Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Monday, October 31, 2011

" عمران خان کا پریکٹیکل میسیج "

منجانب فکرستان پیش ہے : عمران خان نے  جلسہ میں دکھایا / اپنا میسیج/ بزریعہپریکٹیکل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عمران خان لاہور میں ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیا ب ہوگئے ہیں ، جلسہ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تحریکِ انصاف ایک عوامی طاقت بن کر ابھر رہی ہے ۔ جلسہ بتا رہا ہے کہ مستقبل کے الیکشن۔۔۔ ن لیگ کیلئے تر نوالہ ثابت نہیں ہونگے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جاگیردارانہ پٹواری نظام اورتھانہ کلچر عمران خان کو ناک چنے چبوائے گا ۔ ۔۔  
 ایک بڑے اخبار کے" لفافے باز" کالم نگار نواز شریف جلاوتنی دور میں آئے دن اپنے کالم میں نواز فیملی کی نماز روزہ پابندی  کا تذکرہ کّچھ اس انداز سے کرتے تھے جیسے دوسرے یہ پابندی نہ کرتے ہوں ۔۔۔۔
 عمران خان نے اسٹیج پر  نماز کی ادائیگی کے زریعے ایک طرف پریکٹیکلی یہ میسیج دیا ہے کہ وہ  نماز پابند مسلمان ہیں  تو  دوسری طرف شہزاد رائے  اور اسٹرنگز بینڈ کو اسٹیج پر پیش کرکے پریکٹیکلی یہ میسیج  بھی  دےدیا ہے کہ وہ انتہا پرست مسلمان نہیں ہیں۔ ۔۔۔( ایم ۔ ڈی)

Sunday, October 30, 2011

" حکومت گرانے کا خیال یا اُبال "

منجانب فکرستان  پوسٹ ٹیگز:  ریلیاں/ نفسیاتی دباؤ/ گراف بڑھنے کا خوف/مزاحمتی خوف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پاکستان اس وقت ریلیوں کی زد میں ہے ۔یہ ریلیاں عوامی مسائل پر نہیں ذاتی ایجنڈے  پر مبنی ہیں ۔اسلئیے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اگر یہی ریلیاں عوامی مسائل پر ہوتیں تو مسائل کے حل کیلئے حکومت پر یقیناً دباؤ پڑتا ۔ یہ حکومت اوّل دن سے ہی سخت نفسیاتی دباؤ میں تھی چونکہ حکومت بے نظیر شہادت  کی وجہ سے ملی تھی نہ تجربہ تھا نہ واضع اکثریت اسلیئے حکومت مزاحمت کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی یہ ہی وجہ تھی کی اس نے ہر جانب مفاہمت کی پالیسی کو اپنایا ، اے این پی ، ایم کیو ایم ، ق لیگ اور سب سے زیادہ جس پر ذمہ داری تھی ن لیگ بھی سب مفاہمتی لالی پاپ چوسنے لگے اسطرح حکومت نے ٹھاٹ کے ساتھ 4 سال گُذار لیے ۔ اگر یہ پارٹیاں عوامی/ قومی مفاد کی حامل پارٹیاں ہوتیں تو مفاہمتی لالی پاپ کو عوامی مسائل سے نتھی کرتیں اور حکومت پر شروع دن سے عوامی مسائل حل کیلئے دباؤ بنائے رکھتیں تو کمزور اور خوف زدہ حکومت  مزاحمتی خوف  کے زیر اثر  عوامی مسائل حل کرنے پر ضرور توجہ دیتی ۔ ۔۔۔
 ممکن ہے ن لیگ نے سوچا ہوکہ اگر پیپلز پارٹی نے عوامی مسائل حل کئے تو پیپلز پارٹی کا گراف بڑھ جائے گا شاید   اسی لیے چار سال تک مجرمانہ خاموشی اختیار  کئے رہے ۔ اب اچانک حکومت  گرانے  کا خیال ایسی اُبال کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے کہ زبان قابو سے باہر ہورہی ہے جواباً بھی ایسی ہی زبان استعمال ہورہی ہے کیا ان زبان درازیوں سے عوامی مسائل  فوکس ہونگے یا کہ پسِ پشت چلے جائیں گے۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بے نتیجہ اُبال ہے ۔ بُہت شُکریہ ۔تبصروں کی پبلشنگ بند ہے  ( ایم ۔ڈی )


Saturday, October 29, 2011

" چھوٹی موٹی باتیں "

 منجانبفکرستان پوسٹ ٹیگز :- القاب / موٹا تازہ/ چربی کم کرنا/قربانی کا حلف/ دانیال عزیز
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 پاکستانی قوم القاب دینے میں کافی فراخ دل واقع  ہے۔۔۔نصرت بھٹوکو "مادرِ جمہوریت" اور ممتاز قادری کو" غازیِ ملت" عطا کردیئے ہیں٭چار سال میں چار بچّے پیدا ہوجاتے ہیں ہمارے وزیراعظم نے چار وزارتیں پیدا کرلیں  ہیں تو اس میں کونسی بُرائی ہے ٭ سال میں 16 ہزار پاکستانیوں نے خودکشیاں کرلیں تو اس میں حکومت بیچاری کا کیا قصور؟؟؟ جسکی موت جیسی لکھی ہو ویسی  ہی آتی ہے۔ اس پر حکومت کو الزام دینا یا سیاست کرنا بُری بات ہے ٭ وزیر ریلوے نے ادارے کو بند کرنے کا نیک مشورہ دیا ہے ۔۔۔۔تاکہ اُنہیں کوئی دوسرا ایسا موٹا تازہ محکمہ الاٹ ہو سکے کہ جسکی  چربی کم کی جاسکے٭ سنی اتحاد کونسل غازی علم الدین کا یوم شہادت" یوم تحفط ناموسِ رسالتؐ کے طور پر منائیگی جس میں عوام سے تحفظ ناموسِ رسالت کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کا حلف لیا جائے گا ٭علماء حضرات کا کہنا ہے کہ ڈینگی ہمارے اعمال نے پیدا کیاہے ۔۔۔جبکہ دانیال عزیز صاحب کا کہنا ہے کہ  ڈ ینگی شہری حکومتیں ختم کرنے کا نتیجہ ہے ۔ آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
( ایم ۔ڈی )

Thursday, October 27, 2011

" سُنی اتحاد کونسل کی ریلی "

 منجانب فکرستان :-" غازیِ ملت ممتاز قادری" رہائی کیلئے ، ایم ۔ اے جناح روڈ پر سنی اتحاد کونسل کی ریلی ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 یہ روداد میرے دوست نے سُنائی جسے میں نے پوسٹ کی شکل دی ہے۔۔ سُنی اتحاد کونسل نے ہفتہ 22 اکتوبر کو کراچی کے ایم ۔اے۔جناح روڈ پر دوپہر کے وقت ایک بڑی ریلی نکالی ۔۔  یہ کراچی کی ایسی مرکزی روڈ ہے کہ جس پر موٹر پارٹس  ، اسٹیشنری ، پیپرز، کتابیں ،الیکٹرک سامان اور دیگر روز مرہ استعمال  کی اشیاء کی مارکٹیں ہیں ۔۔۔۔ اس لیے یہ روڈ گاڑیوں سےبھرا رہتا ہے ۔ اتوار چھُٹی کی وجہ سے  ہفتہ کے دن کُچھ زیادہ رش ہوتا ہے ۔۔۔ ریلی کہ وجہ سے دو پہر یہ روڈ بند ہوگیا تو اسکا سارا لوڈ شاہراہ لیاقت پر آگیا۔۔۔ نتیجہ پورا روڈ کھچا کھچ بھر گیا اتنا پیک ہوگیا  کہ کوئی پیدل بھی نہیں چل سکتا ، چونکہ فٹ پاتھ بھی موٹر سائیکلوں سے اٹا پڑا تھا۔۔۔۔اُس دن گرمی کی شدّت  بھی زوروں پر تھی ۔۔۔ بس میں یہ تماشا چل رہا تھا کہ ایک جگہ بیٹھے بیٹھے سیٹ گرم ہوجاتی تھی تو تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہوجاتے۔۔۔لیکن بیچارے کار والوں کی حالت بُہت بُری تھی کہ وہ کھڑے رہنے کی سہولت سے محروم تھے۔۔۔ اے/ سی والے تو پھر بھی غنیمت میں تھے لیکن جن کی کار اے/سی نہیں تھی  وہ بہت پریشان تھے ، پسینہ سے بے حال تھے ۔۔۔بسوں میں عورتوں اور بچّوں کا بھی بُہت بُرا حال تھا۔۔۔
 اس ریلی میں "غازیِ ملت ممتاز قادری "کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ نفاذِنظامِ مصطفےٰ کیلئے 20 نومبر کراچی تا پنڈی ٹرین مارچ ہوگا ۔۔۔۔پاکستان میں  کامیاب ریلی یا ہڑتال ناپنے کا پیمانہ یہ ہے کہ اس ریلی یا ہڑتال سے  خلق خُدا کو کتنی تکلیف پہنچتی ہے ۔۔۔ جتنی زیادہ  تکلیف پہنچے گیاتنی زیادہ کامیاب ریلی یا ہڑتال کہلائیگی۔۔۔ ریلی کتنی کامیاب اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 15 منٹ کا راستہ پھنسی ہوئی گاڑیوں نے 3 گھنٹے میں طے کیا۔۔ ۔یہ ریلی ہفتہ کے بجائے اتوار کو نکالی جاتی تو عوام اتنی پریشان نہ ہوتی ۔۔۔ لیکن پھر کامیاب ریلی ؟؟؟؟  ذیل کی تصویر سے بھی آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ر یلی کتنی کامیاب تھی ۔۔۔ اور ہمارا ملک کس سمت میں بڑھ رہا ہے ۔ ۔۔
آج 28 اکتوبر ن لیگ ۔۔ ریلی کے زریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی جس سے خُدا جانے خلقِ خُدا کو کتنی پریشانی ہوگی۔ یہ لوگ یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ اب شہر اس قابل نہیں ہیں کہ اِن میں ریلیاں نکالی جا سکیں۔۔خاص کر ورکنگ ڈے ریلیاں عوام کو بُہت سی مشکلات سے دوچار کرتی ہیں۔ ۔ ۔ بُہت شُکریہ ۔تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔۔۔۔ 
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے۔(ایم۔ڈی) 

 تصویر:- بشُکریہ روز نامہ جنگ کراچی۔ 

Tuesday, October 25, 2011

غلط فہمی یا کہ خوش فہمی ؟؟؟؟؟؟؟

 فکرستان : نئے سال کیلئے دُعا گو ہے کہ سرمائے کو لگام لگے۔(آمین)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ پوسٹ " سرمائے کا بلیک ہول " کے عنوان کے تحت  31 دسمبر 2010 کو لکھی گئی تھی  ۔ جس پر جاوید گوندل بھائی کا تبصرہ بھی موجود ہے ۔ صرف پوسٹ کا  عنوان  تبدیل کیا ہے   پوسٹ  کےآخر میں  جو دُعا کی گئی تھی  وہ  بھی من وعن  اُسی  طرح سے ہے۔ اُس دُعا کے الفاظ دیکھیں، چلیں 31 دسمبر والی پوسٹ پڑھتے ہیں ۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دنیا کے ہر ملک  میں  سرمایا داروں  نے  آپس میں  ٹاپ ٹین  بننے کی نہ ختم ہونے والی دوڑ لگا رکھی ہے ۔۔۔  جس سے دُنیا میں کرپشن ،ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی  خوب پروان چڑھ رہی  ہے ۔۔۔۔۔۔ اس  طرح  سے سرما یا دارانہ نظام کا یہ " بلیک ہول " ایک طرف غریب طبقہ کو نگل  رہاہے، تو دوسری طرف درمیانی طبقہ  کو سسِکا رہا ہے ۔۔۔لیکن اس ریس کو  کوئی روک نہیںسکتا ہے ۔۔۔چونکہ سرمائے کا" بلیک ہول" مذہبی اخلاقیات  اور ضمیری اخلاقیات کو نگل چُکا ہے۔۔ ۔اب کالم نگار لفافےکے زیراثر لکھتا ہے ۔۔۔الیکٹرانک میڈیا بھی سرمائے کے زیر اثر چیزیں دکھاتا ہے ۔۔۔دانشوروں نے بھی سرمائے کی غُلامی کو قُبول کیا ہُوا ہے ۔۔۔بے بس کے پاس صرف ایک ہی آسرا رہ جاتا  ہے ۔ وُہ ہے دُعا ۔۔۔آئیں رب سے دُعا مانگیں کہ وہ ہیسرمائے کی اس شیطانی دوڑ سے انسان کو نجات دلائے ۔۔۔وہ ہی ایسے اسباب بنا سکتا ہے کہ سرمائے کو لگام لگے ۔خالق ، مالک،پروردگار انسان سے بُہت بڑی غلطی ہوئی کہ اُسنے سرمائے کو متعارف کرایا۔اب یہ انسان پر سوار ہوگیا ہے۔   خالق ، مالک، پروردگاراس سال  انسانی شعور کو اتنی وسعت عطا کر کہ  یہ سرمائے کو لگام دینے میں کامیاب ہوجائے ۔آمین۔
31 دسمبر کو جب یہ دُعا مانگی گئی تھی اس وقت یہ دُعا عجیب معلوم ہوتی تھی چو نکہ اس وقت سرمایا دارانہ نظام کے خلاف " وال اسٹریٹ قبضہ" جیسی تحریک  کا تصّور نہیں پایا جاتا تھا ۔ لیکن جیسا کہ میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں جو کُچھ بھی محسوس کرتا ہوں وہ لکھ دیتا ہوں ۔ چاہے میرے  یہ محسوسات عام لوگوں سے کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں ۔ ۔۔۔۔آپ نے 31 دسمبر سرمایا دارانہ نظام کے خلاف انسانی شعور بیداری والی دُعا پڑھ لی ۔ وال اسٹریٹ تحریک چل پڑی ہے، تو کیا مُجھے اس غلط فہمی یاکہ خوش فہمی مبتلا ہوجا نا چاہئیے کہ رب نے میری دُعا قبول کرلی ؟؟؟      
 تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔بھائی جاوید گوندل  کا تبصرہ پہلی جنوری کا ہے ۔۔۔ آپکا بُہت شُکریہ۔ ( ایم ۔ ڈی )  

Sunday, October 23, 2011

کیا (ن) لیگ تبدیلی لاسکتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

 منجانب فکرستان پیش ہے : ( ن) لیگ دیگر سیاسی پارٹیوں سے کتنی مختلف ہے ایک مختصر سا جائزہ ؟؟؟؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا (ن) لیگ ملک میں تبدیلی لا سکتی ہے ؟ ؟ ؟یہ پارٹی دیگر سیاسی پارٹیوں سے کتنی  مختلف ہے۔۔۔ ایک مختصر سا جائزہ لیتے ہیں ۔ یہ بات سب ہی کو معلوم ہے کہ ق لیگ کو قاتل لیگ کہا گیا تھا ۔۔۔لیکن اقتدار میں رہنے کی مصا لحتی / مفاہمتی  پالیسی  کے تحت ق لیگ کو حکومت میں شامل کیا گیا ۔۔۔اسی مصالحتی /مفاہمتی پالیسی کو اپناتے ہوئے  ق لیگ نے  بھی قاتل لیگ کہنے کا بُرا نہیں منایا ۔۔۔ ذاتی مفاد کو عوامی مفاد کا نام دیکر پیپلز پارٹی سے اشتراکِ کرلیا ۔۔۔اب ہم نواز شریف اقتدار حاصل کرنے کی مصالحتی / مفاہمتی پالیسی کی طرف آتے ہیں ۔۔۔آپ نے آئندہ الکشن اور اقتدار میں آنے کیلئے ۔۔۔ اُن تمام مفاد پرست سیٹ ہولڈروں کو کہ جنہوں نے  ق لیگ اور مشرف کو حمایت دی ۔۔۔جنہیں لوٹے اور دیگر  بُرے القابات سے نوازا گیاتھا ۔۔۔ اب  اقتدار کی مصا لحتی / مفاہمتی  پالیسی کے تحت  اُنہیں اپنی پارٹی میں شامل کرنے کیلئے تیار ہیں ۔۔۔اُنہیں ن لیگ میں آنے کی دعوت دے رہے ہیں  ۔۔۔ تو پھر اقتدار میں رہنے کیلئے پیپلز پارٹی / ق لیگ / ایم کیو ایم یا اے این پی  کی اُسی اقتداری مصا لحتی/ مفاہمتی پالیسی پر اعتراض کیوں ؟؟؟ یہ یقینی بات ہے کہ اقتدار کیلئے مصالحتی / مفاہمتی پالیسیوں کو اپنانے والے ملک میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے ہیں ۔۔۔ ان سب  پارٹیوں کو پاکستان یا پاکستانی قوم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔۔۔ انہیں صرف اقتدار سے محبت ہے ۔۔۔اس بات میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ہے کہ کل ن لیگ اور ایم کیو ایم قومی مفاد کی خاطر  ایک  دوسرے کے گلے میں باہیں ڈالے وکٹری کا نشان بنا رہے ہونگے ہیں ۔۔۔۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے/ آپ کا بُہت شُکریہ( ایم ۔ڈی)

Friday, October 21, 2011

" پادری ، مولوی ، پنڈت اور ربّی "

 منجاب فکرستان : پادری ، مولوی ، پنڈت اور ربّی ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بچوّں کے ساتھ زیادتی اور انسانی بھائی چارہ  کا شعور بیدار کرنے کیلئے کینیڈا کے  56 سالہ" جین بلیویو " نے 11 سال تک آرام اپنے پر حرام کرلیا اُنکے خیالات پڑھنے کے لائق ہیں لنک فوٹر پر موجود ہے ۔ کسی پادری ،مولوی، پنڈت ، ربی مذہبی رہنما کو اس طرح کا شعور بیدار کرنے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی ،جو اپنے کپڑوں کے اُجلے پن کےخیا ل میں مبتلا ہو اُس میں ایسا اُجلاشعور پیدا نہیں ہوسکتا ۔یہ لوگ تو اپنی تکریم کرانے میں مبتلا ہوتے ہیں اس لیے شعور بیداری کے ایسے جنجال نہیں پالتے۔ یہ تو آگے پیچھے القاب لگا کے پھرتے ہیں انہیں کیا پڑی ہوئی ہے کہبھوکے پیاسے کیڑے مکوڑے کھاتے جنگلوں پہاڑوں پر 11سال پیدل چل کر عوام کے انسانی شعور کو بیدار کریں ۔ یہ لوگ تو اس سوچ کے حامل ہیں کہ ہمارا مذہب ہمارا فرقہ۔۔۔ سب سے اعلیٰ ۔۔۔ باقی سب جہنمی ہیں ۔۔ دنیا کے تمام مذاہب کے مذہبی رہنماؤں نے ۔ مذاہب کو فرقوں میں بانٹ کر انسانوں کو تقسیم کیا ہے ۔ اور انسانوں کے درمیان نفرتوں کو فروغ دیا ہے ۔ اسی طرح سے ہمارے سیاسی رہنماؤں نے اپنی دُکان چمکانے کے لئے لسانیات کا سہارا لے کر انسانوں کوتقسیم کیا اور نفرتوں کو پروان چڑھا یا ہے۔۔۔۔ان دونوں رہنماؤں نے اپنا قد کاٹھ بڑھا نے کیلئے ایک نے صلیبی جنگیں  کرائیں، تو دوسرے نے عالمی جنگیں کرائیں  ۔ آج بھی دنیا میں جہاں کہیں بھی انسان انسان کا خون بہاتا ہوا ملے گا انکے پیچھے یہی وہ دو قسم کے  رہنما ؤں کے نظریات و جذبات  ملیں گے کہ جو انسانوں کو انسانوں سے لڑا رہے ہونگے ۔ کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں وطن کے نام پر ایسے میں"جین بلیویو جیسے لوگوں کی ہمّت اور قربانی  کو سلام ہے" ۔ تفصیل جاننے کیلئے لنک پر جائیں۔اور جو قارئین ساحر کے جاندار بول سننا چاہیں وہ وڈیو دیکھیں اور مجھے دیں اجازت آپ کا بہت شُکریہ۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں  کہ میری سوچ یہ ہے ۔۔
بہت شُکریہ۔  تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔(ایم ۔ ڈی)۔

Tuesday, October 18, 2011

" حمید اختر کے مذہبی خیالات "

 منجانب فکرستان سے پیش ہے : " حمید اختر کے مذہبی خیالات "
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
حمید اختر کے نزدیک  مذہبی زندگی کا فلسفہ یہ تھا کہ کوئی کافر نہیں،سب ہی انسان اُسی کی مخلوق ہیں ، اچھا وہی ہے جس سے دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے ، نفرت جو سکھائے وہ خُدا کا مذہب نہیں ہوسکتا ۔یہی وجہ ہے کہ  پاکستان میں پائی جانے والی مذہبی انتہا پسندی سے وہ بہت دُکھی تھے ۔ جس کا اظہار وہ آئے دن اپنے کالموں میں کرتے رہتے تھے ۔۔
دُعا گو ہوں کہ مالک ،خالق ،پروردگار انکی لغزشوں کو معاف فرمائے( آمین) ۔ تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔۔۔
 حمید اختر صاحب:اس  اِنسرٹ شدہ گانے/ ساحر کے پیغام سے  بہت متاثر تھے۔۔ 

Monday, October 17, 2011

" جواب دینے کی کوشش کی ہے "

 منجانب فکرستان : کئی ذہنوں میں اٹھنے والے سوال کا؟ جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 تقریباً پوری دُنیا میں انسانی مسائل پر احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں جبکہ ہم تو ان  مسائل میں پورے کے پورے دھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن ہماری احتجاجی ریلیاں اِن مسائل پر نہیں ہیں۔ ہماری ترجیحات دوسری ہیں جس کی تفصیل  درج ذیل ہے ۔ جس کا کچھ ذکر 14 اکتوبر کے اخبار میں  ختم نبوت کانفرس کی طرف سے بھی آیا ہے ۔۔۔۔
 O اقوامِ متحدہ تمام انبیاء کرام کی گستاخی کرنے والوں کیلئے سزائے موت کا عالمی قانون بنایا جائے Oیورپی ممالک قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیں Oحکومت  فوج  اور دیگر  محکموں سے قادیانیوں کو نکالے چونکہ قادیانی جہاد کے منکر ہیںOیورپی ممالک قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیں O ممتاز قادری کو رہا کیا جائے ۔( ختم نبوت کانفرس)۔O۔وزیر خارجہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے بیان کو واپس لے ورنہ حکومت کے خلاف ایک نیا محاذ کُھل جا ئے گا۔(مذہبی جماعتوں کے رہنما) ۔O۔مسلمانوں کے قبلہ وکعبہ کیخلاف سازشیں بند ہونی چاہئیں ۔(علامہ محمداحمد لدھیانوی۔)۔Oسنی اتحاد 22اکتوبر کو تحفظ ناموس رسالت ریلی نکالی جائے گی۔ ۔۔سلمان تاثیر قتل کیس مذہبی جماعتیں آئندہ پیشی پر عدالت کے سامنے مظاہرہ کرینگی ۔) . Oممتاز قادری رہائی کیلئے تمام اہل سنت جماعتیں 20 نومبر کو کراچی تا پنڈی ٹرین مارچ کریں گی ۔O اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ہم ڈینگی سے بچ سکتے تھے ۔( علماء ) ۔O وبائی امراض مسلمانوں کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے ۔(علامہ غلام محمد سیالوی) O تبلیغی جماعت کا 3روزہ اجتماع اتوار کو رقت آمیز دُعاؤں کے ساتھ اختتام پزیر ہُوا ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 درج بالا ترجیحات کے آگے انسانی مسائل کی کیا حیثیت ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم انسانی مسائل میں ڈوبے رہنے کے باوجود دنیا کی قوموں کی طرح اپنے مسائل پر ریلیاں نہیں نکال رہی ہے ۔اس سے یہ بھی بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہمارا ملک کس میں بڑھ رہا ہے ۔۔ اس پوسٹ کے لکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہورہا  ہے کہ  آخر پاکستان میں انسانی مسائل پر احتجاج کیوں نہیں ہورہا ہے ؟ اسی کا جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔۔اب اجازت دیں بُہت شُکریہ۔ (تبصروں کی پبلشنگ بند ہے )
درج بالا کی تفصیل جاننے کے خواہش مند درج ذیل لنک پر جائیں۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے (ایم ۔ڈی)  
http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101353575&Issue=NP_LHE&Date=20111014
َََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Sunday, October 16, 2011

" جیلانی بانو کا خصوصی انٹر ویو "

 منجانب فکرستان پیش ہے :جیلانی بانو کا خصوصی انٹر ویو (بشکریہ ایکسپریس سنڈے میگزین)  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Oجیلانی بانو4 نومبر 1936بدایوں میں پیدا ہوئیں ، لیکن حیدرآباد دکن  کو  اپنا وطن  مانتی ہیں Oواجدہ تبسم کے افسانے اچّھے ہیں لیکن ان افسانوں کا حیدر آبادی کلچر سے کوئی تعلق نہیں  ہےOدکنی اردو اس وقت ٹیکساس یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے O اوم پوری نے کہا ، شیام بینیگل نے مُجھے فلم پر بات کرنے لیےآپ کے پاس بھیجا ہے   ۔۔۔۔ 
نوٹ: جنہیں نہیں معلوم اُنکے کیلئے عرض ہے کہ بہتر پڑھنے کیلئے بائیں جانب انگلش  لائن امیج فروم پر  پیج وائز کلک کریں ۔مُجھے دیں اجازت آپ کا بُہت شُکریہ۔
 ( ایم ۔ ڈی )   



Thursday, October 13, 2011

" ذرداری کے نام ہزار دستخطوں وا لا خط "

فکرستان سےپوسٹ ٹیگز:اعتدال پسند/علماء مشائخ/مذہبی انتہاپسندیپیش گوئی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1)ایسا لگتا ہے بھٹو دور کی طرح ایک بار پھر پیپلز پارٹی مذہبی ٹیسٹ دائرہ میں داخل ہورہی ہے ۔ بھٹو دور میں قادیانی کافر قرار دیئے جانے کا ٹیسٹ  کیس تھا  اب زرداری کے سامنے ممتاز قادری کیس ہے دنیا کینظریں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں ، پاکستان  کیلئے بھی یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ۔ بھٹو کے فیصلے سےاعتدال پسند ناراض ہوئے تھے اور کچھ نے تو پیش گوئی بھی کرڈالی تھی کہ اس فیصلے  سے مذہبی انتہا پسندی بڑھے گی۔ جو سچ ثابت ہوئی۔۔۔
سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمیں صاحبزادہ فضل کریم نے صدرِ مملکت آصف ذرداری کو 1000سے زائد علماء مشائخ  کے دستخطوں کے ساتھ تفصیلی خط ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر خصوصی صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ تبدیل کریں ۔۔۔ ٹرین مارچ ، دھرنا اور تحریک تیز کرنے کا اِندیا بھی دیا ہے ۔۔۔ تفصیل کے خواہش ذیل لنک پرجائیں مجھے دیں اجازت آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔(ایم ۔ ڈی)
http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101352718&Issue=NP_LHE&Date=20111013
   



Wednesday, October 12, 2011

" عورت کی ہمت کو سلام "

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: خُدائی کلکولیشن/ کائنات میں رنگ/ بیوقوف بنانا/ ماں کی تعریف کے الفاظ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کشمیر "سری نگر" میں لڑکیوں کے اسقاط کا سروے ہونے لگا تو وہاں کی عورتوں نے کہا " مسلمان لڑکیوں کا اسقاط نہیں کراتے ہیں" لیکن سروے رپورٹ نے حقیقت کھول دی بھارتی مسلمانوں میں بھی معمولی فرق کے  ساتھ یہ عمل جاری ہے بھارت میں صورت حال اب یہ ہوگئی ہے کہ 1000لڑکوں کے مقابلے میں صرف 914 لڑکیاں رہ گئی ہیں ۔یہ خُدائی معاملے میں انسانی مداخلت کا نتیجہ ہے ورنہ خُدائی کلکولیشن تو صدیوں سے ٹھیک طریقہ سے لڑکے لڑکیاں برابری کی بنیاد پر چل رہی تھی اسی کے تحت کہا جاتا تھا کہ جوڑے آسمان میں بنائے گئےہیں، الٹراساؤنڈ کی کارستانی سے جوڑوں کی جوڑی اسقاط کے نظر ہورہی ہے ۔ 
اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ ۔عورت کی ڈیزائننگ کوڈ( جنیوم) میں یہ بات شامل ہے کہ گھر ہوکہ ویرانہ اسکو وہ سجاتی ہے قابلِ دید بناتی ہے اپنے آپ کو بھی سجا کر قابلِ دید بناتی ہے ۔ رنگوں کا استعمال بھی خوب جانتیں ہیں ( شوہروں کو بیوقوف بنانا بھی خوب آتا ہے) ۔۔۔ماں کے روپ کے تو کیا کہنے الفاظوں میں وہ دم خم نہیں ہے جو ماں کے روپ کی تعریف کرسکیں عورت  کوخالق نے جسمانی لحاظ سے مرد سے کمزوربنایا ہے لیکن  یہ کمی عورت کو زیادہ   ہمت دے کر پوری کردی ہے ۔ وہ جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتے ہوئے بھی ہر طرح کی    تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتی ہے بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ مردوں سے بھی آگے رہتی ہے ۔  
عورت میں موجود ہمت کی ایک جھلک اس خاتون نے دِکھادی ہے ۔ پورے دنوں کی حاملہ ہوتے ہوئے بھی 42 کلومیٹر میراتھن ریس میں حصّہ لیا ( عورت ہر معاملہ میں    اسی طرح سے فعال ہے/سوائے ایک معاملے کے) یہ فاصلہ سوا 6 گھنٹوں میں مکمل کیا پھر ہاسپیٹل جاکر بچیّ کو جنم دیا ۔۔۔"عورت کی ہمت کو سلام ہے" ۔۔۔۔
 نوٹ ؛ اس پوسٹ پرکئے گئے تبصرے  پبلش ہونگے ۔(ایم ۔ڈی )

Tuesday, October 11, 2011

عمران خان کیلئے ووٹ کیوں ؟؟؟

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز: محور/مذہبی اسکالر/طالبان/امریکہ/ نواز شریف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــجیسا کہ عمران خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ علامہ اقبال ، محمد اسداور ڈاکٹر فضل الرحمان کے مذہبی خیالات سے متاثر ہیں ۔ یہ لوگ کسی  مذہبی درسگاہ کے  پڑھے ہوئے نہیں ہیں  ، جہاں مخصوص فرقہ کی تعلیم دی جاتی ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ انکا محور قُرآنی آیات ہیں ۔ دینی درس گاہوں سے نکلے عالم انہیں مذہبی اسکالر نہیں مانتے ۔بعض تو اِنکے خیالات پر  کُفر کا فتویٰ بھی لگا دیتے ہیں ۔۔۔
ہمارے مذہبی رہنما میڈیا میں "اِن " رہنے کیلئے  جمعہ کے جمعہ  کسی نہ کسی مسئلہ کو "مذہبی اشو "بناکے احتجاجی ریلیاں نکالتے ہیں  ۔۔۔ یہ مذہبی ہڑتالیں اور ریلیاں،  ایک طرف بے روزگاری ، حد سے زیا دہ بڑی ہوئی  مہنگائی ،معاشی نا انصا فی اور کرپشن جیسے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دیتیں ہیں  تو دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی کو بھی فروغ دیتی ہیں ۔۔ ۔
 عرب دنیا ، اسرائیل ،انڈیا ، یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے لوگ بڑے ہوئے انسانی مسائل   پر ریلیاں نکال رہے ہیں۔۔ ۔ جب کے ہم ان انسانی مسائل میں پورے کے پورے دھنسے ہوئے ہیں ۔اسکے باوجود ہم ان مسائل پر احتجاج نہیں کر رہے ہیں ۔ اسی سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے  کہ ہمارا ملک کس  انتہا پسندی  کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔۔۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں  اپنا رول صحیح ادا نہیں کر سکیں مثلاً شریف برادران ساڑے 3سال  تک سوتے رہے اس خلا کو کسی  سیاسی جماعت نے بھی فلِ نہیں کیا جسکا نتیجہ مذہبی رہنماؤں کو اسپیس مل گیا اور وہ جمعہ کے جمعہ مذہبی دُکان چمکانے لگے۔ ایسے میں عمران خان ہی پاکستانیوں کےمسائل پر  آواز اُٹھاتے ہیں ۔ وہ مذہب کے معاملے میں بھی فرقہ پرست یا انتہا پرست سوچ کے حامل نہیں ہیں اسکے علاوہ  ہمارے سامنے اور کوئی متبادل بھی تو نہیں ہے سارے آزمائے ہوئے ہیں  ایسے میں عمران خان کی صورت میں ہی ملک کیلئے کُچھ بہتری کی امید نظر آتی ہے کہ شاید وہ مُلک کی بہتری کیلئے جراَتمندانہ انقلابی فیصلے کرکے مُلک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکیں  چونکہ مُلک کو انقلابی فیصلوں کی ضرورت ہے نہ کہ مصلحتوں کی۔۔۔اب اجازت دیں   ۔۔بہت شُکریہ ۔۔۔(تبصروں کی پبلشنگ بند ہے )۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے ۔(ایم ۔ڈی)


Saturday, October 8, 2011

بنیادی مسائل پر احتجاج نہ ہونے کی وجہ !!!۔

فکرستان سے پوسٹ ٹیگز: وال سٹریٹ/ انڈیا/ممتاز قادری/سپریم کورٹ فیصلہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 پاکستانی قوم جتنی صابراور قوتِ برداشت کی حامل قوم دنیا میں شاید ہی کوئی اور ہو وہ یوں کہ یہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادیوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتی ہے ۔ مہنگائی ،بےروزگاری اور حد سے زیادہ بڑی ہوئی معاشی نا انصافیوں کو خاموشی سے برداشت کررہی ہے ۔  یہاں نہ "تحریر اسکوائر"جیسا احتجاج نظر آتا ہے اور نہ ہی" وال اسٹریٹ " جیسا دھرنا معاشی نہ ہمواری پرعرب ممالک میں اٹھنی  والی گرما گرم لہر نےبھی ہمارے ٹھنڈے  پڑےجسم کو کوئی حرات نہ پہنچا سکی جبکہ ہمارے وزیر  نے تو بڑے اعتماد سے یہ تک کہہ دیا کہ پاکستان میں مردے نہلانے میں بھی کرپشن پائی جاتی ہے  ۔یہ سن کر بھی قوم کے صبرِاستقلال میں کوئی جنبش پیدا نہیں ہوئی  یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی طرح کی کرپشن کے خلاف  ہمارے یہاں کوئی تحریک نہیں پائی جاتی ۔۔۔اسکی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟؟؟
  میں سوچتا ہوں کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہمارے مذہبی جماعتوں کے رہنما میڈیا میں "اِن " رہنے کیلئے کسی  بھی بات کو مذہبی اشو  بناکر جمعہ کے جمعہ مذہبی احتجاج کا جو سلسلہ پاکستان میں  شروع کر رکھا ہے (جیسے کل ممتاز قادری کے عدالتی فیصلے پر احتجاج تھا ) ان مذہبی احتجاجوں نے بے روزگاری ، معاشی نہ ہمواری اور کرپشن جیسےبنیادی ایشو کو پسِ پشت ڈال دیا ہو ۔ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ اتنی بےروزگاری،  اتنی معاشی نہ ہمواری، اور کرپشن ان ملکوں میں نہیں پائی جاتی جہاں پر کہ ان پر احتجاج ہو رہا ہے ۔۔۔
سپریم کورٹ نے کراچی بد امنی کیس کے فیصلے  میں سیاسی ،لسانی اور  مذہبی جماعتوں کا صحیح اصلی حقیقی چہرہ دکھا دیا ہے۔۔۔ بُہت شُکریہ ۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے ۔  (ایم ۔ڈی)

Tuesday, October 4, 2011

" ہیلتھ میسیج "

 منجانب فکرستان پیش ہے : " ہیلتھ میسیج  "
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
احتیاط ہی بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرات کو کم کرتی ہے ۔ اسی کے پیشِ نظر کینیڈا کے محکمہ صحت نے موبائل صارفین اور خاص کربچّوں کیلئے درج ذیل چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔۔۔ہیلتھ کینیڈا نے صارفین کو یہ مشورہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں دیا ہے ۔۔۔
 (خاص کر عورتیں خوب احتیاط کریں چونکہ عورتیں کھانے پکانے ،شادی بیاہ  سے لیکر بچوں کی پیدائش کے سارے مرحلے موبائل فون پر ہی طے کر تی ہیں ۔ شُکریہ( ایم ۔ڈی)۔
اوٹاوا: ہیلتھ کینیڈا نے موبائل فون صارفین کیلئے کینسر سے بچاؤ کیلئے ہدایات جاری کر دیں۔ محکمہ صحت نے صارفین کو کہا ہے کہ وہ کم دورانیے کی  فون کالز کریں اور فون پر بات چیت کیلئے ایئر پیس استعمال کریں یا تحریری پیغام رسانی (ٹیکسٹ میسیجنگ) کا سہارا لیں۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل کم سے کم استعمال کرنے کی اجازت دیں۔ بچوں پر اس سلسلے میں خصوصی توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ بچے بالغ افراد کی نسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے یہ ہدایات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی کینسر سے متعلق مئی میں جاری کردہ رپورٹ کے بعد جاری کی گئی ہیں۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق موبائل سے نکلنے والی ریڈیو فریکوئنسی اور بننے والا مقناطیسی میدان لوگوں میں کینسر کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے دماغی کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔( تصویر/ رپورٹ: بشکریہ اردو ٹائمز)


Monday, October 3, 2011

" سنڈے میگزین ایکسپریس سے منتخب اقتباسات "


منجانب فکرستان پیش ہے:عمران خان کی کتاب سے چند اقتباسات شائع شُدہ ایکسپریس سنڈے میگزین۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
عمران خان کی کتاب سے چند اقتباسات ایکسپریس اخبار نے اپنے سنڈے میگزین 25 ستمبر 2011  کی اشاعت میں شائع کئے تھے ۔میں نےان اقتباسات میں سے چند منتخب اقتباسات اپنے قارئین کرام کیلئے منتخب کئے ہیں ۔ تا ہم انکی زندگی کی تفصیل جاننے کے لیے اصل کتاب کا مطالعہ کرنا ہوگا۔۔۔ بشُکریہ اخبار ایکسپریس ۔( ایم۔ڈی) 
 
دل چا ہے تو یہ پاور فل سونگ سنُئے( ایم ۔ڈی)