Tuesday, February 17, 2026

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

 منجانب فکرستانغوروفکر کے لئے

[ رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا] ،تفسیرابن کثیر ،سُپر پاور/ V2 Power۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 انشاء ڈائجسٹ میں مجھے سائنس، فلسفہ،نفسیات،مذاہب،تاریخ وغیرہ جیسے یعنی

 نان فکشن مضامین پڑھنے کو ملنے لگے،جس سے مجھے ایسا لگا کہ میرے ذہن کو

 اسی علم کی پیاس تھی اور یوں میرے ذہن میں نان فکشن علم میں اضافہ

 ہونے لگا یہ لکھتے ہو یہ لکھتے ہوئے مجھے قُرآن شریف کی یہ دُعا یاد آگئی[ رَبِّ

 زِدْنِيْ عِلْمًا]سورہ طہٰ کی آیت نمبر114جبکہ تفسیرابن کثیر کا حوالہ یہ کہ اس آیت

 کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ ہمیشہ یہ دعا مانگتے رہے ہیں تاہم ایسا محسوس

 ہو رہا کہ اس دُعا پر مسلمانوں کے بجائے دیگر قومیں عمل کرکے اپنے علم میں

 اضافہ کر کے دنیا کی سُپر پاور/ V2 Powerبن بیٹھیں ہیں اور مسلمان ؟؟؟

علم میں اضافے کی بات چلی ہے تو  میرا خیال ایسا ہے کہ اب جو یادداشت کے

 جھروکوں سے کی قسطیں آئیں گیں وہ  پڑھنے والوں کے علم میں کچھ نہ کچھ

 اضافے کا سبب ثابت ہونگیں۔۔۔

سابقہ پوسٹ میں لکھا تھا اماں جان کے ماموں زاد بھائی جنکی فیملی رحیم یار خان

 سے کراچی  شفت ہوگئی تھی، ہماری لائف میں ایک ٹرن موڑ ثابت ہوئی، اس

 فیملی میں دو لڑکیاں اور چار لڑکے سب جوان تھے یہ پہلی بیوی تھے جس کا

 انتقال ہوگیا تھا، موجودہ بیوی سے ایک لڑکی چار لڑکے تھے یہ بچے بھی چھوٹے

 نہیں تھے ،ایک بچہ کالج جاتا تھا، دوسرے بچے اسکول جاتے تھے، پہلی بیوی کا

 بڑا بیٹا بی ایس سی تھا، دوسر ا بیٹا سی اے تھا دو بیٹے انٹر اور دونوں بیٹیاں

 گریجویٹ تھیں۔مالی تنگی نہیں  تھی زمینداری سے اتنا پیسہ آجاتا تھا کہ ہاتھ کھلا

 رکھ کر خرچ کرتے ،صرف بڑا بیٹا پیپر فیکٹری میں کیمسٹ کے طور کام کرتے

 تھے،مجھے بطور پیپر پیکر فیکٹری میں رکھا دیا،یہ فیکٹری سائٹ میں غنی چورنگی پر

تھی اور پیدل دوری پر گورننمٹ ٹیکنیکل کالج تھا،میں نے اِس ٹیکنیکل کالج کے

 شام  کے سیشن میں ڈی کام کورس( ڈپلومہ ان کامرس ) داخلہ لے لیا، میرا

 خیال ہے کہ یہ پوسٹ لمبی ہوگئی ہے😀 اسلئے اب اجازت ۔

یار سلامت، دوستی باقی/قسط # 20کے لئے۔ انشاء اللہ

خالق کائنات ہمیشہ مہربان رہے ۔






Wednesday, February 4, 2026

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 18)۔۔

 منجانب فکرستانغوروفکر کے لئے 

بہار کالونی، نیاآباد سے زیادہ دور نہیں تھا، بس کے ذریعے 10منٹ میں نیاآبادپہنچ

 جاتا تھا،یہاں پر ابراہیم لائبریری والا ابراہیم ہمارا دوست تھا ،میں اور یعقوب ہم

 دونوں وہاں رکھی بینچ پر بیٹھ کر باتیں کرتے ، تقریباً رات کے ساڑھے 10بجے

 یعقوب مجھے بس اسٹاپ چھوڑنے آتا جوکہ 5 منٹ کی واک پر تھا،یہ تقریباً روز

 کامعمول تھاکہ رات کا کھانا 8 بجے کھاکر نیاآباد لائبریری بینچ پر پہنچ جاتا یعقوب

 بھی آجاتا ۔۔۔ اِس لائبریری میں رومانی،جاسوسی،تاریخی ناول اور مختلف قسم

 ڈائجسٹ کرائے پر دیئے جاتے،میں نے ہر قسم کے ناول پڑھنے کی کوشش کی 

 تاہم تمام  قسِم کے ناول مجھے بھاری پتھر محسوس ہوئے،،چوم کر چھوڑ دیے

کوئی ناول 20 پچیس صفحوں سے زیادہ نہیں پڑپایا،مجھے اُن پر حیرت ہوتی جو ناول

یہ پڑھتے۔۔ مجھے اس بات پر حیرت ہوتی کہ ہمارے دور میں دنیا بھر میں ناول

 پڑھنے والوں کا گراف سب سے اُونچا تھا،زیادہ حیرت کی بات  ہے کہ یہ گراف

آج کے دور میں بھی اسی طرح قائم ہے۔ مُجھے جون ایلیا کا انشاء ڈائجسٹ جس

 میں سائنس داں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمان اور سائنس داں پرویز ہود بھائی

 کے سائنسی مضامین کے علاوہ فلسفہ پر مضامین پڑھنے کو ملتے تھے،ممکن ہے  کہ

 آپ سمجھتے ہونگے کہ جون ایلیا شاعر ہیں تو مجھے شاید شاعری سے دلچسپی ہو گی

 تو اسی بات بالکل بھی نہیں تاہم جون ایلیا کی انٹرویو میں کہی یہ بات آپ سے

 شیئر کروں گا۔۔۔ جون ایلیا نے کہا کہ

 "اپنی ولادت کے تھوڑی دیر بعد چھت کو گھورتے ہوئے، میں عجیب طرح ہنس

 پڑا،  میری خالاؤں نے یہ دیکھا تو، ڈر کر کمرے سے باہر نکل گئیں 😀۔ 

اس بے محل ہنسی کے بعد، میں آج تک کھل کر نہیں ہنس سکا" 

۔اب اجازت۔

یار سلامت، دوستی باقی/قسط #19کے لئے۔ انشاء اللہ

خالق کائنات ہمیشہ مہربان رہے ۔



 



Monday, January 5, 2026

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 17)۔۔

 منجانب فکرستان:غوروفکر کے لئے 

پہلی ملازمت بچوّں کی سویٹ ٹافی بنانے والی فیکٹری سے شروع کی ، فیکٹری کے

 قریب ہی نائٹ اسکول تھا جو آج کے دور میں  ٹیوشن سینٹر کہلاتے ہیں،یہ نائٹ

 اسکول پرائیویٹ میٹرک امتحان کی تیاری کراتے ،میں نے شام 6 تا 8 کے سیکشن

  میں داخلہ لیا،یہ کنفیشنری فیکٹری گھر سے زیادہ دور نہیں تھی، 15 منٹ میں گھر

 میں پہنچ جاتا ،یادداشت کے جھروکوں کی کھڑکی سے ایک یادداشت جھانکنے لگی 

جسے میں بھول گیا تھا( وہ یہ کہ جب  ہم لوگ ہندوستان سے پاکستان آئے تھے

 اُس کےتھوڑے دنوں بعدہی اماں جان کی چھوٹی بہن بمع شوہر بچوں کے پاکستان

آگئے تھے جنہوں نے  ضلع خیرپور،سندھ پاکستان میں واقع ہے تحصیل گمبٹ میں

 رہائش اختیارکی)اماں جان کے ماموں زاد بھائی جنکی فیملی رحیم یار خان سے

 کراچی  شفت ہوگئی تھی، ہماری لائف میں ایک ٹرن موڑ ثابت ہوئی، اِس

 فیملی کے سب افراد تعلیم یافتہ اور عمر میں مُجھ سے بڑے تھے تاہم وہ سب مُجھ 

 سے اور اماں جان سے ایسی محبت کر تے جیسے ہم انہیں کی فیملی کے افراد ہوں

اس بات سے اندازہ لگا سکتے کہ ہمارا ایک کمرے کا مکان تھا ،مامی جان ناظم آباد

 کا دومنزلہ مکان میں رہنے کے بجائے ہمارے ایک کمرے کے مکان میں رہنے

کو ترجیح دے تیں،اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مہینے میں ایک ہفتہ مامی جان ہمارے گھر

  رہتیں آتیں اور دوسرے مہینے ہم ماں بیٹا مامی جان کے گھر میں رہنے چلے

 جاتے۔۔۔ اب میں 14سال کا ہوگیا تھا اسلئے اب میں نویں جماعت بورڈ کا

 امتحان دے سکتا تھا،امتحان دیا اور کامیاب رہا،دوسرے سال دسویں جماعت

 (میٹرک) کا امتحان دیا اِس امتحان میں بھی کامیاب رہا😀 اب اجازت۔

یار سلامت، صحبت باقی/قسط #18کے لئے۔ انشاء اللہ

خالق کائنات ہمیشہ مہربان رہے ۔


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...