Wednesday, August 24, 2011

برمودا ٹرائی اینگل اور کراچی

فکرستان سےپیش ہےپوسٹ ٹیگز:انائیں/ کمزور پڑتی گرفت/فردوس عاشق اعوان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 کراچی کے مکینوں نے کراچی کے مسائل کے حل کیلئے  ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے نمائندوں کو ووٹ دیکر کامیاب کرایا جب تینوں پارٹیوں کے بڑوں نے اتحاد کا فیصلہ کیا تو کراچی کے مکین خوش ہوئے کہ اس اتحاد سے کراچی کے مسائل کے حل کو ایک موثر آواز مل جائے گی ۔لیکن یہ اتحاد تو کراچی کے مکینوں کیلئے برمودا ٹرائی اینگل ثابت ہورہا ہے جو کراچی کے شہریوں کو ہی نِگل رہا ہے ۔ اس صورت حال کو کُچھ دانشور بیرونی سازش قراردے رہے ہیں تو کُچھ اندرونی سازش  قرار دے رہے ہیں ۔ لیکن میرے نزیک کراچی کو اس صورت حال میں مبتلا کرنے  میں ٹرائینگلی اناؤں کا دخل ہے۔ ہر اینگل اور اُسکے کارندے  یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بُہت بڑی طاقت ہیں ۔ اور اپنی طاقت کا مظاہرہ چاہتے ہیں، مظا ہرہ کر رہے ہیں ۔
  میرے خیال میں اسکی ایک بڑی وجہ پارٹی سربراہوں کی  اپنی پارٹی پر کمزور پڑتی گرفت  بھی نظر آرہی ہے ۔اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کیلئے بُہت نقصان دہ بات ہے۔ چونکہ بقول محترمہ فردوس عاشق اعوان کراچی کے حالات سے ملک کو یومیہ 3 ارب کا نقصان پہنچ رہا ہے ۔۔
بُہت شُکریہ۔ 
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میرے اِس تجزیہ کوصحیح سمجھیں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میرا تجزیہ یہ ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ ڈی )۔     

Sunday, August 21, 2011

شیخ رشید صاحب انا ہزارے کیوں نہیں بن سکتے ؟؟؟

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز:اناہزارے/ عمران خان / عدالتیں/شیخ رشید   
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
ضرورت ہے۔۔ضرورت ہے۔ ۔ ۔ سخت ضرورت ہے ۔۔۔ ارے بھئی کس کی ضرورت ہے ۔ ۔؟ضرورت ہے۔ ایک عدد انا ہزارے کی۔۔۔کیوں کیوں۔۔۔کیوں ؟اس لیے کہ ہمارے ملک میں بھی کرپشن ہے ؟ کرپشن  ہے تو پھر انا ہزارے کیوں نہیں ہے ؟   چونکہ کرپشن اور اناہزارے کا ساتھ چولی دامن والا ساتھ ہے۔  کہا  یہ جاتا ہے کہ پاکستان میں انڈیا سے زیادہ کرپشن ہے ۔ تو پھر  کسی اناہزارے کو یہاں بھی ہونا چاہئیے ۔۔۔گو ہماری عدالتیں کرپشن کو روکنے کی تمام تر کوششیں کر رہی ۔۔۔ عمران خان اور نواز  شریف  نے بھی حکومت پر اپنا دباؤ رکھا ہُوا ہے۔ لیکن یہ دباؤ انا ہزارے جیسا دباؤ نہیں ہے ۔ کہتے ہیں کہ محلے پڑوس کے اثرات پڑوسیوں پر پڑتے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انا ہزارے کے اثرات پاکستان پر کب پڑتے ہیں اور پاکستان میں کون انا ہزارے بنتا ہے ؟؟؟ ۔ ویسے میری نظر شیخ رشید کی طرف اُٹھ رہی ہے۔  وہ اس لیے کہ اناہزارے اور شیخ رشید میں ایک  بات مشترک پائی جاتی ہے  وہ یہ کہ  دونوں  نے ہی شادی جیسے بکھیڑوں میں پڑ کرعقل سے فارغ نہیں ہوئے ہیں ۔دونوں ہی کورے اور کنوارے ہیں ۔  شیخ صاحب کیلئے اناہزارے بننے کا یہ شاندار موقع ہے۔
 آپکا بُہت شُکریہ
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ڈی )۔  

Friday, August 19, 2011

جدید سائنسی تحقیق کا کہنا ہے دماغ روزہ نہیں رکھتا ہے ۔

فکرستان سےپیش ہےپوسٹ ٹیگز:/جدیدتحقیق/سحر/ دودھ جلیبی/افطار
_____________________________________________________________
زاویہ والے دانشور اشفاق احمد صاحب کہتے تھے کہ اُنہوں نے بُہت سی حکمت کی باتیں غیر مکتبی علم والے بڑے بوڑھوں سے سیکھی ہیں ۔ سائنس کی جدید تحقیق نے بھی کُچھ ایسی بات کہی ہے کہ مُجھے بھی اپنے بڑے بوڑھے یاد آگئے ۔ہمارے بڑے بزرگ کہتے تھے کہ سحر میں دودھ جلیبی کھانا چاہئیے لیکن وہ یہ نہیں جاتے تھے کہ اس میں کیا حکمت ہے ۔ بڑے بوڑھوں  کی باتیں جب سائنس پُروف کرتی ہے تو حیرت ہونے لگتی ہے ۔ جدیدسائنسی تحقیق   کہتی ہے کہ اگر دماغ کو اُسکی غِذا گلوکوز نہ ملے تو وہ اپنے ہی خلیے کھانے لگتا ہے ۔ اس لئے سحر میں دودھ جلیبی کھانے سے ممکن ہے اُسکو افطار تک غِذا ملتی رہے اور ممکن ہے اس طرح اسکو اپنے ہی خلیئے کھانے کی باری نہ آنے پائے۔ جو قاری اس تحقیق کی  زیادہ تفصیل چاہتے ہیں وہ ذیل لنک پر جائیں۔ آپکا بُہت شُکریہ ۔ 
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔ ۔ ( ایم ۔ ڈی )۔ 
       

Friday, August 5, 2011

کراچی کے مکینوں کا بلڈ پریشر

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: شعلہ شبنم/اسم بامسمیّٰ /قائم علی شاہ/ رحمان ملک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
صوبہ سندھ اور خاص کر کراچی کے لوگوں کے بلڈ پریشر کا تعین ذوالفقار مرزا  اور الطاف حُسین اپنے بیانات کے زریعے طے کرتے ہیں ۔ جیسا کہ بلڈ پریشر کا قانون ہے کہ یہ ہمیشہ یکساں حالت میں نہیں رہتا ہے ۔بالکل اُسی طرح سے یہ حضرات اس بات کا مکمل خیال رکھتے ہیں کہ بیانات میں یکسانیت نہ آنے پائے کبھی شعلہ کبھی شبنم جیسے بیانات دیتے رہتے ہیں ، جس سے کراچی کے مکینوں کے بلڈ پریشر کبھی ہائی تو کبھی نارمل ہوتے رہتے ہیں۔  ہمارے وزیر اعلیٰ  جناب قائم علی شاہ صاحب ما شااللہ سے  مکمل اسم بامسمیّٰ ہیں وہ اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے ہمیشہ قائم پوزیشن میں رہتے ہیں ۔ کراچی میں کُچھ بھی ہوتا رہے ،وہ ہلتے جلتے نہیں اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں جس بنا رحمان ملک  صاحب آکر اُنکے کرنے کے کام کر جاتے ہیں ۔ یوں یہ وزارتِ اعلیٰ قائم دائم ہے ۔  
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم - ڈی )۔

یہ انسانی جذبات ہیں یا کہ سیاست ؟ ؟؟

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: سیاست / انسانی جذبہ/ شک / ذمہ دار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ہیلری کلنٹن نے بیان دیا ہے کہ شام کے صدر اسد دو ہزار افراد کے قتل کے ذمہ دار ہیں ،خاص طور پر ایک سالہ بچّہ کی ہلاکت پر اپنے رنج اور غُصّہ کا اظہار کیا ہے ۔ ہم ہیلری کے اس جذبہ کی قدر کرتے ہیں ، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِس انسانی جذبہ میں صداقت کی کتنی حرارت ہے؟
 اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صداقت کو سیاست نے ہائی جیک کیا ہُوا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انسانی جذبہ عراق میں کیوں نظر نہ آیا جہاں صرف شک کی بنیاد پر دو ہزار نہیں لاکھوں جانیں تلف  کی  گئیں  اور کئی معصوم بچّے بھی مارے گئے ، اسی طرح افغانستان اور پاکستان میں بھی مار ے جانے والے بے گُناہ انسانوں اور معصوم بچّوں کی روحیں سوال کرتی ہیں کہ تب یہ انسانی اور مامتا بھرا جذبہ کہاں تھا ؟؟؟  آپ کا کہنا ہے کہ اسد دو ہزار افراد کے قتل کے ذمہ دار ہیں تو پھر کیا آپ  عراق ، افغانستان اور پاکستان کے کتنے ہی بے گُناہ اور معصوم جانوں کے قتل کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟؟؟
تفصیل کیلئے لنک پر جائیں شُکریہ ۔(ایم ۔ ڈی )۔

Wednesday, July 27, 2011

٭ جاوید چوہدری کا انتہا پسندانہ ادھورا کالم ٭

 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: مغربی معاشرہ/عبادات / معاملات / توازن/اسلامی معاشرہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
جاوید چوہدری صاحب کا  کہنا ہے کہ اُنکا بس چلے تو وہ  یورپ ،امریکہ اور جاپان سمیت پوری ترقی یافتہ دُنیا کو اسلامی معا شرہ قرار دے دیں ۔۔۔ کیونکہ ان معاشروں نے صفائی سے لیکر ایمانداری تک کے وہ تمام  اصول اپنائے ہوئے ہیں جو کہ اسلامی ہیں ۔ لیکن جب ہم اسلامی معاشروں میں جھانکتے ہیں تو ہمیں اِن معاشروں میں  مسجدیں ،ذکر، اور اہل ایمان کی تقاریر تو بہت ملتی ہیں لیکن ان معاشروں میں  صفائی سے لیکر ایمانداری تک  میں اسلام کا کوئی اصول دکھائی نہیں دیتا اور چوھدری صاحب کا کہنا ہے کہ یورپ ، امریکہ یا مشرقی بعید کےترقی یافتہ ممالک کا دورہ کرکے دیکھ لیں وہاں پورا پورا اسلام ملے گا/ سوائے کلمہ کے۔ جبکہ ہمارے پاس کلمہ وافر مقدار میں موجود ہے/ لیکن ہمارے پاس اسلام نہیں ہے ۔
جاوید چوھدری صاحب کا مغربی معاشروں کے بارے میں یہ کہنا کہ کلمہ کے علاوہ   باقی سب کُچھ اسلامی ہے ۔ انتہا پسندانہ دلیل ہے مثلاً مسلم معاشرہ یکساں جنس کے درمیان شادی کی اجازت نہیں دیتا ہے اور نہ ہی بالغوں کی  بغیر نکاح ازدواجی تعلقات    قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے  وغیرہ وغیرہ اس لیے چوھدری صاحب کامغربیمعاشروں کو مکمل اسلامی قرار دینا انتہا پسندانہ بات  ہے۔۔۔
 اس کے علاوہ جاوید چوھدری صاحب  نے  اپنے کالم میں مسلمانوں میں پائی جانے والی بُرائیاں تو گنوا دیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ  مسلما نوں میں یہ بُرائیاں  کیونکر پیدا ہوئیں یوں اُنکا یہ کالم ادھورا کالم ہے ۔  میرے خیال میں اسلامی معا شروں  میں پائی جانے والے ان بُرائیوں  کی مکمل ذمہ داری علمائے کرام پر ہی عائد ہوتی ہے/ چونکہ اسلام کی ٹھیکیداری سوائے علماء  کےکسی اور کے پاس نہیں ہے مسلمانوں میں یہ بُرائیاں یوں  پیدا ہوئیں کہ علمائے کرام کو عبادات اور دُنیاوی معاملات (وسیع معنیٰ میں) میں جوتوازن برقرار رکھنا چاہئیے تھا وہ نہ رکھ سکے/ عُلمائے کرام نے اپنا سارا زور عبادات  پر رکھا اور معاملات کو پسِ پشت ڈالدیا / جسکا نتیجہ توازن بگڑ گیا مثلاً نماز کی پابندی پر تو بہت زور رہا لیکن قُرآن کی معاملات والی اس آیت کو نظر انداز کردیا گیا کہ نماز بُرائی کو روکتی ہے ۔ اسی طرح علمائے کرام نے  عبادت کے حوالے سے احادیث میں سے ایسی چھوٹی چھوٹی حدیثیں منتخب کرکے مسلمانوں کو دے  دیں  کہ یہ اتنی بار پڑھو اتنے گُناہ معاف   ہو جائیں گے اس سے مسلمان معاشروں میں یہ ہُوا کہ صحیح معاملات کی  عملی ادائیگی کی بجائے اُنکے ہاتھوں میں تسبیح اور کاؤنٹر آگئے ۔اس طرح عبادات اور معاملات کے درمیان توازن بگڑ گیا ۔( توازن کائنات کا ذرہ ذرہ جسکا مظہر ہے ) توازن بگڑ جائے تو اوزون میں سوراخ ہوجاتا ہے ،گلیشئیر پگھل جاتے ہیں ، گھر اُجڑ جاتے ہیں جبکہ مذاہب عبادات فرقہ واریت اور عدم برداشت تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں ۔۔۔
    یہ ایک حقیقت ہے کہ علمائے کرام کی مہر بانی سے پوری دُنیا میں مسلمانوں  سے زیادہ عبادت گُذار کوئی نہیں ہے،ماشا اللہ عبادات پر بہٹ زور ہے/ لیکن یہ بھی اپنی جگہ ایک ایسی ہی حقیقت ہے کہ ان ہی علمائے کرام کی مہربانی سے معاملات( وسیع معنیٰ میں ) میں مسلمان ٹھیک اتنے ہی بُرے ہیں جتنے کہ  جاوید چوھدری نے اپنے کالم" کلمہ ہے لیکن اسلام نہیں " میں دکھایا ہے ۔۔۔
مکمل کالم ذیل لنک پر  ہے۔( تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ) ۔
۔ ( ایم ۔ ڈی )۔


Wednesday, July 20, 2011

٭ بیویوں کا شوہروں پر تشدد کرنا ٭

 
   فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: بہشتی زیور /شوہر بیچارے/ چچا غالب / ماموں سُقراط
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 مُجھے جس خبر نے چونکا دیا وہ ہے مسلمان بیویوں کا شوہروں پر تشدد کرنا  وہ بھی  عرب اسلامی ملک  کےصرف ایک شہر میں/ مہینہ بھر میں اوسطاً  145 بیویاں اپنے شوہروں پر تشدد کرتی ہیں ۔۔۔ اور خبر یہ  بھی کہ اس تناسب میں  اضافہ ہورہا ہے۔۔۔  اس بات میں شک کرنے کی کوئی گُنجاش نہیں ہے کہ ہر شریف آدمی اپنی بیوی سے ڈرتا ہے۔۔۔ میرا تو یہاں تک کہنا ہے کہ بدماش  قسم کےآدمیوں کی بھی ایک بڑی تعداد اپنی بیویوں سے ڈرتی ہو گی۔۔۔لیکن بیویوں کا تشدد پر اُتر آنا یہ تو بڑی خطر ناک صورت حال پیدا ہورہی، اللہ رحم کرے۔۔۔
 میرا خیال ہے کہ بیویوں نے بہشتی زیور پڑھنا چھوڑ دیا ہے ۔۔ورنہ ایسی صورت حال نہ  پیدا ہوتی ۔۔۔ بہشتی زیور پڑھی ہوئی بیوی تو روٹی پکاتے میں شوہر کی آواز پر شوہر کی ضرورت پوری کرنے حاضر ہوجاتی تھی ۔۔۔ میرے خیال  میں یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں جو بیویاں شو ہروں کو مار رہی ہیں ۔ ۔۔اور شوہر بیچارے  مار کھا رہے ہیں ۔ یہ بھی اچھا ہُوا کہ چچا غالب اور ماموں سُقراط یہ دن دیکھنے سے پہلے ہی اُٹھ گئے ورنہ اُنکی تو/ خُوب کُٹائی ہوتی ۔۔ شُکریہ۔ (اس خبر کی تفصیل ذیل لنک پر ہے۔ سعودی عرب والے ضرور پڑھیں )۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ ڈی )

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...