منجانب فکرستان پیش ہیں:امریکی/برطانوی ججوں کے" توہین عدالت" کے منفرد فیصلے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کل پاکستانی میڈیا میں ہونے والی عدالتی بحثوں نے شاید عوام کی سرمیں درد کردیا ہوگا۔۔۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ امریکی اور برطانوی ججوں نے کس کس عمل کو توہین عدالت گردانا اور اُس پر کیسے فیصلے دیے۔۔۔۔
۔امریکی ریاست الی نواے میں مسٹر ولیمز اپنے کزن کے مقدمہ کی کاروائی دیکھنے گئے اور کمرہ عدالت کی اگلی نشستوں میں سے ایک پر جا بیٹھے۔۔۔ جب مقدمہ کا فیصلہ سُنایا جا رہا تھا۔۔ولیمز کو ایک زوردار جماہی آگئی ۔۔جج نے اُسی وقت اپنی کاروائی روک دی۔۔ ولیمز کی طرف گھور کردیکھا اور "جماہی" کو توہین عدالت قرار دیکر اُسی وقت 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیا ۔۔۔
جب جماہی کیلئے منہ کُھلا تھا۔۔۔ تو اب جج کے فیصلے پر حیرت سے منہ کُھلے کا کُھلا رہ گیا ۔۔۔۔
گئے تو تھے بڑی شان سے دوست کے مقدمہ کی کاروائی دیکھنے۔۔۔ اور پُہنچ گئے چھ ماہ کیلئے جیل ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــامریکی ریاست اوہا ئیو میں ملزم جج سے بحث کرنے لگا کہ مقدمہ کی پیروی وہ خود ہیکرے گا جبکہ جج ملزم کو سمجھاتا رہا کہ بغیر وکیل مقدمہ کی کاروائی نہیں ہوسکتی ،لیکن ملزم برابر تکرار کئے جا رہا تھا ، جج نے عدالت میں موجود پولیس اہل کاروں کو حُکم دیا کہ کاروائی مکمل ہونے تک کیلئے ملزم کے منہ پر ٹیپ لگا کر اسکا منہ بند کردیا جائے ۔ پولیس نے فوراً ہی ملزم کو پکڑ کر منہ پر ٹیپ لپیٹ دیا ۔۔۔
اسی لئے تو بڑے بُزرگوں نے کہا ہے کہ بحث کرنا اچّھی بات نہیں ۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران حاضرین میں سے کسی کا فون بج اُٹھا سب ایکدوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔جج صاحب نے اپنی آنکھوں کے زریعے سے حاضرین میں سے اُس شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے جس پر اُنہوں نے حکم دیا کہ جس شخص کا فون بجا ہے وہ فوراً فون کو عدالت کے حوالے کرے ۔۔46 حاضرین میں سے کسی نے بھی نہیں کہا کہ اُسکا فون بجا ہے ۔۔جس پر جج کو غُصہ آگیا اور اُسنے پولیس اہل کاروں کو حُکم دیا کہ تمام حاضرین کو جیل میں بند کردو اور پولیس نے فوراً 46 افراد کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ۔۔۔لیکن اس بے تُکے غُصیلے فیصلے پر جج کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا ۔۔۔۔اسی لیے تو غُصہ کو حرام کہا جاتا ہے ۔۔۔
درج بالا تمام مقدمات: اخبار ایکسپریس کے سنڈے میگزین سے اخذ کئے گئے ہیں ۔۔۔دلچسپ لگے اس لیے آپ سے شئیر کر رہا ہوں ۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ ۔ (ایم ۔ ڈی )