Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Sunday, July 16, 2017

دوسری طرف ۔۔

منِجانب فکرستان:
چونکانے والے ہندسے/تبصرے
غوروفکر کیلئے
بھارت میں "ریپ" ریاستی مسئلہ نہیں پورے بھارت کا مسئلہ ہے۔ تاہم بی جے پی اس مسئلہ کو بھی ریاستی / سیاسی رنگ دے کر اپنے حق میں استعمال کر رہی ہے۔ مثلاً ریاست مغربی بنگال میں ترینامول کانگریس کی حکومت کو ریپ کے حوالے سے (بی جے پی) رہنما  روپا گنگولی نے جو چیلنچ دیا وہ وڈیو لنک پر دیکھا جاسکتا ٭
ایسے میں سوال کہ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حُکومتیں قائم ہیں کیا وہ ریپ سے پاک ہیں؟
آئیے دوسری طرف چلتے ہیں کہ دیکھتے ہیں کہ جنس مطلق وہاں کے لوگوں کا  رَوِیَّہ کیسا ہے ؟

٭٭نئی تحقیق کے مطابق ایسے لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جنہوں نے کبھی کسی سے جنسی تعلق قائم نہیں کیا۔جاپان میں 18 سے 34 سال کے درمیان 43 فیصد لوگوں نے کہا کہ اُنہوں نے کبھی بھی کسی سے جنسی تعلق قائم نہیں کیا. 52 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ورجن ہیں اور 64 فیصد لوگوں کا کسی بھی طرح کی جنسی ریلیشن شپ سے انکاری ہیں۔۔۔

مزید تفصیلات کیلئے پوسٹ کی تیاری مددگار سائٹس پر جائیں ، وہیں پر غور طلب تبصرے بھی ہیں ۔۔۔اب مُجھے اجازت دیں۔
 ٭
https://www.dawnnews.tv/news/1061348/

٭٭

http://www.independent.co.uk/news/world/asia/japan-sex-problem-demographic-time-bomb-birth-rates-sex-robots-fertility-crisis-virgins-romance-porn-a7831041.html

نوٹ : پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔
{  رب  مہربان  رہے  }

Thursday, July 13, 2017

دور اندیشی کے فیصلے !!۔

منجانب فکرستان:غور و فکر کیلئے
خُواتین کے خطرناک، مہنگے اورdesperately فیصلے
 زمین پر انسانی آبادی سات ارب سے تجاوز کر چکی ہے، آبادی میں اضافے کے ساتھ تعلیمی معیار بھی اضافہ ہُوا ہے، تاہم یہ اضافہ لڑکوں کے بجائے لڑکیوں میں زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے،مثلاً 2015-16 میں برطانیہ کی یونیورسٹی میں 56 فیصد لڑکیاں تھیں اور 44 فیصد لڑکے تھے۔
محققین کا خیال ہے گریجویٹ خواتین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔یقینی سی بات ہے کہ گریجویٹ کے بعد ان خواتین کا لائف پارٹنر کو جانچنے کا معیار بھی گریجویٹ ہوجاتا ہے۔لیکن وقت کو کون لگام ڈالے ۔۔۔ نتیجے میں یہ خواتین نہیں چاہتی ہیں کہ انہیں زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے بچہ پیدا کرنے میں کوئی مسئلہ ہو،اس کے لئے وہ اپنی جان کی اور پیسوں کی پروا کئے بغیر اپنا انڈا نکلوا فریز کروا لے رہی ہیں۔۔
 اس پوسٹ کی تیاری میں  ذیل لنک سے مدد لی ہے ملاحظہ فرمائیں۔
http://www.bbc.com/news/uk-40504076
نوٹ : پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔
{  رب  مہربان  رہے  }