Monday, January 5, 2026

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 17)۔۔

 منجانب فکرستان:غوروفکر کے لئے 

پہلی ملازمت بچوّں کی سویٹ ٹافی بنانے والی فیکٹری سے شروع کی ، فیکٹری کے

 قریب ہی نائٹ اسکول تھا جو آج کے دور میں  ٹیوشن سینٹر کہلاتے ہیں،یہ نائٹ

 اسکول پرائیویٹ میٹرک امتحان کی تیاری کراتے ،میں نے شام 6 تا 8 کے سیکشن

  میں داخلہ لیا،یہ کنفیشنری فیکٹری گھر سے زیادہ دور نہیں تھی، 15 منٹ میں گھر

 میں پہنچ جاتا ،یادداشت کے جھروکوں کی کھڑکی سے ایک یادداشت جھانکنے لگی 

جسے میں بھول گیا تھا( وہ یہ کہ جب  ہم لوگ ہندوستان سے پاکستان آئے تھے

 اُس کےتھوڑے دنوں بعدہی اماں جان کی چھوٹی بہن بمع شوہر بچوں کے پاکستان

آگئے تھے جنہوں نے  ضلع خیرپور،سندھ پاکستان میں واقع ہے تحصیل گمبٹ میں

 رہائش اختیارکی)اماں جان کے ماموں زاد بھائی جنکی فیملی رحیم یار خان سے

 کراچی  شفت ہوگئی تھی، ہماری لائف میں ایک ٹرن موڑ ثابت ہوئی، اِس

 فیملی کے سب افراد تعلیم یافتہ اور عمر میں مُجھ سے بڑے تھے تاہم وہ سب مُجھ 

 سے اور اماں جان سے ایسی محبت کر تے جیسے ہم انہیں کی فیملی کے افراد ہوں

اس بات سے اندازہ لگا سکتے کہ ہمارا ایک کمرے کا مکان تھا ،مامی جان ناظم آباد

 کا دومنزلہ مکان میں رہنے کے بجائے ہمارے ایک کمرے کے مکان میں رہنے

کو ترجیح دے تیں،اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مہینے میں ایک ہفتہ مامی جان ہمارے گھر

  رہتیں آتیں اور دوسرے مہینے ہم ماں بیٹا مامی جان کے گھر میں رہنے چلے

 جاتے۔۔۔ اب میں 14سال کا ہوگیا تھا اسلئے اب میں نویں جماعت بورڈ کا

 امتحان دے سکتا تھا،امتحان دیا اور کامیاب رہا،دوسرے سال دسویں جماعت

 (میٹرک) کا امتحان دیا اِس امتحان میں بھی کامیاب رہا😀 اب اجازت۔

یار سلامت، صحبت باقی/قسط #18کے لئے۔ انشاء اللہ

خالق کائنات ہمیشہ مہربان رہے ۔


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 17)۔۔

  منجانب فکرستان : غ وروفکر کے لئے  پہلی ملازمت بچوّں کی سویٹ ٹافی بنانے والی فیکٹری سے شروع کی ، فیکٹری کے  قریب ہی نائٹ اسکول تھا جو آج کے...