ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فکرستان سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسان کے دماغ میں خیالات تو آتے ہی رہتے ۔ ایسے ہی ایک دن خِیال آیا کہ
لوگوں سے معلوم کیا جائے کہ آیا وُہ نماز میں خُدا کا تصّور کسطرح باندھتے ہیں؟
سب سے پہلے جن صاحب سے پوچھا وہ صاحب گریجویٹ ہیں عُمر تقریبا" 40
سال ہوگی اُنہوں نے کہا بھئی میں تو اسطرح پر تصّور باندھتا ہوں کہ خُدا عرش
سے مُجھے دیکھ رہا ہے ۔ایک دوسرے صاحب نے بتا یا کہ میں اپنا دھیان خُدا کی
طرف کرلیتا ہوں۔ ۔ایک اور صاحب نے بتایا کہ میں آنکھیں بند کرکے نماز
پڑھتا ہوں کسی قسم کا تصّور نہیں باندھتا ہوں ۔ایک اور صاحب نے بتایا کہ میں
جہاں سجدہ کرتا ہوں وہاں ایک پوائنٹ بنا لیتا ہوں نظر وہیں جما کر نماز پڑھ لیتا
ہوں ۔ایک اور صاحب نے بتایا کہ وُہ انگوٹھے پر نظریں ،جما کر نما ز ادا کرتے
ہیں ۔ایک اور صاحب نے بتایاکہ بس خِیالات بھی آتے رہتے ہیں۔اور نماز بھی
ادا ہوتی رہتی ہے۔
اس بارے میں کوئی واضع ہدایت میری نظر سے نہیں گُزری ۔عموما" یہ کہا جاتا
ہے ۔نماز اسطرح پڑھیں کہ خُدا آپکو دیکھ رہا ہے یا آپ خُدا کو دیکھ رہے ہیں ۔
خُدا آپکو دیکھ رہا ہے والی بات تو سمجھ میں آتی ہے ۔لیکن ہم خُدا کو دیکھ رہے
ہیں والی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔ہم خُدا کا تصّور کیسے باندھ سکتے ہیں ؟ ہے
کوئی ایسا جو اس سلسلے میں کوئی رہنمائی کرنا چاہےکہ خُدا کاتصّور کیسے کیا جائے ۔؟