے خلاف ہے ۔ لیکن شاہد آفریدی کا اسٹائل اُس جزبہ پر حاوی ہوگیا ۔
اسی طرح سے جب آفریدی کی بے چین روح وجد میں آکے چوکے چھکے لگانے پر اُتر آتی ہے تو اُسکےچوکے چھکے شائقین کے پورے جسم میں خوشی اور مُسّرت کی  لہر دوڑا  دیتے ہیں۔یہ لہر جسم میں موجود ہرسیل کو خوشی اور مُسّرت سے اتنا لبریز کردیتے ہیں کہ فرد خوشی سے ناچنے لگتا ہے ،چیخنے لگتا ہے ،بُوم بُوم آفریدی  کرنے لگتا ہے۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سابقہ پوسٹ کا رزلٹ:-( ناممکن۔ 50٪)۔(ممکن۔0٪)۔( شاید۔50٪)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پول کیلئے سوال
دیکھا  گیا ہے کہ کھیل بھی ایک طرح کی وجدانی  سی کیفیت لئے ہوئے  ہوتے ہیں ۔ کیا آپ میری اِس رائے سے متفق ہیں ؟ 
نوٹ:- قارئین کرام دوستوں سے  گُذارش ہے کہ پول  کِلک کریں۔آپکا شُکریہ ۔
                                               ۔(خلوص کا طالب ایم ۔ڈی)۔

Wednesday, March 2, 2011

ریمنڈ کی حالاتِ زنگی پر ایک نظر۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


                                                              
         منجانب فکرستان ۔۔۔ پیش ہے۔۔۔ ریمنڈکی حالاتِ زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ریمنڈ کی حالاتِ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں کہ وہ اس مُقام تک کیسے پہنچے ۔ ریمنڈ کے  بیمار والد 55 سال کی عمر میں انتقال کرگئے نتیجہ میں ریمنڈ کو بھی ذیا بیطس ٹائپ 2 ہوگئی تھی لیکن علاج کے زریعے اُسنے اس بیماری سے نجات حاصل کرلی ۔ 
 ریمنڈ 12 فروری 1948 نیویارک کے علاقے کوئنز میں پیدا ہوئے ۔ادارہ ایم آئی ٹی سےکمپیوٹرسائنس اور ادب میں گریجویشن کیا ۔وہ نظریہ لامتناہیت کے پُر جوش  حامی ہیں  ،یہ 15 جنوری 1965کی بات ہے۔کہ ریمنڈ نے ایک کوئیز گیم شو  "I,have gota secret"میں حصّہ لیا تھا۔جس میں اُسنے پیانو پر ایک انوکھی دُھن بجائی  تھی جسے مہمانوں نےبُوجھنا تھا۔ مہمانوں نے بوجھ لیا کہ یہ دُھن کمپیوٹر سے کمپوز شُدہ ہے۔ یہ کمپیوٹر ریمنڈ نے خود بنایا تھا ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  کمپیوٹر سے اُسکا عشق روز بہ روز  بڑھتاہی چلا گیا ۔ وہ اب کمپیوٹر کی روز افزوں بڑھتی ہوئی  طاقت اور ذہن انسانی کا موازنہ کرنے لگا ۔   nasa نے تین سال قبل  سینگولیریٹی یونیورسٹی قائم کی (جس کے بانی اسپانسروں میں گوگل شامل ہے)  ریمنڈ نے سان فرانسسکو میں بھی سنگولیرٹی (درجہ لا متناہیت)  انسٹیٹیوٹ فار آرٹیفیشل
 انٹیلجنس قائم کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی اس طرح کےادارہ بنائے ہیں جہاں سنگولیریٹی سے متعلق تعلیم دی جا تی ہے۔ ایسے سائنسداں ، دانشور و دیگر جو سنگولیریٹی پر یقین رکھتے ہیں singularian کہلاتے ہیں ۔
ریمنڈ مستقبل کا دریچہ اسطرح سے کھُولتے  ہیں وہ کہتے ہیں ۔ حال ہی میں امریکہ میں  سُپر کمپیوٹر  "واٹسن" نے   کوئز  پروگرام "جیو پر ڈی" میں دو انسانوں کو شکست دےدی ہے جبکہ واٹسن کی کی میموری 1ٹیرا بائٹ ہے اور انسان کی 1اعشاریہ25 گویا واٹسن انسانی دماغ کا 80 ٪  ہے پھر بھی اُسنےانسان کو شکست دےدی۔ اُنکا کہنا ہے کہ 2020 تک انسان مصنوعی ذہن بنالے گا جو 2025 تک  ترقی کرکے انسانی ذہنی سطح تک پُہنچ جائے گا اور 2045 تک یہ ذہن درجہ لامتناہیت کو پالے گا جو انسانی ذہانت سے ایک ارب گُنا زیادہ ہوگی ۔ تب تک نینوٹیکنالوجی  بھی اتنی ترقی کرجائے گی کہ بُڑھاپے ودیگر پیچیدہ بیماریوں کو ختم کردے گی اسطرح انسان ہمیشہ جوان رہے گا   اوروہ لافانی ہوجائے گا اور  اگر چاہے تو اپنے شعور کو اسکین کراکے کمپیوٹر کے ذہن میں منتقل کرالے یا پھر اپنے شعور کو اِسکین کراکے سافٹ ویئرکے طور پر کمپیوٹر میں چلا جائے اسطرح  سے ورچوئلی طور پر انسان ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی پاجائے گا۔ سائینسدانوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہیں کہ جسطرح سے کمپیوٹر ودیگر ٹیکنالوجی اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہیں ہیں اس سے لگتا ہےکہ 2045 کے آس پاس درج بالا خواب کی سی باتیں حقیقت کاروپ دھار لیں گی ۔ اُنکا کہنا ہے ایسا  ہوکے رہے گا ۔ 
ریمنڈ ابھی 62 سال کے ہیں ۔ وہ مرنا نہیں چاہتے ہیں  وہ2045 تک زندہ رہ کر کمپیوٹر میں داخل ہوکر پہلے لافانی انسان بننا چاہتے ہیں ۔ وہ اپنی صحت کو قائم رکھنے کیلئے روزانہ150 گولیاں مختلف قسم کی  کھاتے ہیں ۔وہ 39 پیٹنٹ  ایجادات کے مالک ہیں 19 اعزازی داکٹریٹ رکھتے ہیں ۔ ریمنڈنے بیسٹ سیلر کتاب   "لا متناہیت قریب ہے" لکھی ہے ۔اسکے علاوہ ایک کتاب روحانی مشینوں کا دور بھی لکھی ہے۔اُنہیں بل کلنٹن نے قومی تمغہ برائے ٹیکنالوجی کے اعزاز سے نوازا جبکہ بل گیٹس نے ریمنڈ کے بارے میں کہا کہ مصنوی ذہا نت کے متعلق پیش گوئیاں کرنے والا بہترین دانشور ہے ۔
اور ہاں میں نے ریمنڈ نام کی مناسبت سے ذرا سسپنس پیدا کرنے کی کوشش کی ہے چونکہ ماہرین ذہن کہتے ہیں کہ سسپنس ذہن کی ورزش ہے ۔ تاہم جن لوگوں کی طبعیت پر میرا یہ انداز گراں گُزا ہو اُن سے میں معزرت خُواں ہوں  ۔(اس پوسٹ کا مواد ایکسپریس نیوز میگزین سے ماخوذ ہے) ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سائنسدانوں کا کہنا ہے ایسا ہوکے رہے گا۔ اِس طلسم ہوشربا کو پڑھ کر آپکے ذہن میں جس قسم کے بھی خیالات آئیں پڑھنے والوں کے ساتھ شئیر کریں۔ یا اوپر دائیں جانب پول کلک کردیں ۔ آپکا بُہت شُکریہ۔ (خلوص کا طالب ۔ایم۔ڈی)۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...